Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
33 - 135
    اما الشامی  فظن ان المحقق یرید بدعوی الاتفاق التوفیق بین الروایتین بان مراد الظاھرۃ عدم الوجوب اذالم یوجد الانزال ومرادالنادرۃ الوجوب اذاوجدولم ترہ المرأۃ بعینہافاخذ علیہ بما ھوعنہ بریئ اذیقول ''یفھم من کلام الفتح ان مرادہ انھم اتفقوا علی انہ اذاوجد المنی فقد وجب الغسل ومحمد قال بوجوبہ بناء علی وجود المنی وان لم ترہ فلم یخرج علی معنی ولم ترہ خرج لکن لایخفی ان غیر محمد لایقول بعدم الوجوب والحالۃ ھذہ فکیف یجعلون عدم الوجوب ظاھرالروایۃ اللھم الا ان یکون مرادہ الاعتراض علیھم فی نقل الخلاف وانھم لم یفھموا قول محمد وان مرادہ بعدمالخروج عدم الرؤیۃ ولا یخفی بعد ھذافانھم قید وا الوجوب عند غیر محمد بما اذاخرج الی الفرج الخارج فان کان مرادہ (یعنی محمدا) بعدم الرؤیۃ البصریۃ فھو ممالا یسع احدا ان یخالف فیہ وان کان العلمیۃ فلم یحصل الاتفاق علی تعلق الوجوب بوجود المنی فالظاھروجود الخلاف وان مافی التجنیس مبنی علی قول محمد وحینئذ لادلالۃ لہ علی ما ادعاہ فلیتامل ۱؎ اھ۔
علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق دعوائے اتفاق کرکے دونوں روایتوں میں تطبیق دینا چاہتے ہیں کہ ظاہر الروایہ سے مراد اس صورت میں عدمِ وجوب ہے جب انزال نہ پایا جائے، اور روایت نادرہ سے مراداس صورت میں وجوب ہے جب انزال پایاجاچکا ہو اور عورت نے اپنی آنکھ سے اسے دیکھا نہ ہو۔یہ سمجھ کر ان پراس معنی کے تحت گرفت کی جس سے وہ بری ہیں۔علامہ شامی لکھتے ہیں : کلامِ فتح سے سمجھ میں آتاہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ جب منی پائی جائے تو غسل واجب ہے۔اور امام محمد نے اس بنا پرغسل واجب کہا کہ منی پائی جاچکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں تو''پانی نہ نکلا''کا معنی یہ ہے کہ ''اس نے نکلتے دیکھا نہیں''۔ لیکن مخفی نہ ہوگاکہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں ہیں توعلماء عدم وجوب کو ظاہر الروایہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ مگر یہ کہ حضرت محقق کا مقصد ان علماء پر نقل اختلاف کے بارے میں اعتراض کرناہوکہ انہوں نے امام محمدکا قول سمجھا نہیں، عدم خروج سے ان کی مراد عدمِ رؤیت ہے۔ اور اس مراد کا بعید ہونا پوشیدہ نہیں۔ اس لئے کہ ان علماء نے غیر امام محمد کے نزدیک وجوب کو اس صورت سے مقید کیا ہے جب منی فرج خارج کی جانب نکل آئے۔ تو عدم رؤیت میں رؤیت سے اگر امام محمد کی مراد آنکھ سے دیکھنا ہے تو کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا اوراگراس سے ان کی مراد علم ویقین ہے تووجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کہاں ہے؟پس ظاہر یہی ہے کہ اختلاف باقی ہے اور تجنیس کا کلام امام محمد کے قول پر مبنی ہے۔ اس صورت میں حضرت محقق کے دعوے پر کلامِ تجنیس میں کوئی دلیل نہیں ۔تو اس میں تامل کیا جائے۔اھ۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۷)
اقول لاھوفـــ ینکر الخلاف ولا ان ما فی التجنیس مبنی علی ماروی عن محمد ولا ھو یرید ببیان الاتفاق ابداء الوفاق وانما الامر انھم ظنوا ان محمدا فی ھٰذہ الروایۃ لایشترط فی احتلامھا وجود الماء لقول التجنیس وغیرہ المبنی علی تلک الروایۃ احتلمت ولم یخرج منھا الماء فردوا علیہا بقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نعم اذا رأت الماء علق ایجاب الغسل علیہا برؤیہ الماء فکیف یجب ولم یخرج ۔
