وبالجملۃ فــ۲اطلاق المتون والشروح وقدوتھم محمد فی المبسوط کماقدمناعن الخانیۃ عن الاصل وتصریح فــ۳ امثال الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ وغیرھم وعمدتھم محمد فی النوادر لایترکان للبحث مجالا والحمدللّٰہ سبحنہ وتعالٰی۔
مختصر یہ کہ ایک تو متون اور شروح میں اطلاق ہے اور ان کے پیشوا امام محمد ہیں جنہوں نے مبسوط میں سب سے پہلے ذکر کیا جیسا کہ ہم نے خانیہ سے بحوالہ مبسوط نقل کیا۔ دوسرے اصحاب خانیہ ،محیط، ذخیرہ وغیرہم کی تصریحات ہیں اور ان کے معتمد امام محمد ہیں جنہوں نے نوادرمیں ذکر کیا۔ ان دونوں کے پیشِ نظر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ والحمدللہ سبحانہ وتعالٰی۔
فــ۲:تطفل ثالث علیہ ۔
فـــ۳:تطفل رابع علیہ ۔
وفوق فـــ۱ کل ذلک اطلاق ماروینا من الحدیث فلا اتجاہ للبحث روایۃ ولا درایۃ واللّٰہ سبحنہ ولی الھدایۃ۔
اور ان سب سے بڑھ کر اس حدیث کا اطلاق ہے جو ہم نے روایت کی ۔ تو روایت، درایت کسی طرح بھی بحث کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ اور خدا ئے پاک ہی والیِ ہدایت ہے۔
فـــ۱:تطفل خامس علیہ ۔
فائدہ ، اقول : وظھرلک مماقدمناان ذکرھم الامساک فیمالواحتلم اونظربشھوۃ فامسک ذکرہ حتی سکن ثم ارسل فانزل وجب الغسل عندھماخلافا للثانی غیرقید فان فــ۲ من الناس من یمسک المنی بمجرد التنفس صعداء عدۃ مرار وقدیبلغ ضعف الدفق فی بعضھم الی حدانہ اذااحس بالانفصال فصرف خاطرہ عن الالتذاذوشغل بالہ بشیئ اخر وقعدان کان مستلقیااوتضور فی فراشہ او رش علی صلبہ ماء باردایقف المنی عن الخروج ثم اذا مشی اوبال ینزل وھو فاترفیجب الغسل فی ھذہ الصور ایضاعندھما لتحقق المناط وھو خروج منی زال عن مکانہ بشھوۃ فاحفظہ فقد کانت حادثۃ الفتوی۔
فائدہ، اقول : اگر احتلام ہوایا شہوت سے نظر کی پھر ذکر تھام لیا یہاں تک کہ منی ٹھہر گئی پھر چھوڑ دیاتو انزال ہوا،طرفین کے نزدیک غسل واجب ہو گیا بخلاف امام ثانی کے۔ہمارے بیان سابق سے واضح ہے کہ اس جزئیہ میں ذکرتھامنے کا جو ذکر ہے وہ قید وشرط نہیں (بلکہ کسی طرح بھی کچھ دیر کے لئے منی کا روک لینا مقصود ہے) اس لئے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو چند بارصرف سانس اوپر کھینچ کر منی روک لیتے ہیں، اور کسی میں ضعف جست اس حد کو پہنچ جاتاہے کہ جب منی کے اپنی جگہ سے جدا ہونے کا احساس کرتا ہے لذت سے اپنی خاطر پھیر کر کسی اور چیز میں دل کو مشغول کرلیتاہے یا اگر لیٹا ہو تو بیٹھ جاتاہے یا بستر پر کروٹ بدل دیتاہے یا پشت پر ٹھنڈے پانی کا چھینٹا مارتاہے منی رک جاتی ہے پھر جب چلتایا پیشاب کرتا ہے تو منی اس وقت نکلتی ہے جب اس میں کسل وفتورآگیااور شہوت ختم ہوچکی توطرفین کے نزدیک ان صورتوں میں بھی غسل واجب ہوتاہے اس لئے کہ مدارو مناط متحقق ہے وہ یہ کہ منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ ہٹی ہے۔تو یہ ذہن نشین رہے، ایک بار خاص اسی معاملہ میں مجھ سے استفتاء ہوچکا ہے۔
