Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
22 - 135
الثالث عــہ۱ مع قطع النظر عن التحقیق الذی ظھرنا علیہ اقول انما عُلم المنی یتصور مذیا ولیس ھذا للودی ولا تترک الصورۃ لمحض امکان فعلم المذی لایکون احتمال الودی ولذا لم یفسروہ الا بالشک فی المنی والمذی فاستثناء عــہ۲ الدرالشک فــ فی المذی والودی منقطع قطعا۔
تیسری تنبیہ: اقول قطع نظر اس تحقیق سے جو ہم پر واضح ہوئی۔میں کہتا ہوں منی سے متعلق معلوم ہے کہ وہ مذی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔یہ بات ودی میں نہیں۔ اورصورت محض امکان کی وجہ سے ترک نہیں کی جاسکتی ۔تو مذی کے علم کی حالت میں ودی کا احتمال نہ ہوگا۔ اسی لئے علماء نے علم مذی کی تفسیر میں صرف منی و مذی کے درمیا ن شک ہونے کو ذکر کیا۔تو صاحب درمختار نے مذی و ودی کے مابین شک کاجو استثناء کیا وہ قطعا استثنا سے منقطع ہے۔
فــــ:معروضۃ اخری علیہ۔
عــہ۱: ای ماقدمنا ان العلم بالحقیقۃ لاالیہ سبیل للمستیقظ ولا لارادتہ مساغ فی کلام العلماء اھ منہ غفرلہ (م)۔
یعنی وہ تحقیق جو ہم پیش کر چکے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے لئے علم حقیقت کی کوئی سبیل نہیں اور کلامِ علماء میں اس کے مراد ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ۱۲منہ(ت)
عــہ۲: قدمنا عبارۃ التنویر فی نصوص الفریق الثانی وذکرنا بعد انھاء المنقول مااستثنی فی الدر وبعدہ کلام العلامۃ الشامی الشارح قد اصلح ۱؎ الخ ۔
ہم نے فریق ثانی کے نصوص کے تحت تنویر الابصار کی یہ عبارت ذکر کی ہے (ورؤیۃ المستیقظ منیا او مذیا وان لم یتذکر الاحتلام۔ بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو) ۔اور نقول ختم کرنے کے بعد درمختار کا استثنا ذکر کیا: (مگر جب اسے مذی کاعلم ہو یا اس میں شک ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں) اس کے بعد علامہ شامی کا یہ کلام ذکر کیا کہ '' شارح نے عبارتِ مصنف کی اصلاح کی ہے۔ الخ۔''
(۱؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱/۱۱۰)
وتمامہ وبھذا الحل الذی ھو من فیض الفتاح العلیم ظھر ان ھذا المتعاطفات مرتبطۃ ببعضھا وان الاستثناء فیھا کلہا متصل وللّٰہ در ھذا الشارح الفاضل فکثیرا ما تخفی اشاراتہ علی المعترضین و کانوا من الماھرین فافھم ۱؎ اھ وعرض بہ علی العلامۃ ح محشی الدر المعترض علیہ والعلامۃ ط المجیب بالتزام ان لاضیر فی عطف الاستثناء المنقطع علی المتصل۔
اس کے آگے علامہ شامی کی پوری عبارت اس طرح ہے:فتاح علیم کے فیض سے منکشف ہونے والے اس حل سے ظاہر ہوگیا کہ یہ معطوفات باہم ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور ان سب میں استثنا ئے متصل ہے اور یہ حضرت شارح فاضل کا کمال ہے کہ ان کے اشارات ماہر معترضین کی نظر سے بھی مخفی رہ جاتے ہیں اھ اس سے علامہ شامی نے محشی درمختار علامہ حلبی معترض پر تعریـض کی ہے اور علامہ طحطاوی پر جنہوں نے استثنا ئے منقطع مان کر یہ جواب دیا ہے کہ استثنائے متصل پر استثنا ئے منقطع کا عطف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱/۱۱۰)
