| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
الثانی عشر : المرأۃ فـــ۱کالرجل فی الاحتلام نص علیہ محمد کمافی مختصر الامام الحاکم الشہید فان احتلمت ولم تربللا لاغسل علیہا ھو المذھب کما فی البحروالدر وبہ یؤخذ قالہ شمس الائمۃ الحلوانی وھوالصحیح قالہ فی الخلاصۃ وعلیہ الفتوی قالہ فی معراج الدرایۃ والبحر والمجتبی والحلیۃ والہندیۃ وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ فقیہ النفس فی الخانیۃ فلا تعویل علی ماروی عن محمدانہایجب علیہاالغسل احتیاطا وھذہ غیر روایۃ الاصول عنہ فان محمدانص فی الاصل ان المرأۃ اذا احتملت لایجب علیہا الغسل حتی تری مثل مایری الرجل کما فی الحلیۃ ۱؎ عن الذخیرۃ۔
بارھویں تنبیہ:احتلام کے معاملے میں عورت بھی مرد ہی کی طرح ہے۔امام محمد نے اس کی تصریح فرمائی ہے،جیسا کہ امام حاکم شہید کی مختصر میں ہے۔ تو اگرعورت کو احتلام ہواور تری نہ دیکھے تو اس پرغسل نہیں۔ یہی مذہب ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق ودرمختار میں ہے۔اور اسی کولیاجائے گا،یہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا۔یہی صحیح ہے۔یہ خلاصہ میں فرمایا۔اسی پر فتوٰی ہے۔یہ معراج الدرایہ، البحر الرائق، مجتبی ، حلیہ اور ہندیہ میں کہا۔اور اسی پر فقیہ ابو جعفر نے فتوٰی دیا۔ اسی پر فقیہ النفس نے خانیہ میں اعتماد فرمایا۔ تو اس پر اعتماد نہیں جو امام محمد سے ایک روایت ہے کہ اس عورت پر احتیاطاً غسل واجب ہے۔ یہ روایت امام محمد سے روایت اصول کے علاوہ ہے۔ اس لئے کہ امام محمد نے مبسوط میں نص فرمایا ہے کہ عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب نہیں یہاں تک کہ اسی کے مثل دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے۔
فــــ۱:مسئلہ عورت کو اگر احتلام یاد ہو اور جاگ کر تری نہ پائے تو مرد کی طرح اس پر بھی غسل نہیں اور اسی پر فتوٰی ،اور بعض مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ اگر خواب میں انزال ہونے کی لذت یاد ہو تو غسل واجب ہے بعض فرماتے ہیں کہ اس وقت چت لیٹی ہو تو غسل واجب ہے لہذا ان صورتوں میں بہتر یہ ہے کہ نہالے ۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول فقول فـــ۱المنیۃ قال محمد لیس کما ینبغی وحمل الامام برھان الدین فی تجنیسہ ھذہ الروایۃ علی ما اذا وجدت لذۃ الانزال ثم اختارھا معللا بان ماء ھا لایکون وافقا کماء الرجل وانما ینزل من صدرھا ۱؎ اھ واعتمدہ البزازی فی الوجیز فجزم بالوجوب قال وقیل لایلزمھا کالرجل ۲؎ اھ
اقول تو(روایت نوادر سے متعلق ۱۲م) منیہ کا قول: قال محمد(امام محمد نے فرمایا) مناسب نہیں۔ اور امام برہان الدین نے اپنی کتاب تجنیس میں اس روایت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب عورت لذتِ انزال محسوس کرے۔ پھر انہوں نے اسی روایت کو اختیار کیا یہ علّت بیان کرتے ہوئے کہ عورت کا پانی مرد کے پانی کی طرح دفق اور جست والا نہیں ہوتاوہ اس کے سینے سے اترتا ہے اھ۔ اور اس پر بزازی نے وجیز میں اعتماد کرکے وجوب غسل پر جزم کیاپھر لکھاکہ ''اورکہاگیااس پر غسل لازم نہیں جیسے مردپر لازم نہیں۔اھ۔
فـــ۱:تطفل علی المنیۃ۔
(۱؎التجنیس والمزید کتاب الطہارات مسئلہ ۱۰۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۷۷ (۲ ؎الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۱)
اقول واغرب فی فــ۲السراجیۃ فقال علیھا الغسل افتی ابو بکر بن الفضل البخاری وعن محمد انہ لایجب ۳؎ اھ فجعل الظاھرنادرا والنادرظاھراو حکی روایۃ محمدکقول الکل وجعل قول الکل روایۃ عن محمد ثم ان المحقق ایضااستوجہہ فی الفتح وللامام الزیلعی فی التبیین ایضا میل الی اختیارھا حیث قدمہا جازما بھا واخردلیلہا وعللہاکالتجنیس بقولہ لان ماء ھا ینزل من صدرھا الی رحمہا بخلاف الرجل حیث یشترط الظہور الی ظاھر الفرج فی حقہ حقیقۃ ۱؎ اھ فھذا ماوجدت الان فی تشیید ھذہ الروایۃ۔
