Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
135 - 135
تنبیہ ۷: علمت فـــــ۱مما القیت علیک ان التغیر بنیۃ الدعاء والثناء دون نیۃ الاستشفاء ووقع فی ش نقلا عن سیدی عبدالغنی قدس سرہ مایوھم خلافہ اذقال الھیکل والحمائلی المشتمل علی الایات القرانیۃ اذا کان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلأ بہ ومسہ وحملہ للجنب ویستفاد منہ ان ماکتب من الایات بنیۃ الدعاء والثناء لایخرج عن کونہ قرانا بخلاف قراء تہ بھذہ النیۃ فالنیۃ تعمل فی تغییر المنطوق ۲؎ لاالمکتوب ۱؎ اھ ومبناہ کما تری علی فھم ان نیۃ الاستشفاء مغیرۃ کنیۃ الدعاء ولم تعمل فی المکتوب فکذلک نیۃ الدعاء اونقول الاستشفاء من باب الدعاء فنیتہ نیتہ۔
ہمارے بیان سابق سے واضح ہواکہ تغیر دعا و ثنا کی نیت سے ہوتاہے شفا طلبی کی نیت سے نہیں ہوتا۔ اورشامی میں سیدی عبدالغنی قدس سرہ سے نقل کرتے ہوئے وہ لکھاہے جس سے اس کے خلاف وہم پیدا کرتا ہے وہ لکھتے ہیں: جو تعویذ قرآنی آیات پر مشتمل ہو اگر اس کا خول اس سے الگ ہو۔ جیسے وہ جو موم جامہ وغیرہ کے اندرہوتاہے۔ تو اسے لے کر بیت الخلا میں جانا او رجنب کے لئے اُسے چھونا اورلینا جائز ہے۔اور اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو آیات بہ نیت دعا وثنا لکھی گئی ہوں وہ قرآنیت سے خارج نہ ہوں گی بخلاف اُن کے جو اس نیت سے پڑھی جائیں تونیت منطوق کی تبدیلی میں اثرانداز ہوتی ہے مکتوب کی تبدیلی میں نہیں اھ۔جیساکہ پیشِ نظر ہے اس کی بنیاد یہ سمجھنے پر ہے کہ نیتِ دعا کی طرح شفا طلبی کی نیت سے بھی تبدیلی ہوتی ہے اوریہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تو یہی حکم نیتِ دعا کا بھی ہے یا یوں کہیں کہ شفا طلبی بھی دعا ہی کے باب سے ہے تو شفا طلبی کی نیت بھی نیتِ دُعا ہی ہے۔
ف: مسئلہ فقط شفا لینے کی نیت قرآن مجید کو قرآنیت سے خارج نہیں کرسکتی ۔
 (۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۱ /۱۱۹)
واقول :  لیس فــ ۱ الا مرکذا فمعنی القرأۃ بنیۃ الدعاء ان یکون الکلام نفسہ دعاء فیرید بہ انشاءہ لاتلاوۃ الکلام العزیز والاستشفاء دعاء معنوی لایجعل اللفظ بمعنی الدعاء فلیس ھومن بابہ ولا تغییر ایضا فان الذی یقراء اویکتب مستشفیا متبرکا فانما یرید التبرک والاستشفاء بالکلام العــزیز لاانہ یخرجہ عن القراٰنیۃ ثم یستشفی بغیر القراٰن ولو کانت فــ ۲ تغیر لجاز ان یقرأ الجنب القراٰن ولو کانت فــ ۳ تغیر لجاز ان یقرأ الجنب القراٰن کلہ بنیۃ الشفاء فان القراٰن من اولہ الی اخرہ نور وھدی وشفاء وھذا لایسوغ ان یقول بہ احد وبالجملۃ فالمنوی فی الرقیۃ ھو القراٰن نفسہ لاغیرہ الا تری فــ ۴ ان بعض الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہم لمارقی السلیم بالفاتحۃ علی شاۃ وجاء بھا الی اصحابہ کرھوا ذالک وقالوا اخذت علی کتاب اللّٰہ اجرا حتی قدموا المدینۃ فقالوا یارسول اللّٰہ اخذ علی کتاب اللّٰہ اجرا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب ۱؎ اللّٰہ کما فی الجامع الصحیح عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فلم یخرج الاسترقاء الفاتحۃ عن کونھا کتاب اللّٰہ مع انھا تصلح للدعاء والثناء فکیف بمالا یصلح لھما ۔
واقول اور معاملہ ایسا نہیں کیوں کہ بہ نیتِ دعا پڑھنے کا معنی یہ ہے کہ کلام خود دعا ہو اور اس سے بجائے تلاوت کے انشائے دُعا کا قصد کرے۔اورشفا طلبی تومعنوی دعا ہے جو لفظ کو دُعا کے معنی پرمشتمل نہیں کردیتی لہٰذا وہ اس دعا کے باب سے نہیں۔ اور تبدیلی بھی نہیں اس لئے کہ جو شفا وبرکت حاصل کرنے کے لئے پڑھتاہے وہ کلامِ عزیز ہی سے شفا حاصل کرناچاہتا ہے یہ نہیں کہ اسے قرآنیت سے خارج کرلیتا ہے پھرغیر قرآن سے شفا کا طالب ہوتا ہے۔ اگر یہ نیت تبدیلی لانے والی ہو توجائز ہوگا کہ جنب پورا قرآن بہ نیت شفا پڑھ جائے اس لئے کہ قرآن شروع سے آخرتک سبھی نوروہدایت اورشفا ہے۔اوراس جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہوسکتا۔الحاصل تعویذ میں خود قرآن ہی مقصود ہوتاہے غیر قرآن مقصود نہیں ہوتا۔ دیکھئے ایک صحابی نے کچھ بکریاں لینے کی شرط پرجب سانپ کاٹے شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے توانہوں نے اسے مکروہ وناپسند سمجھااورکہا کہ تم نے کتاب اللہ پر اجرت حاصل کی، یہاں تک کہ ان حضرات نے مدینہ حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ! اس نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے۔ تو رسول اللہ نے فرمایا: جن پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ حق کتاب اللہ کا ہے جیسا کہ بخاری کی جامع صحیح میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے توتعویذ بنانے اور دم کرنے سے سورہ فاتحہ کتاب اللہ ہونے سے خارج نہ ہوئی جب کہ دعا و ثنا ہونے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا کیا حال ہوگا جو دعا وثنا بننے کے قابل نہیں۔
ف ۱ : تطفل علی سیدی عبد الغنی و ش ۔

ف ۲ : تطفل اخر علیھا ۔   ف ۳: تطفل ثالث علیھما ۔
اما فـــ۱ ما افاد من ان النیۃ لاتعمل فی المکتوب فاقول نعم ماکتب قرانا ولو فاتحۃ لایصح للجنب ان یقول فی نفسہ لیس ھذا قرانا بل دعاء اویقول لا ارید بہ قرانا بل دعاءوثناء ثم یمسہ اذلا مدخل لارادتہ فی ظھورہ فی ھذہ الکسوۃ التی قدتم امرھا۔
اور یہ جو افادہ کیاکہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تومیں کہتا ہوں ہاں جسے بطور قرآن لکھاگیا اگرچہ وہ سورہ فاتحہ ہی ہواس سے متعلق یہ نہیں ہوسکتاکہ جنب اپنے دل میں کہے یہ قرآن نہیں بلکہ دعا ہے یا کہے میں اس سے قرآن کا قصد نہیں بلکہ دعا وثنا کا قصد کرتا ہوں، پھر اسے مس کرے ، اس لئے کہ اس کے ارادہ کا اس حصہ قرآن کے اس لباس میں ظاہر ہونے میں کوئی دخل نہ ہوا اس کاکام توپہلے ہی انجام پذیر ہوچکاہے۔
ف ۱: مسئلہ لکھے ہوئے قرآن کو جنب اپنی نیت سے نہیں بدل سکتا مگر سورۃ فاتحہ تنہا کہیں لکھی ہے اس میں یہ نیت کرلے کہ یہ ایک دعا ہے اور اسے ہاتھ لگائے یہ جائز نہیں ۔
اما ان ینشیئ فـــ ۲ کتابۃ مثلھا وینوی الدعاء والثنا فاقول قضیۃ ماقدمت من التحقیق المنع لان الاذن ورد للحاجۃ ولا حاجۃ فی الدعاء والثناء الی الکتابۃ وما ورد علی خلاف القیاس لایتعداہ وبہ یظھر انہ لایؤذن فی کتابۃ الرقی بالایات وان تمحضت للدعاء والثناء ونواھما فلیراجع ولیحرر واللّٰہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
    رہی یہ صورت کہ ازسرِ نو وہ اسی طرح لکھے اور دعاوثنا کی نیت رکھے تومیں کہتا ہوں سابقاً میں نے جو تحقیق رقم کی اس کا تقاضا یہی ہے کہ ممانعت ہو اس لئے کہ اجازت حاجت کے باعث ہوئی ہے اور دعا وثنا میں کتابت کی کوئی حاجت نہیں۔ اورجو امر خلافِ قیاس وارد ہوتاہے وہ اپنی جگہ سے متجاوزنہیں ہوتا۔ اسی سے ظاہر ہے کہ جنب کوآیات کے تعویذات لکھنے کی اجازت نہ ہوگی اگرچہ وہ خالص دُعا وثنا پر ہی مشتمل ہوں اور دُعا وثناہی کی نیت بھی ہو۔ اس بارے میں مزیدمراجعت کی جائے اور اس کا حکم واضح کرلیا جائے۔اور خدائے پاک وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔
ف۲: مسئلہ آیات دعا وثناکو بہ نیت دعا و ثنا پڑھنے کی اجازت ہے لکھنے کی اجازت نہ ہونی چاہیئے اگرچہ دعا ہی کی نیت کرے تو جنب وہ تعویذ کسی نیت سے نہ لکھے جس میں آیات قرآنیہ ہوں ۔
