| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
فان قلت : ففرع الحبل مامعناہ قلت معناہ فــ ظاھران شاء اللّٰہ تعالی فان بالحبل ثبت انزالہا والغالب فی الانزال الخروج والغالب کالمتحقق فی الفقہ فلاینافیہ نفی التوقف علی الخروج بمعنی لولاہ لم یکن ۔
اگر دریافت کرو کہ پھر استقرارِ حمل سے متعلق جوجزئیہ ہے اس کا مطلب کیاہے؟۔ میں کہوں گا اس کا مطلب واضح ہے۔ اِن شاء اللہ تعالٰی۔ اس لئے کہ حمل سے عورت کو انزال ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔اور انزال میں غالب یہی ہے کہ منی باہرآتی ہے۔ اور غالب فقہ میں متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ تو یہ بات اس کے منافی نہیں کہ حمل خروج منی پر موقوف نہیں بایں معنی کہ اگر خروج نہ ہو توحمل ہی نہ ہو۔
فـــ:تطفل آخر علیہم ۔
فان قلت بل الحبل دلیل عدم الخروج لاجل الانعقاد الاتری انھن حین یحبلن یمسکن ماء الرجل فلا یرمین منہ الا شیأقلیلا قلت الانزال یقتضی الخروج والانعقاد یکون بجزء من الماء لابکلہ الاتری انھن حین یحبلن یرمین بشیئ من ماء الرجل ایضاولا یمسکن منہ الاجزء قدر اللّٰہ تعالٰی ان یکون منہ الزرع بل قدلا یرمین بہ الاحین ینزلن تبعا لمائھن وبالجملۃ دلالۃ الانزل علی خروج البعض لایعارضھادلالۃالحبل علی امساک البعض ھذاماظھرلی۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ حمل توعدم خروج کی دلیل ہے اس لئے کہ استقرار ہو چکا ہے۔معلوم ہے کہ عورتوں کوجب حمل ٹھہر تا ہے تو وہ مرد کا پانی بھی روک لیتی ہیں،اس میں سے بہت قلیل باہرگرتا ہے۔ میں کہوں گا انزال کا تقاضایہ ہے کہ خروجِ منی ہو۔ اور استقرار تو آب منی کے ایک جُز سے ہوتاہے کل سے نہیں۔ معلوم ہے کہ جب انہیں حمل ہوتاہے تومرد کاکچھ پانی ان سے باہر آگرتا ہے۔ اور اس میں سے صرف وہی جز رکتا ہے جس سے نسل کاوجود خدا تعالٰی نے مقدر فرمایاہے۔بلکہ ایسابھی ہے کہ مرد کاپانی بھی اسی وقت گرتا ہے جب ان کے انزال کے ساتھ ان کاپانی بھی گرتاہے۔ مختصریہ کہ انزال بعض حصہ منی کے باہر آنے کی دلیل ہے دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ یہ وہ ہے جو مجھ پرظاہر ہوا۔
ثم رأیت العلامۃ ط رحمہ اللّٰہ تعالٰی جنح الی بعض ماذکرتہ فقال قلت والنظر لایتم الااذاکانت البکارۃ تمنع خروج المنی والامربخلاف ذلک لخروج الحیض من ذلک المحل فلماکان الغالب فی تلک الحالۃ النزول خصوصا وقد ظھر الحبل وھو اکبر دلیل علیہ اعتبروہ واقاموا اللازم مقام الملزوم ومن یعرف مواقع الفقہ لایستبعد ذلک ۱؎ اھ فقد افادواجاد علیہ رحمۃ الجواد۔
پھر میں نے دیکھا کہ میری مذکورہ کچھ باتوں کی طرف علامہ طحطاوی، رحمہ اللہ تعالٰی کابھی رجحان ہے وہ فرماتے ہیں: میں کہتاہوں یہ نظر(جودرمختار میں منقول ہے ۱۲م)اسی صورت میں تام ہوسکتی ہے جب بکارت خروج سے مانع ہو اور معاملہ اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ خونِ حیض بھی اسی جگہ سے باہر آتا ہے۔ تو اس حالت میں چوں کہ غالب منی کااترنا ہے۔ خصوصاً جب کہ حمل ظاہر ہوچکا اور یہ اس کی بڑی دلیل ہے،اس لئے اس کا اعتبار کرلیا گیااور لازم کو ملزوم کے قائم مقام قرار دیاگیا۔اور جو فقہ کے مقامات سے آشنا ہے وہ اسے بعید نہ جانے گا ۔اھ۔ ان الفاظ سے انہوں نے افادہ کیا اور خوب افادہ فرمایا، رب جو اد کی ان پر رحمت ہو۔
(۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۹۵)
اقول غیرفــ ان فی قولہ خصوصاحزازۃ ظاھرۃ لان الکلام ھھنافی اغلبیۃ الخروج عند الانزال ولامزیۃ فیہ لصورۃ الحبل بل المزیۃ لصورۃ عدمہ لماقدمت من وجوب الامساک فی الحبل للانعقاد۔
اقول مگر یہ ہے کہ ان کا لفظ ''خصوصاً '' نمایاں طورپر کھٹک رہاہے اس لئے کہ یہاں وقت انزال خروج منی کے اکثر ہونے سے متعلق گفتگو ہے اوراس میں صورت حمل کو کوئی خصوصیت نہیں،بلکہ خصوصیت عدم حمل کو ہے کیوں کہ ابھی بیان ہواکہ حمل میں بوجہ استقرار(کچھ پانی) روک لینا ضروری ہے۔
فـــ: معروضۃ علی العلامۃ ط۔
ثم المستفادفــ من کلامہ ان مرادہ اغلبیۃ الانزال فی حالۃ الجماع وعلیہ یستقیم قولہ خصوصافان دلالۃ الحبل علی الانزال اظھر وازھر ولکن لوکان الاغلب انزالہابالجماع لوجب الحکم علیھابالغسل وان لم یظھر الحبل لان الغالب کالمتحقق بل الاغلب فی النساء عدم الانزال بکل جماع الااحیاناکماصرح بہ اھل المعرفۃ بھذاالشان حتی قالوا لوانھاکلماجومعت انزلت لھلکت سریعاھذاالکلام مع الغنیۃ۔
پھران کے کلام سے مستفادیہ ہے کہ ان کی مراد حالتِ جماع میں اکثریت انزال ہے اسی مراد پران کا لفظ ''خصوصاً'' ٹھیک بیٹھ سکتاہے کیونکہ انزال پر حمل کی دلالت بہت واضح وروشن ہے لیکن جماع سے اگر اسے انزال ہوجانااکثر و غالب ہوتاتوحمل ظاہرنہ ہوتے ہوئے بھی (مسئلہ مذکورہ میں) اس پر غسل کا حکم کرنالازم ہوتا۔اس لئے کہ غالب واکثر، متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ بلکہ عورتوں میں اکثروغالب یہی ہے کہ ہر جماع سے انہیں انزال نہ ہومگربعض اوقات میں۔ جیسا کہ اس امر کی معرفت رکھنے والوں کی تصریح موجود ہے بلکہ انہوں نے تویہاں تک کہا ہے کہ اگرہرجماع کے ساتھ اسے انزال ہو توجلد ہی ہلاک ہوجائے۔یہ کلام غنیہ پر ہوا۔
فــــ:معروضۃ اخرٰی علیہا
اماالحلیۃ فنقل فیھاکلام المحقق ثم نازعہ بقولہ دعوی وجودالمنی شرعافیمن احتملت ثم استیقظت وتذکرت لذۃ انزال مناما ولم تجد بللا لمساولا رؤیۃ ممنوعۃ لان مایتذکر وقوعہ فی نفس الامرفی النوم انما یکون محقق الوجود شرعا اذا وجد فی الیقظۃ مایشھد بذلک ولیس الشاھد لتحقق وجود المنی منھا مناما الا علمہا بوجودہ فی الفرج الخارج یقظۃ بلمس اوبصر فاذافقد فقد ظھر عدم وجودہ وان المرئی لہا فی المنام کان خیالا وھذہ الصورۃ فیمایظھرھی محل الخلاف فظاھرالروایۃ لایجب الغسل وعن محمد نعم ولاشک فی ضعفھا کیف لاوھی مخالفۃ لظاھر النص وکذا القیاس الصحیح علی امثال ذلک من البول و الحیض ونحوھما فان الشارع لم یعتبر ھٰذہ الاشیاء موجودۃ الا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج کذا ھذا ۱؎ اھ
