Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
41 - 135
ثم انہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اعترض:
آگے صاحبِ حلیہ رحمہ اللہ تعالٰی نے چنداعتراض کئے ہیں:
اعتراض اول عبارت مسئلہ سے متعلق ہے کہ اس میں تری مطلق ذکر ہے فرماتے ہیں:اسمیں کوئی شک نہیں کہ منی مراد نہیں۔ اسی لئے مصنف نے ذکرکیاکہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تواس پرغسل ہے۔اھ۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی    )
وقد قدمنا الجواب عنہ ان المراد بلل لایدری ا منی ھو ام مذی قال فی الخانیۃ فی تصویر المسألۃ ''استیقظ فوجد علی طرف احلیہ بلۃ لایدری انھا منی او مذی ۲؎ الخ ولفظ الغیاثیۃ ذکر ھشام عن محمد فی نوادرہ انہ وجد البلل فی طرف احلیہ شبہ المذی ولم یذکر حلما ۳؎ الخ''۔
اور اس کا جواب ہم پیش کر آئے ہیں کہ مراد ایسی تری ہے جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ منی ہے یا مذی، خانیہ میں صورتِ مسئلہ کے بیان میں کہا: بیدار ہوکر سرِاحلیل پر ایسی تری پائی جس کے بارے میں وہ نہیں جانتاکہ منی ہے یا مذی الخ۔ اور غیاثیہ کے الفاظ یہ ہیں : ہشام نے نوادر میں امام محمدسے نقل کیاہے کہ جب کنارہ احلیل پر مذی کے مشابہ تری پائے اوراسے خواب یاد نہیں الخ۔
 (۲؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل    نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۱

۳؎ الفتاوی الغیاثیہ    نوع اسباب الجنابۃ واحکامہا        مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۸)
اقول: ونص الہندیۃ عن المحیط والحلیۃ عن الذخیرۃ کلیھما عن القاضی الامام ابی علی النسفی عن ھشام عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ ۴؎ الخ۔
اقول: ہندیہ میں محیط کے حوالہ سے اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے دونوں قاضی امام ابو علی نسفی سے ناقل ہیں وہ ہشام سے وہ امام محمد سے :جب بیدارہوکر اپنے احلیل میں تری پائے۔الخ۔
 (۳؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الطہارۃ  الباب الثانی الفصل الثالث        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۵)
فاذا فــ۱ کان ھذا لفظ محمد فلا معنی للاعتراض علیہ وانما کان سبیلہ بیان المراد کما فعل فقیہ النفس وغیرہ من الامجاد۔
توجب یہ امام محمد کے الفاظ ہیں تواس پراعتراض کاکوئی معنی نہیں۔اس کا طریقہ یہ تھاکہ مراد بیان کی جاتی جیسا کہ امام فقیہ النفس وغیرہ بزرگوں نے کیا۔
فــ۱:تطفل ثالث علیھا۔
ثم اعترض علی ما استشھد بہ من عبارۃ المنیۃ لوتیقن انہ منی بانہ یفید بمفھومہ ان لو لم یتیقن لاغسل فیفید ان لو کان اکبر رأیہ انہ منی لایجب لکنہ یجب کما صرح بہ قاضی خان فی فتاویہ ۱؎ اھ۔
اس کے بعد منیہ کی جو عبارت بطور شاہدپیش کی اس پراعتراض کیاکہ ''اگراسے یقین ہے کہ وہ منی ہے تو غسل ہے'' اس عبارت کے مفہوم سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگریقین نہ ہوتوغسل نہیں۔اب مفادیہ ہوگا کہ اگر اسے منی ہونے کا غالب گمان ہوتوغسل واجب نہیں۔حالاں کہ اس صورت میں بھی غسل واجب ہے جیساکہ امام قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصریح فرمائی ہے اھ۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول فــ۲اکبر الرأی فی الفقہیات ملتحق بالیقین بل ربما اطلقوا علیہ الیقین ھذا۔
اقول:غالب گمان اور اکبر رائے فقہیات کے اندریقین میں شامل ہے بلکہ بارہا اس پر یقین کا اطلاق کرتے ہیں۔یہ ذہن نشین رہے۔
فـــ۲: تطفل رابع علیھا۔
واعتراض ثانیا علی دلیل المسألۃ بما حاصلہ منع ان الانتشار مظنۃ الامذاء الا اذا کان الرجل مذاء قال''اما اذا لم یکن فینفرد النوم مظنۃ ۱؎ اھ مختصرا۔
اعتراض دوم دلیل مسئلہ پرہے،اس کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں تسلیم نہیں کہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے ہاں مگر جب کہ مرد کثیر المذی ہو، فرماتے ہیں: لیکن جب ایسا نہ ہوتوتنہا نیندمظنّہ ہے اھ مختصراً۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی    )
اقول ان ارادفــ۱المظنۃ المصطلحۃ فقدمنا ان النوم ایضا لیس مظنۃ الامناء فالمراد السبب مطلقا ولولا مطلقا بھذا المعنی لاشک ان الانتشار مظنۃ الامذاء۔وان فــ۲ بغیت التحقیق فاقول دونک مشرعا اعطیتک من قبل بہ یظھر تعلیل المسألۃ والجواب عن ایراد الحلیۃ معا فان النوم سبب ضعیف للامناء وانما کان یتقوی باحد شیئین تذکر الاحتلام او ان یحدث بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ وقد انتفیا ھھنا اما الحلم فلعدم الذکر واما البلۃ فلا نعقاد سببہا قبل النوم فلم تدل علی احداثہ انتشارا شدیدا مدیدا یورث خروج بلۃ عن شھوۃ فلم یبق الا محض النوم وکان سببا ضعیفا فتقاعد ان ینتھض موجبا فجعلہما مظنتین وترجیح الانتشار بالسبق وعند عدمہ افراد النوم بالمظنّیۃ کلہ بمعزل عن التحقیق واللّٰہ سبحنہ ولی التوفیق۔
اقول:اگرمظنّہ اصطلاحی مراد ہے توہم بیان کر آئے کہ نیند بھی منی نکلنے کا مظنہ نہیں۔ تومطلقاً سبب ہونا مراد ہے اگرچہ سبب مطلق مرادنہ ہو۔ اور اس میں بلاشبہہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے اور اگرناظرکوتحقیق کی طلب ہے تو میں کہتاہوں وہ قاعدہ لے لو جو پہلے میں دے چکاہوں اس سے مسئلہ کی تعلیل اور اعتراض حلیہ کا جواب دونوں واضح ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے اگرچہ اسے دو باتوں میں کسی ایک سے قوّت مل جاتی ہے۔یاتواحتلام یادہو۔ یا ایسی تری نمودارہو جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں اٹھتی۔اوریہاں ایک بھی نہیں خواب یاد ہی نہیں، اورتری ہے تو اس کا سبب سونے سے پہلے ہی متحقق ہوچکا ہے اس لئے یہ تری اس کی دلیل نہیں کہ نیند سے انتشارِ شدید مدید پیداہواجو شہوت سے تری نکلنے کا موجب ہے، تو اب صرف نیندرہ گئی ، وہ سبب ضعیف ہے اس لئے موجب نہ بن سکی۔تو صاحبِ حلیہ کا نیند اورانتشار کو دو مظنّہ شمار کرنا اور انتشار کو بربنائے سبقت ترجیح دینا، اوریہ نہ ہونے کے وقت تنہا نیند کو مظنّہ ٹھہرانا سب تحقیق سے  بے گانہ ہے۔ اور خدائے پاک ہی مالکِ توفیق ہے۔
فــ۱:تطفل خامس علیھا۔