تنبیہ مہم فــــ یہ کہ ہم نے سلسلہ کلام میں اوپر ذکر کیا کہ غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا، مولیٰ کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے فرمائے دوسرا کہے تو اس کی زبان گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے للہ المثل الا علی بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے ادب دینے جزم وعزم واحتیاط اتم سکھانے کیلئے مثلاً بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا باپ کو اس کا اختیار تھا اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے، حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ ومردود ناسزا ومستحق عذاب وتعزیر وسزا ہوگا، جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذابِ جہنم وغضب الٰہی کا مستحق نہ ہوگا والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
ف: فائدہ ضروریہ : تلاوت قرآن یا قراء ت حدیث کے سوا اپنی طرف سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام خواہ کسی نبی کو معصیت کی طرف منسوب کرنا سخت حرام ہے ۔
امام عبداللہ قرطبی تفسیر میں زیر قولہٖ تعالیٰ
وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنۃ ۱؎
 ( اور آدم و حوا اپنے جسم پر جنت کے پتے چپکانے لگے ۔ت )کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
قـال القاضی ابو بکر بن العربی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ لایجوز لاحدمنا الیوم لا یخبر بذلک عن اٰدم علیہ الصّلاۃ والسّلام الا اذا ذکرناہ فی اثنأ قولہ تعالی عنہ اوقول نبیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فاما ان نبتدئ ذالک من قبل انفسنا فلیس بجائزلنا فی ابائھا الاَدَنین الینا المما ثلین لنا فکیف بابین الاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۱؎۔
قاضی ابو بکرابن العربی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ :آج ہم میں سے کسی کے لئے حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متعلق یہ کہنا جائز نہیں مگر صرف اس صورت میں کہ اسے باری تعالٰی کے کلام یا اس کے نبی کے کلام کے اثناء میں ذکر کریں۔اسے ابتداءً اپنی طرف سے بتانا توہمارے لئے اپنے ان قریبی آباء کے حق میں بھی جائز نہیں جو ہماری ہی طرح ہیں پھر ان کے حق میں کیوں کر روا ہوگا جوہمارے سب سے پہلے باپ ہیں جو بڑی عظمت وبزرگی والے اور سب سے پہلے نبی بھی ہیں، ان پر اور تمام انبیاء ومرسلین پر خدائے بر تر کا درود سلام ہو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۰ / ۱۲۱ )(۱؎ الجامع للاحکام القرآن تحت الایہ ۲۰ / ۱۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۱ / ۱۲۹

مدخل لابن الحاج    فصل فی مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم    بیروت    ۲ /۱۶)
امام ابو عبداللہ محمد بن عبدری ابن الحاج مدخل میں فرماتے ہیں:
قد قال علما ؤ نا رحمہم اللّٰہ تعالٰی ان من قال عن نبی من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عصٰی اوخالف فقد کفر نعوذ باللّٰہ من ذلک ۲؎۔
    ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی نبی کے بھی بارے میں غیر تلاوت وحدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نا فرمانی یا خلاف ورزی کی تووہ کافرہے، اس سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔(ت)
 (۲؎ مدخل لابن الحاج    فصل فی مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم    بیروت    ۲ /۱۵)
ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے اللہ تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے ۔ آمین
وصلی اللّٰہ تعالی علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین وبارک وسلم واللّٰہ سبحنہ وتعالی اعلم
Flag Counter