اقول:حضرت محقق کو نہ اختلاف سے انکار ہے نہ اس سے انکار ہے کہ کلامِ تجنیس اس پر مبنی ہے جو امام محمدسے ایک روایت ہے۔ نہ ہی بیان اتفاق سے ان کا مقصد اظہارِ مطابقت ہے۔معاملہ صرف یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھا کہ اس روایت میں امام محمداحتلامِ زن میں وجود منی کی شرط قرار نہیں دیتے کیونکہ اس روایت پر مبنی تجنیس وغیرہ کے کلام میں یہ آیا ہے کہ ''عورت کو احتلام ہوا اور اس نے پانی نہ دیکھا''۔ یہ سمجھ کران حضرات نے اس روایت پر اس حدیث سے رد کیاکہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے :'' ہاں جب وہ پانی دیکھے''۔ سرکار نے وجوبِ غسل کو پانی دیکھنے سے مشروط فرمایا۔ تو اس صورت میں غسل کیسے واجب ہوسکتا ہے جب پانی نہ نکلا ہو۔
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فاشار المحقق الی الجواب عنہ بان وجدان الماء شرط بالاجماع ولاتنکرہ ھذہ الروایۃ انما نشأ الخلاف من واد اخر وذلک ان العلم بالشیئ قد یحصل بنفسہ وقد یحصل بالعلم بسببہ فالروایۃ الظاھرۃ شرطت العلم بالوجہ الاول وقالت لاغسل علیہا وان وجدت لذۃ الامناء مالم تحس بمنی خرج من فرجہا الداخل سواء کان الاحساس بالبصر اوباللمس کما ھو فی الرجل بالاتفاق و روایۃ محمد فرقت بینہا وبین الرجل بما بینا فاجتزت فیہا بالعلم بلذۃ الانزال وجعلتہ علما بخروج المنی وان لم تحس منیا خارج فرجہا ھذا مراد الکلام فاین فیہ رفع الخلاف او انکار ابتناء کلام التجنیس علی الروایۃ النادرۃ۔
حضرت محقق نے اس کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ منی کا پایا جانا بالاجماع شرط ہے اور اس روایت میں بھی اس کا انکار نہیں ہے۔ اختلاف ایک دوسری جگہ سے رونما ہوا ہے وہ یہ کہ شیئ کا علم کبھی خود شیئ سے ہوتاہے اور کبھی اس کے سبب کے علم سے ہوتاہے۔روایت ظاہرہ میں بطریق اول علم کی شرط ہے اور اس میں یہ حکم ہے کہ عورت پر غسل نہیں اگرچہ اسے لذتِ انزال محسوس ہوجب تک کہ یہ محسوس نہ کرے کہ منی اس کی فرج داخل سے باہر آئی ،یہ احساس خواہ دیکھنے سے ہویا چھُونے سے ہو۔ جیسا کہ مرد کے بارے میں بالا تفاق یہ شرط ہے۔ اور اما م محمدکی روایت میں، عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے اس طورپرجو ہم نے بیان کیا۔ یہ روایت عورت کے بارے میں لذتِ انزال کے علم کو کافی قرار دیتی ہے اور اسی کوخروجِ منی کا علم مانتی ہے اگرچہ عورت فرج خارج میں منی محسوس نہ کرے۔ یہ ہے حضرت محقق کے کلام کی مراد۔ اس میں اختلاف کو ختم کرنا یا کلام تجنیس کی روایت نادرہ پر مبنی ہونے کا انکار کہاں ہے؟
ولو رأیتم فــ۱ ''فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ''لعلمتم انہ یبقی الخلاف ویرید الترجیح لارفع الخلاف وابداء التوفیق ولکن سبحٰن من لایزل۔
اگر آپ ان کی یہ عبارت ملاحظہ کرتے ''فعلی ھذا الا وجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ''( اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو) توآپ کو معلوم ہوتاکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ اختلاف باقی ہے اور ترجیح دینا چاہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ اختلاف اٹھانا اور تطبیق دینا چاہتے ہیں۔ لیکن پاک ہے وہ ذات جسے لغزش نہیں۔
فـــ۱:معروضۃ اخری علیہ۔
قولکم لایخفی ان غیر محمد لایقول ۱؎ الخ اقول بلی فــ۲ ان غیر محمد بل و محمدا ایضا فی ظاھر الروایۃ یقول بعدم الوجوب اذا لم یحط علمہا بنفس خروج المنی اصالۃ وفی النادرۃ یقول بالوجوب اذا علمت وجود المنی علما فقہیا بوجدان لذۃ الانزال ۔
