قلت : علی تسلیمہ ایضا لایصح جعلہ مذیا بل ان کان فلخروجہ بعد البول ودیا۔
قلتُ (میں جواب دوں گا) : اس کلام محقق کو اگر تسلیم کرلیاجائے تو بھی اسے (پیشاب وغیرہ کے بعد نکلنے والی منی کو) مذی قرار دینا درست نہیں۔ بلکہ اگر وہ ہو سکتی ہے تو پیشاب کے بعد نکلنے کی وجہ سے ودی ہو سکتی ہے۔
علا ان ما افادالمحقق شیئ تفردبہ لااظن احداسبقہ الیہ اوتبعہ علیہ وقول التبیین قال صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذاحذفت الماء فاغتسل وان لم تکن حاذفا فلا تغتسل فاعتبرالحذف وھو لایکون الا بالشھوۃ ۱؎ اھ
علاوہ ازیں حضرت محقق نے جو افادہ کیا اس میں وہ متفرد ہیں۔ میرے خیال میں ان سے پہلے کسی نے یہ بات نہ کہی اور نہ ان کے بعد اس میں کسی نے ان کی پیروی کی۔اور تبیین کی یہ عبارت کلامِ فتح کی طرح نہیں، تبیین میں ہے:حضور اقدس نے فرمایا جب تو پانی پھینکے تو غسل کر، اور اگر پھینکنے والانہ ہو توغسل نہ کر۔ تو حضور نے پھینکنے کا اعتبار فرمایا اور یہ شہوت ہی کے ساتھ ہوتاہے ۔اھ۔
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۵)
لیس کمثلہ لمن تأمل ففی الحذف الدفق ولا یکون الا بشھوۃ بخلاف نفس خروج المنی کیف فـــ۱وقد نطقت الکتب عن اخرھامتونھاوشروحہاوفتاوٰھا بتقیید المنی الذی یوجب الغسل بکونہ ذاشہوۃ وان ھذاالقیداحترازی وان المنی فـــ۲اذا خرج من ضربۃ اوسقطۃ اوحمل ثقیل من دون شھوۃ لایوجب الغسل ۔
یہ عبارت ویسی اس لئے نہیں کہ حذف (پھینکنے) میں دفق(جست کرنا) ہوتاہے اور وہ شہوت ہی سے ہوتاہے، نفس خروج منی میں ایسا نہیں۔ اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ متون ، شروح، فتاوٰی تمام ترکتابوں میں غسل واجب کرنے والی منی کے ساتھ شہوت والی ہونے کی قید لگی ہوئی ہے۔ اور یہ احترازی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب ضرب سے یا گرنے سے وزنی چیز اٹھانے سے بلا شہوت منی نکل آئے تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
فـــ:تطفل علی الفتح۔
فــــ۲:مسئلہ چوٹ لگنے یاگرنے بوجھ اٹھانے سے منی بے شہوت نکل جائے تو غسل نہ ہوگاصر ف وضو آئے گا۔
امااحتجاجہ بقول ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالی عنہا ۔
رہا حضرت محقق کا کلام ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے استدلال اس پر چند کلام ہے۔
اقول، اول ہماری ماں رضی اللہ تعالٰی عنہا ان پانیوں کی تعریف ان کے اکثری خواص سے کرناچاہتی ہیں اور خاص سے تعریف روا اور عام ہے خصوصاً زمانہ اولی میں۔
فـــــ۳:تطفل آخر علی الفتح ۔
وثانیا ماذایرادفـــ۴ بالضابط اٰالصدق الکلی من جانب المیاہ اوالخواص اوالجانبین والکل منقوض ۔
ثانی ضابطہ سے کیا مراد ہے؟۔ پانیوں کی جانب سے صدق کلی، یا خواص کی جانب سے ، یا ونوں جانب سے ؟ کوئی بھی درست نہیں۔
فــ۴:تطفل ثالث علیہ ۔
اماالاول فمع عدم وفائہ بالمقصودلان لزوم المنویۃ للشھوۃ لایستلزم لزوم الشھوۃ للمنویۃ وانما الکلام فیہ لایصح فی نفسہ لان الرجل قد یمنی بالملاعبۃ فیکون ھذا الانزال مذیا ولا یوجب الغسل وقد یمنی بشھوۃ عقیب البول کما تقدم عن المحقق فیکون ھذا الامناء ودیا ولا غسل وکلاھماخلاف للاجماع ۔