اقول اور سراجیہ میں توعجیب روش اختیار کی۔اس میں لکھا:اس عورت پر غسل ہے۔اسی پر ابو بکر بن الفضل بخاری نے فتوٰی دیا۔اور امام محمد سے روایت ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں۔اھ۔یوں لکھ کر ظاہرالرویہ کو نادر اور نادر کو ظاہر بنا دیا اور امام محمد کی روایت کی حکایت اس طرح کی جیسے یہ تینوں ائمہ کا قول ہو اور جو سب کا قول تھا اسے امام محمد سے ایک روایت قراردے دیا۔ پھر حـضرت محقق نے بھی فتح القدیر میں ا س کوباوجہ قراردیاہے۔اور تبیین میں امام زیلعی کا بھی اس کی ترجیح کی جانب میلان ہے اس طرح کہ جزم فرماتے ہوئے اسے پہلے ذکر کیاہے اور اس کی دلیل بعد میں ذکرکی۔اور تجنیس کی طرح ان الفاظ سے اس کی تعلیل فرمائی ہے:اس لئے کہ اس کا پانی سینے سے رحم کی جانب اترتاہے، اور مرد کا یہ حال نہیں کیونکہ اس کے حق میں بیرون شرم گاہ حقیقۃً ظاہر ہونا شرط ہے ۔اھ۔یہ وہ ہے جو میں نے اس وقت اس روایت کی تائید میں پایا۔
فـــ:تطفل علی السراجیہ۔
(۳؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الطہارۃ باب الغسل نولکشور لکھنؤ ص۳ (۱؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ ۱ /۶۸)
اما التعلیل فاقول حاصلہ ان منی المرأۃ وان کان لہ دفق لشہادۃ قولہ تعالی''
ماء دافق یخرج من بین الصلب والترائب'' ۲؎
لکن لاکمنی الرجل وذلک لانہ ینزل من صلبہ الی انثییہ الی ذکرہ وھو طریق ذوعوج فلولم یندفع بقوۃ شدیدۃ لبقی فی بعض الطریق بخلاف منیہافانہ ینزل من ترائبہاالی رحمہاوھوطریق مستقیم فکان یکفیہ السیلان غیران نزولہ بحرارۃ فلزمہ نوع دفق ولاوجہ لانکارہ فانہ مشہودمعلوم۔
لیکن تعلیل تو میں کہتا ہوں اس کاحاصل یہ ہے کہ عورت کی منی میں اگر چہ کچھ دفق(جست) ہوتا ہے جس کی شہادت ارشادِ باری تعالٰی:'' اچھلتاپانی جو پشت اور سینے کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے''ہے لیکن وہ مرد کی منی کی طرح نہیں ہے۔اس لئے کہ وہ اس کی پشت سے انثیین پھر ذکر کی جانب اترتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ راستہ ہے۔ اس لئے وہ اگر شدید قوت کے ساتھ دفع نہ ہوتوراستے ہی میں رہ جائے بخلاف عورت کی منی کے۔ اس لئے کہ وہ اس کے سینے کی پسلیوں سے رحم کی جانب اترتی ہے،یہ سیدھاراستہ ہے، تو اس کے لئے بہناکافی ہے مگر یہ ہے کہ اس کااترناکچھ حرارت کے ساتھ ہوتاہے تو ایک طرح کا دفق اسے بھی لازم ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں،اس لئے کہ یہ معلوم ومشاہد ہے۔
(۲؎ القرآن ۸۶ /۷)
ولکن العجب من المدقق العلائی حیث قال لم یذکر الدفق لیشمل منی المرأۃ لان الدفق فیہ غیر ظاھرامااسنادہ الیہ فی الایۃ فیحتمل التغلیب فالمستدل بہا کالقہستانی تبعا لاخی چلپی غیر مصیب تامل ۱؎ اھ
لیکن مدقق علائی پر تعجب ہے کہ وہ یوں لکھتے ہیں: دفق ذکر نہ کیاتاکہ عورت کی منی کو بھی شامل رہے اس لئے کہ اس میں دفق غیر ظاہر ہے۔رہایہ کہ اس کی جانب بھی آیت میں دفق کی نسبت موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ نسبت بطور تغلیب ہو(کہ دراصل صرف مرد کی منی میں دفق ہوتاہے اسی لحاظ سے اس پانی کو مطلقا دفق والا فرمادیاگیا۱۲م) تو اثباتِ دفق میں اس آیت سے استدلال کرنے والا درستی پر نہیں۔ جیسے قہستانی نے اخی چلپی کی تبعیت میں اس سے استدلال کیاہے۔تامل کرو، اھ۔(درمختار)
(۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۰)