فــ۲:تطفل سادس علیھا۔
وثالثا تکعکع عن قبولھا قائلا ان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق ۱؎ اھ۔
اعتراض سوم اس روایت کو ماننے سے یہ کہتے ہوئے پس وپیش کی: اگر انتشار سے وجوبِ غسل کو مقید کرنا کسی ایک حالت میں درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا،ورنہ کسی میں تقیید نہ ہوگی اھ۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول ان فــ۱کان ھذا لما عن لہ من الایراد فقد علمت الجواب عنہ وان کان لان الروایات الظاھرۃ والمتون مطلقۃ فلا غر و فی القول بقید ذکر عن احد ائمۃ المذھب الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وتلقاہ الجملۃ الفحول بالتسلیم والقبول حتی ان المحقق الشرنبلالی ادخلہ فی متنہ نورالایضاح ونعما فعل وقصد المدقق العلائی تکمیل متن التنویر بزیادۃ ھذا الاستثناء وجعلہ الشامی اصلاح المتن۔
اقول:یہ بات اگراس اعتراض کی وجہ سے ہے جو ان کے ذہن میں آیا، تو اس کاجواب واضح ہو چکا۔ اوراگراس وجہ سے ہے کہ روایات ظاہرہ اور متون میں تقیید نہیں ہے توایک ایسی قید کوماننے میں کوئی عجب نہیں جو تینوں ائمہ مذہب میں کسی ایک سے نقل کی گئی ہے اور اجلّہ اکابر نے اسے تسلیم وقبول کے ساتھ لیا ہے یہاں تک کہ محقق شرنبلالی نے اسے اپنے متن نور الایضاح میں داخل کیا۔ اور بہت اچھاکیا۔ اور مدقق علائی نے اس استثناء کا اضافہ کر کے متنِ تنویر کی تکمیل کرنی چاہی اورعلامہ شامی نے اسے متن کی اصلاح قرار دیا۔
فــ۱: تطفل سابع علیھا
اقول و مع فــ۲ ذالک جواب التنویر نیر مستنیر ان المتون لم توضع الا لنقل ما فی الروایات الظاھرۃ من المذھب وھھنا تم بیان ان لا قصور فی عبارۃ المتن اصلا ولا حاجۃ لہا الی شیئ من الاستثناء ات الثلثۃ ھذا۔
اقول:اس کے باوجود تنویر کا جواب روشن و واضح ہے کہ متون کی وضع اسی مذہب کی نقل کے لئے ہوئی ہے جو روایاتِ ظاہرہ میں ہے۔اور یہاں اس بات کا بیان مکمل ہوجاتاہے کہ عبارت متن میں بالکل کوئی کمی نہیں اور اس میں درمختار کے مذکورہ تینوں استثناء میں سے کسی کی حاجت نہیں۔ یہ ذہن نشین رہے۔
فــ۲: معروضات علی العلامۃ ش۔
وقد قال شمس الائمۃ الحلوانی ان ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنھا غافلون فیجب ان تحفظ کما فی المحیط والخانیۃ والمنیۃ والغیاثیۃ والہندیۃ وغیرھا۱؎ وھکذا اوصی بحفظھا فی الذخیرۃ کما نقل عنھا فی الحلیۃ وقد قال فی الغنیۃ فی مسألۃ فـــ عفو بول انتضح کرؤس الابراذ قیدتہ روایۃ مذکورۃ فی الحلیۃ وغیرھا عن النھایۃ عن المحبوبی عن البقالی عن المعلی عن ابی یوسف بان یکون بحیث لا یری اثرہ فان کان یری فلا بد من غسلہ مانصہ التقیید بعدم ادراک الطرف ذکرہ المعلی فی النوادر عن ابی یوسف
امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایاہے کہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ رکھنا ضروری ہے، ان سے اسی طرح محیط،خانیہ، منیہ، غیاثیہ، ہندیہ وغیرہا میں منقول ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اسے حفظ رکھنے کی تاکید کی ہے جیسا کہ اس سے حلیہ میں منقول ہے۔ سوئی کی نوک جیسی پیشاب کی باریک باریک بُندکیوں کے معاف ہونے کامسئلہ ہے اس میں ایک قید کا اضافہ ہوا اس روایت کے باعث جوحلیہ وغیرہا میں نہایہ سے ، اس میں محبوبی سے پھر بقالی سے ، معلی سے، امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ وہ بُندکیاں ایسی ہوں کہ ان کانشان و اثر دکھائی نہ دیتا ہو اگر نشان دکھائی دیتا ہے تو دھونا ضروری ہے- اس مسئلہ اور قید کے تحت غنیہ میں ہے:نگاہ سے محسوس نہ ہونے کی قید معلی نے نوادر میں امام ابویوسف سے روایت کی ہے۔
فــ:مسئلہ سوئی کی نوک کے برابر باریک باریک بُندکیاں نجس پانی یا پیشاپ کی،کپڑے یا بدن پر پڑگئیں معاف رہیں گی اگرچہ جمع کرنے سے روپے بھر سے زائد جگہ میں ہوجائیں مگر پانی پہنچا اور نہ بہایا غیر جاری پانی وہ کپڑا گر گیا تو پانی نجس ہوجائے گا اور اب اس کی نجاست سے کپڑا بھی ناپاک ٹہہرے گا۔
(۱؎ فتاوٰی غیاثیہ        نوع فی اسباب الجنابۃ        مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص۱۹

