ھذا ولنقررالمقام بتوفیق العلام بحیث یبین العلل لجمیع الاحکام فی تلک الصور الست والاقسام۔فاقول النوم سبب ضعیف للامناء لعدم غلبۃ الافضاء بل غلبۃ عدم الافضاء بدلیل الحدیث المذکور وتجربۃ الدھور فلربما ینام الرجل شھور الا یحتلم وکثرتہ یعد من الامراض ۔
اب ہم رب علام کی توفیق سے اس مقام کی تقریر اس انداز سے کریں کہ ان شش گانہ صورتوں اور قسموں میں تمام احکام کی علّتیں عیاں ہوجائیں۔ فاقول نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے۔ اس لئے کہ نیند کا خروج منی تک موصل ہونا غالب واکثر نہیں ہے،بلکہ موصل نہ ہونا غالب واکثر ہے جس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ذکر ہوئی اور مدتوں کا تجربہ بھی اس پر شاہد ہے۔ بہت ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مہینوں سوتا رہتا ہے اوراسے احتلام نہیں ہوتا۔اور کثرتِ احتلام کا شمار امراض میں ہوتا ہے۔
ومامر عن الفتح عن التجنیس انہ مظنۃ الاحتلام ومثلہ فی الغنیۃ وغیرھا فلیس بمعنی المظنۃ المصطلح والالدار الحکم علیہ و وجب الغسل بعلم الودی بل بمجرد النوم کالوضوء لکونہ مظنۃ خروج الریح ۔
اورفتح القدیرمیں تجنیس کے حوالے سے جو منقول ہے کہ:نیندمظنہ احتلام ہے۔اور اسی کے مثل غنیہ وغیرہا میں بھی ہے تو وہاں مظنہ اصطلاحی معنی میں نہیں ورنہ اسی پر حکم کا مدار ہوجاتا۔ اور ودی کے علم ویقین بلکہ محض نیند ہی سے غسل واجب ہوجاتاجیسے نیند کے خروج ریح کا مظنہ ہونے کی وجہ سے (محض نیند ہی سے )وضو واجب ہو جاتا ہے ۔
اما ما مر عن الارکان الاربعۃ انہ یکثر فی النوم الاحتلام وخروج المنی بشھوۃ غالبا فمرادہ الکثرۃ الاضافیۃ بالنظر الی الیقظۃ بدلیل قولہ''بخلاف حالۃ الیقظۃ فانہ یندر فیہ خروج المنی بلاتحریک ۱؎۔
اوروہ جو ارکان ِاربعہ کے حوالے سے نقل ہوا کہ نیند میں احتلام اور عام طور سے شہوت سے منی کا نکلنا بکثرت ہوتا ہے تو وہاں بیدار ی کے مقابلہ میں اضافی کثرت مراد ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد ہی لکھا ہے:بخلاف حالت بیداری کے،کہ اس میں بغیر تحریک کے منی کا نکلنا نادر ہے۔
فان قلت الیس قال قبلہ ان النوم حالۃ غفلۃ ویتوجہ الی دفع الفضلات ویکون الذکر صلبا شاھیا للجماع ولذا یکثر ۱؎ الخ ومعلوم ان ھذا الذی فرع کثرۃ الاحتلام علیہ فالنوم سبب مفض الیہ۔
اگر یہ کہو کہ کیا اس سے پہلے یہ نہیں فرمایا ہے کہ:''نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اور اس وقت ذکر میں سختی وشہوتِ جماع ہوتی ہے اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ ہوتا ہے''۔او ر معلوم ہے کہ جس امر پر کثرتِ احتلام کو متفرع قرار دیا ہے، نیند اس کا سبب موصل ہے۔
قلت نعم ھو مفض الی الانتشار بید ان الانتشار غیر مفض الی الامناء وقد نص فی الحلیۃ انہ اذا لم یکن الرجل مذاء فالانتشار لایکون مظنۃ تلک البلۃ ۲؎ اھ فاذا لم یفض الی الامذاء فکیف بالامناء وبالجملۃ فالمفضی الی السبب البعید لایکون مفضیا الی المسبب فما النوم سبب بالامناء الا من وراء وراء وراء فھو سبب بعید وحصول شھوۃ توجب انتشارا یمتد او یشتد حتی یوجب نزول بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ سبب وسیط والاحتلام اعنی اندفاق المنی فی النوم وانفصالہ عن مقرہ بشھوۃ سبب قریب۔
میں کہوں گاہاں نیند انتشارِ آلہ کی جانب موصل ہے مگر یہ ہے کہ انتشار،خروجِ منی تک موصل نہیں- حلیہ میں تو تصریح موجود ہے کہ جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار اُس تری کا مظنہ نہیں۔ تو انتشار جب خروجِ منی( مذی)تک موصل نہیں تو خروجِ منی تک موصل کیسے ہوگا؟ مختصر یہ کہ سبب بعید تک جو موصل ہو وہ مسبّب تک موصل نہیں ہوتا۔ تو نیند خروج منی کا سبب اگر ہے تو بہت دور دراز فاصلے سے۔ لہذا یہ سبب بعید ہے۔ اور اس شہوت کا حصول جو ایسے انتشار مدیدیا شدید کی موجب ہوجو اس تری کے نکلنے کا موجب ہو جائے جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں ابھرتی،سبب وسیط ہے۔اور احتلام یعنی نیند کی حالت میں منی کا جست کرنا اور اپنے مستقر سے شہوت کے ساتھ الگ ہونا سبب قریب ہے۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ولیس من الاسباب مفضیا قطعا لایمکن التخلف عنہ عادۃ فلربما یری الانسان حلما ویکون من اضغاث احلام لا اثر لہ فی الخارج۔
اور ان اسباب میں سے کوئی بھی سبب ایسا موصلِ قطعی نہیں جس سے عادۃً تخلف ممکن نہ ہو کیونکہ بہت ایسا ہوتا ہے کہ انسان خواب دیکھتا ہے اور وہ بس ایک پر اگندہ خواب ثابت ہوتاہے، جس کا خارج میں کوئی اثر رونما نہیں ہوتا۔
فاذا لم یربلل یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ لم یجب الغسل وان تذکر الحلم لعدم الموجب قطعا ولا احتمالا فیشمل ما اذا لم یر بلل اصلا او رئ ودی ای صورۃ لاتحتمل منیا ولا مذیا۔
(۱۔۲) اس لئے جب وہ تری نظر نہ آئے جس کے شہوت سے نکلنے کا احتمال ہوتا ہے تو غسل واجب نہ ہوگا اگر چہ خواب یا د ہو اس لئے کہ وہ چیزہی موجود نہیں جو قطعاً یا احتمالاً موجب غسل ہوتی ہے۔ یہ حکم اس صورت کو بھی شامل ہے جب کوئی تری بالکل ہی نہ دیکھی جائے اور اس صورت کو بھی جب ودی دیکھی جائے یعنی ایسی صورت جو منی یا مذی کسی کا احتمال نہیں رکھتی۔
واذا رئ بلل یعلم او یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ وان کان علی صورۃ منی وجب مطلقا للعلم بنزول المنی لان صورتہ لاتکون لغیرہ والنوم سبب الشھوۃ المفضی الیھا غالبا فیحال علیہ فیجب الغسل وفاقا ولا ینظر الی احتمال انفصالہ عندنا او خروجہ عندالامام ابی یوسف لا عن شھوۃ لندرتہ وقد انعقد سبب الشھوۃ فلا اغماض عنہ ۔
(۳) اور جب ایسی تری نظر آئے جس کے شہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے ابھرنے کا یقین یا احتمال ہوتو اگر وہ منی کی صورت میں ہے تو مطلقاً غسل واجب ہے اس لئے کہ منی کے نکلنے کا یقین ہے کیونکہ اس کی صورت کسی اور کی نہیں ہوتی۔اور نیند شہوت کا سبب ہے جو اکثر اس تک موصل ہوتاہے۔ تو اس منی کو اسی سے وابستہ کردیا جائے گا۔ اور اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہوگا۔اور اس احتمال پر نظر نہ ہوگی کہ اس کا اپنی جگہ سے انفصال ۔ہمارے نزدیک۔یا عضو سے اس کا خروج۔امام ابویوسف کے نزدیک-بغیر شہوت کے ہوا ہو کیوں کہ ایسا ہونا نادر ہے۔اور شہوت کا سبب پایا جا چکا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
وکذا ان کان مراٰہ مترددا بین منی و ودی لانھما احتملا من جہۃ ما یری وقد ترجح جانب المنی بالنوم الموجب للراحۃ واللذۃ وھیجان الحرارۃ والشھوۃ والانتشار ورب شیئ صلح مؤید او ان لم یصلح مثبتا فوجب عندھما احتیاطا وان لم یتذکراما ان تذکر فقد ترجح باقوی مرجح فوجب اجماعا۔
(۴)یوں ہی اگر شکل مرئی میں منی اور ودی کے درمیان تردّد ہو۔اس لئے کہ دونوں کا احتمال شکل مرئی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اور جانب منی کو نیند کی وجہ سے ترجیح حاصل ہے کیونکہ نیند راحت ولذت کا اور حرارت وشہوت کے ہیجان اور انتشار کا باعث ہے۔اور بہت ایسی چیـزیں ہوتی ہیں جو مؤید بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اگرچہ مثبت بننے کے قابل نہ ہوں۔ تو طرفین کے نزدیک احتیاطاًغسل واجب ہوا اگرچہ احتلام یادنہ ہو۔ اور اگر احتلام یاد ہو توجانب منی کو زیادہ قوی مرجح سے ترجیح مل جاتی ہے اس لئے اس صورت میں اجماعاًغسل واجب ہے۔
وکذا ان کان علی صورۃ مترددۃ بین منی ومذی بالاولی للعلم بان البلۃ ھی التی تنبعث عن شھوۃ وصورۃ المذی نفسھا تحتمل المنویۃ فیکون کونہ مذیا مجردا احتمالا فی احتمال فلا یعتبر ویجب الغسل وان لم یتذکر فان تذکر وافق الثانی ایضا وکان الاجماع۔
(۵)اسی طرح اگر اس شکل مرئی میں منی اور مذی کے درمیان تردّد ہو تو بدرجہ اولٰی غسل واجب ہے۔ اس لئے کہ معلوم ہے کہ یہ تری وہی ہے جو شہوت سے ابھرتی اورنکلتی ہے اور خود مذی کی صورت منی ہونے کا احتمال رکھتی ہے تو اس کامذی ہونا محض احتمال دراحتمال ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں۔ اور غسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو۔ اگرخواب بھی یاد ہو توامام ثانی بھی موافقت فرماتے ہیں اور بالاجماع غسل واجب ہوتاہے۔
وان کان علی صورۃ مذی فقد علم حصول بلۃ عن شھوۃ وعلمت ان صورۃ المذی لاتنفک عن احتمال المنویۃ وقد تأید بحصول السبب الوسیط وان لم یتذکر فکان احتمالا صحیحا یوجب الاحتیاط اما اذا تذکر فقد تأید بالسبب الاقوی فوجب اجماعا۔
(۶) اور اگر وہ مذی کی صورت میں ہو تو اتنا یقینی ہے کہ یہ ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔اور یہ بھی واضح ہوچکا کہ مذی کی صورت، منی ہونے کے احتمال سے جدا نہیں ہوتی۔اور اس احتمال کو سبب وسیط کے حصول سے بھی تائید مل گئی ہے اگرچہ خواب اسے یاد نہیں۔ تو یہ ایسا احتمال صحیح ہے جو احتیاط لازم کرتاہے۔ اور خواب بھی یاد ہوتو اسے سبب اقوی سے تائید مل جاتی ہے لہذا اجماعاً غسل واجب ہوتا ہے۔
وان تردد مراٰہ بین مذی و ودی فلم یتحقق حصول تلک البلۃ التی لاتخرج عادۃ الا عن شھوۃ فکان احتمال المنی احتمالا علی احتمال فلم یعتبر اجماعا مالم یتأکد بالسبب الی قوی بتذکر الاحتلام۔
(۷) اور اگر شکل مرئی میں مذی و ودی کے درمیا ن تردّد ہو تو اس تری کا حصول متحقق نہ ہو ا جو عادۃ بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ایسی حالت میں منی کا احتمال،احتمال دراحتمال ہے۔اس لئے بالا جماع اس کا اعتبار نہیں جب تک کہ سبب اقوی احتلام یاد ہونے سے وہ مؤکد نہ ہوجائے۔