صُورت استثناء پر کلام
اس کے بیان کو تین تنبیہیں اور اضافہ کریں:
تنبیہ ثالث عشر :
احتلام یاد ہونے کی حالت میں طرفین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک احتمال منی پر وجوبِ غسل کا حکم ظاہر الروایۃ میں مطلق ہے اور تمام متون اسی پر ہیں مگر نوادر ہشام میں محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ قید مروی ہوئی کہ اگر سونے سے کچھ پہلے شہوت تھی جاگ کر یہ تری دیکھی جس کے منی یا مذی ہونے میں شک ہے تو غسل واجب نہ ہوگا
تبیین الحقائق میں ہے:
ذکر ھشام فی نوادرہ عن محمداذا استیقظ فوجدبللا فی احلیلہ ولم یتذکرالحلم فان کان ذکرہ قبل النوم منتشر افلا غسل علیہ وان کان غیر منتشر فعلیہ الغسل ۱؎۔
امام ہشام نے اپنی نوادر میں امام محمد سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ جب بیدار ہوکر احلیل(ذکر کی نالی ) میں تری پائے اور خواب یاد نہ ہوتواگرسونے سے پہلے ذکر منتشرتھاتو اس پر غسل نہیں، اور اگر منشتر نہ تھا تواس پرغسل ہے۔(ت)
روی عن محمد فی مستیقظ وجدماء ولم یتذکر احتلاماان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والایجب ۲؎۔
امام محمدسے روایت ہے بیدار ہونے والاتری پائے اوراسے احتلام یاد نہیں تواگرسونے سے پہلے منتشرتھاغسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۳)
اوراس کی وجہ یہ افادہ فرماتے ہیں کہ شہوت خروج مذی کی باعث ہے تو پیش از خواب قیام شہوت بتائے گاکہ یہ مشکوک تری مذی ہے اور مذی سے غسل واجب نہیں ہوتا بخلاف اسکے کہ سونے سے پہلے شہوت نہ ہو تواب سبب مذی بیداری میں نہ تھا اور نیند مظنہ احتلام ہے لہذا اسے منی ٹھہرائیں گے اور رقت وغیرہ سے مذی کااشتباہ معتبر نہ رکھیں گے کہ منی بھی گرمی پہنچ کر رقیق ہوجاتی ہے۔
غیاثیہ میں ہے :
ان کان منتشرا عند النوم فعلیہ الوضوء لاغیر لانہ وجد سبب خروج المذی فیعتقدکونہ مذیا ویحال بہ الیہ الا اذا کان اکبر رأیہ انہ منی رق فحینئذ یلزمہ الغسل ۱؎ اھ
اگرسونے کے وقت ذکر منتشر تھا تواس پرصرف وضو ہے ۔ اس لئے کہ خروجِ مذی کا سبب موجود ہے تواسے مذی ہی ماناجائے گااور اسے اسی کے حوالے کیاجائے گا۔ لیکن جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ منی ہے جو رقیق ہوگئی ہے توایسی صورت میں اس پر غسل لازم ہے۔اھ۔
واطال فی الحلیۃ فی بیانہ بماحاصلہ ان النوم مظنۃ للمنی والانتشارللمذی وقد سبق والسبق سبب الترجیح مع ان الاصل براء ۃ الذمۃ وعدم التغیر فی المنی ثم قال ولا یدفعہ ماعن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہاقالت سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجدالبلل ولایذکراحتلاماقال یغتسل وعن الرجل یری انہ قداحتلم ولم یجد بللا قال لاغسل علیہ فان الظاھران المراد بالبلل المذکور المنی بالاجماع علی ان فی سندہ عبداللّٰہ العمری ضعیف ۱؎ اھ مختصرا۔
اور حلیہ کے اندر اس کے بیان میں طول کلام ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نیند منی کا مظنّہ ہے اور انتشارِ آلہ مذی کا مظنّہ ہے او ر انتشار سابق ہے اور سبقت سببِ ترجیح ہے باوجود یکہ اصل یہ ہے اس کے ذمہ غسل نہیں اور منی میں تغیر نہیں۔ پھرفرمایا:اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی جوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ سے اس مرد کے بارے میں پوچھاگیاجوتری پائے احتلام یاد نہ ہو، فرمایا غسل کرے اوراس مرد کے بارے میں پوچھاگیا جو یہ خیال رکھتاہے کہ اس نے خواب دیکھا ہے اور تری نہ پائے،فرمایااس پرغسل نہیں۔اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ مذکور ہ تری سے مراد منی ہے بالاجماع علاوہ ازیں اس کی سند میں عبداللہ عمری راوی ضعیف ہے ۔ مختصرا۔
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول فــ۱الحدیث قداحتج بہ اصحابنالامام المذھب ومحررہ فی ایجابھما الغسل بالمذی اذا لم یتذکرحلماکماتقدم وقدمناعن البدائع انہ نص فی الباب۲؎ وان ابا یوسف یحملہ علی المنی وان للامامین اطلاق الحدیث۔
اقول اس حدیث سے ہمارے اصحاب نے امام مذہب اور محررمذہب علیہما الرحمہ کی تائید میں اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات احتلام یا د نہ ہونے کی صورت میں مذی سے غسل واجب قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ گزرا۔اورہم نے بدائع کے حوالہ سے نقل کیا کہ یہ حدیث اس باب میں نص ہے، اورامام ابویوسف اسے منی پر محمول کرتے ہیں اورطرفین کی تائید اطلاق حدیث سے ہوتی ہے۔
ثم العمری انمافـــ۲ضعفہ یحیی القطان من قبل حفظہ وقال النسائی وغیرہ لیس بالقوی ۔
پھر عبداللہ عمری کو یحیٰی قطان نے کمی حفظ کی وجہ سے ضعیف کہاہے اور امام نسائی وغیرہ نے
لیس بالقوی
(قوی نہیں) کہا ہے۔
فــ۲:تمشیۃ عبداللہ العمری المکبر
اقول وبون بین بینہ وبین لیس بقوی، وقال ابن معین لیس بہ باس یکتب حدیثہ۳؎ قیل لہ کیف حالہ فی نافع قال صالح ثقۃ۴؎
اقول:لیس بالقوی(قوی نہیں) کہا اور لیس بقوی(ذرا بھی قوی نہیں) میں نمایاں فرق ہے۔ اور ابن معین نے کہا: ان میں کوئی حرج نہیں ان کی حدیث لکھی جائے گی۔ پوچھا گیا:نافع سے روایت میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا: صالح ثقہ ہیں۔
(۳؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ /۴۶۵
۴؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ /۴۶۵ )
وقال احمد صالح لاباس بہ۱؎ وقال ابن عدی فی نفسہ صدوق۲؎ وقال ایضا لاباس بہ وقال یعقوب بن شیبۃ صدوق ثقۃ فی حدیثہ اضطراب وقال الذھبی صدوق فی حفظہ شیئ۳؎،وھذا مسلم قد اخرج لہ فی صحیحہ۔
امام احمد نے فرمایا: صالح ہیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ ابن عدی نے کہا :راست باز ہیں،اور یہ بھی کہا: ان میں کوئی حرج نہیں۔اور یعقوب بن شیبہ نے کہا: صدوق، ثقہ ہیں،ان کی حدیث میں کچھ اضطراب ہے۔ ذہبی نے کہا: صدوق ہیں ان کے حفظ میں کچھ خامی ہے۔اور یہ امام مسلم ہیں جنہوں نے اپنی صحیح میں ان کی حدیث روایت کی ہے۔
(۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ /۴۶۵
۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲/ ۴۶۵
۳؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ /۴۶۵ )
وبالجملۃ فـــ لیس ممن یسقط حدیثہ ولا عبرۃ بما تعود بہ ابن حبان من عبارۃ واحدۃ یذکرھا فی کل من یرید، بل لایبعد حدیثہ عن درجۃ الحسن ان شاء اللّٰہ تعالٰی لاجرم ان سکت ابو داؤد علیہ۔
مختصر یہ کہ وہ ان میں سے نہیں جن کی حدیث ساقط ہوتی ہے اور اس کا اعتبارنہیں جس کے ابن حبان عادی ہیں ایک ہی عبارت ہے جس کے لئے چاہتے ہیں استعمال کردیتے ہیں ،بلکہ ان کی حدیث ان شاء اللہ تعالٰی درجہ حسن سے دور نہیں، یہی وجہ ہے کہ ابوداؤد نے ان پرسکوت اختیار کیا۔
فـــ:تطفل اٰخر علیھا۔
اما الجواب عنہ فاقول ظاھر ان السؤال عن بلل ینشؤ بسبب النوم ولذا قال ولم یذکر احتلاما ای یجد المسبب ولا یذکر السبب،قال یغتسل ثم سئل یذکر السبب ولا یجد المسبب قال لاغسل علیہ وحینئذ بمعزل عنہ مانحن فیہ۔
لیکن اس کا جواب فاقول ظاہر ہے کہ سوال اس تری سے متعلق ہے جو نیندکے سبب پیدا ہوتی ہے اسی لئے سائل نے کہا''اسے احتلام یاد نہیں''۔ یعنی مسبّب موجود ہے اور سبب یاد نہیں، فرمایا: غسل کرے۔ پھرسوال ہے کہ سبب یاد ہے مسبب کا وجود نہیں، فرمایا: اس پرغسل نہیں۔ ایسی صورت میں یہ حدیث ہمارے مبحث سے الگ ہے۔