| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول: وبہ ظھران فی حد الحدث المذکور فی الحلیۃ انہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ والحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھمامن نواقض الوضوء ومنع من قربان الصّلاۃ ومافی معناھامعہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبرہ زائلا بہ ۱؎ اھ
اقول:اسی سے ظاہر ہوا کہ حدث کی درج ذیل تعریف جو صاحبِ حلیہ نے کی ہے اس میں کھلا ہوا تسامح ہے وہ لکھتے ہیں: ''حدث وہ وصف حکمی ہے شارع نے '' اعـضا کے ساتھ جس کے قائم '' ہونے کو جنابت،حیض،نفاس ، پیشاب، پاخانہ اوران دونوں کے علاوہ نواقض وضو کا مسبّب مانا ہے۔اور اس وصف کے ساتھ نماز اور ان چیزوں کے قریب جانے سے روکا ہے جو نماز کے معنی میں ہیں اس حالت میں کہ یہ وصف جس کے ساتھ لگا ہے اس سے لگا ہوا ہو یہا ں تک کہ وہ چیز استعمال کرے جس سے شارع اس وصف کو زائل مانے ''۔اھ۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
تسامحا فــ۱ ظاھرا فی جعل الحدث مسبباعن الجنابۃ بل ھی نفسہا احد الحدثین فان وجہ بان الحد للحدث بمعنی التلبس والمراد بالجنابۃ تلک النجاسۃ الحکمیۃ ولا بعد ان یقال ان تلبسہ بھا مسبب عن وجودھا۔
تسامح اس طرح کہ حدث کو جنابت کا مسبّب قرار دیا ہے حالاں کہ خود جنابت ایک حدث ہے۔حدثِ اکبر۔اب اگر یہ توجیہ کی جائے کہ یہ تعریف حدث بمعنی تلبّس کی ہے اور جنابت سے مراد وہ نجاست حکمیہ ہے( جو اعضاء میں لگی ہوئی ہے۱۲م)اور بعید نہیں کہ یہ کہا جائے کہ جنابت سے مکلف کا تلبّس اُس نجاست حکمیہ کے موجود ہونے کا مسبّب ہے۔
فــ :۱ تطفل علی الحلیۃ۔
قلت یدفعہ قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی قیامہ بالاعضاء فالقائم بھا ھی النجاسۃ الحکمیۃ دون تلبس المکلف بھا فلا محیدالا ان یرتکب المجاز فی الحدفیرادبھا المنی النازل عن شھوۃ۔
میں کہوں گایہ توجیہ صاحبِ حلیہ کے الفاظ''اعضاء کے ساتھ قائم''سے رد ہوجاتی ہے، کیوں کہ اعضاء کے ساتھ قائم تو وہی نجاست حکمیہ ہے، مکلف کا اس سے تلبّس اعضاء کے ساتھ قائم نہیں۔ تواس سے مفر نہیں کہ تعریف میں مجاز کاارتکاب ماناجائے اورجنابت سے مراد وہ منی لی جائے جو شہوت سے اُتری ہو۔
ثم اقول خلل فــ۲اخرفی مانعتیہ فان الواوات فی قولہ والحیض والنفاس الخ بمعنی اوفیشمل التعریف الوصف الحکمی الذی یقوم بالاعضاء عند تلوثھابنجاسات الحیض وما بعدہ الحقیقۃ فانھا ایضاتمنع من قربان الصّلاۃ الخ وکونھانجاسات حقیقۃ لاینافی کون الوصف الذی یحصل للاعضاء بھاحکمیاکما حققہ المحقق حیث اطلق اذیقول فی الفتح من بحث الماء المستعمل معنی الحقیقۃ لیس الاکون النجاسۃ موصوفا بھا جسم محسوس مستقل بنفسہ عن المکلف ولیس التحقق لنامن معناھاسوی انھااعتبارشرعی منع الشارع من قربان الصلاۃ والسجودحال قیامہ لمن قام بہ الی غایۃ استعمال الماء فیہ فاذا استعملہ قطع ذلک الاعتبارکل ذلک ابتلاء للطاعۃ فاماان ھناک وصفاحقیقیاعقلیا اومحسوسافلا ومن ادعاہ لایقدرفی اثباتہ علی غیرالدعوی فلا یقبل ویدل علی انہ اعتباراختلافہ باختلاف الشرائع الاتری ان الخمرمحکوم بنجاسۃ فی شریعتناوبطہارتہ فی غیرھافعلم انہا لیست سوی اعتبار شرعی الزم معہ کذاالی غایۃ کذا ابتلاء ۱؎ اھ ولا عطربعدعروس۔
