| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
الرابع : لکلام الغنیۃ جنوح الی ارادۃ الحقیقۃ حیث یقول النوم حال ذھول وغفلۃ شدیدۃ یقع فیہ اشیاء فلا یشعربھا فتیقن کون البلل مذیالایکاد یمکن الا باعتبار صورتہ ورقتہ ۱؎ الخ۔
چوتھی تنبیہ: عبارت غنیہ میں ارادہ حقیقت کی جانب کچھ میلان ہے وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ یہ ہیں: نیند شدید غفلت وذہول کی حالت ہے۔اس میں ایسی چیزیں واقع ہوتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین نہ ہوپائے گا مگر اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے ، الخ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور، ص۴۳)
فلیس ملحظ ھذہ العبارۃ ماقررنا ان التیقن انما ھوبا لصورۃ مع التردد فی کونہ منیا اومذیا حقیقۃ بل جعلہ واثقابانہ مذی ونبہ علی خطأہ فی وثوقہ فکانہ رحمہ اللّٰہ تعالی یقول ھذا الذی یزعم انہ تیقن بالمذی یقینہ مدخول فیہ ای ظن ظنہ یقینا و لیس بہ ، اذا لیس منشأہ الا الاعتماد علی مایری من الصورۃ والرقۃ وھواعتماد من غیرعمدۃ وقد یشیرالیہ کلام الحلیۃ ایضافیما اذا تیقن المذی متذکراحیث قال الظاھر کونہ لیس کذلک حقیقۃ لوجود سبب المنی ظاھراو ھو الا حتلام وکون المنی مما تعرض لہ الرقۃ الخ ۱؎۔
اس عبارت کا مطمع نظر وہ نہیں جو ہم نے ثابت کیاکہ یقین صورت ہی کاہوگا ساتھ ہی حقیقت میں اس کے منی یا مذی ہونے میں تردّد ہوگا ، بلکہ اس میں تو اس شخص کو اس بارے میں پُر وثوق ٹھہر ایا ہے کہ وہ مذی ہے اور اس کے وثوق کی خطا پر تنبیہ کی ہے توگویا صاحبِ غنیہ رحمہ اللہ تعالٰی یہ فرمارہے ہیں کہ یہ شخص جو گمان کر رہا ہے کہ اسے مذی کا یقین حاصل ہے اس کا یقین ایک دھوکا ہے یعنی اس نے اپنے گمان کو یقین سمجھ لیا ہے حالاں کہ وہ یقین نہیں اس لئے کہ اس کی بنیاد صرف اس پر ہے کہ اس نے دیکھی جانے والی اس صورت و رقت پر اعتماد کرلیا ہے اور یہ اعتماد بلا عماد ہے۔ اس طرف عبارتِ حلیہ میں بھی اشارہ ملتا ہے ۔ احتلام یاد ہوتے ہوئے مذی کا یقین ہونے کی صورت میں لکھتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ وہ حقیقت میں مذی نہیں اس لئے کہ منی کا سبب ۔احتلام۔ ظاہراً موجود ہے اور منی ایسی چیز ہے جسے رقت عارض ہوتی ہے الخ۔
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول:ارادۃ الحقیقۃ علی ھذاالوجہ لاباس بھاولا ینافی ماقدمت من التحقیق بیدان فـــ فیہ اطلاق العلم والیقین علی ظن ظنہ الظان بالغلط یقینا فالاحری بنا ان لا نحمل کلام العلماء علی مثل ھذا المحمل والوجہ الذی اخترتہ صاف لاکدر فیہ وللّٰہ الحمد۔
اقول:اس طورپرحقیقت مرادلینے میں کوئی حرج نہیں اور یہ ہماری بیان کردہ تحقیق کے منافی نہیں۔ مگر یہ ہے کہ اس میں علم و یقین کا اطلاق اس گمان پر کردیا ہے جسے گمان کرنے والے نے غلطی سے یقین سمجھ لیا۔ تو ہمارے لئے مناسب یہ ہے کہ کلامِ علما کو اس طرح کے معنی پر محمول نہ کریں۔ اور میں نے جو صورت اختیار کی ہے وہ صاف بے غبار ہے، وللہ الحمد۔
فـــ: تطفل علی الغنیۃ۔
الخامس : قول الحلیۃ وجوب الغسل اذالم یتذکر حلماو تیقن انہ مذی اوشک فی انہ منی اومذی ۱؎ الخ یخالف ظاھرہ ماحققنا ان العلم بالمذی ھھنا مجامع للشک فی المذی والمنی۔
پانچویں تنبیہ:حلیہ کی یہ عبارت: ''وجوب غسل ہے جب اسے خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ وہ مذی ہے ، یا اسے شک ہو کہ وہ منی ہے یا مذی''۔ بظاہر ہماری اس تحقیق کے خلاف ہے کہ یہاں مذی کا علم ویقین مذی ومنی میں شک کے ساتھ جمع ہوگا۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
فانہ رحمہ اللّٰہ تعالی جعل التیقن مقابلا للشک وجوابہ اما بالحمل علی الصورۃ کما ھو مسلکنافیعود الی انہ تیقن بان الصورۃ صورۃ مذی اوتردد فی الصورۃ فلا ینافی الشک فی الحقیقۃ اوبالحمل علی زعم التیقن من دون یقین فی الحقیقۃ کما ھو مسلک الغنیۃ فالمعنی سواء کان متیقنا بزعمہ اوشاکا۔
مخالف اس لئے کہ صاحبِ حلیہ رحمہ اللہ تعالی نے یقین کو شک کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ اور جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یاتوصورت کا یقین ہے جیسا کہ یہ ہمارا مسلک ہے تو اب معنی عبارت یہ ہو گا کہ ''اسے یقین ہے کہ صورت، مذی کی صورت ہے یا اسے صورت کے بارے میں تردّد ہے کہ وہ منی کی ہے یا مذی کی '' تو یہ حقیقت میں شک ہونے کے منا فی نہ ہوگا۔یا اس سے مراد یہ ہے کہ اسے یقین ہونے کا گمان ہے اور درحقیقت یقین نہیں ہے جیسا کہ یہ غنیہ کا طرز ہے، تو معنٰی یہ ہوا کہ اپنے گمان میں خواہ وہ یقین رکھنے والا ہو یا شک کرنے والا ہو۔
السادس : حصر الغنیۃ ذرائع علم المذی فی الصورۃ والرقۃ وکلام فـــ۱الفقیر انہ اما بالصورۃ اوالاسباب اوالاثار والکل لاتنفی المنویۃ اجمع وانفع وللّٰہ الحمد۔
چھٹی تنبیہ:صاحب غنیۃ نے علم مذی کے ذرائع کو صورت اور رقت میں منحصر رکھاہے اور کلامِ فقیر میں یہ ہے کہ یہ علم یا تو صورت سے ہوگا یا اسباب سے یاآثار سے ، اور کسی سے بھی منی ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔ تو یہ زیادہ جامع اور زیادہ نافع ہے، وللہ الحمد۔
فـــ۱:۔تطفل علی الغنیۃ