اقول فــ ۲ : رحم اللّٰہ السید متی راجع العلامۃ الحلبی المحیط البرھانی وھو قد صرح فی عدۃ مواضع من الحلیۃ انہ لم یقف علیہ وھکذا صرح ھھنا ایضا حیث یقول اسلفت فی شرح خطبۃ الکتاب ان الظاھر ان مراد المصنف بالمحیط المحیط لصاحب الذخیرۃ وانی لم اقف علیہ نفسہ و راجعت محیط الامام رضی الدین السرخسی فلم ار لھذہ المسألۃ فیہ ذکرا اما الذخیرۃ فراجعتھا فرأیتہ اشار الیہا بما لفظہ قال القاضی الامام ابو علی النسفی ذکر ھشام فی نوادرہ عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ ولم یتذکر حلما اذا کان قبل النوم منتشرا لاغسل علیہ وان کان قبل النوم ساکنا کان علیہ الغسل قال وینبغی ان یحفظ ھذا فان البلوی کثیر فیہا والناس عنھا غافلون انتھی ۱؎ اھ۔نعم لیس ھو فی المحیط البرھانی ایضا فقد نقل عنہ فی الھندیۃ بعین لفظ الذخیرۃ غیر انہ زاد بعد قولہ لاغسل علیہ الا ان تیقن انہ منی وقال قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنہا غافلون فیجب ان تحفظ ۲؎ اھ۔
اقول:علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو محقق حلبی نے محیط برہانی کی مراجعت کب فرمائی جب کہ انہوں نے حلیہ کے متعدد مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ انہیں محیط برہانی کی واقفیت بہم نہ ہوئی۔ اسی طرح اس مقام پر بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے،لکھتے ہیں کہ میں خطبہ کتاب کی شرح میں بیان کرچکاہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ محیط سے مصنّف کی مراد صاحبِ ذخیرہ کی محیط ہے اور خوداس کی مجھے واقفیت نہ ہوئی۔میں نے امام رضی الدین سرخسی کی محیط دیکھی تو اس میں اس مسئلہ کا ذکر نہ پایا۔ اورذخیرہ کی مراجعت کی تو اس میں ان الفاظ میں اس مسئلہ کی جانب اشارہ پایا:قاضی امام ابو علی نسفی نے فرمایاکہ ہشام نے اپنی نوادر میں امام محمد سے روایت کی ہے کہ جب بیدار ہو کر اپنے احلیل میں تری پائے اور خواب یاد نہیں تو اگر سونے سے پہلے ذکر منتشرتھا تواس پر غسل نہیں، اور اگرسونے سے پہلے ساکن تھا تو اس پر غسل ہے۔فرمایا: اور اسے حفظ رکھنا چاہئے کیونکہ اس میں ابتلابہت ہوتا ہے اورلوگ اس سے غافل ہیں انتہی اھ۔ہاں یہ محیط برہانی میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے ہندیہ میں بعینہ ان ہی الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے جوذخیرہ میں ہیں، سوا اس کے کہ ''اس پرغسل نہیں'' کے بعدیہ اضافہ ہے''مگریہ کہ اسے منی ہونے کایقین ہو''۔اور کہاکہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ بہت واقع ہوتاہے اورلوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ کرناضروری ہے اھ۔
فـــ۲: معروضۃ علی العلامۃ الشامی۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۵ )
وھکذا نقل عن المحیط فی شرح النقایۃ للبرجندی والرحمانیۃ الا انھما ترکا ذکر الامام ابی علی النسفی والبرجندی قول شمس الائمۃ ایضا ومعلوم فــ ان المحیط اذا اطلق فی المتداولات کان المراد ھو المحیط البرھانی کما یعرفہ من لہ عنایۃ بخدمۃ الفقہ الحنفی، وقال الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ المحیط البرھانی ھو المراد من اطلاقہ لغیر واحد کصاحب الخلاصۃ والنھایۃ لامحیط الامام رضی الدین السرخسی ۱؎ اھ ثم الھندیۃ قد افصحت بمرادھا فانھا اذا اثرت عن البرھانی اطلقت واذانقلت عن المحیط الرضوی قالت کذا فی محیط السرخسی۔
اسی طرح محیط سے برجندی کی شرح نقایہ اور رحمانیہ میں منقول ہے مگر دونوں نے امام ابو علی نسفی کا ذکر چھوڑ دیا ہے اوربرجندی نے شمس الائمہ کا قول بھی ترک کردیا ہے۔یہ بھی معلوم ہے کہ کتب متداولہ میں محیط جب مطلق بولی جاتی ہے تو محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے جیسا کہ فقہ حنفی کی خدمت سے اعتنا ر کھنے والا اسے جانتا ہے۔اور امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں لکھاہے کہ متعدد حضرات جیسے صاحبِ خلاصہ و نہایہ کے مطلق بولنے سے محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے محیط امام رضی الدین سرخسی نہیں اھ۔ پھر ہندیہ نے تواپنی مراد صاف بتادی ہے کیونکہ اس کا طریقہ یہی ہے کہ محیط برہانی سے نقل ہو تو مطلق محیط لکھا ہوتا ہے اور محیط رضوی سے نقل ہو تو''کذافی محیط السرخسی'' سے تعبیر ہوتی ہے اھ(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۵)
ثانیا اقول:بلکہ محیط میں فــ۱ ہے تو اس کا رد ہے اس میں صریح تصریح ہے کہ کھڑے، بیٹھے، چلتے،لیٹے ہر طرح سونے کا تری دیکھنے میں ایک ہی حکم ہے ،
فــ۱:تطفل اٰخری علی المنیۃ و مسکین۔
ففی الھندیۃ فــ۲اذا نام الرجل قاعدا اوقائما اوما شیا ثم استیقظ ووجد بللا فھذا و ما لونام مضطجعا سواء کذافی المحیط۲؎ اھ۔
ہندیہ میں ہے جب مرد کھڑے بیٹھے چلتے سوجائے پھر بیدار ہو اور تری پائے تو یہ اور لیٹ کر سوجائے توسبھی صورتیں برابرہیں،ایساہی محیط میں ہے۔ اھ۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۵)
ثالثا اقول فــ۳منتہائے مسئلہ امام محمد ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کے لفظ کریم ذخیرہ ومحیط وتبیین وفتح القدیر وغیرہا سے سُن چکے اُن میں اس نئے استثنا کا کہیں نشان نہیں۔
فـــ۳:تطفل ثالث علیھماوعلی الدرومجمع الانھر۔
رابعا اقول سونے فــ۴کے طبعی وعادی وضع وہی لیٹ کر سوناہے اور کھڑے بیٹھے چلتے سونا اتفاقی تو اگر لیٹ کر سونے میں بحالتِ شہوت سابقہ علم یااحتمال مذی سے غسل نہ آتا اور دیگر اوضاع پر آتااور علما مطلق بیان فرماتے کہ سونے سے پہلے شہوت ہونے میں غسل نہیں تو بعید نہ تھا کہ نادر صورتوں کا لحاظ نہ فرمایا نہ کہ خود لیٹ کر سونا ہی کہ اصل وضع خواب ومعروف ومعتاد ومتبادر الی الفہم ہے اس حکم سے مستثنٰی ہو پھر ائمہ کرام اور خود محرر مذہب رحمہم اللہ تعالٰی اُس کا استنا چھوڑ جائیں یہ کس درجہ بعید ودُور از کار ہے۔
فــ۴:تطفل رابع علیہم۔
خامسا اقول امام شمس الائمہ حلوانی فــ۱کا ارشاد کہ کتب کثیرہ اور خود منیہ میں اس تازہ استثنا کے ساتھ مذکور کہ یہ مسئلہ بکثرت واقع ہوتا ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تو اس کا حفظ کر رکھنا واجب ہے صاف بتارہا ہے کہ اس کا تعلق صرف اُس صورت خواب سے ہرگز نہیں جو نادر الوقوع ہے۔
فــ۱:تطفل خامس علیھم ۔
سادسا اس تفرقہ پر کوئی دلیل بھی نہیں۔
اماماابداہ فی الغنیۃ اذقال'' عدم وجوب الغسل فیما اذا کان منتشرا انما ھو اذا نام قائما اوقاعدا لعدم الاستغراق فی النوم عادۃ فلم یعارض سببیۃ الانتشار سبب اخر فحمل علی انہ ھو السبب وانما یتسبب عنہ المذی لاالمنی والاضطجاع سبب الاسترخاء والاستغراق فی النوم الذی ھو سبب الاحتلام فعارض الانتشار فی السببیۃ فیحکم بسبیتہ للاحتلام وان البلل منی رق احتیاطا ۱؎ اھ وتبعہ السیدان ط وش۔
مگر غنیہ میں یہ رائے ظاہر کی ہے: ذکر منتشرہونے کی صورت میں عدم وجوب غسل اسی وقت ہے جب کھڑے یابیٹھے سویاہوکیونکہ ایسی حالت میں عادۃً گہری نیند نہیں آتی توسبب انتشار کے معارض کوئی اورسبب (اس حالت میں)نہیں پس یہ اس پر محمول ہوگا کہ انتشار ہی سبب ہے اور اس کی وجہ سے مذی ہی آتی ہے منی نہیں آتی۔اور کروٹ لینا اعضا کے ڈھیلے پڑجانے اور سببِ احتلام نیند میں استغراق کا سبب ہوتا ہے تویہ سبب ہونے کے معاملہ میں انتشار کے معارض ہوگااس لئے احتیاطاً اس کے سببِ احتلام ہونے کا حکم ہوگااوراس کا کہ تری منی ہے جو رقیق ہوگئی ۔اھ۔اس رائے میں سید طحطاوی وسید شامی نے بھی غنیہ کا اتباع کیاہے۔
فاقول لافــ۲ متضح ولا متجہ فان النوم کیفما کان لیس سببا قویا للاحتلام کما بیناہ، وانما ینتھض موجبا اذا اعتضد بسبب وسیط اوقریب والاضطجاع لایسلب انعقاد سبب المذی قبل النوم بل یؤکد خروج ماھیأہ ھو للخروج لتمام الاسترخاء فلم یثبت ان النوم احدث تلک البلۃ التی لاتنبعث الا عن شھوۃ فلم یبق الا مجرد المنام وھو ولو مضطجعا لیس سببا قویا للاحتلام، ھذا علی طریقتنا واما علی طریقۃ الحلیۃ فلان الانتشار قد استولی علی المسبب بالسبق فلا وجہ لقطع النسبۃ عنہ الا بتذکر حلم اوعلم منی ولم یعھد الشرع ھھنا فارقا بین نوم ونوم حتی یسقط الترجیح بالسبق لبعض الاوضاع دون بعض۔
اقول یہ رائے نہ واضح ہے نہ باوجہ،اس لئے کہ نیند جس حالت میں بھی ہووہ احتلام کا سبب قوی نہیں، جیساکہ ہم نے بیان کیا۔وہ صرف اس حالت میں موجب بنتی ہے جس سبب وسیط یاقریب سے قوت پاجائے اورسونے سے پہلے جوسبب مذی متحقق ہوچکااضطجاع اسے سلب نہیں کرتا بلکہ اس سبب نے جس تری کو آمادہ خروج کردیا تھا اضطجاع اس کے خروج کو اور مؤکد کردیتاہے کیونکہ اس میں استرخاکامل ہوجاتاہے تویہ ثابت نہ ہوا کہ نیند ہی نے وہ تری پیدا کی تھی جو شہوت ہی سے برانگیختہ ہوتی ہے۔ اب صرف نیند رہ گئی اور نیند خواہ لیٹ ہی کر ہو احتلام کاسبب قوی نہیں۔یہ ہمارے طریقہ پر ہے اور حلیہ کے طریقہ پر یوں کہاجائے گاکہ انتشار سبقت کے باعث مسبّب پرحاوی ہوگیا تواس سے اس مذی کی نسبت منقطع کرنے کی کوئی وجہ نہیں،مگریہ کہ خواب یاد ہویا منی ہونے کا یقین ہواور شریعت سے یہاں ایک نیند اوردوسری نیند میں کوئی تفریق ثابت نہیں کہ انتشار کوسبقت کے باعث جو ترجیح ملی تھی وہ نیند کی بعض صورتوں میں ساقط ہوجائے اور بعض میں ساقط نہ ہو۔
فـــ۲:تطفل علی الغنیۃ وط وش۔
لاجرم امام محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس تفرقہ سے صاف انکارفرمایا،
حیث قال التفرقۃ غیر ظاھر الوجہ فلاجرم ان قال فی الخانیۃ اذانام الرجل قائما اوقاعدا اوماشیا فوجد مذیا کان علیہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالٰی بمنزلۃ مالو نام مضطجعا ۱؎ اھ فاطلق فی الکل فان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال المذکورۃ فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق اذلایظھر بینھا فی ذلک افتراق ۲؎ اھ ورجع العلامتان ط وش فاثرا انکار الحلیۃ ھذا فی حواشی المراقی والدر و اقراہ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں: تفریق کی وجہ ظاہر نہیں ۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر خانیہ میں فرمایا:جب مرد کھڑے بیٹھے یا چلتے ہوئے سوجائے پھرمذی پائے توامام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہما اللہ تعالٰی کے قول پر غسل واجب ہوگا جیسے کروٹ لیٹ کر سوجائے تو واجب ہو گااھ۔توصاحب خانیہ نے حکم سب میں مطلق رکھا۔توانتشارسے وجوب غسل کو مقید کرنامذکورہ حالتوں میں سے کسی ایک میں اگرتام اور درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ سب ہی حالتیں مطلق رہیں گی۔اس لئے کہ اس بارے میں ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔ اور علامہ طحطاوی وشامی نے رجوع کرلیااس طرح کہ مراقی الفلاح اور درمختار کے حواشی میں صاحبِ حلیہ کا یہ انکار نقل کر کے برقراررکھا۔
(۱؎؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
۲؎؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول غیر فــ ان فی نقل ط وقع ھھنا اخلال یوھم من لم یطالع الحلیۃ انہ کما انکر التفرقۃ انکر نفس الثنیا وحکم بوجوب الغسل علی الاطلاق حیث قال تحت قول الشرنبلالی ''اذالم یکن ذکرہ منتشرا قبل النوم مانصہ لم یفصل بین النوم مضطجعا وغیرہ کغیرہ وقال ابن امیر حاج التفرقۃ غیر ظاھرۃ الوجہ فالکل علی الاطلاق اذلا یظھر بینہما افتراق ۱؎ اھ
اقول مگر یہ ہے کہ یہاں سید طحطاوی کی نقل میں ایک خلل ہے جس سے حلیہ نہ دیکھے ہوئے شخص کو یہ وہم ہوگا کہ صاحبِ حلیہ نے جیسے تفریق کا انکارکیا ہے ویسے ہی استثنا ء کا انکار کیا ہے اورمطلقاً وجوب غسل کا حکم کیا ہے یہ اس طرح کہ علامہ شرنبلالی کے قول''جب کہ سونے سے پہلے اس کا ذکر منتشرنہ رہا ہو''کے تحت سیدطحطاوی لکھتے ہیں: دوسرے حضرات کی طرح انہوں نے بھی کروٹ لیٹنے اور دوسرے طور پر لیٹنے میں فرق نہ کیا اورابن امیر الحاج نے فرمایا: تفریق کی وجہ ظاہر نہیں تو سبھی حالتوں میں حکم مطلق ہے کیونکہ ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔
فــ: معروضۃ علی العلامۃ ط۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ فصل مایوجب الاغتسال دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹)
فان المراد بالکل اوضاع النوم المذکورۃ وبالاطلاق فی کلام الحلیۃ وجوب الغسل سواء کان منتشرا قبلہ اولا وھو لم یجزم بھذا الاطلاق بل بناہ علی ان لایتم تقیید المسألۃ بمامر والافالکل علی التقیید کمالایخفی، وما قدم من الایراد لم یجزم بہ ایضا انما قال لوقال ''قائل کذا لاحتاج الی الجواب ۲؎ اھ فلیتنبہ لذلک وباللّٰہ التوفیق۔
اس لئے کہ سبھی حالتوں سے مراد نیندکی مذکورہ حالتیں ہیں اور کلام حلیہ میں''مطلق ہونے '' سے مراد یہ ہے کہ غسل واجب ہے خواہ سونے سے پہلے ذکر منتشررہاہویا نہ رہا ہواور صاحبِ حلیہ نے اس اطلاق پرجزم نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے اس بات پرمبنی رکھاہے کہ مسئلہ کی تقیید مذکورہ امرسے اگرتام نہ ہو، ورنہ سبھی میں تقیید ہوگی۔جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔اورجو اعتراض انہوں نے پہلے ذکر کیا ہے اس پربھی جزم نہیں کیا ہے بلکہ یوں کہاہے کہ اگرکوئی کہنے والا یہ کہے توجواب کی ضرورت ہوگی ۔اھ۔تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ثم ان المحقق الحلبی فی الغنیۃ بعد ذکر مسألۃ الثنیا قال وھی تؤید قولھما فی وجوب الغسل اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام ۳؎ اھ
پھر محقق حلبی نے غنیہ میں مسئلہ استثناء ذکر کرنے کے بعدلکھاہے: اس روایت سے طرفین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جب مذی ہونے کایقین ہواوراحتلام یاد نہ ہو تو غسل واجب ہے۔اھ۔
اقول انما ھی عن فــ محمد وانما تبتنی علی قولھمافکیف یؤید الشیئ بنفسہ ھذا واذا قد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ فلنسمہا ''الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل'' حامدین للّٰہ علی ماعلم ومصلین علی ھذا الحبیب الاکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہ وبارک وسلم۔واللہ سبحنہ وتعالی اعلم ۔
اقول یہ روایت امام محمد ہی سے تو ہے اور ان ہی کے امام صاحب کے قول پر اس کی بنیاد بھی ہے تو شئی کی تائید خود اپنی ہی ذات سے کیسے ہوگی ؟۔ یہ بحث تمام ہوئی۔اور یہ عُجالہ جب ایک رسالہ کی صورت اختیار کرگیا تو ہم اسے الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل(۱۳۲۰ھ)(احتلام اور تری کی صورتوں سے متعلق احکام واسباب) سے موسوم کریں خدا کی حمد کرتے ہوئے اس پر جو اس نے سکھایا اور درود بھیجتے ہوئے اس حبیب اکرم پر۔ ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر خدائے برتر کی رحمت وبرکت اور سلام ہو۔ اور خدائے پاک وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔(ت)
فـــ:تطفل علی الغنیۃ ۔
رسالہ
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل
ختم ہوا