ثم اقول ا س تعریف کے مانع ہونے میں ایک اورخلل ہے۔وہ اس طرح کہ ان کی عبارت''والحیض والنفاس الخ'' میں واؤ بمعنی اَوْ (یا) ہے تو یہ تعریف اس وصف حکمی کو بھی شامل ہوگی جوحیض اور اسکے بعد ذکر شدہ چیزوں کی نجاست حقیقیہ سے اعضاء کے آلودہ ہونے کے وقت اعضاء کے ساتھ قائم ہو۔ اس لئے کہ یہ بھی نماز وغیرہ کے قریب جانے سے مانع ہے۔ اور ان کا نجاست حقیقیہ ہونا اس کے منافی نہیں کہ ان سے اعضاء کو حاصل ہونے والا وصف، حکمی ہو۔ جیساکہ محقق علی الاطلاق نے اس کی تحقق فرمائی ہے ، وہ فتح القدیر بحث مائے مستعمل میں لکھتے ہیں:حقیقیہ کا معنی صرف اس قدر ہے کہ مکلف سے جُدا ایک مستقل محسوس جسم اس نجاست سے متصف ہے اور ہمارے لئے اس کامعنی بس اتناہی محقق ہے کہ یہ ایک اعتبار شرعی ہے کہ جس کے ساتھ وہ قائم ہے اس سے قائم ہوتے ہوئے شارع نے اسے نماز و سجدہ کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تک کہ اس میں پانی کااستعمال کرے،جب پانی استعمال کرلے گا تو وہ اعتبار ختم ہوجائے گا۔یہ سب اطاعت کی آزمائش کے لئے ہے۔ لیکن یہ کہ وہاں کوئی عقلی یا محسوس وصف حقیقی ہے توایسا نہیں۔ جواس کامدعی ہو وہ اس کے ثبوت میں دعوٰی سے زیادہ کچھ پیش نہیں کرسکتا۔اس لئے یہ قابلِ قبول نہیں۔ اور اعتبار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے یہ مختلف ہوتارہا ہے ۔ دیکھئے ہماری شریعت میں شراب کی نجاست کا حکم ہے اور دوسری شریعت میں اس کی طہارت کاحکم رہا ہے تومعلوم ہوا کہ یہ نجاست صرف ایک اعتبار شرعی ہے جس کے ساتھ شریعت نے آزمائش کے لئے فلاں چیز فلاں حدتک لازم فرمائی ہے اھ۔ ولاعطر بعد عروس۔(اس صاف تصریح کے بعد مزید تو ضیح واثبات کی حاجت ہی نہیں۱۲)۔
فـــ۲:تطفل آخر علیہا۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷۵)
الحادی عشر عدم وجوب الغسل بمنی خرج بعدالبول ونحوہ من دون الشھوۃ وقع تعلیلہ فی مصفی الامام النسفی رحمہ اللّٰہ تعالی بانہ مذی ولیس بمنی لان البول والنوم والمشی یقطع مادۃ الشھوۃ ۲؎ اھ نقلہ فی البحر واقر۔
گیارھویں تنبیہ: پیشاب وغیرہ کے بعد بلاشہوت نکلنے والی منی غسل واجب نہ ہونے کی تعلیل امام نسفی رحمہ اللہ تعالٰی کی مصفّی میں یہ واقع ہوئی کہ وہ مذی ہے، منی نہیں ہے۔ اس لئے کہ پیشاب، نیند،اورچلنا مادہ شہوت قطع کردیتاہے اھ۔اسے بحر میں نقل کر کے بر قرار رکھا۔
(۲؎ البحرالرائق بحوالہ المصفی کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۵۵)
اقول وفیہ نظرفـــ۱ ظاھر فان صورۃ المنی لاتکون قط للمذی وفی قولہ رحمہ اللّٰہ تعالی انھا تقطع مادۃ الشھوۃ تسامح فـــ۲ واضح وانما تقطع مادۃ المنی المنفصل فیؤمن بھا ان یکون الخارج بعدھا بقیۃ منی کان نزل بشھوۃ وھذاھوالصحیح فی تعلیل المسألۃ کماافادہ فی التبیین وغیرہ فان لیس خروج کل منی مجنبا بل منی نزل عن شھوۃ وقد انقطع مادتہ بہا فالخارج الان منیا منی قطعا لکن غیر نازل عن شھوۃ فلایوجب الغسل خلافا للامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
اقول یہ واضح طور پر محلِ نظر ہے۔اس لئے کہ منی کی صورت،مذی کے لئے کبھی نہیں ہوتی۔اور امام موصوف رحمہ اللہ تعالٰی کے کلام''یہ سب مادہ شہوت کو قطع کردیتے ہیں'' میں کھلا ہوا تسامح ہے۔ یہ چیزیں صرف جدا ہونے والی منی کا مادہ منقطع کردیتی ہیں تو ان کے باعث اس بات سے اطمینان ہوجاتا ہے کہ ان کے بعدنکلنے والی چیزاس منی کا بقیہ حصہ ہوجو شہوت کے ساتھ اُتری تھی۔اور یہی مسئلہ کی صحیح تعلیل ہے جیسا کہ تبیین وغیرہ میں اس کا افادہ کیا ہے۔اس لئے کہ ہر منی کانکلنا جنابت لانے والا نہیں،بلکہ صرف وہ منی سببِ جنابت ہوتی ہے جو شہوت سے اتری ہواور مذکورہ چیزوں سے اس کامادہ منقطع ہوگیا۔ تو اس وقت منی کی صورت میں نکلنے والی چیزقطعاً منی ہی ہے لیکن وہ شہوت سے اترنے والی نہیں اس لئے موجبِ غسل نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے۔
فـــ۱:تطفل علی المصفی والبحر۔ فـــ۲:تطفل آخر علیہما۔
فان قلت الیس افاد فی الفتح ان مانزل عن غیر شھوۃ لایکون منیا قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی کون المنی عن غیر شھوۃ ممنوع فان عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اخذت فی تفسیرھا ایاہ الشھوۃ قال ابن المنذر حدثنا محمد بن یحیی حدثنا ابو حنیفۃ حدثنا عکرمۃ عن عبدربہ بن موسٰی عن امہ انھا سألت عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھا عن المذی فقالت ان کل فحل یمذی وانہ المذی والودی والمنی فاماالمذی فالرجل یلاعب امراتہ فیظہر علی ذکرہ الشیئ فیغسل ذکرہ وانثییہ ویتوضأولا یغتسل واماالودی فانہ یکون بعد البول یغسل ذکرہ وانثییہ ویتوضأولایغتسل واماالمنی فانہ الماء الاعظم الذی منہ الشھوۃ وفیہ الغسل و روی عبدالرزاق فی مصنفہ عن قتادۃ وعکرمۃ نحوہ فلایتصورمنی الامن خروجہ بشھوۃ والافیفسد الضابط الذی وضعتہ لتمییز المیاہ لتعطی احکامھا ۱؎ اھ
اگر یہ سوال ہو کہ کیا فتح القدیر میں افادہ نہیں فرمایا ہے جو بلا شہوت نکلے وہ منی نہیں۔ وہ فرماتے ہیں:منی کا بغیر شہوت ہونا تسلیم نہیں۔اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اس کی جو تفسیر کی ہے اس میں شہوت کو لیا ہے۔ ابن المنذر نے کہا ہم سے محمد بن یحیٰی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے ابو حنیفہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہاہم سے عکرمہ نے حدیث بیا ن کی، انہوں نے عبداللہ بن موسٰی سے ، انہوں نے اپنی ماں سے روایت کی، کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایاہرنر کو مذی آتی ہے۔ اور مذی، ودی، منی تین چیزیں ہیں۔مذی یہ کہ مرد اپنی بیوی سے ملاعبت کرتاہے تواس کے ذکر پر کچھ ظاہر ہوجاتاہے ۔ وہ اپنے ذکر اور انثیین کو دھوئے اور وضو کر ے، اسے غسل نہیں کرنا ہے۔ اور ودی پیشاب کے بعد آتی ہے ۔ ذکر اور انثیین کو دھوئے گااو روضو کرے گا، غسل نہیں کرنا ہے ۔ لیکن منی تو وہ آب اعظم ہے جس سے شہوت ہوتی ہے اور اسی میں غسل ہے۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنّف میں حضرت قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی ہے۔اور شہوت کے ساتھ نکلے بغیر منی ہونا متصور نہیں۔ ورنہ وہ ضابطہ ہی فاسد ہوجائے گاجو ام المومنین نے احکام بتانے کے لئے پانیوں کے باہمی امتیاز کے لے وضع کیا ۔اھ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۳و۵۴)