Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
133 - 135
اقول: نعم لایثاب فــ۲ ثواب التلاوت من نواہ دعاء لکن القراٰن کیف ینسلح عن القراٰنیۃ مع بقاء النظم المتحدی بہ واذا لقصد الی الاخذ منہ فمجرد صرف النیۃ کیف یزیل التعظیم الواجب علیہ فان صرفہا عن شیئ مع العلم بہ انکان لہ اثر ففی حرمان الصارف عما ھو لہ دون اسقاط ماھو علیہ وبالجملۃ لیس فی شیئ من ھذہ مایغنی من جوع۔
اقول : ہاں جس نے دعا کا قصد کیا اسے تلاوت کا ثواب نہیں ملے گا لیکن جس نظم کے ذریعہ تحدّی ہوئی ہے اس کے برقرار رہتے ہوئے قرآن سے قرآنیت کیونکر نکل جائے جب کہ قرآن ہی سے اخذ کا قصد بھی موجود ہے، تو محض نیت کے پھیردینے سے وہ اس تعظیم کو کیسے ختم کردے گا جو اس کے ذمہ واجب تھی۔ اس لئے کہ کسی چیز کو جانتے ہوئے اس سے نیت پھیرلینے کا اگرکوئی اثر ہوسکتاہے تویہی کہ اس میں اس کاجو فائدہ تھا اس سے وہ محروم ہوجائے نہ یہ کہ اس پر جو لازم تھا وہ بھی اس سے ساقط ہوجائے۔ الحاصل ان میں سے کسی میں کوئی کار آمد بات نہیں ۔
ف۲:تطفل علی الغنیۃ ۔
ثم اقول :  عساک فــ۳ ایقنت مما القیت علیک ان المناط ھو ان یعمد الی القراٰن فیاخذ من نظمہ ویقرأہ علی نیۃ غیرہ سواء کان قدر ما وقع بہ التحدی اولا فان القلیل والکثیر من الکلام العزیز سواء فی وجوب الادب والتعظیم اما سمعت الی قول حبر الامۃ سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمالیس شیئ من القرآن بقلیل فتخصیص المحقق الکلام بما تحدی بہ لیس فی محلہ، ولا یتوقف فــ علیہ کونہ قرآنا حقیقۃ وحکما ولفظاً ومعنیً کما یوھمہ کلامہ نعم لزوم الخصوصیۃ القراٰنیۃ یختص بذلک لاستحالۃ جریانہ علی اللسان اتفاقا دون مادونہ کما علم من موافقات الفرقان والفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وقولہ عند سماع ایۃ اطوار الخلق
 فتبٰرک اللّٰہ احسن الخالقین
فنزل کذلک لکن اسمعناک ان لاحاجۃ الیہ بعد تعمد الاخذ من القراٰن العظیم فھو بما فی نفسہ علیم فافھم وتثبت۔
ثم اقول امید ہے کہ ناظر کو ہمارے بیا ن سابق سے اس بات کا بھی یقین حاصل ہوچکا ہوگاکہ مدار اس پر ہے کہ قرآن کی طرف توجہ کرکے اس کے نظم سے کچھ اخذ کرے اور اسے غیر قرآن کی نیت سے پڑھے، خواہ وہ اس مقدار میں ہو جس سے تحدی ہوئی ہے یا نہ ہواس لئے کہ وجوب ادب وتعظیم کے معاملہ میں کلام عزیز کے قلیل وکثیر کا حکم ایک ہے۔آپ سن چکے کہ حبراُمت سیّدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا : قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں۔ تو محقق حلبی نے اپنی گفتگو جو مقدار تحدی سے خاص فرمائی وہ بے محل ہے۔اور اس کا حقیقۃً،حکماً،لفظاً،معنیً قرآن ہونا اس پر موقوف بھی نہیں جیساکہ ان کے کلام سے وہم ہوتاہے ۔ہاں خصوصیت قرآنیہ مقدار تحدی ہی کو لازم ہے اس لئے کہ اسی مقدار کا زبان پر اتفاقاًجاری ہوجانا محال ہے اس سے کم کا نہیں۔ جیساکہ فرقان اورجناب فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے موافقات سے معلوم ہے اور اس سے بھی کہ جب تخلیق کے مراحل کے ذکر پر مشتمل آیت مبارکہ سُنی توکہہ دیا ''فتبارک اللہ احسن الخالقین'' پھر ایسا ہی نازل بھی ہوا۔لیکن ہم بتا چکے کہ جب خود اس کے دل میں قرآن عظیم سے اخذ کا قصد موجود ہے تو تحدی والی گفتگو کی یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ اسے اپنے دل کی بات کا خود ہی علم حاصل ہے،تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔(ت)
ف۳: تطفل علی الحلیۃ ۔	ف۳: تطفل اخر علیھا۔
 (۱؎القرآن الکریم ۲۳ / ۱۴)
تو واجب تھا کہ سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی بالائے سرفقط
الحمدللّٰہ یا سبحٰن اللّٰہ یا لاالہٰ الا اللّٰہ
بھی جُنب کو جائز نہ ہو جبکہ ان میں اخذ عن القرآن کا قصد کرے اگرچہ نیت قرآن سے پھیر کر غیر قرآن کی کرلے، مگر شرع مطہر نے لحاظ فرمایا کہ مسلمان ہر وقت ہر حال میں اپنے رب جل وعلا کے ذکر وثنا اور اُس سے سوال ودعا کا محتاج ہے اور ثنائے الٰہی وہی اتم واکمل ہے جو خود اُس نے اپنے نفس کریم پر کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں:
لااحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک ۱؎۔
الٰہی! میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسی تُو نے خود اپنی ثنا کی۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الصلوۃ باب القنوت فی الوتر     آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۲۰۲)
یوں ہی جو دعائیں قرآن عظیم نے تعلیم فرمائیں بندہ اُن کی مثال کہاں سے لاسکتا ہے رحمت شریعت نے نہ چاہا کہ بندہ ان خزائن بے مثال سے روکا جائے علی الخصوص حیض ونفاس والیاں جن کی تہائی عمر انہیں عوارض میں گزرتی ہے لہٰذا یہاں بہ تبدیل نیت اجازت فرمائی جسے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بہ نیت افتتاح کہنے کے جواز پر علماء نے ظاہر کردیا اس کی نظیر یہ ہے کہ نماز فــــ میں کسی کلام سے اگرچہ آیت یا ذکر الٰہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا
الحمدللّٰہ رب العٰلمین
یا خبر غم کے جواب میں
انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون
یا کسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اُس کی خوبی بتانے کو کہا
سبحان اللّٰہ
نماز جاتی رہے گی مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں
لا الٰہ الا اللّٰہ یا سبحٰن اللّٰہ
یا اس کے مثل ذکر یا قرآن عظیم سے کچھ کہا نماز نہ جائے گی کہ شرع مطہر نے اس حاجت کے دفع کو اتنے کی اجازت عطا فرمادی،
ف: مسئلہ نماز میں اگر کسی آیت یا ذکر الہی سے کسی شخص کو خطاب یا بات کا جواب چاہے گا مثلا بقصد جواب خوشی کی خبر پر الحمدللہ رنج کی خبر پر انا للہ وا نا الیہ راجعون کہا نماز جاتی رہے گی ہاں اگر کسی نے پکارا اسے یہ جتانے کے لئے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں سبحان اللہ یا لاالہ الا اللہ وغیرہ کہا نمازنہ جائے گی
درمختار میں ہے:
یفسدھا جواب خبر سوء بالاسترجاع ۱؎۔
خبر بد کے جواب میں
اناّ للہ واناّ الیہ راجعون
پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔(ت)
 (۱؎ ؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۸۹)
اُسی میں ہے:
اراد ا علامہ بانہ فی الصلاۃ لاتفسد اتفاقا ابن ملک وملتقی ۲؎۔
اگر یہ بتانے کا ارادہ ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس سے نماز بالا تفاق فاسدنہ ہوگی، ابن ملک وملتقی۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۸۹)
ہدایہ میں ہے:
لواجاب رجلا فی الصلاۃ بلا الٰہ الا اللّٰہ فھذ اکلام مفسدوان اراد اعلامہ انہ فی الصلاۃ لم تفسد بالاجماع لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا نابت احدکم نائبۃ فی الصلٰوۃ فلیسبح اھ۳؎۔