اقول لاشک وقد اعترف ھذا المحقق ایضا ان المراد بالرؤیۃ العلم والاخرج الاعمی فقول المتن ورؤیۃ المستیقظ مذیا معناہ یجب الغسل اذا علم المذی وان لم یتذکر وانتم جعلتموہ محتملا لمعنیین الاول ان یکون المراد بالمذی حقیقتہ والثانی صورتہ وجعلتم الاول علما بانہ مذی والا خیر شکا فیہ وفی غیرہ فعلی الاول معنی المتن اذا علم حقیقۃ المذی ولا شک انہ ھو المراد بقول الشارح الا اذا علم انہ مذی فیکون استثناء الشیئ عن نفسہ ویکون حاصل الاستثناء الثانی یجب اذا علم حقیقۃ المذی الا اذا شک انہ مذی او ودی ولا شک انہ استثناء منقطع وعلی الثانی معنی المتن یجب الغسل اذا علم صورۃ المذی وشک فی حقیقۃ انہ مذی اوغیرہ فیکون قول الشارح الا اذا علم حقیقۃ المذی استثناء منقطعا قطعا ولیس ھذا سبیل ماقصدتم بل کان ینبغی ان یقال ان المراد فی کلام المصنّف العلم بالصورۃ لا غیرکما ذکرتموہ فی التوفیق والعلم بالصورۃ المذی یشمل ما اذا علم انہ فی الحقیقۃ ایضا مذی وما اذا شک انہ ھو اوغیرہ من منی او ودی اذ لا معنی للقطع بانہ لیس مذیا حقیقۃ مع العلم بانہ مذی صورۃ الا اذا احاط علمہ بانہ کان منیا تحول مذیا صورۃ ولا سبیل الی ذلک فی النوم فلا اقل من احتمال المذی ولامانع عندکم من العلم بحقیقتہ علی ماقررنا للفریق الاول فکان کلام المصنّف بحملہ علی علم الصورۃ شاملا لثلث صور علم بحقیقۃ المذی والشک من المذی والودی والشک بین المذی والمنی وکل ذلک من صور العلم بصورۃ المذی لامجرد صورتی الشک کما قلتم وعند ذلک یکون استثناء علم الحقیقۃ والشک الاول کل متصلا کما قصدتم فوقعت الزلۃ من وجھین فی تردید المتن بین الحملین وفی تخصیص الاخیر بالشک ثم ھذا کلہ اذا سلمنا لہ ان فی العلم بالمذی ای صورتہ یبقی احتمال الودی فی حقیقتہ لما علمت ان لا عبرۃ لمحض احتمال مستند الی مجرد امکان ذاتی بلا دلیل یدل علیہ فی خصوص المقام ولا دلیل للمستیقظ علی ان ھذا الذی ھو مذی قطعا بصورتہ ودی اصلا فی حقیقتہ بخلاف المنی کما علمت علی ان صورۃ المذی لم یثبت کونھا للودی کما ثبت للمنی فلا معنی لحمل رؤیۃ المذی علی معنی الشک بین المذی والودی واذ لم یشملہ کلام المصنف فاستثنائہ منہ لایکون قطعا الا منقطعا فھذہ زلۃ ثالثۃ اعظم من اختیہا والرابعۃ لما تقدم من التحقیق وبہ ظھر ان کلام المصنف لامحل فیہ لشیئ من ھذین الاستثنائین فاستثناء الحقیقۃ باطل اذ لا سبیل الیہ واستثناء احتمال الودی ضائع اذلا دلیل علیہ وباللّٰہ التوفیق اھ منہ غفرلہ (م)
اقول:اس میں کوئی شک نہیں اور ان محقق نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ دیکھنے سے مراد علم ہے ورنہ نابینا اس حکم سے خارج ہو جائے گا تو عبارت متن:(بیدار ہونے والے کا مذی دیکھنا) کا معنی یہ ہے کہ جب مذی کا علم ہو تو غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ او ر آپ نے اس عبارت میں دو معنوں کا احتمال بتایا ہے۔ اول یہ کہ مذی سے حقیقتِ مذی مراد ہو۔ دوم یہ کہ صورتِ مذی مراد ہو۔ اور اول کو آپ نے مذی ہونے کا علم قرار دیا ہے اور دوم کو مذی اور غیر مذی کے درمیان شک ٹھہرایا ہے۔ تو برتقدیر اول متن کا معنٰی یہ ہوا کہ جب حقیقت مذی کا علم ہو(تو غسل واجب ہے) اور بلاشبہ شارح کے کلام ''الااذاعلم انہ مذی۔مگر جب اسے علم ہو کہ وہ مذی ہے'' سے وہی (حقیقت مذی کا علم) مراد ہے تو یہ شیئ کا خوداسی شیئ سے استثناء ہوگا۔ استثنائے ثانی کا حاصل یہ ہوگا کہ غسل واجب ہے جب حقیقت مذی کا علم ہو مگر جب اسے شک ہو کہ مذی ہے یا ودی(توبالاتفاق واجب نہ ہوگا)بلا شبہہ یہ استثنا ئے منقطع ہے۔برتقدیر دوم متن کا معنٰی یہ ہو کہ غسل واجب ہے۔ جب اسے مذی کی صورت کا علم ویقین ہو اور اس کی حقیقت میں شک ہو کہ وہ مذی ہے یا غیرمذی ۔ اب شارح کا قول'' مگر جب اسے حقیقت مذی کا علم ہو''قطعاًاستثنا ئے منقطع ہوگا۔ تو آپ کا جو مقصد تھا(استثنائے متصل کا اثبات) اس کی یہ راہ نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ مصنف کے کلام میں صورتِ مذی کا علم مراد ہے کچھ اور نہیں۔ جیسا کہ تطبیق میں آپ نے یہی ذکر کیاہے۔اور صورت مذی کا علم اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے علم ہو کہ وہ حقیقت میں بھی مذی ہی ہے،اور اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے شک ہو کہ وہ مذی ہی ہے یا کچھ اور ہے یعنی منی یا ودی ۔ اس لئے کہ صورۃ مذی ہونے کا علم ہوتے ہوئے یہ قطعی حکم کرنے کا کوئی معنٰی نہیں کہ وہ حقیقۃً مذی نہیں ، ہاں جب احاطہ کے ساتھ اسے علم ہو کہ وہ تری پہلے منی تھی اب مذی کی صورت میں بدل گئی تو وہ قطعی حکم ہو سکتاہے مگرنیند میں ایسے علم و احاطہ کی گنجائش نہیں ۔تو کم ازکم مذی کا احتمال ضرور ہوگا۔اور آپ کے نزدیک اس کی حقیقت کے علم سے کوئی مانع نہیں جیسا کہ ہم نے فریق اول کی تقریر پیش کی۔ توعلم صورت پر محمول کرنے سے کلامِ مصنف تین صورتوں کو شامل ہوا:(۱)حقیقتِ مذی کاعلم(۲) مذی اور ودی میں شک(۳)مذی اورمنی میں شک۔اور تینوں میں سے ہر ایک صورتِ مذی کے علم ہی کی صورتوں میں سے ہے ۔تو دو طرح لغزش ہوئی، ایک یہ کہ متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال مانا، دوسرے یہ کہ ارادہ صورت کو حالتِ شک سے خاص کردیا(حالانکہ وہ علم حقیقت کو بھی شامل ہے)۔پھر یہ سب کچھ اس وقت ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ مذی یعنی صورتِ مذی کا یقین ہونے کی حالت میں بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ حقیقت میں ودی ہو۔اس لئے کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایسے احتمال محض کا اعتبار نہیں جس کا استناد صرف امکان ذاتی پر ہو اور اس پر اس خاص مقام میں کوئی دلیل نہ ہو۔ اور بیدارہونے والے کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ جو صورت میں قطعاً مذی ہے حقیقت میں اصلاً ودی ہے۔ بخلاف منی کے جیسا کہ معلوم ہوچکا۔علاوہ ازیں مذی کی صورت ودی کے لئے ہونا ثابت نہیں، جیسے منی کے لئے ہونا ثابت ہے۔ تو مذی دیکھنے کو مذی و ودی کے درمیان شک ہونے کے معنی پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔اور جب اسے کلامِ مصنف شامل نہیں تو اس سے اس کا استثنا قطعاً استثنائے منقطع ہی ہوگا۔ تو یہ تیسری لغزش ہے جو پہلی دونوں سے بڑی ہے۔ اور چوتھی لـغزش اس تحقیق کے پیش نظر جو بیان ہوئی، اور اسی سے یہ بھی واضح ہوا کہ کلامِ مصنف میں ان دونوں استثناء میں سے کسی کی کوئی گنجائش نہیں۔استثنائے حقیقت تو باطل ہی ہے اس کی کوئی صورت نہیں اور احتمال ودی کا استثناء بے کار ہے کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں، وباللہ التوفیق ۱۲ منہ(ت)
علی ان جعل فــــ العلامۃ ش مراد المتن مترددا بین ارادۃ الحقیقۃ والصّورۃ   ثم حصرفـــ۱ الا خیر فی الشک عاد نقضا علی المقصود لان الارادتین لاتجتمعان وقد استثنی العلم والشک معا فاحدھما منقطع لاشک والحق فـــ۲ان لا محل لشیئ منھما فی کلام المصنف۔
علاوہ ازیں شامی پہلے تو عبارت متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال رکھا۔

پھر ارادہ صورت کو شک میں منحصر کردیا۔جو خود ان کے مقصود کے خلاف ہوگیا۔ اس لئے کہ ایک ساتھ حقیقت اور صورت دونوں مراد نہیں ہوسکتیں۔ اور شارح نے علم اور شک دونوں کا استثناء کیا تو ایک استثنا ضروراستثنائے منقطع ہے۔ اور حق یہ ہے کہ کلامِ مصنف میں ان میں سے کسی استثنا کی گنجائش نہیں۔
فــــ:معروضۃ ثالثۃ علیہ۔

فـــ۱:معروضۃ رابعۃ علیہ۔

فـــ۲:معروضۃ علی الدر۔
Flag Counter