البحرالرائق            کتاب الطہارۃ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۸

الفتاوی الہندیۃ بحوالہ المحیط کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۵

فتاوٰی قاضی خان        کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل    نولکشورلکھنؤ        ۱ /۲۲

منیۃ المصلی            موجبات الغسل    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۳۳)
واذا صرح فــ۱ بعض الائمۃ بقید لم یروعن غیرہ منھم تصریح بخلافہ یجب ان یعتبر ۱؎ الخ وبالجملۃ لاوجہ للعدول مع اتفاق الفحول علی تلقیہ بالقبول۔
اورجب ائمہ میں کسی ایک سے کسی ایسی قیدکی تصریح آئی ہوجس کے خلاف کی تصریح دوسرے حضرات سے مروی نہ ہوتو واجب ہے کہ اس قید کااعتبار کیاجائے الخ۔ مختصر یہ کہ جب اس روایت کے قبول پراکابر کا اتفاق موجود ہے تو اس سے انحراف کی کوئی وجہ نہیں۔
فــ۱: فائدہ: اذا جاء قید فی مسئلۃ عن احد الائمۃ و لم یصرح غیرہ منہم بخلافہ وجب قبولہ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    الشرط الثانی الطہارۃ من الانجاس    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۷۹ و ۱۸۰ )
Flag Counter