لیکن حلیہ تواس میں محقق علی الاطلاق کاکلام نقل کرنے کے بعدان الفاظ میں اس سے نزاع کیا ہے:عورت جسے احتلام ہوا، پھر بیدار ہوئی او رخواب میں انزال کی لذت اسے یاد ہے مگر اسے چھونے یا دیکھنے سے کوئی تری نہ ملی اس عورت سے متعلق یہ دعوٰی کہ شرعاً اس کی منی پالی گئی، قابلِ تسلیم نہیں۔ اس لئے کہ خواب میں واقعی طور پر جس بات کا واقع ہونا یادآتاہے شرعاً اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاجب بیداری میں اس کا کوئی شاہد مل جائے۔اور خواب میں اس سے منی پائے جانے کے تحقق پر شاہد یہی ہے کہ بیداری میں چھونے یادیکھنے سے اس کو فرج خارج میں وجود منی کا علم ہوجب یہ شاہد موجود نہیں تو ظاہرہو گیاکہ منی پائی نہ گئی اور جوکچھ اس نے خواب میں دیکھاوہ محض ایک خیال تھا۔اورظاہر یہی ہے کہ یہی صورت محلِ اختلاف ہے۔ اسی سے متعلق ظاہر الروایہ میں ہے کہ غسل واجب نہیں، اور امام محمد سے ایک روایت ہے کہ واجب ہے،اور اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں،اورضعیف کیوں نہ ہو جب کہ وہ ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اسی طرح اس کے مثل پیشاب حیض وغیرہ پر قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے اس لئے کہ شارع نے ان چیزوں کاوجود اسی وقت مانا ہے جب یہ فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ظاہر ہوں۔ تویہی حکم منی کا بھی ہوگا اھ۔
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول والجواب فـــ مااٰذناک مرارا ان تذکرالاحتلام دلیل اعتبرہ الشرع لاسیما مع تذکرلذۃ الانزال ومن ثم نشأ الفرق بین الاحکام فی التذکروعدمہ فلولم یکن دلیلا علی نزول المنی کان احتمال المنی احتمالاعلی احتمال فی من تذکرو رأی بللا یعلم انہ لیس منیا بل ولایعلم ایضاانھابلۃ ناشئۃ عن شھوۃ انمایسوغہ لترددھا بین مذی وودی ومعلوم ان الاحتمال علی الاحتمال لایعبؤبہ فکان کمن رأھاولم یتذکر مع اجماعھم علی الفرق بینھمافماھوالالان التذکردلیل خروج المنی فترقی بہ عن الاحتمال علی الاحتمال الی الاحتمال فوجب احتیاطالان الاحتمال معتبرفی محل الاحتیاط۔
اقول اس کا جواب وہی ہے جو ہم نے بار بار بتایا کہ احتلام یاد ہونا ایک ایسی دلیل ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہے خصوصاً جب کہ لذتِ انزال بھی یاد ہو۔ یہیں سے تو یاد ہونے اورنہ ہونے میں احکام کا فرق رونماہوا۔اگریہ نزول منی کی دلیل نہ ہوتا تومنی کا احتمال،احتمال دراحتمال ہوتا اس شخص کے بارے میں جسے احتلام یاد ہے اور بیداری میں اس نے ایسی تری دیکھی جسے وہ جانتا ہے کہ منی نہیں بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتاکہ یہ کوئی ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔اس کا صرف امکان مانتاہے اس لئے کہ اس میں مذی اور ودی کے درمیان تردّد ہے۔اور معلوم ہے کہ احتمال در احتمال کاکوئی اعتبارنہیں تو یہ شخص اسی کی طرح ہواجس نے تری دیکھی اور اسے احتلام یادنہیں،حالانکہ دونوں کے درمیان تفریق پر ہمارے ائمہ کااجماع ہے اس کاسبب اس کے سواکچھ نہیں کہ احتلام یاد ہونا خروج منی کی دلیل ہے اسی وجہ سے وہ احتمال در احتمال سے ترقی کر کے احتمال کے درجہ تک آگیا۔ تو احتیاط واجب ہوئی اس لئے کہ مقام احتیاط میں احتمال معتبر ہے۔
فـــ:تطفل علی الحلیۃ ۔