Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
45 - 135
    اقول احادیث سے ثابت ہے کہ وضو میں عادت کریمہ تثلیث تھی یعنی ہر عضو تین بار دھونا،اور کبھی دو دو بار بھی اعضاء دھوئے۔
رواہ البخاری عن عبداللّٰہ بن زید وابو داؤد والترمذی وصححہ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضاء مرتین مرتین ۱؎۔
اسے امام بخاری نے عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔اورابوداؤد نے اور ترمذی نے بافادہ تصحیح،اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ نبی  نے وضومیں دودوبار اعضاء دھوئے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوباب الوضوء مرتین     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷

سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸

سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۴۳    دارالفکربیروت ۱ /۱۱۳

مواردالظمأن     کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۱۵۷    المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷)
رواہ البخاری والدارمی وابو داؤد والنسائی والطحاوی وابن خزیمۃ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال توضأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مرۃ مرۃ ۱؎۔
اسے بخاری،دارمی،ابوداؤد،نسائی، طحاوی اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا،انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو میں ایک ایک بار اعضاء دھوئے۔
(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوباب الوضوء مرتین     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷

سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸

سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۲۵

سنن الدارمی     کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ حدیث ۲۔۷    دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱/ ۱۴۳

شرح معانی الآثار    کتاب الطہارۃ باب الوضوللصلوۃ مرۃ مرۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۸

صحیح ابن خزیمہ     کتاب الوضوباب اباحۃ الوضومرۃ مرۃ حدیث ۱۷۱    المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۸ )
وبمثلہ رواہ الطحاوی عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما وروی ایضا عن امیر المؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ۲؎
اور اسی کے مثل امام طحاوی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بھی روایت کی۔اور امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضادھوئے۔
(۲؎ معانی الآثار،    کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)
وعن ابی رافع رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا ثلثا ثلثا ورأیتہ غسل مرۃ مرۃ ۳؎۔
اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تین تین بار اعضائے وضو دھوئے اور یہ بھی دیکھا کہ سرکار نے ایک ایک بار دھویا۔(ت)
 (۳؎ معانی الآثار    کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)
غالبا جب ایک ایک بار اعضائے کریمہ دھوئے تہائی مد پانی خرچ ہوا ، اور دودو بار میں دو تہائی ،اور تین تین بار دھونے میں پورا مد خرچ ہوتا تھا ۔
فان قلت لیس فی حدیث ام عمارۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد انما فیہ اتی بماءفی اناء قدر ثلثی مد۔
اگریہ سوال ہوکہ حضرت اُمّ عمارہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو تہائی مد سے وضو کیا اس میں صرف اتنا ہے کہ حضورکے پاس ایک برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مُد کی مقدارمیں پانی تھا۔
قلت لیس غرضہا منہ الا بیان قدر ماتوضأ بہ والاکان ذکر قدر الماء اوالاناء فضلا لاطائل تحتہ علی انہا لم تذکر طلبہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم زیادۃ فافاد فحواہ انہ اجتزأ بہ ولعل ھذا ھو الباعث للعلامۃ الزرقانی اذ یقول فی شرح المواھب لابی داؤد عن امّ عمارۃ انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد ۱؎ اھ والا فلفظ ابی داؤد ماقد سقتہ لک۔
قلت(تو میں جواب دوں گا)اس سے ان صحابیہ کامقصود یہی بتانا ہے کہ جتنے پانی سے حضورنے وضو فرمایا اس کی مقدار کیاتھی،اگریہ نہ ہو تو پانی کی مقدار یابرتن کا تذکرہ بے فائدہ و فضول ٹھہر ے گا۔علاوہ ازیں انہوں نے یہ ذکرنہ کیاکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مزید طلب فرمایا تو مضمون حدیث سے مستفادہو کہ اتنی ہی مقدارپرسرکارنے اکتفاء کی۔شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ زُرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ اُمّ ِ عمارہ سے ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دوتہائی مُد سے وضو فرمایااھ-کیونکہ ابوداؤد کے الفاظ تو وہی ہیں جو میں نے پیش کئے(کہ سرکار نے وضو فرمانا چاہا توایک برتن حاضر لایا گیاجس میں دوتہائی مُد کے قدر پانی تھا)۔
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ     المقصدالتاسع الفصل الاول    دارالمعرفۃبیروت ۷ /۲۵۱)
بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی عــہ مُد اور زیادہ سے زیادہ ایک مُد کی حدیثیں آئی ہیں اور حدیث ربیع بنت معوّذ بن عفراء رضی اللہ تعالٰی عنہا:
وضأت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی اناء نحو من ھذا الاناء وھی تشیر الی رکوۃ تاخذ مدا او مدا و ثلثارواہ سعید بن منصور فی سننہ وفی لفظ لبعضھم یکون مدا اومدا و ربعا ۱؎ واصل الحدیث عنہا فی السنن الاربعۃ۔
انہوں نے ایک برتن کی طرف جس میں ایک مُد یا ایک مُد اور تہائی مد پانی آتا،اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اسی طرح کے ایک برتن سے وضو کرایا۔ یہ حدیث سعید بن منصورنے اپنی سنن میں روایت کی- اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ اس میں ایک مُد یا سوا مُد پانی ہوگا۔اورحضرت ربیع سے اصل حدیث سُنن اربعہ میں مروی ہے۔(ت)
عـــہ:ایک حدیث موقوف میں چہارم مد بھی آیاہے کماسیأتی۱۲منہ
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ ص حدیث ۲۶۸۳۷ و ۲۶۸۳۸    موسسۃالرسالہ بیروت     ۹ /۴۳۲ و ۴۳۳)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُس برتن سے وضو فرمایا جس میں ایک مُد یا سوا مُد، اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک مد یا ایک مُد اور تہائی مُد پانی تھا، تو یہ مشکوک ہے اور شک سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں صحیحین وسنن ابی داؤد ونسائی و طحاوی میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک حدیث یوں ہے:
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسۃ مکاکی ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک سے وضو اور پانچ سے غسل فرماتے۔
 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹

سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳

سنن النسائی کتاب الطہاۃباب القدرالذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۴

 شرح معانی الآثار    کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۷)
مکّوک فــ میں کیلہ ہے اور کیلہ نصف صاع تو مکوک ڈیڑھ صاع ہوا کما فی الصحاح والقاموس وغیرھما فی اقاویل اخر اور ایک صاع کو بھی کہتے ہیں بعض علماء نے حدیث میں یہی مراد لی تو وضو کیلئے چار مُد ہوجائیں گے مگر راجح یہ ہے کہ یہاں مکّوک سے مُد مراد ہے جیسا کہ خود اُنھی کی دیگر روایات میں تصریح ہے والروایات تفسر بعضھا بعضا(اور روایات میں ایک کی تفسیردوسری سے ہوتی ہے ۔ت)۔
فـــ:فائدہ مکوک اورکیلہ کابیان
امام طحاوی نے فرمایا:
احتمل ان یکون اراد بالمکوک المد لانھم کانوا یسمون المد مکوکا ۱؎۔
یہ احتمال ہے کہ انہوں نے مکّوک سے مُدمرادلیاہواس لئے کہ وہ حضرات مُد کو مکّوک کہاکرتے تھے(ت)
(۱؎ شرح معانی الآثار    کتاب الزکوۃباب وزن الصاع کم ہو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۷۷)
نہایہ ابن اثیر جزری میں ہے:
اراد بالمکّوک المد وقیل الصاع والاول اشبہ لانہ جاء فی حدیث اخر مفسرا بالمُد والمکوک اسم للمکیال ویختلف مقدارہ باختلاف اصطلاح الناس علیہ فی البلاد ۲؎۔
انہوں نے مکّوک سے مُد مرادلیا۔اورکہاگیاکہ صاع مراد لیا۔اور اول مناسب ہے اس لئے کہ دُوسری حدیث میں اس کی تفسیر''مُد''سے آئی ہے ۔ اور مکّوک ایک پیمانے کانام ہے۔اس کی مقدار مختلف بلاد میں لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔(ت)
(۲؎ النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر     باب المیم مع الکاف تحت اللفظ مکلک دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۲۹۸)
رہا غسل، اُس میں کمی کی جانب یہ حدیث ہے کہ صحیح مسلم میں اُم المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
انھا کانت تغتسل ھی والنبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی اناء واحد یسع ثلثۃ امداد اوقریبا من ذلک ۳؎۔
وہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن میں کہ تین مُد یااس کے قریب کی گنجائش رکھتا نہالیتے۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الزکوۃباب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸)
    اس کے ایک معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اُسی تین مُد پانی سے ہوجاتا تو ایک غسل کو ڈیڑھ ہی مُد رہا مگر علماء نے اسے بعید جان کر تین توجیہیں فرمائیں:

اوّل یہ کہ یہ ہر ایک کے جُداگانہ غسل کا بیان ہے کہ حضور اُسی ایک برتن سے جو تین مُد کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میں بھی ،ذکرہ الامام القاضی عیاض(یہ توجیہ امام قاضی عیاض نے ذکرفرمائی ۔ت)
Flag Counter