اقول فــ : النصوص تحمل علی ظواھرھامالم یصرف عنہادلیل فاحتمال التغلیب محتاج الی اثبات عدم الدفق فی منیہا واذلا دلیل فلا سبیل الا الاحتمال فلا اخذ علی الاستدلال۔
اقول : نصوص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوں گے جب تک کہ کوئی دلیل ظاہرسے پھیرنے والی موجود نہ ہو۔ تو تغلیب کا احتمال اس کا محتاج ہےکہ پہلے عورت کی منی میں عدمِ دفق ثابت کیا جائے۔ اور جب ا س پر کوئی دلیل نہیں تو احتمال کی کوئی سبیل نہیں، لہذا استدلال پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی۔
علامہ طحطاوی فرماتے ہیں: دلیل میں جب احتمال کا گزر ہوجائے تو اس سے استدلال ساقط ہوجاتا ہے۔اھ۔
(۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۹۱)
اقول الاحتمال فــ۱اذا لم یدل دلیل علیہ لم ینظرالیہ وکان المدقق رحمہ اللّٰہ تعالی الی ھذااشار بقولہ تامل۔
اقول جب احتمال پر کسی دلیل کی دلالت نہ ہو تو وہ نظر اندازہوجائے گا۔اورشاید حضرت مدقّق صاحبِ درمختار رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے قول''تامل کرو'' سے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
فــ۱:معروضۃ علی العلامہ ط۔
وقال العلامۃ ش لعلہ یشیر الی امکان الجواب لان کون الدفق منہاغیرظاھریشعر بان فیہ دفقا وان لم یکن کالرجل افادہ ابن عبدالرزاق ۲؎ اھ
اور علامہ شامی فرماتے ہیں: شاید وہ اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اس کلام کا جواب دیا جاسکتاہے۔ اس لئے کہ عورت کی منی میں دفق کا غیرظاہرہونا پتہ دیتاہے کہ اس میں کچھ دفق ہوتاہے اگر چہ مرد کی طرح نہ ہو۔ اس کا ابن عبدالرزاق نے افادہ کیا۔اھ۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۸)
اقول لو ان فــ۲المدقق اراد ھذالناقض اول کلامہ اخرہ بل لم فــ۳یستقم اولہ لانہ بنی شمول الکلام لمنیہا علی ترک ذکر الدفق ولو کان فیہ دفق ولو خفیالشملہ وان ذکر بل مرادہ غیر ظاھر ای غیر ثابت ولا معلوم۔
اقول اگر حضرت مدقق کی مرادیہ ہوتو ان کے اول و آخر کلام میں تنا قض ٹھہرے گا بلکہ اول کلام درست ہی نہ ہوسکے گا اس لئے کہ عورت کی منی شاملِ کلام ہونے کی بنیادانہوں نے اس پر رکھی ہے کہ دفق کاذکر ترک کر دیا گیا ہے ، اور اگر اس میں کچھ دفق ہوتا اگرچہ خفی ہی ہو تو دفق ذکرکرنے سے بھی اسے شامل رہتا۔بلکہ لفظ غیر ظاہر سے ان کی مرادغیرثابت و غیر معلوم ہے۔
فـــ۲:معروضۃ علی العلامتین ش وابن عبدالرزاق۔
فـــ۳:معروضۃ اخری علیھما ۔
رجعنا الی تقریر دلیل التجنیس۔اقول فاذاکان الامر کما وصفنا لم یجب فی انزالہا خروج المنی من الفرج الخارج الی الفخذ او الثوب غالباکما فی الرجل فعسی ان یخرج من الفرج الداخل ویبقی فی الفرج الخارج والضعف الدفق یکون قلیلا ولرقتہ یختلط برطوبۃ الفرج فلا یحس بہ فاذا کان الامر علی ھذا الحد من الخفاء اقمناوجدانھا لذۃ الانزال مقام الخروج کما اقام الشرع ایلاج الحشفۃ مقامہ لعین ذلک الوجہ اعنی الخفاء کما بینہ فی الھدایۃ وشروحہا کیف ولیس المراد بقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی حدیث الشیخین عن انس رضی اللّٰہ عالٰی عنہ لما سألتہ ام سلیم رضی اللّٰہ تعالی عنہا یارسول اللّٰہ ان اللّٰہ لایستحیی من الحق فھل علی المرأۃ من غسل اذا احتلمت قال نعم اذارأت الماء ۱؎ ۔
