اقول : کلا اللاز مین منتف اما الاول فــ۱فلماحققناان منیہالایخلوعن دفق وان لم یکن کدفق الرجل فلا نسلم لزوم عدم الخروج اذالم یکن الفرج فی صبب الاتری انھن ربما یوطأن بوضع وسادۃ تحت اعجازھن فیکون الفرج مرتفعا ومع ذلک یرمین بماء ھن بل وبماء الرجل ایضا،
اقول : دو باتوں میںسے ایک بھی لازم نہیں۔ اول اس لئے کہ ہم تحقیق کر چکے کہ عورت کی منی دفق سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ وہ مرد کے دفق کی طرح نہ ہوتوہمیں یہ تسلیم نہیں کہ جب شرم گاہ بہاؤکی جانب میں نہ ہو توعدم خروج لازم ہے۔کیا معلوم نہیں کہ عورتوں سے وطی یوں بھی ہوتی ہے کہ ان کے سرینوں کے نیچے تکیہ رکھ دیتے ہیں جس سے شرمگاہ اونچائی پرہوجاتی ہے اس کے باوجود اس سے پانی باہرآتاہے بلکہ اس کے ساتھ اس مرد کاپانی بھی باہر آتاہے۔
فــ۱:تطفل سابع علیھا۔
واما الثانی فــ۲فلان للرحم قوۃ جاذبۃ شدیدۃ الجذب فربما یجوزان یخرج المنی من الفرج الداخل ویکون فی الفرج الخارج وتھیج جاذبۃ الرحم فتجذبہ من الفرج الخارج وان کان الفرج فی صبب بل یجوز ان یجوز المنی الفرج الخارج ایضا ثم یعود بجذب الرحم ۔
دوم اس لئے کہ رحم میں جذب کی شدید قوت ہوتی ہے۔ توبعض اوقات ہوسکتاہے کہ منی فرجِ داخل سے نکل کر فرج خارج میں ہو اور رحم کی قوتِ جاذبہ اُبھر کر اسے فرج خارج سے جذب کرلے اگرچہ فرج بہاؤ کی جانب میں ہی ہو۔بلکہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ منی فرج خارج سے بھی تجاوز کرجائے پھر بھی کشش رحم سے عود کر آئے۔
فـــ۲:تطفل ثامن علیہا۔
الا تری الی مانصواعلیہ ان لوجومعت فـــ فیمادون الفرج فسبق الماء الی فرجہا اوجومعت البکر لاغسل علیہا لفقد السبب وھوالانزال ومواراۃ الحشفۃ حتی لو حبلت کان علیہاالغسل لانھالاتحبل الااذا انزلت والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والوجیز والکبری وخزانۃ المفتین والفتح والبحر والغنیۃ۱؎ وغیرھا فقد جوزوا حتی فی البکران یقع الماء خارج فرجہاالخارج ثم ینجذب فیدخل فی الرحم۔
دیکھئے فقہا تصریح فرماتے ہیں کہ اگرعورت سے قریب فرج جماع کیاپھر منی اس کی شرم گاہ میں چلی گئی،یا کنواری سے جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی، توان صورتوں میں عورت پر غسل نہیں اس لئے کہ غسل کا سبب۔ انزالِ زن یاد خولِ حشفہ۔ نہ پایاگیا۔ یہاں تک کہ اگر اسے حمل ٹھہر جائے تواس پر غسل ہوگا اس لئے کہ یہ اس کاثبوت ہے کہ عورت کو بھی انزال ہوا تھا کیوں کہ اس کے انزال کے بغیر استقرارِ حمل نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ خانیہ، خلاصہ، وجیز ، کبرٰی ، خزانۃ المفتین ، فتح القدیر ، البحر الرائق، غنیہ وغیرہا میں مذکور ہے ۔ توانہوں نے اس کا جواز مانا ہے۔یہاں تک کہ کنواری میں بھی، کہ منی اس کی فرج خارج سے باہر واقع ہوپھر جذب وکشش پاکر رحم میں چلی جائے۔
فـــ:مسئلہ عورت کی ران پر جماع کیا اور منی اس کی فرج میں چلی گئی یاکنواری کی فرج میں جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی تو ان دونوں صورتوں میں عورت پر غسل نہ ہوگا کہ نہ اس کا انزال ثابت ہوا نہ اس کی فرج داخل میں حشفہ غائب ہوا ورنہ بکارت جاتی رہتی ہاں ان جماعوں سے اگر عورت کو حمل رہ گیاتواب اس پر اسی وقت جماع سے غسل واجب ہونے کاحکم دیں گے اور آج تک جتنی نمازیں قبل غسل پڑھی ہیں سب پھیرے کہ حمل رہ جانے سے ثابت ہواکہ عورت کو خود بھی انزال ہوگیاتھا ورنہ حمل نہ رہتا۔
(۱؎فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الاغتسال نولکشورلکھنؤ ۱ /۲۱
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی فی الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۳
الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۵۵
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۵۷)