اول اس لئے کہ ایک تو اس سے مقصد حاصل نہیں کیوں کہ اگر شہوت کو منی ہونالازم بھی ہو تو یہ اسے مستلزم نہیں کہ منی ہونے کو شہوت بھی لازم ہو، اور کلام اسی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ خود بھی صحیح نہیں( کہ جب بھی شہوت ہو تو منی بھی ہو)اس لئے کہ مرد کو کبھی ملاعبت سے منی آتی ہے تویہ انزال مذی ہوجاتاہے اور غسل واجب نہیں کرتا۔اور کبھی اسے پیشاب کے بعد شہوت کے ساتھ منی آتی ہے۔ جیسا کہ حضرت محقق سے نقل ہوا۔تویہ اِمنا(منی آنا) ودی قرار پاتا ہے اور غسل نہیں ہوتا۔ اور دونوں ہی خلافِ اجماع ہیں( کیوں کہ شہوت کے ساتھ انزال اور اِمناقطعاً موجب غسل ہے)
واما الثانی فلان الانتشاربنظراوفکر من دون ملاعبۃ ربمایورث الامذاء لاسیما اذا کان الرجل مذاء وھل لایمذی الاعزب ابدا اذلا مرأۃ یلاعبہامع انہاقالت کل فحل یمذی فاذا لم یفسد الضابط بالتخلف فی المذی لایفسد ایضافی المنی ۔
دوم اس لئے کہ بغیر ملاعبت کے نظر یا فکر سے بھی انتشارِ آلہ سے بعض اوقات مذی آتی ہے خصوصاً جب مرد زیادہ مذی والا ہو۔اور کیابیوی نہ رکھنے والے کو کبھی مذی نہیں آتی اس لئے کہ کوئی عورت نہیں جس سے وہ ملاعبت کرے باوجودیکہ انہوں نے فرمایا ہر نر کو مذی آتی ہے۔ تو جب مذی کے بارے میں تخلّف سے ضابطہ فاسد نہیں ہوتا تو منی میں تخلّف سے بھی فاسد نہ ہو گا۔
وثالثاوھوفــ الطرازالمعلم والحل المحکم ان ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالی عنہا لم تقل ھو الماء الاعظم الذی من الشہوۃ لیلزم ان لایخرج منی الا بشھوۃ وانماقالت منہ الشھوۃ فانما یلزم ان لزم ان لکل منی دخلافی ایراث الشہوۃ وما یورث الشہوۃ لایلزم ان لایخرج الابھافقد یعتریہ عارض یزیلہ عن مکانہ بدون شہوۃ ولا شک ان تخلق المنی فی البدن ھو الذی یولد الشھوۃ لتوجہ الطبع الی دفع تلک الفضلۃ فالمنی وان خرج لعارض بغیر شھوۃ لایخرج من انہ الماء الذی یولد الشھوۃ لایبعد ان ویکون لک جزء منہ دخل فیما لان کلہ فضلہ ومن المعلوم انہ کلما ازدادالمنی تزدادالشھوۃ ۔
ثالث اور یہی نشان زدہ نقش ونگار اور محکم حل ہے۔امّ المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ'' یہ وہ آب اعظم ہے جو شہوت سے ہوتا ہے''کہ یہ لازم آسکے کہ کوئی منی بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ انہوں نے تو فرمایا ہے: منہ الشھوۃ'' اس سے شہوت ہوتی ہے۔اس سے اگر لازم آئے گا تو یہی لازم آئے گا کہ ہر منی کو شہوت پیدا کرنے میں کچھ دخل ہوتاہے۔اور جوچیزشہوت کو پید ا کرنے والی ہوضروری نہیں کہ شہوت کے ساتھ ہی نکلے۔ ایسا بھی عارض درپیش ہوگا جو اسے اس کی جگہ سے بغیر شہوت کے ہٹادے۔ اور اس میں شک نہیں کہ بدن میں منی کاپیدا ہونا ہی شہوت کی تولید کرتاہے کیوں کہ طبیعت اس فضلہ کو دفع کرنے کی جانب متوجہ ہوتی ہے۔ تو منی اگرچہ کسی عارض کے باعث بلا شہوت نکلی ہو مگر اس سے باہر نہ ہوگی کہ یہ وہ پانی ہے جو شہوت پیدا کرتاہے۔ اور بعید نہیں کہ اس کے ہر جُز کو شہوت میں کچھ دخل ہو اس لئے کہ ہر جُز فضلہ ہی ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب منی زیادہ ہوتی ہے شہوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تو اُم المومنین کے ارشاد کو حضرت محقق کی مراد سے کوئی مس نہیں۔ مگر تعجب کی بات نہیں ا س لئے کہ (عرب نے کہا ہے) ہر اسپ خوش رفتار ٹھوکر بھی کھاتا ہے،اورہر شمشیربراں ناموافق بھی ہوجاتی ہے، اور خدا کو اپنے کلام اور اپنے نبی کے کلام کے سوا کسی اور کلام کی بالکلیہ صحت منظور نہیں۔ خدا ئے برتر کا درودوسلام ہو حضرت نبی اور ان کے جوانمردآل واصحاب پر۔اور ہم مولا ئے پاک وبرتر سے اس کی عافیت وعفو کے طالب ہیں۔