| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول : فانظرکیف فـــ۱بنی الامر علی ان الظاھر فی الاحتلام الخروج فقد جعلہ معلوما بحسب الظاھر ولو کان الامر کما قال فی الغنیۃ ان لم تر ولا علمت لم یکن معنی لایجاب الغسل وافاد ان عدم الوجدان بعد التیقظ لایعارض ھذا الظن اذا کانت مستلقیۃ لاحتمال العود۔
اقول:تو دیکھئے انہوں نے کیسے بنائے کار اس پر رکھی کہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔ انہوں نے بطورظاہر اسے معلوم قرار دیا۔اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو غنیہ میں ہے کہ ''اس نے نہ دیکھا نہ اسے علم ہوا''تو غسل واجب کرنے کا کوئی معنی ہی نہ تھا اور یہ افادہ کیا کہ بیدارہونے کے بعد تری نہ پانا اس گمان خروج کے معارض نہیں جب کہ وہ چت لیٹی ہوئی ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے عود کر گئی ہو۔
فــ۱:تطفل خامس علیھا۔
ثم اقول : بل ھو بعیداولا فــ۲ لانہ ذھب عنہ ان نفس کون منیہا غیر بین الدفق رقیقا قابلا للامتزاج برطوبۃ الفرج الخارج کاف فی دفع ھذہ المعارضۃ کما بینا بتوفیق اللّٰہ تعالٰی۔
اقول : بلکہ یہ بعید ہے۔ اوّلاً اس لئے کہ- انہیں خیال نہ رہاکہ- تری نہ پانے کے معارضہ کو دفع کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ عورت کی منی میں دفق نمایاں نہیں ہوتا،ساتھ ہی وہ رقیق اور اس قابل ہوتی ہے کہ فرج خارج کی رطوبت سے مختلط ہوجائے جیسا کہ بتوفیقہ تعالٰی ہم نے بیان کیا۔
فــ۲:تطفل علی الاختیار شرح المختار۔
وثانیا : اذالم فــ۳ ینظر الی ذلک فلقائل ان یقول احتمال العود بعد الخروج احتمال من غیر دلیل فلا یعتبر،واستلقاؤھا لیس علۃ العود ولا ظنا بل ان کان فرفع مانع وعدم المانع لیس من الدلیل فی شیئ کما تقرر فی الاصول ۔
ثانیاً : اگر یہ نظر انداز ہوتوکہنے والا کہہ سکتاہے کہ احتمالِ عود،بعدِ خروج ایک بے دلیل احتمال ہے اس لئے لائقِ اعتبار نہیں، اورچت لیٹنا عود کی علت نہیں۔ ظناًّ بھی نہیں۔ بلکہ اگر ہے توصرف اتناکہ رفع مانع ہے اور عدمِ مانع ہر گز کوئی دلیل نہیں جیسا کہ اصول میں طے شدہ ہے۔
فـــ۳ :تطفل آخرعلیہ۔
وثالثا المانع وھو فــ۱ضیق المحل انمایتحقق فی الاضطجاع لالتقاء الاسکتین وانسداد المسلک اما الانبطاح فکالاستلقاء فی اتساع المحل فلم خص الحکم بالاستلقاء فان اعتل بانھا ان کانت منبطحۃ وخرج المنی یسقط علی الفراش فلا یعود قلت ان ارید الخروج من الفرج الخارج ففی الاستلقاء ایضا اذا خرج منہ نزل الی الیتیہا فلا یعود و وان ارید الخروج من الفرج الداخل مع البقاء فی الفرج الخارج فالا ستلقاء کالانبطاح فی جواز العود ۔
ثالثا مانع مقام کاتنگ ہونا۔صرف اضطجاع میں متحقق ہوگاکیوں کہ دونوں کنارے مل جائیں گے اور گزر گاہ بند ہو جائے گی ۔لیکن منہ کے بل لیٹناکشادگی مقام میں چت لیٹنے ہی کی طرح ہے تو استلقاء (چت لیٹنے) سے حکم کی تخصیص کیوں؟ اگریہ علّت بتائی جائے کہ منہ کے بل ہونے کی صورت ہو اور منی نکلے توبسترپرگرجائے گی، عود نہ کر سکے گی۔ قلت(میں کہوں گا)اگرفرجِ خارج سے نکلنا مراد ہے تواستلقا کی صورت میں بھی جب اس سے باہر آئے گی تو سرینوں کی طرف ڈھلک آئے گی،عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر فرج خارج میں باقی رہنے کے ساتھ فرج داخل سے نکلنا مراد ہے تو امکانِ عودمیں صرف استلقا، مُنہ کے بل لیٹنے ہی کی طرح ہے۔
