ثانیا : عیون فـــ کا اتنا مفاد مسلم کہ آیاتِ دعا میں نیت دُعا درکار ہے نہ یہ کہ نیت دعا ہی پر مدار ہے،
وذلک انہ تصویرلنیۃ غیر القران وھی فی ایات الدعاء بنیۃ الدعاء فیفید ان الجواز بنیۃ الدعا مقصور علی آیات الدعاء لاقصر الجواز مطلقا علی نیۃ الدعاء کأن تقول لو قرأ التسمیۃ بنیۃ الافتتاح ولم یرد القراء ۃ فلا بأس بہ لایدل علی قصر الحکم فی جمیع القران علی نیۃ الافتتاح۔
وہ اس لئے کہ عبارتِ عیون میں نیت غیر قرآن کی صورت پیش کی گئی ہے وہ یہ کہ آیاتِ دعا بہ نیتِ دعا پڑھی جائیں اس کا مفاد یہ ہے کہ آیاتِ دعا پڑھنے کا جواز صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ بہ نیتِ دعا پڑھی جائیں،نہ یہ کہ مطلقاً ہر آیت پڑھنے کا جواز صرف نیتِ دعا ہی کی صورت میں محدود ہے۔ مثلاً کہاجائے کہ اگر کام شروع کرنے کے ارادہ سے بسم اللہ پڑھی اورتلاوت کی نیت نہ کی تواس میں کوئی حرج نہیں، تواسکا یہ معنی نہ ہوگا کہ پورے قرآن میں حکمِ جواز بس اسی ایک صورت میں محدود ہے کہ اسے کوئی کام شروع کرنے کے ارادہ سے پڑھا جائے۔(ت)
فــ:تطفل آخرعلیھما۔
لکنی اقول وباللہ التوفیقْ
(لیکن خداکی توفیق سے میں کہتاہوں۔ت)تحقیق مقام فـــ۱ یہ ہے کہ یہاں دوصورتیں ہیں: عدم نیت واعدام نیت ۔عدم نیت یہ کہ بعض الفاظ اتفاقا موافق نظم قرآن زبان سے اپنے کلام سے ادا ہوجائیں جیسے صورمذکورہ میں ثم نظراور ولم یولد کہ ان کے تکلم کے وقت خیال بھی نہیں جاتاکہ یہ الفاظ آیات قرآنیہ ہیں یہاں قرآن عظیم کی طرف قصد سرے سے پایاہی نہ گیا۔اور اعدام نیت یہ کہ آیات قرآنیہ کی طرف التفات کرے اوربالقصدانہیں نیت قرآن سے پھیرکر غیرقرآن کاارادہ کرے ۔آیۃ الکرسی یاسورۃ فاتحہ یاسورہ تبت وغیرھاہرکلام طویل میں یہی صورت متحقق ہوسکتی ہے ،ناممکن ہے کہ بلاقصد زبان سے تین آیت کے برابر کلام نکل جائے جوبالکل نظم قرآنی کے موافق ہوکہ اس قدرسے تحدی فرمائی گئی ہے توکوئی اتنے پرکیوں کر قادر ہوسکتاہے ۔نہیں بلکہ یقیناالفاظ قرآنیہ ہی کا قصد کرے گا پھر ان کو بالارادہ نیت قرآن سے نیت غیر قرآن کی طرف پھیر ے گااورموجودات حقیقیہ اعتبارمعتبرکے تابع نہیں ہوتے ،نہ باوجود علم قصدا تبدیل نیت سے علم منتفی ہوااگرکوئی شخص شہد کوجان بوجھ کراس نیت سے کھائے کہ یہ شہد نہیں نمک ہے ، تونہ وہ واقعی نمک ہوجائے گا نہ اس کاعلم کہ یہ واقع میں شہد ہے زوال پائے گا۔یونہی جب اس نے نظم قرآنی کی طرف قصدکیااوراسے اداکرناچاہاتوباوصف علم حقیقت اس کا یہ خیال کرلیناکہ میں یہ قرآن نہیں پڑھتا کچھ اورپڑھتاہوں ،نہ قرآن عظیم کو اس کی حقیقت سے مغیرہوسکتاہے نہ یہ دیدہ ودانستہ اس تبدیل خیال سے کچھ نفع پاسکتاہے توکیونکرممکن کہ تعظیم قرآن عظیم کے لئے جوحکم شرع مطہرنے اسے دیایہ دانستہ نیت پھیرکراسے ساقط کردے۔
فـــ۱:مسئلہ قراء ت جنب کی صورتوں میں مصنف کی تحقیق جلیل مفرد۔
اقول وبہ فــ۲ استبان ضعف مااجاب بہ العلامۃ اسمٰعیل فی حواشی الدرر عن بحث الحلیۃ فی قراء ۃ الفاتحۃ بنیۃ الدعاء اذ قال المحقق ان ھذا قراٰن حقیقۃ وحکما و لفظا ومعنی کیف لا وھو معجز یقع بہ التحدی وتغییر المشروع فی مثلہ بالقصد المجرد مردودعلی فاعلہ فان الخصوصیۃ القراٰنیۃ فیہ لازمۃ قطعا ولیس فی قدرۃ المتکلم اسقاطھا عنہ مع ما ھو علیہ من النظم الخاص ۱؎ اھ۔
اقول اسی سے اس کی کمزوری واضح ہو گئی جو حواشی درر میں علامہ اسمٰعیل نے بہ نیتِ دعا قرأت ِ فاتحہ کے بارے میں بحثِ حلیہ کے جواب میں لکھا ہے۔محقق حلبی نے لکھا تھا: یہ حقیقۃً، حکماً،لفظاً، معنیً ہر طرح قرآن ہے ۔کیوں نہ ہو جب کہ یہ قدرِ معجز ہے جس سے تحدّی واقع ہوئی ہے اورایسے کلام میں جو امر شرعاً ثابت ہے اسے اگرکوئی محض نیت سے بدلنا چاہے تو وہ نیت خود رد ہوجائے گی اس لئے کہ اسے قرآنی خصوصیت قطعاً لازم ہے۔ اور اس نظم خاص پر اس کے برقرار ہوتے ہوئے اس خصوصیتِ قرآنیہ کو کوئی متکلم اس سے ساقط نہیں کرسکتا اھ۔
فــ۲:تطفل علی سیدی اسمعیل محشی الدرروالعلامۃ ش۔
(۱؎البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۹۹ )
فاجاب العلامۃ النابلسی وتبعہ فی المنحۃ بانہ اذا لم یرد بھا القراٰن فات مافیہ من المزایا التی یعجز عن الاتیان بھا جمیع المخلوقات اذ المعتبر فیھا القصد اما تفصیلا وھو من البلیغ اواجمالا وذلک بحکایۃ کلامہ وکلاھما منتف حینئذ کما لایخفی ۲؎ اھ۔
علامہ نابلسی نے اس کے جواب میں لکھا ۔اور منحۃ الخالق میں علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا۔ کہ:جب وہ اس کے پڑھنے میں قرآن کا قصد نہیں کرے گا تو اس کی وہ خصوصیات نہ رہ جائیں گی جنہیں بروئے کارلانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں اس لئے کہ ان خصوصیات میں قصد کا اعتبار ہے یا تو تفصیلاً ہو جوبلیغ کاکام ہے۔یا اجمالاً ہواس طرح کہ اس کاکلام بھی ویسا ہوجائے جیسا وہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں دونوں باتیں نہیں ہیں اھ۔
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ با ب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۹۹)
ولعمری ان فی حکایتہ غنی من نکایتہ ولیت شعری کیف تفوت المزایا الثابتۃ اللازمۃ الواقعیۃ بمجرد صرف القارئ النیۃ عن نسبۃ الی متکلمہ مع بقاء الکلام علی نظمہ وقد کان نبہ علیہ المحقق فی بحثہ فلم یلتفت الیہ العلامۃ واعاد الکلام من دون جواب ولاالمام۔
بخدا اس جواب کوذکر کردینا ہی اس کا منصف ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ جب تک وہ کلام اپنے نظم پر برقرار ہے اس کی لازمی، واقعی،ثابت شدہ خصوصیات محض اتنے سے کیوں کر ختم ہوجائیں گی کہ قاری نے اس کلام کے متکلم کی جانب انتساب سے اپنی نیت پھیرلی؟ اس پر تومحقق حلبی نے اپنی بحث ہی میں تنبیہ کردی تھی مگر علامہ نے اس کی طرف توجہ نہ کی اور وہی بات دہرادی نہ اس کا جواب دیا نہ جواب کے قریب گئے۔
واقول فی فــ۱الحل وجود المزایا بثبوتھا الواقعی وظھورھا بالعلم تفصیلا اواجمالا کما وصفتم وبھمایتم امرالتحدی وکلاھما حاصل حینئذ اذما قصد الاخذ الا مماھو قراٰن وما احدث الا صرف النیۃ ولا صرف الابعد العلم ولا علم ینتقی بالصرف۔
واقول حل مسئلہ سے متعلق میں عرض گزار ہوں۔ خصوصیات کا وجود توان کے ثبوت واقعی سے ہوتا ہے اوران کا ظہور ان کے تفصیلی یا اجمالی علم سے ہوتا ہے جیساکہ آپ نے بیان کیا۔ اورکارتحدی ان دونوں ہی سے مکمل ہوتا ہے۔اور دونوں اس صورت میں حاصل ہیں، اس لئے کہ اس نے اسی سے اخذ کاقصد کیا جو قرآن ہے۔ اور اپنی جانب سے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ نیت پھیردی۔اور پھیرنا علم کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اور پھیرنے سے علم ختم نہیں ہوجاتا۔
یہ بھی ہے کہ قصد پھیرنے کی وجہ سے اگرمخلوق کو عاجز کردینے والی خصوصیات ختم ہوجاتیں توضروری تھاکہ اس سے ان کی عاجزی بھی ختم ہوجاتی،اور یہ بداہۃً باطل ہے۔
فــ۲:تطفل ثالث علیھما۔
وکذا مااجاب النھر وتبعہ فی ردالمحتار بان کونہ قراٰنا فی الاصل لایمنع من اخراجہ عن القراٰنیۃ بالقصد ۱؎ اھ
اسی طرح اس جواب کا بھی ضعف واضح ہوگیا جو صاحبِ نہر نے پیش کیا۔اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ان کا اتباع کیا۔ کہ اصل میں اس کا قرآن ہونا اس سے مانع نہیں کہ قصد کے باعث وہ قرآنیت سے خارج ہوجائے اھ۔
(۱؎ النہرالفائق کتاب الطہارۃ باب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۱۶)
وقد کان اتی المحقق علی ھذا ایضا کما سمعت اما نحن فقد ف۱ وضحنا باحسن وجہ ان لااثر للقصد فی تغییرا الحقائق وکذا ماتقدم من تمسک الغنیۃ ان ماعلی وجہ الدعاء لیس بقراٰن لان الاعمال بالنیات ۱؎ الخ
محقق نے اپنے کلام میں اس کا بھی اشارہ دے دیا تھا جیسا کہ پیش ہوا۔اور ہم نے توبہت اچھی طرح واضح کردیا کہ قصد میں یہ تاثیر قطعاً نہیں ہوتی کہ وہ حقائق واقعیہ کو تبدیل کردے۔
اسی طرح اس کی کمزوری بھی عیاں ہوگئی جس نے غنیہ سے استناد کیاکہ''جو بطورِدعا ہووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پر ہے الخ''جیسا کہ گزرا۔
ف۱:تطفل علی النھر ورابع علی ش۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث قرأۃ القرآن للجنب سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷)