صاع اور مُد باعتبار وزن مراد ہیں یعنی دو اور آٹھ رطل وزن کا پانی ہوکہ رامپور کے سیر سے وضو میں تین پاؤ اور غسل میں تین سیر پانی ہوا اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ کے طور پر وضو میں آدھ سیر اور غسل میں دو سیر اور جانب کمی وضو میں پونے تین چھٹانک سے بھی کم اور غسل میں ڈیڑھ ہی سیر یا بااعتبار کیل وپیمانہ یعنی اتنا پانی کہ ناج کے پیمانہ مد یاصاع کوبھردے ظاہرہے کہ پانی ناج سے بھاری ہے توپیمانہ بھرپانی اس پیمانے کے رطلوں سے وزن میں زائد ہوگا کلمات فـــ ائمہ میں معنی دوم کی تصریح ہے اور اسی طرف بعض روایات احادیث ناظر۔
فـــ:تطفل علی العلامۃعلی قاری ۔
امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
باب الغسل بالصاع ای بالماء قدرملء الصاع ۱؎۔
باب الغسل بالصاع یعنی اتنے پانی سے غسل جس سے صاع بھر جائے۔(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۱)
امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیںـ:
المراد من الروایتین ان الاغتسال وقع بملء الصاع من الماء ۲؎۔
دونوں روایتوں سے مراد یہ ہے کہ غسل پانی کی اتنی مقدار سے ہوا جس سے صاع بھر جائے (ت)
(۲؎ فتح الباری،شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۲۷)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ای بالماء الذی ھو قدر ملء الصاع ۳؎۔
یعنی اتنے پانی سے غسل جو صاع بھرنے کے بقدرہو۔(ت)
(۳؎ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۹۰)
نیز عمدۃ القاری میں حدیث طحاوی مجاہد سے بایں الفاظ ذکر کی:
قال دخلنا علی عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فاستسقی بعضنا فاتی بعس قالت عائشۃ کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یغتسل بملء ھذا قال مجاھد فحررتہ فیما احزر ثمانیۃ ارطال تسعۃ ارطال عشرۃ ارطال قال واخرجہ النسائی حزرتہ ثمانیۃ ارطال ۱؎من دون شک ۔
مجاہد نے کہاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں گئے تو ہم میں سے کسی نے پانی مانگا۔ایک بڑے برتن میں لایا گیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس برتن بھر پانی سے غسل فرماتے تھے۔امام مجاہد نے کہا: میں نے اندازہ کیاتووہ برتن آٹھ رطل،یانورطل،یا دس رطل کاتھا۔امام عینی نے کہا:یہ حدیث امام نسائی نے روایت کی تو اس میں یہ ہے کہ میں نے اسے آٹھ رطل کا اندازہ کیا۔یعنی اس روایت میں بغیر شک کے ہے(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۲)