وھذا ظاھر جدا فاندفع ماوقع للعلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ حیث قال تحت حدیث انس کان صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع المراد بالمد والصاع وزنالا کیلا ۲؎ اھ فھذا قیلہ من قبلہ لم یستند فیہ لدلیل ولا قیل لاحد قبلہ واسمعناک نصوص العلماء والحجۃ الزھراء۔
اور یہ بہت واضح ہے تو وہ خیال دفع ہوگیا جو علامہ علی قاری سے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں واقع ہواکہ انہوں نے حضرت انس کی حدیث'' حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو فرماتے اور ایک صاع سے غسل فرماتے '' کے تحت لکھاکہ مُد اور صاع سے مراد اتنے وزن بھر پانی ہے اتنے ناپ بھر نہیں اھ۔یہ ضعیف قول خو دان کا ہے جس پر نہ تو انہوں نے کسی دلیل سے استناد کیانہ اپنے پہلے کے کسی شخص کے قول سے استناد کیا۔اورعلماء کے نصوص اور روشن دلیل ہم پیش کرچکے۔
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ مشکوۃ المصابیح تحت حدیث ۴۳۹ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ ۲/ ۱۴۳)
فان قلت الیس قدقال انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کان رسول اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ برطلین ویغتسل بالصاع ۱؎ رواہ الامام الطحاوی والرطل من الوزن۔
اگر سوال ہو کہ کیا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ نہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دورطل سے وضو فرماتے اورایک صاع سے غسل فرماتے۔ اسے امام طحاوی نے روایت کیا۔ اوررطل ایک وزن ہے۔
(۱؎عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۲۹۲)
قلت المراد بالرطلین ھوالمدبدلیل حدیثہ المذکور سابقاوالاحادیث یفسر بعضہا بعضا بل قد اخرج الامام الطحاوی عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد وھو رطلان ۱؎ فاتضح المراد وبھذا استدل ائمتنا علی ان الصاع ثمانیۃ ارطال ولذا قال الامام الطحاوی بعداخراجہ الحدیث الذی تمسکت بہ فی السؤال فھذا انس قد اخبر ان مد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رطلان والصاع اربعۃ امداد فاذا ثبت ان المدرطلان ثبت ان الصاع ثمانیۃ ارطال ۲؎ اھ فقد جعل معنی قولہ توضأ برطلین توضأ بالمد وھو رطلان کما افصح بہ فی الروایۃ الاخری علی ان الرطل مکیال ایضا کما نص علیہ فی المصباح المنیر ۳؎واللّٰہ تعالی اعلم۔
میں کہوں گادو رطل سے وہی مُد مراد ہے، جس پردلیل خود اُن ہی کی حدیث ہے جو پہلے ذکرہوئی۔ اور احادیث میں ایک کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے بلکہ امام طحاوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو فرماتے اور وہ دورطل ہے۔ تو مراد واضح ہوگئی۔اور اسی سے ہمارے ائمہ نے صاع کے آٹھ رطل ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسی لئے امام طحاوی نے سوال میں تمہاری پیش کردہ حدیث روایت کرنے کے بعدفرمایا:یہ حضرت انس ہیں جنہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مُد دورطل تھااورصاع چار مُد کا ہوتا ہے توجب یہ ثابت ہوگیاکہ مُد دو رطل ہے تویہ بھی ثابت ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے اھ۔تو امام طحاوی نے ''توضأ برطلین''(دورطل سے وضو فرمایا) کا معنی یہ ٹھہرایا کہ توضأ بالمُدوھو رطلان (ایک مُد سے وضو فرمایا اور وہ دورطل ہے)جیسا کہ دوسری روایت میں اسے صاف بتایا۔علاوہ ازیں رطل ایک پیمانہ بھی ہے جیساکہ مصباح منیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷
۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷
۳؎المصباح المنیر کتاب الراء تحت لفظ ''رطل '' منشورات دارالھجرہ قم ایران ۱ /۲۳۰)
غسل میں کہ ایک صاع بھر پانی ہے اُس سے مراد مع اُس وضو کے ہے جو غسل میں کیا جاتا ہے یا وضو سے جدا امام اجل طحاوی رحمہ اللہ تعالی نے معنی دوم پر تنصیص فرمائی اور وہ اکثر احادیث میں ایک صاع اور حدیث انس میں پانچ مُد ہے اُس میں یہ تطبیق دی کہ ایک مُد وضو کا اور ایک صاع بقیہ غسل کا،یوں غسل میں پانچ مُد ہوئے، حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ یغتسل بخمس مکاکی روایت کرکے فرماتے ہیں:
یکون الذی کان یتؤضا بہ مدا ویکون الذی یغتسل بہ خمسۃ مکاکی یغتسل باربعۃ منھا وھی اربعۃ امداد وھی صاع ویتوضأ باخرو ھو مدفجمع فی ھذا الحدیث ماکان یتوضأ بہ للجنابۃ وما کان یغتسل بہ ۱؎ لھا وافرد فی حدیث عتبۃ (یعنی الذی فیہ الوضوء بمدوالغسل بصاع) ماکان یغتسل بہ لھا خاصۃ دون ماکان یتوضأ بہ ۲؎ اھ
جتنے پانی سے وضوفرماتے وہ ایک مُد ہوگااورجتنے سے غسل فرماتے وہ پانچ مکّوک ہوگا۔ چار مکّوک۔وہی چار مُد اور چار مُد ایک صاع۔ سے غسل فرماتے۔ اور باقی ایک مکّوک ۔ایک مُد سے وضوفرماتے۔تو اس حدیث میں جتنے سے جنابت کا غسل ووضو فرماتے دونوں کو جمع کردیا۔ اور حدیثِ عتبہ میں(یعنی جس میں یہ ہے کہ ایک مُد سے وضو اور ایک صاع سے غسل ) صرف اُس کو بیان کیا جس سے غسل فرماتے، اُس کوذکرنہ کیاجس سے وضو فرماتے اھ۔
(۱؎ شرح معانی الآثار، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷
۲؎ شرح معانی الآثار، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷)
اقول : لکن حدیثہ یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس فی التوزیع فی التنویع کما لایخفی ای ان الغسل نفسہ کان تارۃ باربعۃ وتارۃ بخمسۃ سواء ارید بہ اسألۃ الماء علی سائر البدن وحدھا اومع الوضوء۔
اقول : لیکن حضرت انس کی یہ حدیث کہ حضورایک صاع سے پانچ مُدتک پانی سے غسل فرماتے،بیان تقسیم میں نہیں بلکہ بیان تنویع میں ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ یعنی خود غسل ہی کبھی چارمُد سے ہوتااورکبھی پانچ مُد سے ہوتاخواہ اس سے صرف پورے بدن پر پانی بہانا مرادلیں یا اس کے ساتھ وضو بھی ملا لیں۔(ت)