اقول : وحاشا فـــ۲المحقق ان یرید بالرؤیۃ رؤیا حلم بل اراد الرؤیۃ العلمیۃ کما قد افصح عنہ وقولکم ولا علمت ۱؎ مبنی علی حصر العلم بالشیئ فی العلم المتعلق بنفسہ اصالۃ وھو باطل قطعاً الاتری ان الشرع اوجب الغسل بغیبۃ الحشفۃ واقامھا مقام رؤیۃ المنی مع عدم العلم المتعلق بنفسہ قطعا۔
اقول:حضرت محقق اس سے بری ہیں کہ رؤیت سے خواب میں دیکھنا مراد لیں، انہوں نے رؤیتِ علمی مراد لی ہے جیساکہ خودہی اسے صاف لفظوں میں کہا- اور آپ کا قول''ولا علمت-نہ اسے اس کا علم ہوا''-اس پر مبنی ہے کہ شیئ کاعلم صرف اس عالم میں منحصر ہے کہ جو اس سے براہِ راست متعلق ہو۔ اور یہ بنیاد قطعاً باطل ہے کیا آپ نے نہ دیکھاکہ شریعت نے حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب کیا ہے اور غیبتِ حشفہ کو ہی رؤیت منی کے قائم مقام رکھا ہے باوجودیکہ یہ وہ علم قطعاً نہیں جو خود منی سے متعلق براہِ راست ہو۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یوھن کلام التجنیس قائلا لااثر فی نزول مائھا من صدرھا غیر دافق فی وجوب الغسل فان وجوب الغسل فی الاحتلام متعلق بخروج المنی من الفرج الداخل کما تعلق فی حق الرجل بخروجہ من رأس الذکر ۱؎ الی اخر مااطال۔
اس کے بعد محقق حلبی نے ان الفاظ سے کلام تجنیس کی تضعیف شروع کی: عورت کا پانی اس کے سینے سے بغیردفق کے اترتاہے ،اس کاوجوب غسل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔احتلام میں وجوب غسل کا تعلق تواس سے ہے کہ منی فرج داخل سے نکلے جیسے مرد کے حق میں، اس کا تعلق اس سے ہے کہ سرذکر سے نکلے۔ ان کے آخر کلام طویل تک ۔
اقول لم یردفــ التجنیس ان مجرد نزول مائھا من صدرھا یوجب الغسل بدون خروج وانما اثر النزول من صدرھا الی رحمہا فی عدم الدفق فی منیہا مثل الرجل وعدم الدفق اثر فی ضعف دلالۃ عدم الاحساس خارج الفرج علی عدم الخروج کما قررنا بما یکفی ویشفی وبہ وبالرقۃ وباشتمال فرجہا الخارج علی الرطوبۃ فارقت الرجل کما تقدم۔
اقول: تجنیس کی مراد یہ نہیں کہ عورت کا پانی سینے سے اترنا بس اتنی ہی بات موجب غسل ہے اگرچہ خروجِ منی نہ ہو۔ سینے سے رحم کی طرف اترنے کا اثرصرف یہ ہے کہ اس کی منی میں مرد کی طرح دفق نہیں ہوتا،اورعدمِ دفق کا اثر یہ ہے کہ بیرون فرج منی محسوس نہ ہونے کی دلالت عدم خروجِ منی پر ضعیف ٹھہری جیساکہ کافی و شافی طور پر ہم اس کی تقریرکرچکے۔ اور عورت کا حکم اسی عدمِ دفق سے ، اورمنی کے رقیق ہونے سے ، اور فرج خارج کی رطوبت پر مشتمل ہونے سے مردکے برخلاف ہوا۔ جیسا کہ گزرا۔
فــ تطفل اخر علیہ۔
ثم قال علی ان فی مسألتنا لم یعلم انفصال منیہا عن صدرھا وانما حصل ذلک فی النوم واکثر مایری فی النوم لاتحقق لہ فکیف یجب علیہا الغسل ۱؎ اھ
آگے فرماتے ہیں: علاوہ ازیں زیرِ بحث مسئلہ میں عورت کی منی کا سینے سے جدا ہونامعلوم نہ ہوا۔ یہ بات خواب میں حاصل ہوئی۔ اور خواب میں دیکھی جانے والی اکثر باتوں کا تحقق نہیں ہوتاتواس پر غسل کیسے واجب ہوگا۔اھ
اقول قدمنا فــ فی التنبیہ الثامن ان تلک الافعال المرئیۃ علما وان لم تکن لہا حقیقۃ تؤثر علی الطبع کمثل الواقع منہا فی الخارج او ازید وقد جعل فی الغنیۃ نفس النوم مظنۃ الاحتلام قال وکم من رؤیا لا یتذکرھا الرائی فلا یبعد انہ احتلم ونسیہ فیجب الغسل ۲؎ اھ ای فیما اذا رأی بللا وتیقن انہ مذی ولیس منیا ولم یتذکر الحلم فاذا کان ھذا فی عدم التذکر فکیف وقد تذکرت الاحتلام وتذکرت شیا اخر فوقہ وھو وجد ان لذۃ الانزال فلو اھمل مایری فی النوم لضاع الفرق بالتذکر وعدمہ مع اجماع ائمتنا علیہ وبقیۃ الکلام یظھر مما قدمت ویاتی۔