اب پھر دلیلِ تجنیس کی تقریر کی طرف لوٹے اقول جب حقیقت امروہ ہے جو ہم نے بیان کی تو عورت کے انزال میں منی کا فرج خارج سے ران یا کپڑے کی جانب نکلنا عموماً ضروری نہیں جیسے مرد میں ہے۔ ہوسکتاہے فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں رہ جائے اور ضعفِ دفق کی وجہ سے قلیل ہو اور رقیق ہونے کی وجہ سے رطوبتِ فرج سے مخلوط ہوجائے تو محسوس ہی نہ ہوسکے۔جب اس حد تک خفاوپوشیدگی کا معاملہ ہے تو ہم نے لذّتِ انزال محسوس کرنے کو خروجِ منی کے قائم مقام کردیاجیسے شریعت نے ادخالِ حشفہ کو بعینہ اسی وجہ(خفا کی وجہ)سے اس کے قائم مقام کیا ہے،جیسا کہ اسے ہدایہ اور اس کی شرحوں میں بیان کیا ہے۔خصوصاً اس لئے بھی کہ درج ذیل حدیث میں رؤیت سے رؤیت عینی نہیں بلکہ رؤیت علمی مراد ہے۔ شیخین نے حضرت انس رضی اللہ تعالے عنہ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا نے رسول اللہ سے سوال کیا یا رسول اللہ! خدا حق سے حیا نہیں فرماتا، کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو؟ تو سرکار نے جواب دیا: ہاں پانی دیکھے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الغسل باب اذا احتلمت المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۲
صحیح مسلم کتاب الحیض باب وجوب الغسل علی المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۶)
و رؤیۃ البصر قطعا فقد تکون عمیاء بل الرؤیۃ العلمیۃ والظن الغالب علم فی الفقہ والخروج ھو المظنون فی الانزال وقد علم بما قررنا ان عدم الاحساس بہ بصرا ولا لمسا لایعارض فی المرأۃ ھذا الظن فادیر الحکم علیہ وکان وجدانھا لذۃالانزال کرؤیتہا ایاہ خارجا فنحن لانقول ان الغسل یجب علیہا وان لم ترماء حتی یرد علینا الحدیث بل نقول اذا وجدت لذۃ الانزال فقد رأت الماء علی الوجہ الذی بینا ولا تحتاج الی ان تحس المنی خارج فرجہا ببصراولمس ھذا تقریرالدلیل بفیض الملک الجلیل۔
یہاں دیکھنے سے آنکھ کادیکھنا قطعاً مراد نہیں اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ عورت نابیناہو، بلکہ یقین و علم مراد ہے۔ فقہ میں ظنِ غالب بھی علم ویقین ہے۔ اور انزال میں ظن غالب خروج ہی کا ہے۔ اور ہماری تقریر سابق سے یہ بھی معلوم ہواکہ دیکھنے اور چھُونے سے اس کا احساس نہ ہونا عورت کے سلسلے میں اس ظن کے معارض نہیں۔اس لئے حکم کا مداراسی پر رکھا گیا۔اور عورت کا لذتِ انزال محسوس کرنا ہی گویا منی کونکلتے ہوئے دیکھنا ہے۔ تو ہم اس کے قائل نہیں کہ عورت پر غسل واجب ہے اگرچہ وہ پانی نہ دیکھے کہ حدیث مذکور سے ہم پر اعتراض وارد ہو بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے لذتِ انزال محسوس کی تو اس کا پانی دیکھنا متحقق ہوگیا۔اسی طور پر جو ہم نے بیان کیا۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ وہ فرج کے باہر دیکھ کر یا چھُو کر منی محسوس کرے۔یہ بفیضِ رب جلیل اس دلیل کی تقریر ہوئی۔
وھذا معنی ماقالہ المحقق فی الفتح والحق ان الاتفاق علی تعلق وجوب الغسل بوجود المنی فی احتلامھا والقائل بوجوبہ فی ھذہ الخلافیۃ انما یوجبہ بناء علی وجودہ وان لم ترہ یدل علی ذلک تعلیلہ فی التجنیس احتلمت ولم یخرج منہا الماء ان وجدت شھوۃ الانزال کان علیہا الغسل والا لالان ماء ھا لایکون دافقا۱؎ الی اخر مامر قال فھذا التعلیل یفھمک ان المرام بعدم الخروج فی قولہ ولم یخرج منہا لم ترہ خرج فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ والاحتلام یصدق برؤیتھا صورۃ الجماع فی نومھا وھو یصدق بصورتی وجود لذۃ الانزال وعدمہ فلذا لما اطلقت ام سلیم السؤال عن احتلام المرأۃ قید صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم جوابہا باحدی الصورتین فقال اذا رأت الماء ومعلوم ان المراد بالرؤیۃ العلم مطلقا فانہا لوتیقنت الانزال بان استیقظت فی فور الاحتلام فاحست بیدھا البلل ثم نامت فما استیقظت حتی جف فلم تربعینھا شیا لایسع القول بان لاغسل علیہا مع انہ لارؤیۃ بصر بل رؤیۃ علم ورأی یستعمل حقیقۃ فی معنی علم باتفاق اللغۃ قال (رأیت اللّٰہ اکبر کل شیئ) ۱؎ اھ وبما قررنا الدلیل بفیض فتح القدیر عزجلالہ ظھر ان الرادین علی کلام المحقق ھذا وھم العلماء الجلۃ تلمیذہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ والمحقق ابرھیم الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ السید الشامی فی المنحۃ اکثرھم لم یمنعوا النظر فی کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالی وایاھم ورحمنا بہم۔
اور یہی فتح القدیر میں حضرت محقق کے درج ذیل کلام کا مقصود ہے، وہ فرماتے ہیں: حق یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے احتلام میں وجوبِ غسل کا تعلق منی کے پائے جانے ہی سے ہے۔ اور اس اختلافی روایت میں جو لوگ وجوب غسل کے قائل ہیں وہ اسی بناء پر غسل واجب کہتے ہیں کہ منی پائی جا چکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں۔ اس کی دلیل تجنیس کی یہ تعلیل ہے:''عورت کو احتلام ہوا اور اس سے پانی نہ نکلا ،اگر اس نے شہوتِ انزال محسوس کی ہے تو اس پر غسل واجب ہے ورنہ نہیں۔اس لئے کہ اس کا پانی مردکی طرح دفق والا نہیں ہوتا،وہ تو اس کے سینے سے اترتا ہے''۔ تو یہ تعلیل بتا رہی ہے کہ ان کے قول ''اس سے پانی نہ نکلا'' کا مطلب یہ ہے کہ اس نے '' نکلتے دیکھا نہیں''۔ اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو۔ اوراحتلام کا معنی اس سے صادق ہوجاتاہے کہ عورت اپنے خواب میں جماع کی صورت دیکھے۔اور یہ لذت انزال پانے، نہ پانے دونوں ہی صورتوں میں صادق ہے۔ اسی لئے حضرت ام سلیم نے احتلام زن سے متعلق جب سوال مطلق رکھاتو حضور نے اپنے جواب کو ایک صورت سے مقید کر کے فرمایا: ہاں جب پانی دیکھے۔اور معلوم ہے کہ دیکھنے سے مطلقاً علم مراد ہے۔ اس لئے کہ اگر اسے انزال کا یقین ہوگیا۔ مثلاً وہ احتلام کے فوراً بعد بیدار ہوگئی اور ہاتھ سے اس نے تری محسوس کرلی پھر سو گئی، بیدار اس وقت ہوئی جب تری خشک ہو چکی تھی، اس طرح اپنی آنکھ سے اس نے کچھ بھی نہ دیکھا۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر غسل واجب نہیں۔باوجودیکہ یہ آنکھ کا دیکھنا نہیں بلکہ صرف علم ویقین ہے۔ اور لفظ رأی باتفاق اہل لغت علم کے معنی میں حقیقۃً استعمال ہوتاہے۔کسی نے کہا: رأیت اللہ اکبر کل شئی ، میں نے خدا کو ہر شے سے بڑا دیکھا (یعنی جانا اوریقین کیا) اھ۔ ہم نے بفیض فتح القدیر عزّ جلالہ جو تقریر دلیل رقم کی ہے اس سے واضح ہے کہ حضرت محقق کے اس کلام پر رد کرنے والے اکثر حضرات نے ان کے کلام میں اچھی طرح غورنہ کیا۔رَد کرنے والے یہ جلیل القدر علماء ہیں (۱) صاحب فتح کے تلمیذ، محقق حلبی حلیہ میں (۲) محقق ابراہیم حلبی غنیہ میں (۳) علامہ سیّد شامی منحۃ الخالق میں۔ خدا کی رحمت ہو حضرت محقق پر ، اور ان حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۵
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۵)