اگر اندرونِ نماز
لا الٰہ الاّ اللہ
کہہ کر کسی کو جواب دیا تویہ کلام مفسدِ نماز ہے اور اگر اپنے اندرونِ نماز ہونے سے اس کو آگاہ کرنا مقصود ہے تو بالاجماع نماز فاسد نہ ہوگی اس لئے کہ حضور کا ارشاد ہے :
جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے اھ۔(ت)
 (۳؎ الہدایۃ     کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱ /۱۱۶)
اقـول فبھذا ظھر الجواب عن بحث الحلیۃ وللّٰہ الحمد ومحصلہ ان ذلک مستثنی بالاذن الشرعی کما استثنی بہ قصد الاعلام بانہ فی الصلاۃ مع تحقق المعنی المفسد قطعا وھو افادۃ معنی لیس من اعمال الصلاۃ فافھم وتثبت۔
اقول تواسی سے بحث حلیہ کاجواب ظاہر ہوگیا۔وللہ الحمد۔اوراس کا حاصل یہ ہے کہ یہ باذنِ شریعت مستثنیٰ ہے جیسے باذن شرعی اپنے مشغولِ نماز ہونے کو بتانے کا قصد مستثنٰی ہے باوجودیکہ معنی مفسد قطعاً متحقق ہے،وہ ہے ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے نہیں ۔تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔(ت)

اور جب حاجت اکملیت ذکر ودعا کا لحاظ فرمایا تو حاجت تعلیم قرآن تو اُس سے اہم ہے خصوصاً حائض کیلئے کہ اس کا زمانہ ممتد ہے
حتی ان مالکا اباح لھا التلاوۃ لھذا وبہ فرق بینھا وبین الجنب ۔
 (یہاں تک کہ اسی وجہ سے امام مالک نے اس کے لئے تلاوت جائز کہی، اوراسی سے اس میں اور جنب میں فرق کیا۔(ت) 

مگر یہ حاجت ایک ایک کلمہ سکھانے سے پوری ہوجاتی ہے اور شک نہیں کہ وہ بہ نسبت مرکبات صورت نظم قرآنی سے دور تر ہے لہٰذا اسی قدر کی اجازت ہوئی۔
وقد اشار الامام الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر الی ان اباحۃ التعلیم لاجل العذر کما فی الحلیۃ وعبر فی محیط السرخسی بالعذر والضرورۃ کما فیھا ایضا۔
امام فقیہ ابو اللیث نے شرح جامع صغیر میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تعلیم کا جوازعذر کی وجہ سے ہے۔ جیساکہ حلیہ میں نقل کیا۔اورمحیط سرخسی کی تعبیریہ ہے کہ ''عذروضرورت کی وجہ سے ہے''۔اسے بھی حلیہ میں نقل کیا۔
اقول وبمافــ قررت وذکرت من حدیث اعلام الصّلاۃ مع عدم الضرورۃ بالمعنی الحقیقی ومن اعتبار الشرع حاجۃ الجنب فی الدعاء مع تمکنہ من الاغتسال بل ومن الدعاء بالفاظ اُخر بخلاف التعلیم ینفتح الجواب عن ایرادی الحلیۃ علی مسألۃ التعلیم بقولہ لایخفی مافیہ بالنسبۃ الی الجُنب ثم مافی کون ھذا الاحتیاج مبیحا لذلک ۱؎ اھ فافھم واعلم واللّٰہ اعلم۔
اقول میری تقریر سابق سے اور اس بیان سے کہ اپنے مشغول نماز ہونے کو مذکورہ کلمات سے بتاسکتا ہے جب کہ یہاں ضرورت بمعنی حقیقی موجود نہیں۔اور یہ کہ شریعت نے دُعاکے معاملہ میں جنب کی حاجت کا لحاظ کیا ہے حالاں کہ وہ غسل کرسکتا ہے بلکہ دوسرے الفاظ سے دعابھی کرسکتاہے۔ بخلاف تعلیم کے۔(اس تقریر وبیان سے) صاحبِ حلیہ کے دو اعتراضوں کا جواب منکشف ہوجاتا ہے جو انہوں نے مسئلہ تعلیم سے متعلق ان الفاظ میں پیش کئے ہیں کہ: اس مسئلہ میں جنب کی بہ نسبت جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں ۔پھر اس کے لئے تعلیماًکلمہ قرآن پڑھنے کے حکم میں اس ضرورت کے باعث اباحت ہونے میں جوکلام ہے وہ بھی مخفی نہیں اھ۔تواسے سمجھو اورجانو ۔واللہ اعلم۔(ت)
ف : تطفل رابع و خامس علیہا۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیتہ المصلی     )
Flag Counter