Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
42 - 135
تنبیہ رابع عشر(۱۴) اقول : جس طرح فــ۲یہ استثنا نہ احتلام ہونے کی کسی صورت سے متعلق نہ یاد ہونے کی حالت میں صورت سوم یعنی علم منی سے اُسے تعلق نہ شکل ششم یعنی علم عدم منی میں اس کی کچھ حاجت کہ اس صورت میں خود ہی غسل کی ضرورت نہیں،یونہی شکل چہارم کی صورت احتمال منی و ودی سے بھی اُسے کچھ علاقہ نہیں کہ نیند سے  پہلے شہوت و انتشار تو دلیل مذی ہوتے جب معلوم ہے کہ یہ تری مذی نہیں تو اُن کا ہونا نہ ہونا یکساں ہوا اور بوجہ احتمال منی مطلقا غسل واجب رہا۔
فــ۲:صورت استثنا صرف اس حالت سے متعلق ہے کہ احتلام یاد نہ ہو اور تری خاص مذی ہو یا منی و مذی میں مشکوک۔  

ولقد احسن العلامۃ ط اذقال''یجب الغسل عندھما لا عند ابی یوسف فیما اذا شک انہ منی اومذی ولم یکن ذکرہ منتشرا او منی او ودی ولم یتذکر الاحتلام فیھم ۱؎ اھ۔
اسے علامہ طحطاوی نے اچھے انداز میں بیان کیا: ان کے الفاظ یہ ہیں: طرفین کے نزدیک غسل واجب ہے۔امام ابویوسف کے نزدیک نہیں۔اس صورت میں جب کہ اسے شک ہو کہ منی ہے یا مذی ، اور ذکر منتشر نہ رہا ہو یا شک ہو کہ منی ہے یا ودی، اور ان دونوں صورتوں میں احتلام یاد نہ ہو۔ اھ(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    کتاب الطہارۃ    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ        ۱ /۹۲ و ۹۳)
ففصل ھذہ عن الثنیا وخصہ بالاولٰی اماما فی البحر من بیانہ اولا صورتی الخلاف بین الثانی والطرفین مطلقا ثم قولہ بعد ذکر صورۃ الثنیا''ھذہ تقید الخلاف المتقدم بین ابی یوسف وصاحبیہ بما اذا لم یکن ذکرہ منتشرا۲؎ اھ فرأیتنی کتبت علی ھامشہ۔اقول ای الصورۃ الواحدۃ من صورتی الخلاف وھی ما اذا شک فی المنی والمذی اما اذاشک فی المنی والودی فلا دخل فیہ للانتشار قبل النوم اھ فاعرف ولاتزل۔
تو احتمال  منی و ودی کی صورت کو انہوں نے استثناسے الگ کردیا اور استثنا کو صرف پہلی صورت سے خاص کیا مگر بحر میں امام ثانی اور طرفین کے درمیان اختلاف کی دونوں صورتیں پہلے مطلقاً بیان کی ہیں، پھرصورتِ استثنا ذکر کرکے لکھا ہے یہ صورت استثناامام ابویوسف اورطرفین کے درمیان ذکر شدہ سابقہ اختلاف کو اس حالت سے مقید کردیتی ہے جب ذکر منتشرنہ رہا ہواھ۔یہاں میں نے دیکھا کہ اس کے حاشیہ پرمیں نے یہ لکھا ہے : اقول:یعنی اختلاف کی دو صورتوں میں سے ایک صورت کو مقید کرتی ہے وہ منی یا مذی میں شک کی صورت ہے لیکن جب منی یا ودی میں شک ہو تواس میں سونے سے پہلے انتشارِ آلہ کا کوئی دخل نہیں اھ۔تو تم اس سے آگاہ رہنا اور لغزش میں نہ پڑنا۔(ت)
(۲؎ البحرا الرائق         کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۸)
اب رہی شکل چہارم کی وہ صورت جس میں منی ومذی مشکوک ہو اور شکل پنجم جس میں مذی کا علم ہو عامہ کتب میں اُسے صورتِ اولٰی یعنی حالت شک سے متعلق فرمایا ہے
کما مر عن الخانیۃ وغیرھا
(جیساکہ خانیہ وغیرہا سے گزرا۔ت)
