وانا اقول : لوحمل علی الاشتراک لم یمتنع فقد قدمنا روایۃ انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ بنصف مُد وروی عن الامام محمد رحمہ اللّٰہ تعالی انہ قال ان المغتسل لایمکن ان یعم جسدہ باقل من مد ذکرہ العینی فی العمدۃ ۲؎ فافاد امکان تعمیم الجسد بمد فکان المجموع مدا ونصفا واللّٰہ تعالی اعلم۔
اورمیں کہتاہوں:اگر شرکت پرمحمول کرلیاجائے توبھی(اتنی مقدارسے دونوں حضرات کا غسل) محال نہیں،کیوں کہ یہ روایت ہم پیش کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آدھے مُد سے وضو فرمایا۔اورامام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ ایک مُد سے کم پانی ہو توغسل کرنے والاپُورے بدن پر نہیں پہنچا سکتا۔اسے علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں ذکرکیا۔اس کلام سے مستفادہوا کہ ایک مُد ہو تو پورے بدن پر پہنچایا جاسکتاہے توکل ڈیڑھ مُد ہوا(آدھے سے وضو،باقی سے اورتمام بدن-اس طرح تین مُد سے دو کا غسل ممکن ہوا ۱۲ م) واللہ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء بالمد تحت الحدیث ۶۴ /۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۱۴۱)
اور جانب زیادت میں اس قول کی تضعیف تو اوپر گزری کہ مکّوک سے صاع مراد ہے جس سے غسل کیلئے پانچ صاع ہوجائیں۔ہاں موطائے مالک وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں امّ المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق من الجنابۃ ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ فَرَق تھا۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ،باب المقدا رالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱)
فرق فـــ میں اختلاف ہے ، اکثر تین(۳) صاع کہتے ہیں اوربعض دو(۲)صاع۔
فــ:تطفل علی الام القاضی عیاض ۔
ففی الحدیث عند مسلم قال سفٰین والفرق ثلثۃ اصع۲؎ وکذلک ھو نص الامام الطحاوی وقال النووی کذا قالہ الجماھیر۳؎ اھ قال العینی وقیل صاعان۴؎ وقال الامام نجم الدین النسفی فی طلبۃ الطلبۃ ھو اناء یاخذ ستۃ عشر رطلا ۶؎ اھ وھکذا فی نھایۃ ابن الاثیروصحاح الجوھری وکذا نقلہ فی الطلبۃ عن القتبی ونقل عن شرح الغریبین انہ اثنا عشر مدا ۶؎ اھ وقال ابو داؤد سمعت احمد بن حنبل یقول الفرق ستۃ عشر رطلا ۷؎
اس حدیث کے تحت امام مسلم کی روایت میں ہے کہ سفیان نے فرمایا فرق تین صاع ہوتاہے-یہی تصریح امام طحاوی نے فرمائی-اور امام نووی نے فرمایا یہی جمہور کا قول ہے اھ-علامہ عینی نے لکھا:اورکہاگیاکہ دوصاع اھ-امام نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبہ میں لکھا:یہ ایک برتن ہے جس میں سولہ رطل آتے ہیں اھ-ایسے ہی نہایہ ابن اثیراورصحاع جوھری میں ہے ،اور اسی طر ح اس کو طلبۃ الطلبہ میں قتبی سے نقل کیا ہے، اور شرح غریبین سے نقل کیا ہے کہ یہ بارہ مُد ہوتا ہے اھ-اور ابو داؤد نے کہا:میں نے امام احمد بن حنبل سے سُناکہ فرق سولہ رطل کاہوتاہے۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
۳؎ شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
۴؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل،باب غسل الرجل مع امرأتہ تحت الحدیث۳ /۲۵۰ ۳ /۲۹۰
۵؎ طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
۶؎ طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
۷؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ،باب مقدارالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱)
ونقل الحافظ فی الفتح عن ابی عبداللّٰہ الاتفاق علیہ وعلی انہ ثلثۃ اٰصع قال لعلہ یرید اتفاق اھل اللغۃ ۱؎ اھ
اورحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابوعبد اللہ سے اس پر اور اس پر کہ وہ تین صاع ہوتا ہے اتفاق نقل کیا اور کہاشاید ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ لغت کا اتفاق ہے اھ۔
(۱؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل تحت الحدیث۲۵۰ دارالکتب العلمیہ ۲ /۳۲۶)
اقول ویترا أی لی ان لاخلف فان ستۃ عشر رطلا صاعان بالعراق وثلثۃ اصوع بالحجاز۔
اقول:اورمیرا خیال ہے کہ ان اقوال میں کوئی اختلاف نہیں ا س لئے کہ سولہ رطل دوصاع عراقی اورتین صاع حجازی کے برابر ہوتاہے۔(ت)
