Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
39 - 135
    وفی المراقی من الوضوء قال ابو حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ علیہا الغسل احتیاطا لعدم خلوہ عن قلیل دم ظاھراوصححہ فی الفتاوٰی وبہ افتی الصدرالشہید رحمہ اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱؎ اھ وفی حاشیتھا للعلامۃ ط من النفاس اکثر المشایخ علی قول الامام رضی اللہ تعالی عنہ ۲؎اھ فھذا فی النفاس۔
مراقی الفلاح میں باب وضو کے تحت ہے: امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایااحتیاطاً اس پر غسل ہے اس لئے کہ ظاہراً نفاس دم قلیل سے خالی نہیں ہوتا،اسی کو فتاوٰی میں صحیح قرار دیا،اوراسی پرصدرشہید رحمہ اللہ تعالٰی نے فتوٰی دیا۔اھ۔اور علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں نفاس کے بیان میں ہے:اکثر مشائخ حضرت امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر ہیں اھ۔یہ نفاس سے متعلق ہوگیا۔
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الطہارۃفصل ینقض الوضوء    دارالکتب العلمیہ بیروت ص۸۷

۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃباب الحیض والنفاس دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۴۰)
ثم اقول  :  فی قولہ فـــ۱رحمہ اللّٰہ تعالٰی مشیرا الی البول والحیض ونحوھما انھالاتعتبرالا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج تسامح ظاھربالنظرالی البول فانہ لایخرج من الفرج الداخل بل من ثقبۃ فی الفرج الخارج فوق مدخلالذکر فکان الاولی اسقاط قولہ من الفرج الداخل۔
ثم اقول حلبی رحمہ اللہ تعالٰی نے  پیشاب ،حیض اور ان جیسی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کا اعتبار اسی وقت ہوتاہے جب یہ فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نکلیں۔ اس عبارت میں پیشاب کی بہ نسبت کھلاہو ا تسامح ہے اس لئے کہ پیشاب فرج داخل سے نہیں نکلتا بلکہ اس سوراخ سے نکلتا ہے جو فر ج خارج میں مدخل ذکرسے اوپر ہوتاہے تو بہتر یہ تھاکہ لفظ''فرج داخل'' عبارت میں نہ لاتے۔
فــ:تطفل خامس علی الحلیۃ ۔
ثم اورد فی الحلیۃ کلام الاختیارکماقدمناعنھاقال ویطرقہ ان الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین وھو ھنامفقود ۱؎ اھ
اس کے بعد حلیہ میں اختیار کی عبارت ذکر کی ہے جیساکہ اس کے حوالہ سے ہم پیش کرچکے ۔پھر لکھا ہے کہ:اس پر یہ اعتراض  پڑتا ہے کہ احتیاط دلیل اقوی پر عمل میں ہے اور وہ یہاں مفقود ہے ۔اھ۔
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول بل موجود کماعلمت قال وکون الظاھر فی الاحتلام الخروج ممنوع بل قد وقد ۲؎اھ۔
اقول بلکہ موجود ہے جیسا واضح ہوچکا۔آگے فرمایا: یہ کہ احتلام میں ظاہر خروج منی ہے، قابل تسلیم نہیں۔ بل قَد وقَد(یعنی بلا خروج منی بھی احتلام ہوتا ہے۱۲م)۔
(۲؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول ان فـــ اراد التساوی فغیر صحیح والا لبطل دلالۃ التذکرعلی ان ھذا المتردد بین المذی والودی منی وان اراد ان الخروج قد یتخلف فنعم ولا یقدح فی الظھور۔
اقول اگریہ مرادہے کہ خروج اور عدمِ خروج دونوں احوال برابری پر ہیں تویہ صحیح نہیں ورنہ احتلام یاد ہونے کی دلالت اس امر پرباطل ہوئی کہ یہ شکل جس میں مذی وودی کے درمیان تردّد ہے ،وہ منی ہی ہے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ کبھی ایساہوتاہے کہ احتلام ہواور خروجِ منی نہ ہوتوبات صحیح ہے مگراس سے اس میں کوئی خلل نہیں آتاکہ ظاہر خروج ہے۔
فـــ:تطفل سادس علیہا۔
قال ثم لم یظھرمن الشارع اعتبارھذا الاحتمال بل قیدالشارع وجوب الغسل علیھابعلمہاوجودہ لم یطلق لھا فی الجواب کمااطلقت (ای ام سلیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) فی السؤال فانعم النظر تجدہ تحقیقا لاغبار علیہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ
آگے فرماتے ہیں: پھر شارع کی جانب سے اس احتمال کا اعتبار ظاہر نہ ہوا بلکہ شارع نے عورت پر وجوبِ غسل اس سے مقید فرمایاکہ اسے وجودِمنی کا علم ہوجائے اور اس کے لئے جواب مطلق نہ رکھا جیسے(حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا کا) سوال مطلق تھا۔ توغور سے نظر ڈالویہ ایسی تحقیق ثابت ہوگی جس پر کوئی غبار نہیں ان شاء اللہ تعالٰی۔اھ۔
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول اما الاحتمال الذی ابداہ فی الاختیار وھو العود حین الاستلقاء فقد عرفت الکلام علیہ  وان لاحاجۃ الیہ وان العلم بالوجودمتحقق احتیاطاکمااسلفناو الحمدللّٰہ ۔
اقول وہ احتمال جو اختیار میں ظاہر کیا کہ ہو سکتاہے حالت استلقاء میں منی نکل کر عود کرگئی ہو تواس پرمکمل کلام گزر چکا اور وہاں واضح ہواکہ اس کی کوئی حاجت نہیں وجود منی کا علم یوں ہی احتیاطاً ثابت ومتحقق ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا، والحمد للہ۔
فھذامنتھی الکلام فی مسألۃ المرأۃ ولا اقول انا الذی وجھتھا بہ یوجب التعویل علی الروایۃ النادرۃ انما اقول ان الرد علی کلام المحقق غیر یسیر۔
    مسئلہ زن سے متعلق یہ منتہائے کلام ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جوتوجیہ پیش کی ہے اس کے باعث روایتِ نادرہ پر اعتماد واجب ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ حضرت محقق کے کلام کی تردید آسان نہیں۔
اماالتعویل فعلی ماحکم بہ ائمتنا فی ظاھر الروایۃ ونص علی انہ الاصح وانہ الصحیح وبہ یؤخذ وعلیہ فتوی ائمۃ الدرایۃ فسقط معہ للبحث مجال وانماعلینا اتباع مارجحوہ وماصححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم اعاد اللّٰہ علینا من برکاتھم ومع ذلک ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ واللّٰہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اعتماد تواسی پرہے جس پر ہمارے ائمہ نے ظاہر الروایہ میں حکم فرمایااورائمہ درایت نے جس کے بارے میں تصریح فرمائی کہ وہ اصح ہے۔ صحیح ہے۔ بہ یؤخذ(اسی کواختیار کیا جائے گا)اوراسی پر ائمہ درایت کا فتوٰی ہے۔اس کے ہوتے ہوئے بحث کی جگہ ہی نہیں۔ہمارے ذمہ تواسی کااتباع لازم ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیاجسے اگروہ اپنی حیات میں ہمیں فتوٰی دیتے توہمارے ذمہ یہی ہوتا۔ہم پر اللہ تعالی ان کی برکتیں پھرو اپس لائے۔اس کے باوجود اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) ۔
Flag Counter