Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
24 - 135
السابع  :  عامۃ المتون والشروح علی تصویرالمسألۃ بالرؤیۃفـــ۲مطلقا من دون ذکر المرئی علیہ
ساتویں تنبیہ:عامہ متون وشروح نے صورتِ مسئلہ کے بیان میں تری دیکھنا مطلقاً ذکر کیا ہے کس چیز پر تری دیکھی اس کا ذکر نہ کیا۔
فـــ۲:مسئلہ :صورمذکورہ میں یکساں ہے خواہ تری کپڑے یاران پردیکھے یاسرذکرمیں ۔
ومنھم من صورھا بالرؤیۃ علی فراشہ ومنھم من قال ثوبہ ومنھم من زاد اوفخذہ ومنھم من صور بالوجدان فی احلیلہ کما تعلم بالرجوع الی ماسردنا من النصوص وھذا الاخیر فی الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ والمنیۃ وغیرھا بل ھو لفظ محرر المذھب محمد رحمہ اللّٰہ تعالی کما فی الھندیۃ۱؎ عن المحیط عن ابی علی النسفی عن نوادر ھشام عن محمد،
اور بعض نے بستر پر دیکھنے کا ذکر کیا، بعض نے کپڑے پر'' کہا، بعض نے '' یا ران پر'' کا اضافہ کیا۔ اور کسی نے ذکر کی نالی میں پانے کا تذکرہ کیا جیسا کہ ہمارے بیان کردہ نصوص کو دیکھنے سے معلوم ہوگا۔اور مذکورہ آخری صورت خانیہ، محیط، ذخیرہ، منیہ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ محررمذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے الفاظ ہیں جیسا کہ ہندیہ میں محیط سے اس میں ابو علی نسفی سے، نوادر ہشام کے حوالے سے امام محمد سے منقول ہے۔
(۱؎ الفتاوی الہندیہ     کتاب الطہارۃ الباب الثانی فی الغسل الفصل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۱۵)
ولفظ الخانیۃ وجد علی طرف احلیلہ بلۃ ۲؎ الخ ولم ارمن رفع لھذا رأسا واستطرق بہ الی خلاف معنوی غیران العلامۃ المدقق الحلبی رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال فی الغنیۃ بقی شیئ وھو ان المنی اذا خرج عن شھوۃ سواء کان فی نوم اویقظۃ فانہ لابد من دفقہ وتجاوزہ عن رأس الذکر ایضا فکون البلل لیس الا فی رأس الذکر دلیل ظاھر انہ لیس بمنی سیماوالنوم محل الانتشار بسبب ھضم الغذاء وانبعاث الریح فایجاب الغسل فی الصورۃ المذکو رۃ مشکل بخلاف وجود البلل علی الفخذ ونحوہ لان الغالب انہ منی خرج بدفق وان لم یشعربہ ماقررناہ ۱؎ اھ
خانیہ کے الفاظ یہ ہیں:'' ذکر کی نالی کے سرے پرتری پائی ''الخ۔ اور میں نے کسی کو نہ دیکھاکہ اس طرف توجہ کی ہو اوراسے کسی معنوی اختلاف پر محمول کیا ہوسوا اس کے کہ علامہ مدقق حلبی رحمہ اللہ تعالے ٰ نے غنیہ میں لکھا : "ایک چیز باقی رہ گئی، وہ یہ کہ منی جب شہوت سے نکلے خواہ وہ نیند میں یا بیداری میں تو اس کا جست کرنااور سرذکر سے تجاوزکرجانا ضروری ہے۔ تو تری کا صرف سر ذکر کے اندر ہوناکھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ منی نہیں ۔اور نیند غذا کے ہضم اور ہواکے اٹھنے کی وجہ سے انتشارِآلہ کامحل ہے۔ تو مذکورہ صورت میں غسل واجب کرنامشکل ہے بخلاف اس صورت کے جب ران وغیرہ پرتری موجود ہو اس لئے کہ اس وقت غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو جست کے ساتھ نکلی ہے اگرچہ اس کا پتا نہ چلا جیسا کہ ہم نے تقریرکی "اھ۔
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان     کتاب الطہارۃ فصل فیمایجب الغسل     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۱

۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     مطلب فی الطہارۃ الکبری     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۳)
ورأیتنی کتبت علی قولہ لابد من دفقہ الخ مانصہ اقول سبحن فـــ۱اللّٰہ کیف یقال لابد مع اطباقھم ان عند الطرفین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما یجب الغسل اذا انفصل المنی عن الصلب بشھوۃ ثم خرج بعدالسکون وکماذکروا من صورہ امساک الذکر کذالک ذکرما اذا انزل فـــ۲ واغتسل قبل ان یبول ویمشی کثیرا ثم بال فخرج منی یعید الغسل عندھما۱؎ فھو منی قد زال بدفق وبقی داخل البدن حتی خرج برفق فان جازھذا فلم لایجوز ان یاتی الی الاحلیل ولا یتجاوز،
میں نے ان کی عبارت ''اس کا جست کرنا ضروری الخ''پر اپنا لکھا ہوا یہ حاشیہ دیکھا: اقول سبحان اللہ ''یہ ضروری ہے'' کیسے کہا جا رہا ہے جب کہ مصنفین کا اتفاق ہے کہ طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک غسل واجب ہے جب منی شہوت کے ساتھ پشت سے جدا ہو پھر سکون کے بعد باہر آئے۔ اور جیسا کہ ان حضرات نے ذکر کیا اس کی ایک صورت ذکر تھام لینابھی ہے۔ اسی طرح ان حضرات نے یہ بھی ذکر کیاہے کہ جب انزال ہواور پیشاب کرنے یا زیادہ چلنے سے پہلے غسل کرلے پھر پیشاب کرے تو کچھ منی باہر آئے ایسی صورت میں طرفین کے نزدیک اسے دوبارہ غسل کرنا ہے کیونکہ وہ ایسی منی ہے جو جست کے ساتھ اپنی جگہ سے ہٹی او ربدن کے اندر رہ گئی یہاں تک کہ آہستگی سے باہر آئی۔تو اگریہ ہو سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ احلیل (ذکر کی نالی) تک آئے اور تجاوز نہ کرے۔
فـــ۱:تطفل جلیل علی الغنیۃ ۔
فـــ۲:مسئلہ انزال ہوااور نہا لیا اس کے بعد پھر منی نکلی دوبارہ نہانا واجب ہوگا اگرچہ اس بار بے شہوت نکلی ہو مگر یہ کہ پیشاب کر چکا ہو یا سو لیا یا زیادہ چل لیا اس کے بعد منی بے شہوت نکلی تو غسل کا اعادہ نہیں ۔
 (۱؎حواشی امام احمد رضاعلی غنیۃ المستملی     فصل فی الطہارۃ الکبری     قلمی فوٹو     ص۱۳۴)
وان نوزع فی ھذا بان الدفق انما یستلزم خروج بعضہ لاکلہ فمع مطالبۃ الدلیل علی الفرق ماذا یصنع بفرع فتح القدیراحتلم
اگر اس میں نزاع کیا جائے کہ جست کرنا صرف اسے مستلزم ہے کہ کچھ باہر آجائے نہ اسے کہ کل باہر آئے تو اوّلا دونوں میں تفریق پردلیل کا مطالبہ ہوگا پھر فتح القدیر کے اس جزئیہ سے معارضہ ہوگا کہ '' نماز میں خواب دیکھا اورانزال نہ ہوا  یہاں تک کہ نماز پوری کرلی پھرانزال ہوا تو اس کے ذمہ نماز کا اعادہ نہیں اور غسل ہے اھ''۔مان لیجئے اس کی یہ توجیہ کردی جائے کہ حرکت ایک تدریجی عمل ہے جس کی صورت یہ ہو کہ قعدہ اخیرہ میں تھا اس وقت احتلام ہوا او رمنی جست کر کے پشت سے چلی اور ذکر کی نالی میں آنے اور نکلنے تک اس نے سلام پھیر دیا اس لئے نماز کے اندر منی نکلنے سے بچ گیا۔ پھر اس جزئیہ کاکیا جو اب ہوگا جو ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے: رات کو احتلام ہوا پھر صبح بیدار ہوا اور تری نہ پائی ، وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اھ(اور نماز ہوگئی)۔
فـــ مسئلہ :نمازمیں احتلام ہوااورمنی باہرنہ آئی کہ نمازتمام کرلی اس کے بعد اتری توغسل واجب ہوگامگرنمازہوگئی کہ اس وقت تک جنب نہ ہواتھا۔
 (۲؎ فتح القدیر،    کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۵۴)
فـــ ۱مسئلہ :رات کواحتلام ہواجاگاتوتری نہ پائی وضوکرکے نمازپڑھ لی اس کے بعد منی باہرآئی توغسل اب واجب ہوااور وہ نمازصحیح ہوگئی ۔
 (۱؎ الفتاوی الہندیہ    کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۵)
اطلق ولم یقید بالانتشارعندالخروج فما کان الغسل الا باندفاقہ فی النوم وبقاء کلہ داخل البدن الی ان تیقظ وتوضأ وصلی ام فـــ۲ماذا یصنع بفرعھا عنہا استیقظ وھو یتذکر احتلاما ولم یربللا ومکث ساعۃ فخرج مذی لایلزمہ الغسل ۲؎ اھ'' فافاد بمفھومہ ان لو خرج منی لزم فان لم یقنع بہ ففی الغنیۃ نفسہا رأی فی نومہ انہ یجامع فانتبہ ولم یربللا ثم بعد ساعۃ خرج منہ مذی لایجب الغسل وان خرج منی وجب ۱؎ اھ
