Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
38 - 135
قولکم انمایکون محقق الوجود شرعا۱؎الخ اقول ماقام فـــ علیہ دلیل شرعی فقد تحقق وجودہ شرعاولا یحتاج الی شاھد من لمس اوبصرالا تری ان المولج المکسل قام فیہ الدلیل الشرعی علی انزالہ فاعتبرموجودا شرعامع عدم شھادۃ لمس ولا بصر نعم یحتاج الحکم بالدلیل الی عدم المعارض وعدم وجدان الرجل المحتلم معارض لدلالۃ التذکر بخلاف المرأۃ کما بینا نعم دلالۃ الایلاج یقظۃ اعظم واقوی من دلالۃ الاحتلام فلم یقم لہا ھذا المعارض لاحتمالات بعیدۃ لم تکن تحمل لولا غایۃ مافی ھذا الدلیل من عظم القوۃ بخلاف تذکر الحلم۔
صاحب حلیہ :شرعاً اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاالخ اقول جس امر پر دلیل شرعی قائم ہوگئی، شرعاً اس کا وجود ثابت ہوگیا اور چھونے ، دیکھنے جیسے شاہد کی حاجت نہ رہی۔ کیا معلوم نہیں کہ ادخالِ حشفہ والے شخص کے بارے میں انزال پر دلیلِ شرعی قائم ہوگئی تو انزال کو شرعاً موجود مان لیا گیا باوجود یکہ دیکھنے چھونے کی کوئی شہادت نہیں۔ ہاں دلیل پر حکم کرنے میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی معارض نہ ہو۔ اور جس مرد نے خواب دیکھا اور احتلام اسے یاد ہے مگر اس نے کوئی تری نہ پائی تو اس کے یاد ہونے کا اعتبار نہ ہوا۔اس لئے کہ تری نہ پانا، دلیلِ تذکر(یاد ہونا)کے معارض  ہے۔ اور عورت کی یہ حالت نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ہاں بیداری میں ادخال کی دلالت،خواب یاد ہونے کی دلالت سے زیادہ عظیم اور قوی ہے اس لئے یہ معارض(تری نہ پانا) اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ایسے بعید احتمالات کی وجہ سے جو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اگر اس دلیل میں انتہائی قوت نہ ہوتی اور خواب یاد ہونے کی دلیل ایسی قوی نہیں۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
ف:تطفل آخر علیہا۔
قولکم مخالفۃ لظاھر النص۱؎اقول لواوجبت فـــ من دون دلیل علی الخروج لخالفت واذ قدبنت الامرعلی الدلیل وقد اعترفتم انہ لاشک فی الاتفاق علی وجوب الغسل بوجود المنی فی احتلامہا وفی ان المراد بالرؤیۃ العلم بوجودہ لارؤیۃ البصر۱؎ اھ ففیم الخلاف۔
    صاحب حلیۃ :یہ روایت ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اقول اگراس میں خروج منی کی دلیل کے بغیر وجوبِ غسل کاحکم ہوتاتو وہ نص کے مخالف ہوتی اورجب اس نے بنائے حکم دلیل پر رکھی ہے(تومخالفت کس بات میں رہی)اور آپ کوبھی اعتراف ہے کہ عورت کے احتلام میں منی پائے جانے سے وجوبِ غسل پر اتفاق ہونے میں کوئی شک نہیں اوراس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رؤیت سے مراد وجود منی کا علم ہے آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ۔اھ۔ اب مخالفت کہاں ہوئی؟
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
ف:تطفل ثالث علیہا۔
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
قولکم والقیاس الصحیح۲؎
صاحب حلیۃ :قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے۔
(۲؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول ماذافـــ۱المناط فی المقیس علیہا تعلق العلم بنفسہا اصالۃ ام اعم الثانی حاصل ھھناکماعلمت والاول غیر مسلم فی المقیس علیہا ففی الاشباہ ذکر عن فــ۲ محمد رحمہ اللّٰہ تعالی انہ اذا دخل بیت الخلاء وجلس للاستراحۃ وشک ھل خرج منہ اولا کان محدثاوان فـــ۱ جلس للوضوء ومعہ ماء ثم شک ھل توضأ ام لاکان متوضیا عملا بالغالب فیھما ۱؎ اھ
اقول مقیس علیہ(پیشاب، حیض وغیرہ۱۲م) میں مدار کیا ہے؟ خود ان چیزوں سے براہِ راست علم ویقین کاتعلق ، یا اس سے اعم (وہ علم جو دلیل کے ذریعہ علم کو بھی شامل ہو۱۲م) ثانی تویہاں حاصل ہے جیسا کہ واضح ہوا۔ اور اول خودمقیس علیہ میں تسلیم نہیں۔ کیونکہ اشباہ میں امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے یہ مسئلہ نقل کیا ہے :یہ یاد ہے کہ بیت الخلا میں داخل ہوا اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھا تھااور اس میں شک ہے کہ کچھ خارج ہوا تھا یا نہیں تو وہ بے وضو قرار پائے گا۔ اور اگر یہ یاد ہے کہ وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھا تھامگراس میں شک ہے کہ وضوکیا تھایا نہیں تو یہ مانیں گے کہ وضوکرلیا تھا۔ دونوں مسئلوں میں غالب پر عمل کی رو سے یہ حکم ہے۔اھ۔
فـــ۱:تطفل رابع علیہا۔

فــ۲:مسئلہ یہ یاد ہے کہ بیت الخلاء میں گیا اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھا تھا مگر یہ یاد نہیں کہ پیشاب وغیرہ کچھ ہوا یانہیں تو یہی ٹھہرائیں گے کہ ہواتھاوضولازم ہے ۔

فــــ۱:مسئلہ وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھنایادہے مگر وضوکرنایادنہیں تویہی قرار دیں گے کہ وضوکرلیا۔
(۱؎الاشباہ والنظائر     الفن الاول     القاعدۃ الثانیہ    ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۸۷)
وقد جزم بالفرع فی الفتح فقال شک فی الوضوء اوالحدث وتیقن سبق احدھما بنی علی السابق الا ان تأید اللاحق فعن محمد علم المتوضیئ دخولہ الخلاء للحاجۃ وشک فی قضائھاقبل خروجہ علیہ الوضوء ثم ذکرمسألۃ الوضوء ثم قال وھذایؤید ماذکرناہ من الوجہ فی وجوب وضوء المفضاۃ ۲؎ اھ
اس جُزئیہ پر فتح القدیر میں جزم کیا ہے،اس کے الفاظ یہ ہیں: وضو یاحدث میں شک ہوا اور اس سے پہلے دونوں میں سے ایک کایقین ہے توسابق پربنا ء رکھے مگر یہ کہ لاحق کوکسی چیز سے تقویت حاصل ہو۔ کیونکہ امام محمد سے منقول ہے کہ باوضو شخص کو حاجت کے لئے خلاء میں جانے کا یقین ہے۔ اوراس میں شک ہے کہ نکلنے سے پہلے قضائے حاجت کیایانہیں تواسے وضو کرناہے۔ اس کے بعد مسألہ وضو ذکر کیا پھر فرمایا:اس سے اُس وجہ کی تائید ہوتی ہے جو مفضاۃ پر وضو واجب ہونے کے بارے میں ہم نے ذکر کی ۔اھ۔
(۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارات     فصل فی نواقض الوضوء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۴۸)
ای اذافـــ۲ خرج لہاریح لاتعلم ھل ھی من القبل او الدبرتجعل من الدبرلانہ الغالب فیجب علیہا الوضوء فی روایۃ ھشام عن محمد وبہ اخذ الامام ابوحفص الکبیر و مال المحقق الی ترجیحہ بماعلمت خلافالمافی الہدایۃ وغیرھاانہا انمایستحب لہا الوضوء لعدم التیقن بکونہا من الدبر فھذا بول مثلا اعتبر موجودا شرعامع عدم احاطۃ العلم بہ عینا وفی الدر المختار النفاس دم فلولم فـــ ترہ ۱؎ (بان خرج الولد جافابلادم ۲؎ ش) ھل تکون نفساء المعتمدنعم ۳؎ اھ
مفضاۃ وہ عورت جس کے دونوں راستے پردہ پھٹ کر ایک ہوگئے۔اس سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ جب اس سے ریح نکلی اوراسے علم نہیں کہ آگے کے مقام سے ہے یا پیچھے سے، تو پیچھے کے مقام سے قراردی جائے گی،اس لئے کہ یہی غالب ہے، تواس پر وضو واجب ہوگا۔یہ امام محمد سے ہشام کی روایت میں ہے اور اسی کوامام ابو حفص کبیر نے اختیار کیا  ہے۔وجہ مذکورسے اسی کی ترجیح کی جانب حضرت محقق کامیلان ہے اس کے برخلاف جو ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ اس پر وضو صرف مستحب ہے کیونکہ اس کے پیچھے کے مقام سے ہونے کا یقین نہیں۔ تو مذکورہ بالاجزئیہ میں یہ مثلاً پیشاب وپاخانہ ہے جسے شرعاً موجود مان لیا گیاباوجود یکہ بعینہ اس سے متعلق احاطہ علم نہیں۔ اب دم سے متعلق دیکھئے۔درمختار میں ہے :نفاس ایک خون ہے تواگراسے نہ دیکھے (شامی میں ہے مثلاً یوں کہ بچہ خشک نکل آیاجس پر خون کا کوئی نشان نہیں) توکیا وہ نفاس والی ہوگی یانہیں؟۔ معتمدیہ ہے کہ ہوگی اھ۔
فــ۲:مسئلہ جس عورت کے دونوں مسلک پردہ پھٹ کرایک ہوگئے اسے جو ریح آئے احتیاطا وضوکرے اگرچہ احتمال ہے کہ یہ ریح فرج سے آئی ہے۔

فــ:مسئلہ بچہ بالکل صاف پیداہوا جس کے ساتھ خون کااصلا نشان نہیں نہ بعد کو خون آیا پھر بھی زچہ پر احتیاطا غسل واجب ہے ۔
(۱؎ الدرالمختار        کتاب الطہارۃ     باب الحیض        مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۵۲

۲؎ ردالمحتار        کتاب الطہارۃ     باب الحیض        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۹۹

۳؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ      باب الحیض     مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۵۲)
Flag Counter