فـــ۱:تطفل ثالث علیہ
و رابعا سنذکرفــ۲ اٰنفافی تجویز العود مالایبقی للفرق مساغا۔
رابعاً امکان عود کے بارے میں ہم ابھی وہ ذکر کریں گے جس کے بعد فرق کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
فـــ۲:تطفل رابع علیہ ۔
وخامسا : بل فـــ۳ یجوز ان تکون مضطجعۃ وقد وضعت بین فخذیھا وسادۃ ضخمۃ فیبقی الفرج متسعا کالا ستلقاء اوافرج ۔
خامساً : بلکہ ہوسکتاہے کہ اضطجاع کی حالت ہواور رانوں کے درمیان موٹاساتکیہ رکھ لیاہو توشرمگاہ حالت استلقا کی طرح یا اس سے زیادہ کشادہ رہ جائے گی۔
فـــ۳:تطفل خامس علیہ
وسادساان استلقت فـــ۱وقدالتفت الساق بالساق لایکون للاستلقاء فضل علی الاضطجاع فی باب الاتساع فالقصر علیہ منقوض طردا وعکسا ولہ صور اخری لاتخفی۔ الا ان یقال ذکرالاستلقاء ونبہ بہ علی صور اتساع الفرج فیشمل الانبطاح والاضطجاع المذکور والمراد بجھۃ اخری جہۃ التقاء الشفرین ولو فی الاستلقاء علی الوجہ المزبور۔
سادسا اگر حالتِ استلقاء میں ران،ران سے لپٹی ہوئی ہوتوکشادگی کے معاملے میں استلقا کو اضطجاع پر کوئی زیادتی حاصل نہ ہوگی تو اس پر اقتصار جمعاً اورمنعاً کسی طرح درست نہیں رہ جاتا۔اس کی اوربھی صورتیں ہیں جو مخفی نہ ہوں گی۔ مگر جواباً یہ کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے استلقا کو ذکر کرکے اس سے کشادگی کی صورتوں پر تنبیہ کردی ہے لہذا منہ کے بل لیٹنے اور مذکورہ صورت پر لینے کو بھی شامل ہے۔ اور کسی دوسری جہت سے ان کی مراد یہ ہے کہ دونوں کنارے باہم ملے ہوئے ہوں اگرچہ یہ ملنا مذکورہ صورتِ استلقا ہی میں ہو۔
فـــ۱:تطفل سادس علیہ ۔
ثم الصواب ما عبربہ فــ۲فی الاختیار من ان تجد نفسہامستلقیۃ اذا تیقظت ولاحاجۃ الی ان تعلم استلقاء ھاحین احتلمت کما وقع فی الغنیۃ۔
پھر صحیح تعبیر وہ ہے جو ''اختیار'' میں آئی کہ بیدار ہونے کے وقت اپنے کو چت لیٹی ہوئی پائے۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ اسے وقتِ احتلام اپنے چت ہونے کا علم ہو۔ جیسا کہ غنیہ میں تعبیر کی۔
فـــ۲:تطفل سادس علی الغنیۃ ۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یردمااختارفی الاختیارفقال الاان ماء ھااذا لم ینزل دفقا بل سیلانا یلزم اماعدم الخروج ان لم یکن الفرج فی صبب اوعدم العودان کان فی صبب فلیتامل ۱؎ اھ
اس کے بعد محقق حلبی نے اس کی تردید شروع کی جسے ''اختیار'' میں اختیار کیا۔کہتے ہیں:مگریہ ہے کہ جب اس کا پانی بطور دفق نہیں اترتا بلکہ بہاؤ کے طور پراترتا ہے ۔تو دو باتوں میں سے ایک لازم ہے۔ اگر فرج بہاؤ کیجانب میں نہ ہو تو عدم خروج لازم ہے اور اگر بہاؤ کی جانب میں ہوتوعدمِ عود لازم ہے۔ تو اس پر تامل کی ضرورت ہے۔اھ ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵)