Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
134 - 135
ظاہر ہے کہ ان کے ماورا مثل قصص وغیرہا میں نہ تو حاجت ہے نہ وہ دُعا وثنا کے معنے ہیں کہ ان سے ملحق ہوسکیں تو بعد قصد قرآن پھر تبدیل نیت وہی شہد کو دانستہ نمک ٹھہرا کر کھانا ہوگا تو حکم ممانعت ہی چاہئے جب تک شرع سے اجازت ثابت نہ ہو اور وہ کہیں ثابت نہیں۔ معہذا اگر مطلق تبدیل نیت کی اجازت ہو تو جو کلام طویل قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں مقبولوں یا دشمنوں سے نقل فرمائے اور دُور تک ان کا سلسلہ چلا گیا ہے جیسے سورہ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام میں قال چھوڑ کر
ربّ انی دعوت قومی لیلا ونھارا ۲؎oسے لتسلکوا منھا سبلا فجاجا ۳؎o
تک سولہ آیتیں متواتر، اور سورہ جن میں
انا سمعنا قراٰنا عجبا ۴؎ o سے واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا ۵؎o
تک پندرہ آیتیں، اور سورہ لقمان میں
یبُنیَّ انھا ان
تک سے
ان انکرا الاصوات لصوت الحمیر ۷؎o
تک چار طویل آیتیں کہ ہر ایک تین آیت کی مقدار سے زائد ہے اور سورہ اسرا میں وقالوا چھوڑ کر
 لن نؤمن ۱؎ سے کتٰبا نقرؤہ ۲؎
تک اس نیت سے کہ یہ نوح ولقمان وجن وکفار کے کلام ہیں پڑھ سکے بلکہ تمام سورہ یوسف علیہ الصّلٰوۃ والسلام شروع سورت کے
 اذقال یوسف لابیہ ۳؎
سے گیارھویں رکوع کے اواخر
والحقنی بالصالحین ۴؎o
تک جس کی مقدار نصف پارہ قرآن عظیم سے بھی زائد ہے بحالِ جنابت بہ نیت حکایت قصّہ پڑھ جائے اور جائز ہو صرف بیچ بیچ میں سے چند جملے جو قرآنیت کیلئے متعین ہیں ترک کردے یعنی رکوع دوم میں
واوحینا الیہ لتنبئنھم ۵؎
نصف آیت سوم میں
وکذلک مکّنّا سے نجزی المحسنین ۶؎ o
تک کچھ کم دو آیتیں، پھر
کذلک لنصرف ۷؎
نصف آیت ہفتم میں
وکذلک مکنا ۸؎
ایک آیت ہشتم میں
وانہ لذو علم لما علمنہ ۹؎
تہائی آیت نہم میں
کذلک کدنا لیوسف اور نرفع درجٰت من نشاء ۱۰؎
چہارم آیت وبس جس کی مقدار چورانوے آیت طویل ہوئی یہ کس قدر مستبعد اور قرآن عظیم کے ادب سے جدا وابعد ہے تو سوا اُ ن صور استثناء کے مطلقاً ممانعت چاہئے
(۲؎ القرآن    ۲۹ /۵ ۳)(؎ القرآن ۲۹ /۲۰ ۴)

(؎ القرآن    ۲۹ /۱ )(۵؎ القرآن    ۲۹ /۱۵)

( ۶؎ القرآن    ۲۱ /۱۶  )(۷؎ القرآن    ۲۱ /۱۹)

 (۱؎ القرآن    ۱۵ /۹۰ )(   ۲؎ القرآن    ۱۵ /۹۳ )

( ۳؎ القرآن    ۱۲ /۴ ۴)(؎ القرآن    ۱۲ /۱۰۱ )

(۵؎ القرآن    ۱۲ /۱۵) (  ۶؎ القرآن    ۱۲ /۲۱۔۲۲)

( ۷؎ القرآن    ۱۲ /۲۴ )(  ۸؎ القرآن    ۱۲ /۵۶)