اقول: مگر اس سے متعلق کرنا ہی صورت ثانیہ یعنی علم مذی سے بدرجہ اولٰی تعلق بتاتا ہے کہ احتلام یاد نہ ہونے کی حالت میں جبکہ سوتے وقت شہوت ہونے سے صرف احتمال مذی پر مذی ٹھہرایا اور احتمال منی کا لحاظ نہ فرمایا تو جہاں مذی کا علم ہے بروجہ اولٰی مذی ہی قرار پائے گی اور غسل واجب نہ ہوگا۔کتب میں حالت اولٰی کے ساتھ اس کی تخصیص فریق اول کے طور پر تو ظاہر کہ اُن کے نزدیک علم مذی کی صورت میں خود ہی غسل نہ تھا کسی استثناکی کیا حاجت،اور فریق دوم نے صورت خفا پر تنصیص فرمائی کہ بحال احتمال منی بھی صرف احتمال مذی سے مذی ٹھہرنا معلوم ہوجائے،دوسری صورت کا حکم اس سے خود روشن ہوجائےگا لاجرم حلیہ میں فرمایا:
یکون الغسل اذا وجد البلۃ التی مذی بطریق شک اوفی غالب الرأی اوالیقین بشرط کونہ غیر ذاکر للاحتلام ولا منتشر الذکر قبیل النوم ۱؎ اھ
غسل ہوگاجب وہ تری پائے جس کے مذی ہونے کاشک یاظن غالب یایقین ہے بشرطیکہ احتلام یادنہ ہو، نہ ہی سونے سے پہلے ذکرمنتشر رہاہواھ۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
تنبیہ خامس عشر(۱۵)عامہ کتب مثل فتاوی امام قاضی خان و ذخیرہ ومحیط برہانی وتبیین الحقائق وفتح القدیر وجوہرہ نیرہ و خزانۃ المفتین و مجتبی وغیاثیہ وبحرالرائق وجامع الرموز و شرح نقایہ برجندی وعالمگیریہ و رحمانیہ ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرہا میں یہ استثنا یونہی مذکور ہے مگر منیہ میں اس استثنا میں ایک استثنا بتایا اور اُسے محیط وذخیرہ اور درمختار ومجمع الانہر میں جواہر کی طرف نسبت فرمایا وہ یہ کہ اس استثنا کا حکم صرف اُس صورت سے خاص ہے کہ آدمی کھڑا یا بیٹھا سویا ہو اور اگر لیٹ کر سویا تو مطلقا صورت مذکورہ میں غسل واجب ہوگا اگرچہ سونے سے پہلے ذکر قائم اور شہوت حاصل ہو منیہ میں ہے:
ھذا اذا نام قائما اوقاعدا اما اذا نام مضطجعا اوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل وھذا مذکور فی المحیط والذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ مسألۃ یکثر و قوعھا والناس عنھا غافلون ۱؎ اھ وتبعہ مسکین فی شرح الکنز فعزاہ لھما۔
یہ اس صورت میں ہے جب کھڑا یا بیٹھاسویا ہو اور اگر لیٹ کرسویا ہویا اسے منی ہونے کا یقین ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔اوریہ محیط وذخیرہ میں مذکور ہے۔ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا: یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں اھ۔ شرح کنز میں مسکین نے بھی صاحبِ منیہ کا اتباع کرتے ہوئے دونوں کاحوالہ دیا ہے(ت)
 (۱؎ منیۃ المصلی    موجبات الغسل    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۳۳)
مگر اولا فــ۱اس کا پتا نہ ذخیرہ میں ہے نہ محیط میں واللہ اعلم صاحب منیہ رحمہ اللہ تعالٰی کو یہ اشباہ کیونکر ہوا
فــ۱: تطفل علی المنیۃ و شرح الکنز لمسکین۔
قال الشامی ذکر فی الحلیۃ انہ راجع الذخیرۃ والمحیط البرھانی فلم یرتقیید عدم الغسل بما اذانام قائما اوقاعدا ۲؎ اھ۔
علامہ شامی نے فرمایا:حلیہ میں ذکرہے کہ انہوں نے ذخیرہ اور محیط برہانی کی مراجعت فرمائی تواس میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے سونے کی صورت سے عدم غسل کی تقییدنہ پائی اھ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۱۱۰)
Flag Counter