علامہ شامی: مخفی نہ ہوگا کہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدمِ وجوب کے قائل نہیں اقول:کیوں نہیں امام محمد کے علاوہ حضرات اور خود امام محمد بھی ظاہرالروایہ میں عدمِ وجوب کے قائل ہیں جب عورت کو نفس خروج کا پورے طور پر اصالۃً علم نہ ہو۔ اور روایت نادرہ میں وجوب کے قائل ہیں جب لذّت انزال کے احساس کے ذریعہ اسے وجودِ منی کا علم فقہی حاصل ہو۔
فـــ۲:معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۵۷)
قولکم الا ان یکون مرادہ الاعتراض ۱؎ اقول لم یردہ ولم فــ۱ یرد الخلاف بل اراد الجواب عما اورد علی محمد من مخالفۃ الحدیث بان الرؤیۃ فی الحدیث علمیۃ اجماعا ولا یسع احدا ان یخالف فیہ وھو اذن یعم العلم الحاصل بسبب العلم بالسبب۔
علامہ شامی :مگر یہ کہ ان کامقصداعتراض ہو اقول:یہ اُن کامقصد نہیں،نہ ہی انہوں نے اختلاف کی تردید فرمائی ہے بلکہ امام محمد پر مخالفتِ حدیث کا جو اعتراض قائم کیاگیا وہ اس کاجواب دیناچاہتے ہیں کہ حدیث میں دیکھنے سے مراد علم ہے بالا جماع۔ اور کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ اور جب علم مراد ہے توعلم اس علم کو بھی شامل ہے جو علم بالسبب کے ذریعہ حاصل ہو۔
فـــ۱:معروضۃ رابعۃ علیہ۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۷)
قولکم وان کان العلمیۃ۲؎ الخ اقول نعم فــ۲ ھو المراد عند محمد وغیرہ جمیعا انما الخلف فی اشتراط العلم بالشیئ اصالۃ وعدمہ فلاینافی الاتفاق علی تعلق الوجوب بالوجود
علامہ شامی:اوراگراس سے مرادعلم ویقین الخ اقول:ہاں یہی مراد ہے امام محمد کے نزدیک بھی اور دوسرے حـضرات کے نزدیک بھی۔اختلاف صرف اس میں ہے کہ شے کا علم اصالۃً اوربراہِ راست شرط ہے یا نہیں(بلکہ بالواسطہ علم بھی کافی ہے) تو یہ وجودِ منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کے منافی نہیں۔
فــ۲:معروضۃ خامسۃ علیہ۔
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۵۷)
اما الغنیۃ فقال فیھا بعد نقل کلام المحقق ''ھذا لایفید کون الاوجہ وجوب الغسل فی المسألۃ المختلف فیھا لحدیث ام سلیم رضی اللّٰہ تعالی عنہا سواء کانت الرؤیۃ بمعنی البصر اوبمعنی العلم فانھا لم تربعینھا ولا علمت خروجہ اللھم الا ان ادعی ان المراد برأت رؤیا الحلم ولکن لادلیل لہ علی ذلک فلایقبل منہ ۱؎ اھ۔
صاحبِ غنیہ حضرت محقق کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس سے یہ مستفاد نہیں ہوتا کہ اس اختلافی مسئلہ میں حدیث ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا کے سبب اوجہ ، وجوب غسل ہے خواہ رؤیت آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں ہو یا علم ویقین کے معنی میں ہو،اس لئے کہ خروج منی عورت نے نہ اپنی آنکھ سے دیکھا نہ اسے اس کا علم ہوا۔ مگر یہ کہ دعوٰی کیاجائے کہ دیکھنے سے مراد خواب میں دیکھنا ہے، لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں لہذا یہ قابلِ قبول نہیں اھ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    مطلب فی الطہارۃ الکبری    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۴)
فاصاب فی فھم ان مراد المحقق الترجیح لاالتوفیق والعجب فــ۱ ان العلامۃ ش نقل کلامہ برمتہ بعد ما قدمنا عنہ ولم یحن منہ التفات الی مااعطاہ الغنیۃ من مفاد کلام المحقق۔
یہ انہوں نے صحیح سمجھا کہ حضرت محقق کامقصد ترجیح ہے تطبیق نہیں- اور تعجب ہے کہ علامہ شامی نے غنیہ کی پوری عبارت اپنی گزشتہ بحث کے بعد نقل کی ہے اور اس طر ف ا ن کی توجہ نہ کی گئی کہ غنیہ کی عبارت سے حضرت محقق کے کلام کا مفاد متعین ہوتا ہے۔
فـــ۱:معروضۃ سادسۃ علیہ۔
Flag Counter