امام نووی اس حدیث سے یہ جواب دیتے ہیں کہ پورے فَرَق سے تنہا حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا غسل فرمانا مراد نہیں کہ یہی حدیث صحیح بخاری میں یوں ہے:
کنت اغتسل انا والنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد من قدح یقال لہ الفرق۲؎ ۔
میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے نہاتے وہ ایک قدح تھا جسے فَرَق کہتے۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الغسل تحت الحدیث ۲۵۰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹)
اقول:یہ لفظ فــ اجتماع میں نص نہیں،
فــ:تطفل ثالث علی الامام النووی ۔
کما قدمنا فلا ینبغی الجزم بان الافراد غیر مراد بل لقائل ان یقول مخرج الحدیث الزھری عن عروۃ عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فروی عن الزھری مالک ومن طریقہ مسلم وابو داؤد باللفظ الاول۳؎
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا- تواس پرجزم نہیں کرناچاہئے کہ تنہاغسل فرمانا مراد نہیں-بلکہ کہنے والایہ بھی کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے راوی امام زہری ہیں جنہوں نے حضرت عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی-پھرامام زہری سے امام مالک نے اور ان ہی کی سند سے امام مسلم اور ابو داؤد نے پہلے الفاظ میں روایت کی
(کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق)،
(۳؎ مؤطا امام مالک کتاب الطہارۃ،العمل فی غسل الجنابۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۳۱
صحیح مسلم کتاب الحیض،باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ،باب مقدار الماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱)
وابن ابی ذئب عند البخاری والطحاوی باللفظ الثانی۱؎ تابعہ معمر و ابن جریج عند النسائی۲؎ وجعفر بن برقان عند الطحاوی۳؎ وروی عنہ اللیث عند النسائی وسفٰین بن عیینۃ عندہ وعند مسلم بلفظ کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یغتسل فی القدح وھو الفرق وکنت اغتسل انا وھو فی الاناء الواحد ولفظ سفٰین من اناء واحد۴؎ فیشبہ ان تکون ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اتت بحدیثین اغتسالہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من الفرق واغتسالھما من اناء واحد فاقتصر منھما مالک علی الحدیث الاول وجمع بینہما ابن ابی ذئب ومتابعوہ واتی بھما سفیان واللیث مفصلین واللّٰہ تعالی اعلم۔
اور امام بخاری وامام طحاوی کی روایت میں امام زہری سے ابن ابی ذئب نے بلفظ دوم روایت کی(کنت اغتسل اناوالنبی الخ) ابن ابی ذئب کی متابعت امام نسائی کی روایت میں معمراورابن جریج نے ،اورامام طحاوی کی ایک روایت میں جعفر بن برقان نے کی-اورنسائی کی تخریج پر امام زہری سے امام لیث نے اور نسائی ومسلم کی تخریج میں ان سے امام سفٰین بن عیینہ نے ان الفاظ سے روایت کی:رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک قدح میں غسل فرماتے اور وہ فرق ہے - اور میں اور حضور ایک برتن میں غسل کرتے-امام سفٰین کے الفاظ ہیں:''ایک برتن سے '' غسل کرتے-توایسا معلوم ہوتاہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے دو حدیثیں روایت کیں ایک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فرق سے غسل فرمانے سے متعلق اور ایک دونوں حضرات کے ایک برتن سے غسل فرمانے سے متعلق-توامام مالک نے دونوں حدیثوں میں سے صرف پہلی حدیث ذکر کی۔اورابن ذئب اور ان کی متابعت کرنے والے حضرات (معمر،ابن جریج)نے دونوں حدیثوں کو ملادیا۔ اورسفیان و لیث نے دونوںکوالگ الگ بیان کیا-اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔(ت)
(۱؎شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ،باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۶
۲؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب ذکر الدلالۃ علی انہ لا وقت فی ذلک نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۴۷
۳؎؎شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ،باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۶
۴؎صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸)