| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
فاقول : وباللّٰہ التوفیق یظھر لی ان الحق مع المحقق حیث اطلق وبیانہ ان المذی وان باین المنی صدقا لکنہ یجامع تحققا فرب مذی معہ منی کما ان کل منی معہ مذی وغلبۃ ظن المذویۃ بعد النوم المانع لاحاطۃ علم المستیقظ بحقیقۃ البلۃ عینا ان کان فانما یکون لاحدی ثلث صورۃ المذی اووجود اسبابہ المفضیۃ الیہ غالبا اورؤیۃ اٰثارہ المخصوصۃ بہ ولا شیئ منھاینفی احتمال المنی ۔
فاقول: وباللہ التوفیق،مجھے یہ سمجھ میں آتاہے کہ حق حضرت محقق علی الا طلاق کے ساتھ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذی کامصداق اگر چہ منی کے مباین ہے مگر تحقق میں مذی، منی کے ساتھ مجتمع ہوتی ہے۔ بہت سی مذی وہ ہے جس کے ساتھ منی بھی ہوتی ہے جیسے ہر منی کے ساتھ مذی ہوتی ہے۔اور نیند جو اس سے مانع ہے کہ بیدار ہونے والے کا علم تری کی حقیقت کا معین طور پر احاطہ کرسکے اس نیند کے بعدمذی ہونے کا غلبہ ظن اگر ہوگا تو تین چیزوں میں سے کسی ایک کے سبب ہوگا(۱) مذی کی صورت (۲)ان اسباب کا وجود جن کے نتیجے میں عموما مذی نکلتی ہے (۳)ان آثار کامشاہدہ جو مذی ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی احتمال منی کی نفی نہیں کرتی ۔
اماالاول فظاھر فانہ لاینافی کون المرئی کلہ منیا فضلا عن نفیہ وجود منی ھناک وذلک لان الصورۃ ربما تکون لہ۔
اول کاحال توظاہر ہے۔ اس لئے مذی کی صورت ہونا اس کے منافی نہیں کہ جو نگاہ کے سامنے ہے کل کی کل منی ہی ہو وہاں ذرا سی منی کے وجود کی بھی نفی کرنا تو دور کی بات ہے اس لئے کہ یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے ۔
واما الثانی فلانہ انما یقتضی غلبۃ الظن بان فی المرئی مذیا لا ان لیس فیہ منی اصلا کیف والاسباب المفضیۃ الی الامذاء غالبا اسباب داعیۃ الی الامناء فتحققہا لاینفی المنویۃ بل ھو من مقدماتہا ۔
دوم اس لئے کہ اس کا تقاضاصرف اس قدر ہے کہ شیئ مرئی میں کچھ مذی ہو،اس کا تقاضا یہ نہیں کہ اس میں منی بالکل ہی نہ ہو، یہ ہو بھی کیسے جب کہ وہ اسباب جو عام طور سے مذی نکلنے کا سبب ہوتے ہیں وہ منی نکلنے کے داعی اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ تو ان اسباب کا تحقق منی ہونے کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ تو اس کے مقدمات سے ہے۔
واما الثالث فلانہ ان قضی فبان غالب المرئی مذی لاان لیس فیہ مزج منی فان الممزوج یکون فیہ لزوجۃ ورقۃ والقلۃ ایضا لاتنفی المنی لان الکثرۃ لاتلزمہ الا تری ان الشرع اوجب الغسل بایلاج الحشفۃ فقط وان اخرجہا من فورہ ولم یرعلیہا بلۃ اصلا سوی نداوۃ من رطوبۃ الفرج وماھو الا لان الا یلاج مظنۃ خروج المنی وربمایکون قلیلا لایحس بہ حتی انہ لم ینظرفیہ الی ان المنی اذانزل بشہوۃ یحس بہ المستیقظ لانہ یدفق ویلذذ ویحرک العضو بل یحس نازلا وانمالم ینظر الیہ لان ھذہ الاثار لکمال الانزال لا لخروج قطرہ بشھوۃ ربما لایتنبہ لھا لشغل البال اذ ذاک بمطلوب خطیر فثبت ان شیا من صورۃ المذی واسبابہ وآثارہ لاینفی احتمال المنویۃ اصلا ثم النوم من اسباب الاحتلام لانہ یوجب الشھوۃ والانتشار وتوجہ الطبع الی دفع الفضلات و وجود بلۃ لاتخرج الابشھوۃ اعنی منیا اومذیا مؤذن بحصول قوۃ فی الانتشاروالشہوۃ الی ان ادت الی اندفاع تلک الفضلات فانھا لا تندفع بکل شھوۃ وانتشارمالم یمتد او یشتد۔
سوم اس لئے کہ اس کا فیصلہ اگر ہوگا تو صرف اس قدر کہ شیئ مرئی کا اکثر حصہ مذی ہے، یہ نہیں کہ اس میں منی کی آمیزش بھی نہیں۔ اس لئے کہ اس امتزاج یا فتہ چیز میں لزوجت(چسپیدگی) اور رقت(پتلا پن) ہوتی ہے۔ اور کم ہونا بھی منی کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ اس کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں ۔ دیکھئے شریعت نے وقتِ جماع صرف مقدارِ حشفہ داخل کرنے پر غسل واجب کردیاہے اگرچہ فوراًنکال لیا ہو اور اس پر کوئی تری نظربھی نہ آتی ہو سوا اس کے کہ رطوبت فرج کی کچھ نمی ہو۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخل کرناخروجِ منی کا مظنّہ ہے(گمان غالب کا محل ہے)اور منی بعض اوقات اتنی کم ہوتی ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس پر بھی نظر نہ فرمائی کہ منی جب شہوت سے نکلے گی تو بیدار شخص کو اس کااحساس ہوگا کیونکہ وہ جست کے ساتھ نکلے گی، لذت پیدا کرے گی، عضو کو حرکت دے گی بلکہ نکلتی ہوتی محسوس ہوگی۔اس پر نظر اسی لئے نہ فرمائی کہ یہ آثار کمال انزال کے ہیں۔ شہوت کے ساتھ ایک قطرہ نکلنے کے آثار نہیں جس کابسا اوقات اسے پتہ بھی نہ چلے گا کیونکہ اس وقت اس کا دل کسی خاص مطلوب میں مشغول ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مذی کی صورت(۱)، اس کے(۲) اسباب اور اس کے(۳) آثار میں سے کوئی چیز بھی منی ہونے کے احتمال کی بالکل نفی نہیں کرتی۔پھر نیند احتلام کے اسباب میں سے ہے اس لئے کہ وہ شہوت ، انتشارِ آلہ اور دفع فضلات کی طرف طبیعت کی توجہ کا باعث ہوتی ہے۔ اور کسی بھی ایسی تری کا وجود جو شہوت سے نکلتی ہے۔یعنی منی یا مذی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ انتشار اور شہوت میں زورپیدا ہو جس کے نتیجے میں ان فضلات کا دفعیہ ظہور پذیر ہوا کیوں کہ یہ فضلات ہر شہوت اور انتشار سے دفع نہیں ہوتے جب تک کہ کچھ مدت و شدت کا وجود نہ ہو۔
فباجتماع ھذہ الوجوہ لا یکون احتمال المنی ضعیفامضمحلا بل ناشئا عن دلیل لایطرحہ القلب فیعمل بہ فی الاحتیاط فظھر ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لایکون علما بحقیقتہ ولافقھیا ولا عراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فوجب ایجاب الغسل کما فی التذکر۔
تو ان وجہوں کے اجتماع کے پیشِ نظر احتمال منی ضعیف مضمحل نہیں بلکہ وہ ایسی دلیل سے پیدا ہے جسے قلب نظر انداز نہیں کرتا تو حالت احتیاط میں اس پر عمل ہوگا۔اس تفصیل سے واضح ہو ا کہ بیدار ہونے والے کو صورت مذی کا یقین نہیں یقین فقہی بھی نہیں اوریہ یقین،منی ہونے کے احتمال صحیح سے جدا نہیں ہو سکتا تو غسل واجب قرار دیناضروری ہے جیسے احتلام یاد ہونے کی صورت میں ضروری ہے۔یہ بحث تمام ہوئی۔