امام طحطاوی فرماتے ہیں:حدیث میں صرف برتن کا ذکر ہے کہ اس ظرف سے بہاتے بھرا ہونا نہ ہونا مذکور نہیں۔
اقول: صرف فــ برتن کا ذکر قلیل الجدوی ہے اس سے ظاہر مفاد وہی مقدار آب کا ارشاد ہے خصوصاً حدیث لیث وسفیان میں لفظ فی سے تعبیر کہ ایک قدح میں غسل فرماتے :
اذمن المعلوم ان لیس المراد الظرفیۃ
(اس لئے کہ معلوم ہے کہ ظرفیت (قدح کے اندر غسل کرنا)مراد نہیں۔ت) اور حدیث مالک میں لفظ واحد کی زیادت
اذ من المعلوم ان لیس المراد نفی الغسل من غیرہ قط
(کیونکہ معلوم ہے کہ یہ مراد نہیں کہ اس کے علاوہ کسی برتن سے کبھی غسل نہ کیا ) بہرحال اس قدر ضرور ہے کہ حدیث اس معنی میں نص صریح نہیں زیادت کا صریح نص اُسی قدر ہے جو حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ میں گزرا کہ پانچ مُد سے غسل فرماتے اور پھر بھی اکثر و اشہر وہی وضو میں ایک مُد اور غسل میں ایک صاع ہے، اور احادیث کے ارشادات قولیہ تو خاص اسی طرف ہیں ۔
فـــ:تطفل ما علی الامام السید الاجل الطحاوی۔
امام احمدعــہ و ابوبکر بن ابی شیبہ و عبد بن حمید واثرم وحاکم وبیہقی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یجزئ من الغسل الصاع ومن الوضوء المد ۱؎۔
غسل میں ایک صاع اور وضو میں ایک مُد کفایت کرتاہے۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ،مایجزئ من الماء للوضوء...الخ دارالفکر بیروت ۱ /۱۶۱
السنن الکبری کتاب الطہارۃ،باب استحباب ان لا ینقص فی الوضوء... دار صادر بیروت ۱ /۱۹۵
مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۳۷۰
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات،باب فی الجنب کم یکفیہ...الخ حدیث۷۰۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۶)
عـــہ:زعم شیخ الوھابیۃ الشوکانی ان الحدیث اخرجہ ایضا ابو داؤد وابن ماجۃ بنحوہ اقول کذب فــ۱ علی ابی داؤد و اخطأ فــ۲ علی ابن ماجۃ فان ابا داؤد لم یخرجہ اصلا انما عندہ عن جابر کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغتسل بالصاع و یتوضأ بالمد۳؎ و ابن ماجہ لم یخرجہ عن جابر بن عبد اللّہ بل عن عبد اللّہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب رضی اللّہ عنہم اھ منہ۔
عـــہ : پیشوائے وہابیہ شوکانی کا زعم ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا اور اس کے ہم معنی ابن ماجہ نے بھی اقول:اس نے ابوداؤد کی طرف تو جھوٹا انتساب کیا اور ابن ماجہ کی طرف نسبت میں خطا کی-اس لئے کہ ابوداؤد نے سرے سے اسے روایت ہی نہ کیا اس کی روایت حضرت جابر سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک سے وضو فرماتے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نہ کی بلکہ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابوطالب سے روایت کی رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
فــ۱:رد علی الشوکانی۔
فــ۲:رد اخر علیہ۔
(۳؎سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ،باب ما یجزئ من الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۳)
ابنِ ماجہ سُنن میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امام احمدعــہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکفی احدکم مدمن الوضوء ۲؎۔
تم میں سے ایک شخص کے وضو کوایک مُد بہت ہے۔
(۲؎ مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۲۶۴)
عــہ وعزاہ الامام الجلیل فی الجامع الصغیرلجامع الترمذی بلفظ یجزئ فی الوضوء رطلان من ماء ۴؎قال المناوی واسنادہ ضعیف ۵؎اھ لکن العبدالضعیف لم یرہ فی ابواب الطھارۃ من الجامع فاللّٰہ تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ (م)
یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی نے جامع ترمذی کے حوالے سے ان الفاظ سے جامع صغیرمیں ذکرکی ہے: وضو میں دو رطل پانی کافی ہے۔ علامہ مناوی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے اھ۔ لیکن میں نے جامع ترمذی کے ابواب الطہارۃ میں یہ حدیث نہ پائی، فاللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ(ت)
(۴؎الجامع الصغیربحوالہ ت حدیث۹۹۹۷ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲ /۵۸۹
۵؎التیسیر شرح الجامع ا لصغیر تحت الحدیث یجزئ فی الوضوالخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۵۰۷)
ابو نعیم معرفۃ الصحابہ میں ام سعد بنت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :