رسالہ
بارق النّور فی مقادیر ماء الطھور(۱۳۲۷ھ)
( نورکی تابش ،آب وضووغسل کی مقدارمیں )
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
مسئلہ ۱۷: ۲۲/رمضان المبارک ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو وغسل میں پانی کی کیا مقدار شرعامعین ہے ؟بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے ۔ت)
الجواب
ہم قبل بیان فـــ احادیث ،صاع ومدُورطل کی مقادیربیان کریں کہ فہم معنی آسان ہو۔ صاع ایک پیمانہ ہے چارمُد کا،اور مُدکہ اُسی کو مَن بھی کہتے ہیں ہمارے نزدیک دور طل ہے اور ایک رطل شرعی یہاں کے روپے سے چھتیس ۳۶ روپے بھر کہ رطل بیس۲۰ استارہے اوراستار ساڑھے چار مثقال اور مثقال ساڑھے چار ماشے اور یہ انگریزی روپیہ سواگیارہ ماشے یعنی ڈھائی مثقال، تو رطل شرعی کہ نوے۹۰ مثقال ہوا ،ڈھائی پر تقسیم کئے سے چھتیس۳۶ آئے، توصاع کہ ہمارے نزدیک آٹھ رطل ہے ایک سو اٹھاسی۱۸۸ روپے بھر ہوا یعنی رامپور کے سیر سے کہ چھیانوے۹۶روپے بھرکا ہے پورا تین سیر، اور مُد تین پاؤ۔ اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک صاع پانچ رطل اور ایک ثلث رطل کا ہے اور اس پر اجماع ہے کہ چار مُدکا ایک صاع ہے تو اُن کے نزدیک مُدایک رطل اور ایک ثلث رطل ہوا یعنی رامپوری سیر سے آدھ سیر اور صاع دوسیر۔ اس بحث کی زیادہ تحقیق فتاواے فقیر سے کتاب الصوم وغیرہ میں ہے۔
فــ:مثقال واستار و رطل ومدوصاع کابیان ۔
اب حدیثیں سُنئے:صحیحین میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد ویتوضأ بالمد ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک صاع سے پانچ مُدتک پانی سے نہاتے اورایک مُدپانی سے وضو فرماتے۔
(۱؎صحیح البخاری کتاب الوضوءباب الوضوء بالمُد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹)
صحیح مسلم ومسنداحمد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وشرح معانی الآثار امام طحاوی میں حضرت سفینہ اور مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وطحطاوی میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبداللہ نیز انہیں کتب میں بطرق کثیرہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے :
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتؤضأ بالمد ویغتسل بالصاع ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو اور ایک صاع سے غسل فرماتے ۔
(۲؎صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۳
مسند احمد بن حنبل عن جابر ۱ /۳۰۳ وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا ۶/ ۲۴۹ المکتب الاسلامی بیروت
شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۷۶
سنن الترمذی باب فی الوضو بالمدحدیث ۵۶ دارالفکربیروت ۱ /۱۲۲)
اکثر احادیث اسی طرف ہیں،اور انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث امام طحاوی کے یہاں یوں ہے:
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ من مدفیسبغ الوضوء وعسی ان یفضل منہ الحدیث ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے تمام وکمال وضو وسعت وفراغت کے ساتھ فرمالیتے اور قریب تھاکہ کچھ پانی بچ بھی رہتا۔
(۱؎ شرح معافی الآثار، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۶)
اور ابو یعلی وطبرانی وبیہقی نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسندِ ضعیف روایت کیا:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مُد ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نصف مُد سے وضو فرمایا۔
(۲؎ مجمع الزوائدبحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الطہارۃباب مایکفی من الماء للوضوء الخ دارالکتاب بیروت۱ /۲۱۹)
سُنن ابی داؤد ونسائی میں اُمِّ عمارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ فاتی باناء فیہ ماء قدر ثلثی المد ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمانا چاہا توایک برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مُد کے قدرپانی تھا۔
(۳؎ سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ باب مایجوزمن الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۳)
نسائی کے لفظ یہ ہیں:
فاتی بماء فی اناء قدر ثلثی المد ۴؎۔
ایک برتن میں کہ دو ثلث مُد کے قدر تھا پانی حاضر کیاگیا۔
(۴؎ سنن نسائی، کتاب الطہارۃ باب القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نور محمدکارخانہ کراچی ۱ /۲۴)
ابن خزیمہ وابن حبان وحاکم کی صحاح میں عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
انہ رأی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ بثلث مُدعـــہ ۵؎۔
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھاکہ ایک تہائی مُد سے وضو فرمایا۔
عــہ:ھکذا عزالھم الزرقانی فی شرح المواھب وقد احتاط فنص علی الضبط قائلا ثلث بالافراد ۲؎اھ ونقل البعض عن ابنی خزیمۃ وحبان بنحو ثلثی مُد بالتثنیۃ وان الحافظ ابن حجر قال فی الثلث لم اجدہ کذا قال واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ منہ۔ (م)
عــہ:اسی طرح ان کے حوالے سے علامہ زُرقانی نے شرح مواہب میں ذکرکیااور براہِ احتیاط یہ کہتے ہوئے ضبطِ لفظ کی صراحت کردی کہ ثُلث بصیغہ واحدہے اھ۔ اور بعض نے ابن خزیمہ وابن حبان سے بصیغہ تثنیہ ''بنحوثلثی مد''(تقریباً دو تہائی مد) نقل کیا۔ اور یہ کہ حافظ ابن حجر نے لفظ''ثُلُث'' سے متعلق کہا کہ میں نے اسے نہ پایا۔ انہوں نے ایسا ہی لکھا ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم۱۲ منہ(ت)
(۲؎شرح الزرقانی علی المواھب ا للدنیہ المقصد التاسع الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۵۱
۵؎ المستدرک للحاکم، کتاب الطہارۃ مایجزی من الماء للوضوء مطبوعہ دالفکربیروت ۱ /۱۶۱
صحیح ابن خزیمہ کتاب الطہارۃ باب الرخصۃ فی الوضوء الخ حدیث ۱۱۸ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۶۲
موارد الظمأن باب ماجاء فی الوضو حدیث ۱۵۵ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷)