| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول : ایش یفیدفـــ التاویل بعدما تظافرت النقول عن اجلۃ الفحول منھم صاحب الخلاصۃ نفسہ انہ اذا احتلم فاستیقظ فلم یجد شیئا ثم نزل المذی لایغتسل فان بالاغتسال قبل البول وان لم یعلم انقطاع مادۃ المنی الزائل بشھوۃ لکن عاین خروج المذی والتغیرفی الباطن لایکون فکیف یجب الغسل بالمذی بل لعل الامرھھنااستھل لانہ قدامنی مرۃ واغتسل وبقاء شیئ مما زال فی داخل البدن غیرلازم بل ولاغالب بل الغالب ان المنی اذا اندفق اندفع بخلاف مااذا احتلم ولم یخرج شیئ ثم نزل مایشبہ مذیافان کونہ ھوالذی زال بالاحتلام اظھرمن کون النازل مرۃ اخری بقیۃ المنی الزائل۔
اقول : تاویل کا کیا فائدہ جب کہ اجلّہ علماء سے بالاتفاق نقول وارد ہیں ، ان میں خود صاحبِ خلاصہ بھی ہیں،وہ یہ کہ جب احتلام ہو پھر بیدار ہوکرکچھ نہ پائے پھر مذی نکلے تو غسل نہیں۔اس لئے کہ پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرنے سے شہوت کے ساتھ جدا ہونے والی منی کے مادہ کا ختم ہونا اگرچہ معلوم نہ ہوالیکن جب اس نے آنکھ سے دیکھ لیا کہ مذی نکلی ہے اور تغیر اندر نہیں ہوتا،تو مذی سے غسل کیسے واجب ہوگا۔بلکہ معاملہ یہاں شاید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ ایک بار اس سے منی نکلی اور اس نے غسل کرلیااور جداہونے والی منی میں سے کچھ اندر رہ جانالازم نہیں،بلکہ غالب بھی نہیں،بلکہ عموماًیہ ہوتاہے کہ منی جست کرتی ہے تو مندفع ہوجاتی ہے بخلاف اس صورت کے جب اسے احتلام ہوا اور کچھ باہر نہ آیا پھروہ چیز نکلی جو مذی کے مشابہ ہے تو اس کا احتلام ہی سے جدا ہونے والی ہونا زیادہ ظاہر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسری بار نکلنے والی چیز، پہلی بار جدا ہونے والی منی کا بقیہ ہو۔
فـــ:تطفل علی الحلیۃ ۔
فان قلت الاحتلام قد یکون من اضغاث احلام فان النائم ربما یری مالا حقیقۃ لہ۔قلت نعم لاحقیقۃ لما رأی من الافعال لکن اثرھا علی الطبع کمثلہا فی الخارج ولذا لایتخلف الانزال عن الاحتلام الا نادرا الا تری ان ائمتنا جمیعا اعتبروا مجرد احتمال المذی بدون احتمال منی اصلا مو جبا للغسل عند تذکر الحلم فلو لا انہ من اقوی الادلۃ علی الامناء لم یعتبروا المنویۃ الکائنۃ من جہۃ المرای احتمالا علی احتمال ومع ذلک تصریحہم جمیعا بان لواحتلم فرأی فی الیقظۃ زوال مذی لاغسل علیہ ناطق بان ماینزل بمرأی العین لایکون الا مایری وقد وافقہم علیہ صاحب الخلاصۃ قائلا ولورأی فی منامہ مباشرۃ امرأۃ ولم یربللا علی فراشہ فمکث ساعۃ فخرج منہ مذی لایلزمہ الغسل ۱؎ اھ
اگریہ کہو کہ احتلام بعض اوقات بس ایک پر اگندہ خواب ہوتا ہے اس لئے کہ سونے والا کبھی وہ دیکھتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ میں کہوں گاہاں جو افعال اس نے دیکھے ان کی کوئی حقیقت نہیں لیکن طبیعت پر ان کا اثر ویسے ہی ہوتاہے جیسے ان افعال کا خارج میں ہوتاہے-یہی وجہ ہے کہ عموماً احتلام کے بعد انزال ضرور ہوتاہے،اس کے خلاف نادراًہی ہوتاہے۔یہی دیکھئے کہ ہمارے تمام ائمہ نے خواب یاد ہونے کے وقت محض احتمال مذی کو موجبِ غسل مانا ہے بغیر اس کے کہ وہاں منی کا کوئی احتمال ہو۔تو احتلام اگر منی نکلنے کی قوی تردلیل نہ ہوتا تو اس منویت کا اعتبارنہ کرتے جو شکل مرئی کے لحاظ سے احتمال دراحتمال ہے۔ اس کے باوجود تمام حضرات کی تصریح ہے کہ اگر احتلام کے بعد بیداری میں مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا تو اس پرغسل نہیں ، یہ تصریح ناطق ہے کہ آنکھ کے سامنے نکلنے والی تری وہی ہے جو دیکھنے میں آر ہی ہے۔ اس مسئلہ پر ان تمام حضرات کی موافقت صاحبِ خلاصہ نے بھی کی ہے اور کہا ہے کہ: ''اگرخواب میں اپنے کو کسی عورت سے مباشرت کرتے دیکھا اور بستر پر کوئی تری نہ پائی پھر تھوڑی دیر رُکنے کے بعد اس سے مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں اھ۔"
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/۱۳)
والعبد الفقیر راجع الخانیۃ والبزازیۃ والفتح والبحر وشرح النقایۃ للقھستانی والبرجندی والمنیۃ والغنیۃ والھندیۃ وشرح الوقایۃ والسراجیۃ والغیاثیۃ وتبیین الحقائق ومجمع الانھر وشرح مسکین وابا السعود ومراقی الفلاح و ردالمحتار وغیرھا من الاسفار فوجدتھم جمیعا انما ذکروا فی المسألۃ خروج المنی وکذا رأیتہ منقولا عن الاجناس والمحیط والذخیرۃ والمصفی والمجتبی والنھر وغیرھا ولم ار احدا ذکر المذی الاما فی خزانۃ المفتین فانہ ذکر اولا خروج بقیۃ المنی ثم قال ولو اغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا ۲؎ ۔
اور فقیر نے (ا)خانیہ (۲) بزازیہ (۳) فتح القدیر (۴) البحر الرائق (۵) شرح نقایہ ازقہستانی اور(۶) برجندی (۷) منیہ (۸) غنیہ (۹)ہندیہ (۱۰) شرح وقایہ (۱۱) سراجیہ (۱۲) غیاثیہ (۱۳) تبیین الحقائق (۱۴) مجمع الانہر (۱۵) شرح مسکین (۱۶) ابو السعود (۱۷) مراقی الفلاح (۱۸) رد المحتار وغیرہا کتابوں کی مراجعت کی تو دیکھا کہ سب نے مذکورہ مسئلہ میں منی کا نکلنا ذکر کیا ہے(یعنی یہ کہ اگر پیشاب سے پہلے غسل کرلیا پھر منی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا برخلاف خلاصہ کے کہ اس میں یہاں مذی نکلنا مذکر(مذکور)ہے ۱۲ م ) اسی طرح اس کو(۱۹) اجناس (۲۰) محیط (۲۱) ذخیرہ (۲۲) مصفی(۲۳) مجتبی(۲۴) النہر الفائق وغیرہا سے منقول پایا- اور کسی کو نہ دیکھا کہ یہاں مذی کا ذکر کیا ہو مگر وہ جو خزانۃ المفتین میں ہے کہ اس میں پہلے بقیہ منی کا نکلنا ذکر کیا، پھر کہا:''اور اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا، پھر اس سے مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔''
(۲؎ خزانۃ المفتین فصل فی الغسل (قلمی فوٹو کاپی) ۱ /۵)
ثم ذکر مسائل و رمز فی اخرھا (طح) ای شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی فھذا ھو سلف الخلاصۃ فی ما اعلم ثم رأیت فی جواھر الاخلاطی ما نصہ بال بعد الجماع فاغتسل وصلی الوقتیۃ ثم خرج بقیۃ المنی لاغسل علیہ بخلاف ما لولم یبل قبل الاغتسال علیہ الغسل عندھما وکذا بخروج المذی ۱؎ اھ۔
اس کے بعد کچھ اور مسائل ذکر کئے اور ان کے آخر میں(طح) یعنی امام اسبیجابی کی شرح طحاوی کا رمز دے دیا تو میرے علم میں صاحبِ خلاصہ کے پیش رو یہی ہیں۔ پھر میں نے جواہرالاخلاطی میں یہ عبارت دیکھی:جماع کے بعد پیشاب کیا پھر غسل کیا اور اس وقت کی نماز ادا کرلی پھر بقیہ منی نکلی تو اس پر غسل نہیں،اس کے بر خلاف اگر غسل سے پہلے پیشاب نہیں کیا تھا تو طرفین کے نزدیک اس پر غسل واجب ہے۔ اور اسی طرح مذی نکلنے سے بھی۔اھ۔
(۱؎ جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل (قلمی فوٹو کاپی) ص۷)
ولیس ھو فی الاعتماد کھؤلاء الاربعۃ اعنی الاسبیجابی و البخاری والسمعانی والحلبی رحمہم اللّٰہ تعالٰی فلایزیدون بہ قوۃ وھم ناصون فی مسألۃ المحتلم الذی عاین خروج المذی بعدم الغسل وفاقا لسائر الکبراء فقد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ فی الحلیۃ وخزانۃ المفتین واقراہ، ومعلوم قطعا ان لاوجہ لہ الا ان المذی اذا خرج عیانا لایجعل قط الا مذیا کما نص علیہ الامام الاجل مفتی الثقلین والامام ابن ابی المفاخر الکرمانی والامام الفخر الزیلعی وغیرھم رحمہم اللّٰہ تعالٰی فقولھم فی الوفاق احب الی من قولھم فی الخلاف وجادۃ واضحۃ سلکوھا مع الجمیع احق بالقبول مما تفردوا بہ ولایعرف لہ وجہ الا القیاس علی المحتلم یستیقظ فیجد مذیا حیث یجب الغسل عند ائمتنا وقد علمت من کلام الامام مفتی الجن والانس انہ قیاس لایروج ھذا ماظھر للعبد الضعیف ومع ذلک ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ واللّٰہ تعالی اعلم۔
اور اعتماد میں ان کا وہ مقام نہیں جو ان چار حضرات یعنی اسبیجابی صاحب شرح طحاوی، طاہر بن احمد بخاری صاحب خلاصۃ الفتاوی، حسین بن محمد سمعانی صاحبِ خزانۃالمفتین، اور محقق حلبی صاحبِ حلیہ رحمہم اللہ تعالٰی کا ہے۔ تواخلاطی کی عبارت سے ان کی قوت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔اور یہ حضرات بموافق دیگر اکابر،خروج مذی کا مشاہدہ کرنے والے محتلم کے مسئلہ میں عدم غسل کی تصریح کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے خلاصہ کی عبارت جو پہلے پیش کی اسے صاحبِ حلیہ وصاحبِ خزانۃ المفتین نے بھی نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے اور قطعاً معلوم ہے کہ اس کی سوا اس کے کوئی وجہ نہیں کہ مذی جب سامنے نکلے تو مذی ہی قرار دی جائے گی جیسا کہ امام اجل مفتی ثقلین، امام ابن ابی المفاخر کرمانی، امام فخرالدین زیلعی وغیرہم رحمہم اللہ تعالٰی نے اس کی تصریح فرمائی ہے تو میرے نزدیک موافقت میں ان حضرات کا کلام ان کے مخالفت والے کلام سے زیادہ پسندیدہ ہے۔اور صاف واضح راہ جس پر وہ سب کے ساتھ چلے ہیں اس سے زیادہ قابل قبول ہے جس میں وہ متفرد ہیں۔اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے کہ اس محتلم پر قیاس کیا ہو جو بیدار ہو کر مذی پائے کہ ہمارے ائمہ کے نزدیک اس پر غسل واجب ہوتاہے۔اور امام مفتی جن وانس کے کلام سے واضح ہوچکا ہے کہ یہ قیاس چلنے والا نہیں۔ یہ وہ ہے جو بندہ ضعیف پر منکشف ہوا، اس کے بعد اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔
فائدہ: اقول : یتراأی لی ان الحل مامر عن الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی لایجب الغسل عندھم جمیعا علی ھذہ المسألۃ المتظافرۃ علیھا کلمات العلماء من دون خلاف اعنی المحتلم یستیقظ فیخرج المذی بمرأی منہ والدلیل علیہ ماقدمنا تحقیقہ ان التیقن لاسبیل الیہ لمن خرجت البلۃ وھو نائم انما ھو لمن تیقظ فخرجت بمرأی عینہ وحینئذ ھی مسألۃ صحیحۃ لاغبار علیھا وللّٰہ الحمد۔
فائدہ: اقول : وہ مسئلہ جو حلیہ کے حوالہ سے بواسطہ مصفی مختلفات سے نقل ہوا کہ جب احتلام کا یقین ہو اور تری کے مذی ہونے کا یقین ہو تو اس پر ان سبھی ائمہ کے نزدیک غسل واجب نہیں، اس سے متعلق مجھے خیال ہوتا ہے کہ اسے اسی مسئلہ پر محمول کروں جس پر کلماتِ علماء بغیر کسی اختلاف کے باہم متفق ہیں یعنی وہ محتلم جو بیدار ہو پھر اس کے سامنے مذی نکلے، اور اس پر دلیل ہماری سابقہ تحقیق ہے کہ سوتے میں جس سے تری نکلی اس کے لئے یقین کی کوئی راہ نہیں ، یہ تو اس کے لئے ہے جو بیدار ہوا پھر اس کی آنکھ کے سامنے تری نکلی۔اس صورت میں یہ مسئلہ صحیح بے غبار ہے۔وللہ الحمد۔