Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
27 - 135
التاسع فـــ  : اجمعوا ان لو بال اونام اومشی کثیرا ثم خرج بقیۃ المنی بدون شھوۃ لایجب الغسل تظافرت الکتب علی نقل الاجماع فی ذلک کالتبیین والفتح والمصفی والمجتبی والحلیۃ والغنیۃ والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وغیرھا غیر ان منھم من یقتصر علی ذکر البول کالخانیۃ ومنھم من یزید النوم کالمحیط والاسبیجابی والذخیرۃ وخزانۃ المفتین ومنھم من زاد المشی ایضا کالتبیین والفتح والمنتقی والظہیریۃ ثم اطلق المشی کثیر وقیدہ الزاھدی بالکثیر وھو الاوجہ کما ترجاہ فی الحلیۃ وجزم بہ فی البحر لان الخطوۃ والخطوتین لایکون منھما ذلک ونقل ش عن العلامۃ المقدسی قال فی خاطری انہ عین لہ اربعون خطوۃ فلینظر ۱؎ اھ۔
نویں تنبیہ: اس پر اجماع ہے کہ اگر پیشاب کیا، یا سوگیا، یا زیادہ چلا۔ پھر بقیہ منی بلا شہوت نکلی تو غسل واجب نہیں۔ اس بارے میں نقل اجماع پر کتابیں متفق ہیں۔ جیسے تبیین الحقائق، فتح القدیر، مصفی، مجتبی، حلیہ، غنیہ، خانیہ ، خلاصہ، بزازیہ وغیرہا۔فرق یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے صرف پیشاب کے ذکر پر اکتفاکی ہے جیسے خانیہ کسی نے اس پرسونے کا اضافہ کیا جیسے محیط، اسبیجابی،ذخیرہ، خلاصہ ، وجیز اور خزانۃ المفتین۔ اور کسی نے چلنے کا بھی اضافہ کیا جیسے تبیین ، فتح القدیر، منتقی اور ظہیریہ۔ پھر کـثیر نے چلنے کو مطلق رکھا اور زاہدی نے اسے کثیر سے مقید کیا (زیادہ چلنا کہا)۔ اور یہی اوجہ ہے جیسا کہ حلیہ میں اسے بطور توقع کہا اور بحر میں اس پر جزم کیا اس لئے کہ وہ قدم دو قدم چلنے سے نہ ہوگا۔اور علامہ شامی نے علامہ مقدسی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس کے لئے چالیس قدم مقرر ہیں تو اس پر غور کرلیا جائے ۔اھ۔
ف: مسئلہ جماع یا احتلام پر سونے،چلنے پھرنے یا پیشاپ کرنے کے بعدجو  اور منی بلاشہوت نکلے اس سے غسل نہ ہوگا اور چلنے کی بعض نے چالیس قدم تعداد بتائی ،اور صحیح یہ ہونا چاہئے کہ جب اتنا چل لیا جس سے اطمینان ہوگیا کہ پہلی منی کا بقیہ ہوتا تو نکل چکتا اس کے بعد بلاشہوت نکلی تو غسل نہیں۔
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۱۰۸)
اقول ھذافــ۱ ماعین بعضھم فی الاستبراء وقال بعضھم یزید بعد اربعین سنۃ بکل سنۃ خطوۃ وھو کما تری ناش عن منزع حسن لکن المنی اثقل واسرع زوالا ویظھر لی ان یفوض فــ۲ الی رأی المبتلی بہ کما ھو داب اما منا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی امثال المقام ای یعلم من نفسہ ان انقطع مادۃ الزائل بشھوۃ ولو کان لہ بقیۃ لخرج کیف وان الطبائع تختلف وھذا ماصححوہ فی الاستبراء کمافی الحلیۃ وغیرھا وقیدفـــ۳ مسألۃ الخروج بعد البول فی عامۃ الکتب بان لا یکون ذکرہ اذ ذاک منتشرا والا وجب الغسل قال المحقق فی الفتح بعد نقلہ عن الظہیریۃ ھذا بعد ماعرف من اشتراط وجود الشھوۃ فی الانزال فیہ نظر ۱؎ الخ وکتبت علیہ مانصہ فان مجرد الانتشار لایستلزم الشھوۃ الا تری ان الانتشار ربما یحصل باجتماع البول حتی للطفل وانہ یبقی مدۃ صالحۃ بعد الانزال مع عدم الشھوۃ۔
اقول:یہ وہ ہے جو بعض حضرات نے استبرا ء میں مقرر کیا ہے (استبرا، پیشاب کے بعد بعـض طریقوں سے اس بات کا اطمینان حاصل کرنا کہ اب قطرہ نہ آئے گا ۱۲ م)اور بعض نے کہا چالیس سال کی عمر کے بعد ہر سال ایک قدم کا اضافہ کرے۔ یہ خیال جیسا کہ پیشِ نظر ہے ایک اچھی بنیادسے پیدا ہوا ہے لیکن منی زیادہ ثقیل اور زائل ہونے میں زیادہ سریع ہوتی ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے خود مبتلا کی رائے کے سپرد کیا جائے جیسا کہ اس طرح کے مقام میں ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہی دستور ہے، یعنی اسے خود اطمینان ہو جائے کہ شہوت سے جدا ہونے والی منی کا مادہ ختم ہوگیا اور اگرکچھ بقیہ ہوتا تو نکل آتا۔ یہ کیوں نہ رکھا جائے جب کہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں اور استبرا میں بھی علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ حلیہ وغیرہامیں ہے ۔ پیشاب کے بعد منی نکلنے کے مسئلہ میں عامہ کتب نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس وقت ذکر منتشر نہ ہو ورنہ غسل واجب ہوگا۔اسے محقق علی الا طلاق نے فتح القدیر میں ظہیریہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا: یہ محلِ نظر ہے اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ انزال میں شہوت کا موجود ہونا شرط ہے الخ۔ اس کے حاشیہ پر ، میں نے یہ لکھا: کیوں کہ صرف انتشار ، شہوت کو مستلزم نہیں۔ انتشار تو بار ہا پیشاب اکٹھا ہونے سے بھی ہوجاتاہے  یہاں تک کہ بچے کو بھی۔ اور انزال کے بعد بھی خاصی دیر تک باقی رہ جاتا ہے باوجودیکہ شہوت ختم ہو چکی۔
فـــ۱ :مسئلہ پیشاپ کے بعد مرد پر استبرا واجب ہے یعنی وہ افعال کرنا جس سے اطمینان ہوجائے کہ قطرات نکل چکے اب نہ آئیں گے مثلاً کھنکارنا یا ٹہلنا یا ران پر ران رکھ کر عضو کو دبانا وغیرہ ذلک اس میں ٹہہرنے کی مقدار بعض نے چالیس قدم رکھی بعض نے یہ کہ چالیس برس کی عمر تک اسی قدر اور زیادہ پر فی برس ایک قدم اور۔اور صحیح یہ کہ جہاں تک میں اطمینان حاصل ہو خواہ چالیس سے کم یا زائد۔ 

فـــ۲ :تطفل علی العلامۃ المقدسی و الشامی۔

فـــ۳ :مسئلہ وہ جو مسئلہ گزرا کہ پیشاب کے بعد منی اترے تو غسل نہیں اس میں یہ شرط ہے کہ اس وقت شہوت نہ ہو ورنہ یہ جدید انزال ہوگا۔
(۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۵۳)
اقول والجواب فـــ  ان المراد ھو الشھوۃ ووقع التعبیر باللازم مسامحۃ ۲؎ اھ ماکتبت۔ قال المحقق بخلاف ماروی عن محمد فی مستیقظ وجد ماء ولم یتذکر احتلاما ان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والا فیجب لانہ بناہ علی انہ المنی عن شھوۃ لکن ذھب عن خاطرہ ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں جواب یہ ہے کہ مراد شہوت ہی ہے اور تسا محاً لازم سے تعبیر ہوئی ہے اھ میرا حاشیہ ختم۔ آگے حضرت محقق لکھتے ہیں: بخلاف اس کے جو امام محمد سے مروی ہے کہ بیدار ہونے والا پانی دیکھے اور اسے احتلام یاد نہیں ، اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں، ورنہ واجب ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اس حکم کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ اسے منی شہوت سے نکلی مگر اسے خیال نہ رہا۔اھ۔
فــ:تطفل علی الفتح
(۲؎ حاشیہ امام احمد رضا علی فتح القدیر    کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل    قلمی فوٹو     ص۳

۳؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۵۳)
اقول لم یصل فــ الی فھمہ قاصر ذھنی فان محل الاستشھاد قولہ ان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب بناء علی ان المذی المرئی بعد التیقظ یحال علیہ کمافی الخانیۃ وعامۃ الکتب ولفظ الامام قاضی خان لانہ اذا کان منتشرا قبل النوم فما وجد من البلۃ بعد الانتباہ یکون من اثار ذلک الانتشار فلا یلزمہ الغسل الا ان یکون اکبر رأیہ انہ منی ۱؎ الخ
اقول:ان کے فہم تک میرے ذہن قاصر کی رسائی نہ ہو سکی،اس لئے کہ محلِ استشہاد یہ قول ہے کہ :'' اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں'' اس بنیاد پر کہ بیدار ہونے کے بعد دیکھی جانے والی مذی اسی کے حوالہ کی جائے گی۔ جیسا کہ خانیہ اور عامہ کتب میں ہے ۔امام قاضی خاں کے الفاظ یہ ہیں: اس لئے کہ جب سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بیدار ہونے کے بعد جو مذی پائی گئی اسی انتشار کے اثر سے ہوگی تو اس پر غسل واجب نہ ہوگا مگر یہ کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ منی ہے۔الخ۔
فــہ:تطفل اٰخر علیہ۔
(۱؎ فتاوی قاضی خاں    کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الاغتسال    نولکشور لکھنؤ        ۱ /۲۱ و ۲۲)
ومعلوم ان المذی لایکون من اثار انتشار بغیر شھوۃ فکما اطلق محمد الانتشار واراد الشھوۃ وتبعہ العامۃ علی ذلک فکذا فی قولھم ھنا وجواب المحقق لایمسہ فلیتامل۔قال المحقق ومحمل الاول (ای مامر عن الظہیریۃ) انہ وجد الشھوۃ یدل علیہ تعلیلہ فی التجنیس بقولہ لان فی الوجہ الاول یعنی حالۃ الانتشار وجد الخروج والانفضال علی وجہ الدفق والشھوۃ ۱؎ اھ وتبعہ فی البحر قال الشامی بعد عزوہ للبحر عبارۃ المحیط کما فی الحلیۃ رجل بال فخرج من ذکرہ منی ان کان منتشرا فعلیہ الغسل لان ذلک دلالۃ خروجہ عن شھوۃ۲؎ اھ
اور معلوم ہے کہ مذی بغیر شہوت انتشار کے ا ثر سے نہیں ہوتی تو جس طرح امام محمد نے انتشار کہا اور شہوت مراد لی اور اس میں عامہ مصنفین نے ان کا اتباع کیا ویسے ہی ان حضرات کے قول میں یہاں ہے اور حضرت محقق کے جواب کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تو اس میں تامل کی ضرورت ہے۔ آگے حضرت محقق نے فرمایا: اول( وہ جو ظہیریہ کے حوالہ سے گزرا)کا مطلب یہ ہے کہ اس نے شہوت پائی ، اس کی دلیل یہ ہے کہ تجنیس میں اس کی تعلیل ان الفاظ میں پیش کی ہے : اس لئے کہ پہلی صورت۔ یعنی حالت انتشار۔ میں جست اور شہوت کے طور پر منی کا جدا ہونا اورنکلنا پایا گیا اھ۔ اور بحر میں اسی کا اتباع ہے۔ علامہ شامی نے بحر کا حوالہ پیش کرنے کے بعد لکھا: محیط کی عبارت، جیسا کہ حلیہ میں ہے، اس طرح ہے: ایک مرد نے پیشاب کیا پھر اس سے منی نکلی اگر ذکر منتشر تھا تو اس پر غسل ہے اس لئے کہ یہ منی کے شہوت سے نکلنے کی دلیل ہے اھ۔
(۱؎  فتح القدیر    کتاب الطہارات فصل فی الغسل        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۵۳

۲؎ردالمحتار        کتاب الطہارۃ            دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۰۸)
Flag Counter