Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
28 - 135
اقول : وایاک ان تتوھم من تعقیبہ کلام البحر بہ انہ یرید بہ الاخذ علی البحر  والفتح فی اشتراط وجد ان الشھوۃ لان المحیط یعنی الرضوی اذعنہ نقل فی الحلیۃ جعل نفس الانتشار دلیل الشھوۃ و ذلک لان فیہ نظرا ظاھرا لمن احاط بما قدمنا من الکلام وانما ملحظ الامام رضی الدین السرخسی فی ھذا القول عندی واللّٰہ تعالی اعلم الایمان الی جواب عن سؤال اختلج ببالی وھو ما اقول ان الجنابۃ قضاء الشھوۃ بالانزال کمافی الفتح والحلیۃ والبحر وشتان مابینہ وبین مجرد مقارنۃ الشھوۃ لنزول منی فان الانزال الذی تقضی بہ الشھوۃ یعقب الفتور  و زوال الشھوۃ ولامانع لان ینفصل منی من مقرہ بدون شھوۃ بعد ما بال ثم ینتعش الرجل قلیلا فینتشر فینزل ھذا المنفصل بلاشھوۃ مع شھوۃ فلایورث فتورا ولا تکسرا فیکون قدخرج حین الشھوۃ ولم یکن جنابۃ لعدم قضاء الشھوۃ بہ فاومٰی الی الجواب وتقریرہ علی ما اقول انا لا ننکر ان المنی قدینفصل بدون شھوۃ ولا نقول ان الشھوۃ ھو السبب المتعین لہ لکن المسبب لعدۃ اسباب اذا وجد و وجد معہ سبب لہ فانما یحال علی ھذا الموجود لایلتفت الی انہ لعلہ حصل بسبب اخر کما قال الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی حیوان وجد فی البئر میتا ولا یدری متی وقع یحال موتہ علی الماء ولا یقال لعلہ مات بسبب اخر والقی فیہ میتا فاذا نزل عندالشھوۃ کان ذالک دلالۃ خروجہ عن شھوۃ فاوجب الغسل اما حدیث تعقیب الفتورفانما ذلک فی کمال الانزال الاتری کیف اوجب الشارع الغسل بمجرد ایلاج حشفۃ نظرا الی کونہ مظنۃ الانزال مع انہ لایعقبہ الفتور بل ربما یزید الانتشار ھکذا ینبغی ان یفہم ھذا المقام واللّٰہ تعالٰی ولی الانعام۔
اقول  : ہر گز وہم نہ ہو کہ عبارت بحر کے بعد یہ عبارت لا کر علامہ شامی بحر وفتح پر شہوت پائے جانے کی شرط لگانے کے معاملہ میں گرفت کرنا چاہتے ہیں کہ محیط- یعنی محیط رضوی، کیونکہ حلیہ میں اسی سے نقل کیا ہے۔نے تو خود انتشار ہی کو دلیل شہوت قرار دیاہے۔ وہ اس لئے کہ اس سے ان پر گرفت ماننے میں نظر ہے جو ہمارے کلام سابق سے آگاہی رکھنے والے پر ظاہر ہے۔ میرے نزدیک اس کلام سے امام رضی الدین سرخسی کا مطمح نظر- واللہ تعالٰی اعلم - ایک سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ سوال جو میرے دل میں آیا ہے اس طر ح ہے:اقول جنابت انزال سے قضائے شہوت کانام ہے۔ جیسا کہ فتح، حلیہ اوربحر میں ہے۔ انزال سے قضائے شہوت، اور انزال منی کے ساتھ شہوت کی صرف مقارنت ومعیت دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے کہ جس انزال سے قضائے شہوت کا وقوع ہوتاہے اس کے بعد فتور اور زوالِ شہوت کا ظہور ہوتاہے۔ اور یہ ہوسکتاہے کہ پیشاب کے بعد کوئی منی اپنے مستقر سے بلا شہوت جداہو پھر آدمی میں کچھ نشاط پیدا ہو تو انتشار ہو جائے  پھر یہ بلا شہوت جدا ہونے والی منی شہوت کے ساتھ ساتھ، اترآئے اور اس سے نہ کوئی فتور پیدا ہو نہ کوئی شکستگی آئے تو ہوگا یہ کہ منی حالتِ شہوت میں باہر آئی ہے اور جنابت نہیں کیونکہ اس سے قضائے شہوت واقع نہیں ۔تو صاحبِ محیط نے اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور تقریر جواب اس طرح ہوگی، اقول ہمیں اس سے انکار نہیں کہ منی کبھی بغیر شہوت کے بھی جدا ہوتی ہے اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں کہ شہو ت ہی اس کا سبب معین ہے۔ لیکن جو امر کئی اسباب کا مسبّب ہے جب اس کا وجود ہو اور اس کے ساتھ اس کاکوئی ایک سبب بھی موجود ہو تو اسے اسی سبب موجود کے حوالہ کیا جائے گا اور اس طرف التفات نہ ہوگا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی اور سبب سے وجود میں آیا ہو۔ جیسا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہ کا اس حیوان سے متعلق ارشاد ہے جو کنویں میں مردہ ملا اور پتہ نہیں اس میں کب واقع ہو ا تو اس کی موت کو آب ہی کے حوالہ کیا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گاکہ ہوسکتاہے وہ کسی اور سبب سے مراہو، اور مرا ہو ا اس میں ڈال دیاگیاہو۔ تو جب وقت شہوت انزال ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس منی کا نکلنا شہوت ہی سے ہے اس لئے غسل واجب ہوا۔ رہی اس کے بعد سستی اور فتور آنے کی بات تو وہ کمال انزال میں ہے شریعت نے محض ادخالِ حشفہ سے غسل کیسے واجب کیا؟ اسی پر نظر کرتے ہوئے کہ یہ مظنّہ انزال ہے باوجودیکہ اس کے بعد کسل و فتور نہیں ہوتابلکہ بارہا انتشار میں اضافہ ہوجاتاہے۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے۔ اور خدائے بر تر ہی مالکِ فضل واحسان ہے۔
العاشر فـــ۱ : فی تعریف الجنابۃ قد علمت ما افادہ الفتح وتبعہ الحلبی والبحر ۔
دسویں تنبیہ  : تعریف جنابت سے متعلق- اس بارے میں ابھی وہ معلوم ہواجو صاحب فتح نے افادہ کیا اور حلبی وبحر نے جس میں ان کا اتباع کیا۔
فــ۱ :بحث تعریف الجنابۃ۔
اقول وظھرفـــ۲ لک مماقررنا ان مایعطیہ ظاھرہ غیر مراد والاولی انھاالانزال عن شھوۃ ثم فـــ۳ الحق انہ تعریف بالسبب ویستفاد من نھایۃ ابن الاثیرانھاوجوب الغسل بجماع اوخروج منی۔
اقول: تم پر ہماری تقریر سے واضح ہوگیا ہو گا کہ ان کا ظاہر کلام جو معنی ادا کر رہا ہے وہ مراد نہیں۔ 

اور بہتر یہ کہنا ہے کہ جنابت شہوت سے انزال کا نام ہے۔ پھر حق یہ ہے کہ یہ سبب کے ذریعہ تعریف ہے ( یعنی انزال سبب جنابت ہے خود جنابت نہیں۱۲م)اور نہایہ ابنِ اثیر سے یہ تعریف مستفاد ہوتی ہے:جنابت جماع یا خروجِ منی سے وجوبِ غسل کا نام ہے۔
فـــ۲ :تطفل علی الفتح والحلیۃ و البحر۔

فـــ۳ :تطفل اٰخر علیھا۔
اقول : واطلق عن قید الشھوۃ بناء علی مذھبہ الشافعی ثم ھذا فـــ۱ تعریف بالحکم وحق الحدلھاما اقول انھاوصف حکمی اعتبرہ الشرع قائمابالمکلف مانعالہ عن تلاوۃ القرآن اذاخرج منہ ولوحکمامنی نزل عنہ بشھوۃ فقولی ولوحکمالادخال ادخال الحشفۃ بشروطہ وقولی نزل عنہ بشھوۃ لاخراج اخراج المرأۃ فـــ۲ منی زوجہا من فرجہافانما لاتجنب بہ وان اجنبت بالایلاج بل قدیخرج منیہ منھا ولاتجنب اصلاکما اذا اولج نصف حشفۃ فامنی فدخل المنی فرجہا فخرج ولم اقل الی غایۃ استعمال المزیل کما قال الفتح والبحر وغیرھما فی حدالحدث اذلافـــ۱ حاجۃ الیہ فان زوال المنع بزوال المانع مما لاحاجۃ الی التنبیہ علیہ فضلا عن الاحتیاج الی اخذہ فی الحد فافھم ۔
اقول:اس میں انہوں نے اپنے مذہب شافعی کی بناء پر شہوت کی قید نہ لگائی۔ پھر یہ حکم کے ذریعہ تعریف ہے( یعنی وجوبِ غسل حکم جنابت ہے خود جنابت نہیں۱۲م)اور اس کی کماحقّہ تعریف یہ ہے: اقول جنابت ایک حکمی وصف ہے جسے شریعت نے مکلف کے ساتھ قائم،اس کے لئے تلاوتِ قرآن سے مانع ماناہے جب کہ اس سے اس منی کا خروج ہو جو اس سے شہوت کے ساتھ اُتری، اگرچہ یہ خروج حکما ہی ہو ۔'' اگرچہ حکماً'' میں نے اس لئے کہا کہ ادخالِ حشفہ کی صورت بھی اس کی مقررہ شرطوں کے ساتھ، اس تعریف میں داخل ہوجائے۔