(۹؎ القرآن    ۱۲ /۶۸)(۱۰؎ القرآن   ۱۲ /۷۶)
اور فــــ۱حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ بہ نیت قرآن ایک حرف بھی روا نہیں اور جو الفاظ اپنے کلام میں زبان پر آجائیں اور بے قصد موافقت اتفاقا کلمات قرآنیہ سے متفق ہوجائیں زیر حکم نہیں اور قرآن عظیم کا خیال کرکے بے نیت قرآن ادا کرنا چاہئے تو صرف دو صورتوں میں اجازت ایک یہ کہ آیات دعا وثنا بہ نیت ودعا وثنا پڑھے دوسرے یہ کہ بحاجتِ تعلیم ایک ایک کلمہ مثلاً اس نیت سے کہ یہ زبان عرب کے الفاظ مفردہ ہیں کہتا جائے اور ہر دو لفظ میں فصل کرے متواتر نہ کہے کہ عبارت منتظم ہوجائے کما نصوا علیہ ان کے سوا کسی صورت میں اجازت نہیں ( جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ت )
فـــ۱ مسئلہ ان مسائل کا خلاصہ حکم جامع و منقح ۔
ھذا ماظھرلی وارجوا ن یکون صوابا وباللّٰہ التوفیق وللّٰہ الحمدا بدا۔
یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور امید رکھتاہوں کہ درست ہو،اورخداہی سے توفیق ہے اوراللہ ہی کے لئے ہمیشہ حمد ہے۔(ت)
تنبیہ ۲: اقول تمام کتب فــــ ۲ میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایک قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علماء  نے ذکر نہ فرمائی وہ آیاتِ ثنا جن میں رب عزّوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے وانی لغفار لمن تاب اُن کو بہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کیلئے متعین ہیں بندہ اُنہیں میں انشائے ثنا کی نیت کرسکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔
فـــ۲ : مسئلہ جنب کو وہ آیات ثنابہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے جن میں رب عزوجل نے اپنے لئے متکلم کی ضمیریں ذکر فرمائیں
تنبیہ ۳: اقول یہاں فــــ۳ ایک اور نکتہ ہے بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا وثنا ہیں کہ بندہ ان کی انشا کرسکتا ہے بلکہ بندہ کو اسی لئے تعلیم فرمائی گئی ہیں مگر اُن کے آغاز میں لفظ قل ہے جیسے تینوں قل اور کریمہ
قل اللھم مٰلک الملک ۱؎
ان میں سے یہ لفظ چھوڑ کر پڑھے کہ اگر اس سے امر الٰہی مراد لیتا ہے تو وہ عین قرأت ہے اور اگر یہ تاویل کرے کہ خود اپنے نفس کی طرف خطاب کرکے کہتا ہے قل اس طرح کہہ یوں ثنا ودعا کر۔ تو یہ امر بدعا وثنا ہوا نہ دعا وثنا اور شرع سے اجازت اس کی ثابت ہوئی ہے نہ اُس کی۔
فـــ۳ : مسئلہ جن آیات دعا وثنا کے اول میں قل ہے ان میں جنب یہ لفظ چھوڑ کر بہ نیت دعا پڑھے ورنہ جائز نہیں ۔
 (۱؎ القرآن الکریم۳ /۲۶)
تنبیہ ۴: اقول یوں ہی فــــ۱ وہ ادعیہ واذکار جن میں حروف مقطعات ہیں مثلاً صبح فــــ۲ وشام کی دُعاؤں میں آیۃ الکرسی کے ساتھ سورہ غافر کا آغاز
حٰم o تنزیل الکتٰب من اللّٰہ العزیز العلیمo غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطّول ط لا الٰہ الا ھو ط الیہ المصیر۲؎o
تک پڑھنے کو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو صبح پڑھے شام تک ہر بلا سے محفوظ رہے اور شام پڑھے تو صبح تک
رواہ الترمذی۳؎ والبزار وابنا نصر ومردویہ والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم
بحال جنابت اسے نہیں پڑھ سکتا ہے کہ حروف مقطعات کے معنے اللہ ورسول ہی جانتے ہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا معلوم کہ وہ ایسا کلام ہو جس کے ساتھ غیر خدا بے حکایت کلام الٰہی تکلم نہ کرسکتا ہو۔ معہذا اجازت صرف دعا وثنا کی ہے کیا معلوم کہ ان کے معنے میں کچھ اور بھی ہو واللہ تعالٰی اعلم۔
فــــ ۱: مسئلہ اسے حروف مقطعات والی دعا کی بھی اجازت نہیں ۔ 

فــــ ۲: بلاؤں سے محفوظی کی دعا۔
 (۲؎ القرآن    ۴۰/ ۱ تا ۳

۳؎ الدر المنثور بحوالہ الترمذی والبزار ومحمد بن نصر الخ تحت الایۃ ۴۰/ ۱ تا ۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷ / ۲۳۳ )
تنبیہ ۵: اقول ہماری اُس تقریر سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ جن آیات فــــ۳ میں بندہ دعا وثنا کی نیت نہیں کرسکتا بحال جنابت وحیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا مثلاً تفریق اعدا کے لئے سورہ تبت نہ کہ سورہ کوثر کہ بوجہ ضمائر متکلم انا اعطینا قرآنیت کے لئے متعین ہے عمل میں تین نیتیں ہوتی ہیں یا تو دعا جیسے حزب البحر، حرزیمانی یا اللہ عزوجل کے نام وکلام سے کسی مطلب خاص میں استعانت جیسے عمل سورہ یٰس وسورہ مزمل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا اعداد معینہ خواہ ایام مقدرہ تک اس غرض سے اس کی تکرار کہ عمل میں آجائے حاکم ہوجائے اُس کے موکلات تابع ہوجائیں اس تیسری نیت والے تو بحال جنابت کیا معنے بے وضو پڑھنا بھی روا نہیں رکھتے اور اگر بالفرض کوئی جرأت کرے بھی تو اس نیت فـــ۱سے وہ آیت وسورت بھی جائز نہیں ہوسکتی ۔جس میں صرف معنی دعا وثنا ہی ہے کہ اولا یہ نیت نیت دعا وثنا نہیں، ثانیا اس میں خود آیت وسورت ہی کہ تکرار مقصود ہوتی ہے کہ اس کے خدام مطیع ہوں تو نیت قرآنیت اُس میں لازم ہے۔ رہیں پہلی دو نیتیں جب وہ آیات معنی دعا سے خالی ہیں تو نیت اولٰی ناممکن اور نیت ثانیہ عین نیت قرآن ہے اور بقصد قرآن اُسے ایک حرف روا نہیں۔
ف ۳: مسئلہ جن آیات میں خالص دعا و ثنا نہیں انہیں جنب یا حائض بہ نیت عمل بھی نہیں پڑھ سکتے ۔

ف۱:مسئلہ صرف عمل میں لانے کی نیت سے جنب و حائض خالص آیات دعا وثنا بھی نہیں پڑھ سکتے ۔
تنبیہ۶: یہی حکم دم کرنے کیلئے پڑھنے فــــ ۲کا ہے کہ طلب شفا کی نیت تغییر قرآن نہیں کرسکتی آخر قرآن ہی سے تو شفا چاہ رہا ہے کون کہے گا کہ
افحسبتم انمافــــ ۳خلقنکم عبثا ۱؎
تا آخری سورت عـــہ مصروع ومجنون کے کان میں جنب پڑھ سکتا ہے ہاں جس آیت یا سورت میں خالص معنی دعا وثنا بصیغہ غیبت وخطاب ہوں اور اُس کے اول میں قُل بھی نہ ہو نہ اُس میں حروف مقطعات ہوں اور اس سے قرآن عظیم کی نیت بھی نہ کرے بلکہ دعا و ثنا کی برکت سے طلب شفا کرنے کیلئے اس پر دم کر ے تو روا ہے۔
عـــہ حدیث میں ہے کہ کوئی آسیب زدہ یا مجنون تھا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے کان میں یہی آیتیں پڑھیں وہ فوراً اچھا ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا؟ انہوں نے عرض کیا فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سچے یقین والا اگر ان آیتوں کو پہاڑ پر پڑھے تو اُسے جگہ سے ہٹادے گا اخرجہ الامام الحکیم الترمذی وابو یعلی وابن حاتم وابن السنی وابو نعیم فی الحلیۃ وابن مردو یہ عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ رحمۃ اللّٰہ علیہ

ف۲ :مسئلہ دم کرنے کے لئے بھی جنب وہی خالص آیات دعا وثنا بے نیت قرآن خاص بہ نیت دعا و ثنا ہی پڑھ سکتا ہے 

ف۳ :آسیب زدہ و مصروع و مجنون کا علاج ۔
 (ا؎ القرآن الکریم ۲۳ / ۱۱۵

۲؎ الدر المنثور  بحوالہ  الحکیم  و ابی یعلی وابن ابی حاتم و غیرھم تحت  الایۃ۲۳ / ۱۱۵     داراحیاء التراث العربی بیروت       ۶/ ۱۱۴)
Flag Counter