فــ۲:مسئلہ منی کواپنے محل یعنی مرد کی پشت ،عورت کے سینہ سے جدا ہوتے وقت شہوت چاہئے پھر اگرچہ بلا شہوت نکلے غسل واجب ہوجائے گا مثلا احتلام ہوا یا نظر یافکر یاکسی اور طریق سوائے ادخال سے منی بشہوت اتری اس نے عضو کو تھام لیا نہ نکلنے دی یہاں تک کہ شہوت جاتی رہی یا بعض لوگ سانس اوپر چڑھا کر اترتی ہوئی منی کو روک لیتے ہیں یابعض میں ضعف شہوت کے سبب منی خیال بدلنے یاکروٹ لینے یا اٹھ بیٹھنے یاپشت پر پانی کاچھینٹا دے لینے سے رک جاتی ہے غرض کسی طرح شہوت کے وقت اترتی ہوئی منی کو روک لیا یاخود رک گئی پھر جب شہوت جاتی رہی نکلی تو امام اعظم وامام محمد کے نزدیک غسل واجب ہوجائے گا کہ اترتے وقت شہوت تھی اگرچہ نکلتے وقت نہ تھی اورامام ابویوسف کے نزدیک نہ ہوگا کہ ان کے نزدیک نکلتے وقت بھی شہوت شرط ہے ہاں جب تک نکلے گی نہیں غسل بالاتفاق واجب نہ ہوگا کہ نکلنا ضرور شرط ہے ۔
الثا من : اکتساء المنی صورۃ المذی لرقۃ تعرضہ احالہا فی شرح الوقایۃ علی حرارۃ البدن وفی الدرر والذخیرۃ علی الھواء و عبرفی البدائع و الخلاصۃ والبزازیۃ والجواھربمرور الزمان وھو یشملھماوجمعھما ابن کمال فی الایضاح واشارالی الاعتراض علی صدر الشریعۃ انہ قصر بالاقتصار۔
آٹھویں تنبیہ:منی کا کسی عارض ہونے والی رقت کی وجہ سے مذی کی صورت اختیار کرلینا،اسے شرح وقایہ میں حرارت بدن کے حوالہ کیا، درمختار اور ذخیرہ میں ہوا کو سبب بنایا۔ بدائع، خلاصہ، بزازیہ اور جواہر میں مرورِزمان سے تعبیرکیا۔اور یہ حرارت وہوا دونوں کو شامل ہے۔ اور علامہ ابن کمال نے ایضاح میں دونوں کو جمع کیا، اور صدر الشریعہ پر اقتصار کے سبب اعتراض کا اشارہ کیا۔
اقول فــ ومثل ذالک لایعد اعتراضافانما یکون المراد افادۃ تصویر لاالحصر وان کان فعلی العلامۃ فــ المعترض مثلہ اذفی الفتح عن التجنیس رق بالھواء والغذاء۱؎
اقول اس طرح کی بات اعتراض کے شمار میں نہیں اس لئے کہ اس سے بس صورت مسئلہ کا افادہ مقصود ہو تا ہے حصر مراد نہیں ہوتا۔اور اگر یہ اعتراض ہے تو علامہ معترض پر بھی ویسے ہی اعتراض پڑے گا اس لئے فتح القدیر میں تجنیس کے حوالہ سے ہے: منی ہوا اور غذا سے رقیق ہوگئی۔
فــ:تطفل علی العلامۃ ابن کمال۔
فــ: تطفل آخر علیہ۔
(۱؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۴)
وجمع الکل فی الغنیۃ فقال بسبب بعض الاغذیۃ ونحوھاممایوجب غلبۃ الرطوبۃ و رقۃ الاخلاط والفضلات وبسبب فعل الحرارۃ والھواء۲؎ اھ
اور غنیہ میں سب کو جمع کر کے کہا: بعض غذاؤں اور ان جیسی چیزوں کے سبب جو رطوبت کے غلبہ اور اخلاط وفضلات کی رقت کا باعث ہوتی ہیں اور عمل حرارت وہوا کے سبب اھ۔
اور حلیہ ومراقی الفلاح کی عبارت کیا ہی خوب ہے: قدیرق لعارض اھ کسی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اھ۔
(۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃالطحطاوی کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ص۹۹)
اقول:ولا یھمناتنوع عباراتھم ھنالولا ان عدھم الغذاء وقدیوھم جوازان یخرج المنی متغیرامن الباطن وحینئذ ینشؤ منہ سؤال علی مسألۃ وھو ما اذا استیقظ ذاکرحلم ولم یربللا ثم خرج مذی فقدقدمناعن الذخیرۃ والغنیۃ والھندیۃ وغیرھاان لا غسل ومثلہ فی الخلاصۃ وخزانۃ المفتین والبرجندی والحلیۃ وفی الغیاثیۃ عن غریب الروایۃ وعن فتاوی الناصری برمز(ن)وفی القنیۃ عن فتاوی ابی الفضل الکرمانی وفی غیرماکتاب وعلی ھذایجب الایجاب لان الاحتلام اقوی دلیل علی المنویۃ وصورۃ المذی لاتنفک اذن عن احتمال المنویۃ وان خرج بمراٰہ ولم یعمل فیہ حربدن وھواء لاحتمال التغیر فی الباطن بغذاء
اقول: ہمیں یہاں ان کی عبارتوں کے تنوع کی فکر نہ ہوتی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان حضرات کے غذا کو سبب شمار کرنے کی وجہ سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ منی اندر سے ہی متغیر(اور رقیق) ہو کر نکلی ہو ۔اور اس تقدیر پر اس سے ایک مسئلہ پر سوال پیدا ہوگا وہ یہ کہ خواب یاد رکھتے ہوئے جب بیدار ہوا اور تری نہ پائی پھر مذی نکلی تو ذخیرہ ، غنیہ ، ہندیہ وغیرہا کے حوالہ سے گزرا کہ اس پرغسل نہیں۔اور اسی کے مثل خلاصہ، خزانۃ المفتین، بر جندی، حلیہ میں بھی ہے۔اور غیاثیہ میں غریب الروایہ سے اور فتاوٰی ناصری سے برمز (ن) منقول ہے اور قنیہ میں فتاوٰی ابو الفضل کرمانی سے نقل ہے اور متعدد کتابوں میں ہے۔اور اس تقدیر پر غسل واجب کرنا ضروری ہے اس لئے کہ احتلام منی ہونے کی قوی تر دلیل ہے اور مذی کی صورت پر تقدیر مذکور احتمال منویت سے جدا نہ ہوگی اگرچہ اس کی آنکھ کے سامنے نکلی ہو اور اس میں بدن کی حرارت اور ہوا اثر انداز نہ ہوئی ہو اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ غذا کی وجہ سے اندر ہی متغیر ہوئی ہو۔
لکن نص الامام الجلیل مفتی الجن والانس نجم الدین النسفی قدس سرہ ان التغیر لایکون فی الباطن کما قدمنا عن جواھر الفتاوی عن ذلک الامام من التفرقۃ بین ھذا وبین من استیقظ فوجد بلۃ حیث یجب الغسل لاحتمال کونہ منیارق بمرور الزمان اما ھھنا فقد عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل والتفرقۃ بینہ وبین ما اذامکث فخرج منی ان الغسل انماوجب بالمنی وھھنا زال المذی وھویراہ فلم یلزم لانہ مذی وصریح النص مانقل عنہ الامام الزیلعی فی التبیین حیث ذکر جوابہ فی المسألۃ انہ لایلزمہ شیئ قال فقیل لہ ذکر فی حیرۃ الفقہاء فیمن احتلم ولم یربللا فتوضأ وصلی ثم نزل منی انہ یجب علیہ الغسل فقال یجب بالمنی بخلاف المذی اذارأہ یخرج لانہ مذی ولیس فیہ احتمال انہ کان منیا فتغیر لان التغیر لایکون فی الباطن ۱؎ اھ ومثلہ فی الحلیۃ عن مجموع النوازل عن الامام نجم الدین وزادامافی الظاھر فقد یکون ۲؎ اھ
لیکن امام جلیل مفتی جن وانس نجم الدین نسفی قدس سرہ نے تصریح فرمائی ہے کہ تغیر باطن میں نہیں ہوتا۔جیسا کہ ان سے ہم نے بحوالہ جواہر الفتاوٰی فرق نقل کیاہے اس میں اور اُس میں جو بیدار ہو کر تری پائے کہ اس پر غسل واجب ہوتا ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے وہ منی رہی ہوجو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ لیکن یہاں تو اس نے مذی نکلتے آنکھ سے دیکھی ہے تو وضو واجب ہوا غسل نہ ہوا۔ اور ان سے فرق نقل کیا۔ اس میں اور اُس صورت میں جب وہ کچھ دیر ٹھہر چکا ہو پھر منی نکلی ہو کہ غسل منی ہی سے واجب ہوا اور یہاں اس کے سامنے مذی نکلی ہے تو غسل لازم نہ ہواکیونکہ یہ مذی ہے۔اور صریح نص وہ ہے جو ان سے امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں نقل کیاہے۔اس طرح کہ صورتِ مسئلہ میں ان کا یہ جواب ذکر کیاکہ اس پرکچھ لازم نہیں۔اس پر ان سے کہا گیا کہ حیرۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ جسے احتلام ہوا اور تری نہ پائی۔ وضو کر کے نماز ادا کرلی۔اس کے بعد منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے۔تو فرمایا منی کی وجہ سے واجب ہے بر خلاف مذی کے،جب کہ مذی کو نکلتے دیکھا ہو اس لئے کہ وہ مذی ہے اور اس میں یہ احتمال نہیں کہ منی رہی ہو پھر متغیر ہو گئی ہو اس لئے کہ تغیر باطن میں(اندر) نہیں ہوتااھ۔اسی کے مثل حلیہ میں مجموع النوازل کے حوالہ سے امام نجم الدین سے منقول ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے: لیکن ظاہر میں تغیر ہوتا ہے اھ۔
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/۶۸
۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول فعلی ھذا یجب ان یراد بکلام التجنیس ومن تبعہ ان الغذاء ونحوہ یعد المنی لسرعۃ التغیرفی الخارج بعمل حرارۃ تصلہ فیہ من بدن اوھواء وبھذایخرج جواب عمااوردنا علی العلامۃ ابن کمال من وجود قصور فی کلامہ ایضالکن وقع فی الخلاصۃ مانصہ وعلی ھذا لواغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا وعند ابی یوسف لایغتسل ۱؎ اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ یرید خرج منہ ماھو علی صورۃ المذی کما صرح بہ ھو وغیرہ وقدمناہ فکن منہ علی ذکر ۲؎ اھ۔
اقول تو اس بنیاد پر ضروری ہے کہ صاحب تجنیس اور ان کے متبعین کے کلام سے مراد یہ ہو کہ غذا اور اس جیسی چیز منی کو اس قابل بنادیتی ہے کہ خارج میں وہ اس حرارت کے عمل سے جو بدن یا ہواسے پہنچے جلد متغیر ہوجائے ۔ اسی سے اس کا بھی جواب نکل آئے گا جو ہم نے علامہ ابن کمال پر اعتراض کیا کہ ان کی عبارت میں بھی قصورو کمی موجود ہے۔لیکن خلاصہ میں یہ عبارت آئی ہے۔ اور اسی بنیاد پر اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک غسل نہ کرے گا اھ۔ حلیہ میں اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھا:اس سے مرادوہ ہے جو مذی کی صورت پرنکلے جیسا کہ اس کی تصریح صاحبِ خلاصہ اوردوسرے حـضرات نے کی ہے اور پہلے ہم اسے پیش کر چکے ہیں۔ تو وہ یاد رہے اھ۔
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۲
۲؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )