| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
فان قلت : فعلی ھذا یضیع قولھا فی اناء واحد فانما قصدھا بہ افادۃ اجتماعہا معہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی الغسل من اناء واحد کما افصحت بہ فی الروایۃ الاخری کنت اغتسل فــ انا ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد تختلف ایدینا فیہ من الجنابۃ رواہ الشیخان ۱؎؎ ،وفی اخری لمسلم من اناء بینی وبینہ واحد فیبادرنی حتی اقول دع لی ۲؎ ۔ وللنسائی من اناء واحد یبادرنی وابادرہ حتی یقول دعی لی وانا اقول دع لی ۳؎ ۔
اگر یہ سوال ہوکہ پھر توان کا''ایک برتن میں''کہنابے کار ہوجاتاہے کہ اس لفظ سے ان کا مقصد یہی بتاناہے کہ وہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرتی تھیں، جیساکہ دوسری روایت میں اسے صاف طورپربیان کیا ہے :میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسلِ جنابت کیا کرتے اس میں ہمارے ہاتھ باری باری آتے جاتے-اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔اورمسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے:ایک ہی برتن سے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تو مجھ پر سبقت فرماتے یہاں کہ میں عرض کرتی میرے لیے بھی رہنے دیجئے اورنسائی کی روایت میں یہ ہے :ایک ہی برتن سے ،وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کرتی،یہاں تک کہ حضور فرماتے:میرے لئے بھی رہنے دو۔اور میں عرض کرتی:میرے لئے بھی رہنے دیجئے۔(ت)
فـــ:مسئلہ جائز ہے کہ زن وشوہردونوں ایک برتن سے ایک ساتھ غسل جنابت کریں اگرچہ باہم سترنہ ہو اور اس وقت متعلق ضرورت غسل بات بھی کرسکتے ہیں مثلا ایک سبقت کرے تودوسراکہے میرے لیے پانی رہنے دو۔
(۱؎صحیح البخاری کتا ب الغسل،باب ھل یدخل یدہ فی الاناء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰ صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸ ۲؎صحیح مسلم کتاب الحیض،باب القدرالمستحب من الماء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸ ۳؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذالک نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۴۷ )
قلت لایلزم ان لاترید بھذا اللفظ کلما تکلمت بہ الا ھذہ الافادۃ ،فقد ترید ھھنا ان ذلک الاناء الواحد کان یکفیہ اذا اغتسل ولا یطلب زیادۃ ماء وکذلک انا اذا اغتسلت۔
میں جواب دوں گا ضروری نہیں کہ جب بھی وہ یہ لفظ بولیں توانہیں یہی بتانامقصودہو،یہاں اُن کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہی ایک برتن جب حضورغسل فرماتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتا اور مزیدپانی طلب نہ فرماتے اوریہی حال میرا ہوتاجب میں نہاتی۔
دوم یہاں مُد سے صاع مراد ہے۔
قالہ ایضا صرفا لہ الی وفاق حدیث الفرق الاتی فانہ ثلثۃ اٰصع واقرہ النووی۔
یہ توجیہ بھی امام قاضی عیاض ہی نے پیش کی تاکہ اس میں اور اگلی حدیث فرق میں مطابقت ہوجائے کیوں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔امام نووی نے بھی اس توجیہ کوبرقرار رکھا۔
اقول:یہ اس فــ کا محتاج ہے کہ مُد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو اور اس میں سخت تامل ہے،صحاح وصراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب ومجمع البحار ونہایہ ومختصر سیوطی لغاتِ حدیث وطلبۃ الطلبہ ومصباح المنیر لغاتِ فقہ میں فقیر نے اس کا پتا نہ پایا اور بالفرض کہیں شاذونادر ورود ہو بھی تو اُس پر حمل تجوز بے قرینہ سے کچھ بہتر نہیں۔
فــ:تطفل علی القاضی عیاض والامام النووی ۔
اما جعل امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز المد بثلثۃ امداد فحادث لایحمل علیہ کلام ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔ لیکن یہ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک مدتین مد کے برابر بنایاتویہ بعدکی بات ہے ،اس پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کا کلام محمول نہیں ہوسکتا۔(ت)
سوم یہ کہ حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں حضور وامّ المومنین معاً تین مُد سے نہائے ہوں اور جب پانی ختم ہوچکا اور زیادہ فرمالیا ہو،
ابداہ الامام النووی حیث قال یجوزا ن یکون وقع ھذا فی بعض الاحوال وزاداہ لما فرغ ۱؎۔
یہ توجیہ امام نووی نے پیش کی ان کے الفاظ یہ ہیں:ہوسکتاہے یہ ایک وقت(مثلاً غسل شروع کرتے وقت)ہو اہو اور جب پانی ختم ہوگیاتودونوں حضرات نے اور لے لیا ہو۔(ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸)
اقول:یہ بھی بعید فــ۱ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث وبیکار ہوا جاتا ہے تو قریب تر وہی توجیہ اول ہے۔
فــ۱:تطفل آخرعلی الامام النووی ۔