قال فی الغنیۃ بعد ذکر ھذہ المسألۃ الاخیرۃ لاشک انہ مبنی علی وجوب الغسل علیہا بمجرد انفصال منیہا الی رحمہا وھو خلاف الاصح الذی ھو ظاھر الروایۃ قال فی التاترخانیہ وفی ظاھر الروایۃ یشترط الخروج من الفرج الداخل الی الفرج الخارج وفی النصاب وھو الاصح ۱؎ اھ اھ وقد تواردہ علیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ فقال اقول لایخفی ان الحبل یتوقف علی انفصال الماء عن مقرہ لاعلی خروجہ فالظاھر ان وجوب الغسل مبنی علی الروایۃ السابقۃ عن محمد تامل ۲؎ اھ
غنیہ میں آخری مسئلہ ذکر کرنے کے بعدلکھاکہ:اس میں شک نہیں کہ یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عورت پر صرف اس سے کہ اس کی منی جدا ہو کر رحم میں چلی جائے غسل واجب ہے، اور یہ اصح ، ظاہر الروایہ کے خلاف ہے۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں، فرج داخل سے نکل کر فرج خارج کی طرف آنا شرط ہے۔اور نصاب میں ہے کہ :یہی اصح ہے اھ اھ ۔اس بات پر صاحبِ غنیہ سے علامہ شامی کا بھی توارد ہوا ہے،وہ منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں: میں کہتا ہوں، مخفی نہیں کہ استقرارِحمل صرف اس پر موقوف ہے کہ منی اپنی جگہ سے جدا ہوجائے ، وہ منی کے باہر آنے پر موقوف نہیں۔ توظاہر یہ ہے کہ اس صورت میں وجوبِ غسل کا حکم اس روایت پر مبنی ہے جو امام محمد سے ماسبق میں نقل ہوئی۔ تامل کرو۔اھ۔
ثم رأی الحلبی صرح بہ فی الغنیۃ فحمد اللہ تعالی علیہ وقد تبعہ ایضافی الدر اذ نقل عنہ مافی شرحہ الصغیر ان فیہ نظرلان خروج منیہامن فرجھا الداخل شرط لوجوب الغسل علی المفتٰی بہ ولم یوجد۱؎اھ فبزیادۃ قولہ علی المفتٰی بہ اشار الی ابتنائہ علی روایۃ محمد۔
یہ لکھنے کے بعدعلامہ شامی نے غنیہ میں دیکھا کہ محقق حلبی نے اس کی تصریح کی ہے۔ تواس پرخداکاشکر اداکیا۔ حلبی کا اتباع درمختار میں بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ان کی شرح صغیر کا کلام نقل کیا ہے کہ یہ محلِ نظر ہے اس لئے کہ عورت کی منی کافرج داخل سے باہرآنا وجوبِ غسل کے لئے مفتٰی بہ قول پرشرط ہے، اوریہ شرط نہ پائی گئی۔اھ۔ تو ''مفتی بہ قول پر'' کا اضافہ کرکے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ امام محمد کی روایت پر مبنی ہے۔
(۳؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲)
اقول وھذافــ ماشبہ علی بعض الانظارفزعمت ان الروایۃ النادرۃلاتشترط الخروج وقد ازالہا المحقق وبیناہ بمایکفی ویشفی فلا وجہ لھذا الحمل امامایذکرعن المنصوریۃ انہ اعتبر فی منیھا الخروج الی فرجہا الخارج عند الفقیہ ابی جعفر والی فرجہا الداخل عند الامامین الحلوانی والسرخسی علی مانقل عنہاالبرجندی۲؎
اقول یہ ان بعض نظروں کا اشتباہ ہے جس کے سبب انہوں نے یہ سمجھ لیاکہ روایت نادرہ میں خروج کی شرط نہیں اور محقق علی الاطلاق نے اس شبہ کاازالہ فرمایا ہے اورہم اسے کافی وشافی طور پر بیان کرآئے ہیں۔ تو اس روایت پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن وہ جو منصوریہ کے حوالے سے بیان کیاجاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر کے نزدیک عورت کی منی میں فرج خارج کی طرف نکلنے کا اعتبار ہے اور امام حلوانی وامام سرخسی کے نزدیک صرف فرج داخل کی طرف نکلنے کااعتبار ہے۔ جیسا کہ بر جندی میں منصوریہ سے نقل کیاہے۔
فــ: تطفل علی الغنیۃ والمنحۃ ۔
(۲؎شرح مختصرالوقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۳۰)
فاقول : متوغل فی الاغراب مثل ذلک الکتاب الاتری ان الامام الحلوانی ھو القائل لتلک الروایۃ عن محمد لایؤخذ بھذہ الروایۃ فان النساء یقلن ان منی المرأۃ یخرج من الداخل کمنی الرجل فھوجواب ظاھرالروایۃ کما فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فکیف ینسب الیہ ھذا۔
فاقول : اس کتاب کی طرح ان دونوں اماموں کی طرف یہ انتساب بھی انتہائی غریب ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ امام حلوانی ہی نے تو امام محمد کی اس روایت نادرہ سے متعلق فرمایاکہ یہ روایت نہ لی جائے گی، اس لئے کہ عورتیں بتاتی ہیں کہ عورت کی منی مرد کی منی کی طرح فرج داخل سے باہر آتی ہے اور یہی ظاہرالروایہ کاحکم ہے، جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے، اس میں امام حلوانی رحمہ اللہ تعالٰی سے نقل ہے توان کی جانب یہ انتساب کیسے ہوسکتاہے؟