اقول:ہم آٹھویں تنبیہ میں بتاچکے ہیں کہ خواب میں دیکھے جانے والے ان افعال کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہوتی لیکن طبیعت پریہ ویسے ہی اثر اندازہوتے ہیں جیسے خارج میں ہونے والے یہ افعال،یا ان سے بھی زیادہ۔اورخود غنیہ میں نیند کو مظنہ احتلام بتایا ہے اور لکھا ہے کہ:کتنے خواب ہیں جو دیکھنے والے کو یاد نہیں رہتے تو بعید نہیں کہ اس نے خواب دیکھا ہواور بھول گیاہو، تواس پرغسل واجب ہے اھ یعنی اس صورت میں جب کہ اس نے تری دیکھی اور اسے یقین ہے کہ وہ مذی ہے،منی نہیں ہے اور خواب اسے یاد نہیں۔جب یہ حکم خواب یادنہ ہونے کی صورت میں ہے تو اس صورت میں کیاہوگاجب عورت کوخواب دیکھنا بھی یادہے اور اس سے زیادہ بھی یاد ہے وہ ہے لذّتِ انزال کا احساس،توجوکچھ خواب میں نظرآتاہے اگر سب مہمل ٹھہر ایا جائے تویاد ہونے نہ ہونے کافرق بیکار ہوجائے حالاں کہ ہمارے ائمہ کا اس فرق پراجماع ہے۔اور باقی کلام اس سے ظاہر ہے جوگزرچکا اور جو آئندہ آئے گا۔
فــ : تطفل ثالث علیہا۔
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ و ۴۳)
ثم قال نعم قال بعضہم لوکانت مستلقیۃ وقت الاحتلام یجب علیہا الغسل لاحتمال الخروج ثم العود فیجب الغسل احتیاطا وھو غیر بعید۱؎ الخ۔
آگے فرماتے ہیں: ہاں بعض نے کہا ہے کہ اگر وقتِ احتلام چت لیٹی ہوئی تھی تواس پر غسل واجب ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے منی نکلی ہوپھر عود کرگئی ہو تو احتیاطاً غسل واجب ہوگا۔اور وہ بعید نہیں۔ الخ
اقول مثل فــ الکلام من شان ھذا المحقق بعید فانہ اذا جعل مایری فی النوم لاحقیقۃ لہ وجعلہا مع تذکرھا الاحتلام و وجدانھا لذۃ الانزال غیر عالمۃ بالخروج وصرح انھا لم تر ولا علمت وان الحدیث ناطق بتعلیق الغسل علی رؤیتھا الماء بصرا اوعلما فمع انتفائہا مطلقا کیف یجب علیہا الغسل بمجرد کونہا علی قفاھا برؤیا حلم لاحقیقۃ لھا وقد قلتم ان لادلیل علیہ فلا یقبل والعود انما یکون بعد الخروج وھھنا نفس الخروج غیر متحقق فما معنی احتمال العود فالحق ان استقرا بہ ھذا الکلام عود منہ الی قبول المرام۔
اقول:اس طرح کی بات صاحبِ غنیہ جیسے محقق کی شان سے بعید ہے۔اس لئے کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ خواب میں جو کچھ نظر آئے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔اورعورت کو احتلام یاد ہونے اورلذّتِ انزال کا احساس کرنے کے باوجودخروج منی سے بے خبر قرار دیتے ہیں اور تصریح کرتے ہیں کہ اس نے دیکھا نہ جانا، اورحدیث نے نظر سے دیکھنے یاعلم و یقین حاصل ہونے سے غسل کو مشروط رکھا ہے۔دوسری طرف ان ساری باتوں کے نہ ہونے کے باوجود عورت پر صرف اس وجہ سے غسل واجب مانتے ہیں کہ وہ چت لیٹی ہوئی تھی۔کیا یہ وجوب خواب کے مشاہدہ کی وجہ سے ہوا جس کی کوئی حقیقت نہیں اورجس کے بارے میں آپ نے فرمایاکہ اس پر کوئی دلیل نہیں اس لئے قابلِ قبول نہیں۔ اور لوٹنا،عودکرنا توخروج کے بعد ہی ہوگا۔یہاں خروج ہی متحقق نہیں۔تو احتمالِ عودکا کیامعنی؟۔حق یہ ہے کہ محض حلبی کا اس کلام کے قریب جانا، قبول مقصود کی طرف عود فرمانا ہے۔
فــ:تطفل رابع علیھا۔
ثم ان القائل بھذا الشرط اعنی الاستلقاء الامام ابو الفضل مجد الدین فی الاختیار شرح متنہ المختار ولفظہ کما فی الحلیۃ المرأۃ اذا احتلمت ولم تربللا ان استیقظت وھی علی قفاھا یجب الغسل لاحتمال خروجہ ثم عودہ لان الظاھر فی الاحتلام الخروج بخلاف الرجل فانہ لایعود لضیق المحل وان استیقظت وھی علی جہۃ اخری لایجب ۱؎ اھ
پھر اس شرط یعنی چت لیٹنے کی شرط کے قائل امام ابو الفضل مجدالدین ہیں جنہوں نے اپنے متن ''مختار'' کی شرح ''اختیار'' میں اسے لکھا ہے۔ حلیہ کی نقل کے مطابق ان کے الفاظ یہ ہیں: عورت کوجب احتلام ہو اورتری نہ دیکھے ، اگروہ اس حالت میں بیدار ہوئی کہ چت لیٹی ہوئی تھی توغسل واجب ہے اس لئے کہ احتمال ہے کہ منی نکلی ہو پھر لوٹ گئی ہو کیونکہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔مردکا حال ایسا نہیں کہ جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے اس کی منی عود نہ کر سکے گی۔اور اگر عورت کسی دوسری جہت پر بیدار ہوئی توغسل واجب نہیں۔اھ۔
(۱؎ الاختیارلتعلیل المختار کتاب الطہارۃ فصل فرض الغسل...الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۳)