اور میں نے کہا''اس سے شہوت کے ساتھ اتری'' تاکہ وہ صورت اس تعریف سے خارج ہو جائے جب عورت کی شرم گاہ سے زوج کی منی باہر آئے، کیوں کہ عورت کے لئے اس سے جنابت ثابت نہیں ہوتی، اگرچہ ادخال سے وہ جنابت والی ہوجاتی ہے۔ بلکہ ایسابھی ہوگاکہ زوج کی منی عورت سے نکلے اور عورت جنابت زدہ بالکل نہ ہو مثلاً اس نے نصف حشفہ داخل کیا پھر باہر اس سے منی نکلی جو عورت کی شرم گاہ میں چلی گئی پھر باہر آئی۔اور میں نے '' الٰی غایۃ استعمال المزیل'' نہ کہا جیسا کہ فتح وبحر وغیرہما میں حدث کی تعریف میں کہا ہے( یعنی یہ کہ شریعت نے اس وصف کومانع قرار دیاہے جب تک کہ مکلف اس وصف کو ''زائل کرنے والی چیز استعمال نہ کرلے'' مثلاً غسل یا تیمم جنابت نہ کرلے۱۲م)اس لئے کہ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ مانع ختم ہوجانے سے ممانعت کا ختم ہوجانا خود ہی ظاہر ہے اس پر تو تنبیہ کی حاجت نہیں، کسی تعریف میں اسے داخل کرنے کی حاجت کیا ہوگی؟۔ اسے سمجھ لو۔
فـــ۱ :تطفل علی ابن کثیر۔

فـــ۲ :مسئلہ زوج کی منی اگر عورت کی فرج سے نکلے تو اس پر وضو واجب ہوگا اس کے سبب غسل نہ ہوگا۔

فـــ۱ :تطفل علی الفتح و البحر وغیرھما۔
واقتصرت مما یمنع بھا علی التلاوۃ لعدم الحاجۃ الی استیعاب الممنوعات فی التعریف وانما ذلک عند تعریف الاحکام۔
جنابت کی وجہ سے شرعاً جو چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں ان میں صرف تلاوت کے ذکر پر میں نے اکتفا کی، اس لئے کہ تعریف کے اندر ممنوعات کا احاطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ ضرورت تو احکام بتانے کے وقت ہے (کہا جاسکتاہے کہ مانع تلاوت ہونے کا ذکر کرنے کی بھی کیا حاجت؟ اس کے جواب میں کہا ۱۲م):
اقول: والحاجۃ الٰی ذکرہ اخراج نجاسۃ المنی الحقیقیۃ وحکم البلوغ باول انزال الصبی واخترت القراٰن علی قربان الصلاۃ لان المنع منھالایختص بالحدث الاکبر ولم اقل قائما بظاھر بدن المکلف کی یصح الحمل علی کلامعنیی الحدث مایتجزی منہ وھی النجاسۃ الحکمیۃ القائمۃ بسطوح الاعضاء الظاھرۃ ومالا وھوتلبس المکلف بہاکمابینتہ فی الطرس المعدل فی حد الماء المستعمل ولوقلتہ لاختص بالاول۔
اقول:اس کے ذکر کی حاجت یہ ہے کہ منی کی نجاستِ حقیقیہ تعریف سے خارج ہوجائے، اوربچےّ کے پہلی بار انزال سے ہی اس کے لئے بلوغ کا حکم ہوناثابت ہوجائے۔ اور میں نے مانع نمازہونے کے بجائے مانع تلاوت ہونااختیار کیا اس لئے کہ نمازسے ممانعت حدثِ اکبر کے ساتھ خاص نہیں۔ میں نے(قائم بمکلف کہا)'' مکلف کے ظاہر بدن کے ساتھ قائم''نہ کہاتاکہ حدث کے دونوں معنوں پر محمول کرنا صحیح ہو سکے۔حدث کا ایک معنٰی تو وہ ہے جس کی تجز ّی اورانقسام ہو سکتاہے۔ یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو ظاہری اعضا کی سطحوں سے لگی ہوئی ہے (اس کی تجز ی مثلاً یوں ہو سکتی ہے کہ بعض اعضا دھولئے ان سے نجاست حکمیہ دور ہوگئی اور بعض دیگر پر باقی رہ گئی ۱۲م) اور ایک معنی وہ ہے جس کی تجزی نہیں ہوسکتی۔وہ ہے مکلف کا اس نجاست حکمیہ سے متلبس ہونا(بعض اعضا کے دھلنے سے مکلف کی ناپا کی کا حکم ختم نہیں ہوگا جب تک کہ مکمل طورپرتطہیرنہ ہوجائے۔سب دھونے کے بعد ہی وہ پاک کہلائے گااسی طرح تیمم کی صورت میں ۱۲م )جیسا کہ میں نے اسے''الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل'' میں بیان کیاہے۔ اگر میں''قائم بظاہرِ بدن مکلف:کہہ دیتا تو یہ تعریف صرف معنی اول کے ساتھ خاص ہوجاتی۔
Flag Counter