اسے مطلق ذکر کیا اور یہ قید نہ لگائی کہ خروج منی کے وقت انتشارِ آلہ تھاتو غسل اسی وجہ سے ہواکہ نیند کی حالت میں منی نے جست کیا اور سب کی سب بدن کے اندر رہ گئی یہاں تک کہ بیدار ہوا، وضو کیا اور نماز پڑھی۔یااس جزئیہ کو کیا کریں گے جو ہندیہ میں اسی ذخیرہ سے نقل ہے: اس حالت میں بیدار ہوا کہ اسے احتلام یاد ہے اور کوئی تری نہ دیکھی، تھوڑی دیر رکا رہا پھر مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں۔ اس کے مفہوم سے مستفاد ہواکہ اگر منی نکلتی توغسل لازم ہوتا۔اگر اس پر قناعت نہ ہو تو خود غنیہ ہی میں ہے:خواب میں اپنے کو جماع کرتے دیکھا، بیدار ہوا تو کوئی تری نہ پائی پھر کچھ دیر بعد مذی نکلی تو اس پر غسل واجب نہیں اور اگر منی نکلے تو واجب ہے اھ۔
فــــ۲مسئلہ جاگااحتلام خوب یاد ہے مگرتری نہیں پھرمذی نکلی غسل نہ ہوگا۔
 (۲؎ الفتاوی الہندیہ    کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۵

۱؎غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری         سہیل اکیڈمی لاہور        ص۴۶)
فان اعتل بان النزول بدفق یستلزم الخروج والتجاوزعن الاحلیل ولوبعدحین فلاترد الفروع وھھنا اذلم یتجاوز رأس الذکر علم انہ لیس بمنی۔
اگر یہ علت پیش کریں کہ جست کے ساتھ اپنی جگہ سے اترنا نکلنے اور احلیل سے تجاوز کرنے کو مستلزم ہے اگرچہ کچھ دیر بعد سہی، تو ان جزئیات سے اعتراض نہ ہو سکے گا۔ اور یہاں جب سر ذکر سے تجاوز نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ منی نہیں ۔
قلت   : کان استنادہ الی الحرکۃ الدفقیۃ انھا توجب التجاوز لان مایندفق فھویندفع بقوۃ فلا یمنع الا قھراوقدابطلتہ الفروع وھذااعتلال بنفس الانفصال انہ اذاخلی مقرہ فلا بدلہ من الخروج ولو بعدحین وجوابہ ماقدمت ان الکثرۃ لاتلزم الامناء فقدلاینزل الاقطرۃ اوقطر تان کماعرف فی مسألۃ التقاء الختانین قال فی الھدایۃ قد یخفی علیہ لقلتہ ۱؎ اھ
قُلتُ(میں کہوں گا) پہلے ان کا استناد جست والی حرکت سے تھا کہ یہ تجاوز کو لازم کرتی ہے اس لئے کہ جو چیزجست کرے وہ بقوت دفع ہوگی تو اسے بغیر جبر وقسر کے روکانہ جاسکے گا۔یہ استناد تو ان جزئیات سے باطل ہوگیا۔اب یہ خود انفصال کو علت ٹھہرانا ہے کہ جب وہ اپنی جگہ چھوڑے گی تو اس کے لئے نکلناضروری ہے اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہو۔اس کا جواب وہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ منی نکلنے کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قطرہ دو قطرہ آتا ہے، جیسا کہ التقائے ختانین(مردوزن کے ختنہ کی جگہوں کے باہم ملنے ) کے مسئلہ میں معلوم ہوا) ہدایہ میں فرمایا: منی قلت کی وجہ سے اس پر مخفی رہ جاتی ہے اھ۔
 (۱؎ الہدایہ    کتاب الطہارات    فصل فی الغسل    المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱ /۱۴)
وفی الفتح خفاء خروجہ لقلتہ وتکسلہ فی المجری لضعف الدفق لعدم بلوغ الشھوۃ منتھاھا کمایجدہ المجامع فی اثناء الجماع من اللذۃ بمقاربۃ المزایلۃ ۲؎ اھ
فتح القدیر میں ہے : خروجِ منی کا مخفی رہ جانااس کے کم ہونے اور مجرا(گزر گاہ)میں سست ہو جانے کے باعث ہے،اس وجہ سے کہ جست کمزور تھی کیوں کہ شہوت اپنی انتہاء کو نہ پہنچی تھی جیسے جماع کرنے والا اثنائے جماع جدا ہونے کے قریب لذت پاتاہے اھ۔
 (۲؎فتح القدیر     کتاب الطہارات     فصل فی الغسل      مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۵۶)
وزاد فی الحلیۃ لقلتہ مع غلبۃ الحرارۃ المجففۃ لہ ۳؎ اھ
اور حلیہ میں اضافہ کے ساتھ کہا: کیوں کہ وہ کم ہوتی ہے ساتھ ہی اسے خشک کرنے والی حرارت غالب 

ہوتی ہے اھ۔
 (۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول فـــ۱ : والامر فی النائم اظھر فقد یتجاوز بعضہ الاحلیل وینشفہ بعض ثیابہ ولایحس بہ لقلتہ،
اقول:اورمعاملہ سونے والے کے بارے میں اور زیادہ واضح ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کچھ منی احلیل سے تجاوز کرکے کپڑے میں جذب ہوجاتی ہے اور قلیل ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتی ۔
فـــ۱:تطفل آخر علی الغنیۃ ۔
Flag Counter