اقول اولا فـــ: وقع بحثہ علی خلاف المنصوص فی شرح الجامع الصغیر للامام فخرالاسلام فانہ اعتبرکون بعضھا کایۃ لاکثلٰث کما تقدم ۔
اقول اولا: ان کی بحث اس کے خلاف واقع ہے جو امام فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر میں منصوص ہے اس لئے کہ انہوں نے لمبی آیت کے بعض کو ایک آیت کے مثل شمار کیاہے تین آیت کے مثل نہیں جیساکہ گزرا۔
فـــ:تطفل علی الغنیۃ ۔
وثانیا: عدل فــ۱عن قول الامام الی قولھما فی افتراض ثلث فان راعی الاحتیاط لمامرعن الاسراران ماقالہ احتیاط لمامر عن الاسرار نفسہا ان ذلک فی الصّلاۃ اما فی مسألۃ الجنب فالاحتیاط فی المنع وقد نقلہ ھکذا فی الغنیۃ۔
ثانیا: قول امام سے عدول کرکے تین آیت کی فرضیت میں قول صاحبین کی طرف آگئے۔ اگراس میں انہوں نے احتیاط کی رعایت کی ہے کیوں کہ اسرار کے حوالہ سے گزرا کہ قولِ صاحبین میں احتیاط ہے توخود اسرار ہی کے حوالہ سے یہ بھی گزرا کہ یہ نماز کے بارے میں ہے اور مسئلہ جنب میں احتیاط ممانعت میں ہے۔ اسے اسی طرح غنیہ میں نقل بھی کیا ہے۔
وثالثا:ماذکر فـــ۲من عدم الاجزاء فــ۳اذا قرأ فی الصلاۃ بنیۃ الثناء خلاف المنصوص ایضا ففی البحر عن التوشیح عن الامام الخاصی اذا قرأ الفاتحۃ فی الاولیین بنیۃ الدعاء نصوا علی انھا مجزئۃ ۱؎ اھ
ثالثا :نماز میں قرأت بہ نیتِ ثنا ہوتونماز نہ ہوگی ،یہ مسئلہ انہوں نے منصوص کے برخلا ف ذکرکیا کیوں کہ بحر میں امام خاصی کی تو شیح سے منقول ہے کہ جب پہلی دونوں رکعتوں میں سورہئ فاتحہ کی قرأت بہ نیتِ دُعا کرے تو علماء نے نص فرمایاہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی اھ۔
فــ۲:تطفل ثالث علیھما۔
فــ۳:مسئلہ نماز میں سورۃفاتحہ یاسورت پڑھی اورقراء ت کی نیت نہ کی دعاوثناکی نیت کی جب بھی نمازہوجائے گی ۔
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۰۰)
وعن التجنیس اذا قرأفی الصلاۃ فاتحۃ الکتاب علی قصد الثناء جازت صلاتہ لانہ وجدت القراء ۃ فی محلھا فلا یتغیر حکمھا بقصد ۲؎ اھ ومثلہ فی الدر نعم نقل فی البحر عن القنیۃ انھا ذکرت فیہ خلافا ورقمت لشرح شمس الائمۃ انھا لاتنوب عن القراء ۃ ۱؎ وانت تعلم ان القنیۃ لاتعارض المعتمدات والزاھدی غیر موثوق بہ فی نقلہ ایضا کما نصوا علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور تجنیس سے نقل ہے کہ جب نماز میں بہ نیتِ ثنا فاتحۃ الکتاب کی قرأت کرے تونماز جائز ہے اس لئے کہ قرأت اپنے محل میں پائی گئی تونیت سے اس کا حکم نہ بدلے گا اھ۔ اسی کے مثل درمختار میں بھی ہے۔ہاں بحر میں قنیہ سے نقل کیاہے کہ اس نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیاہے اورشرح شمس الائمہ کا نشان(رمز) دےکر لکھا ہے کہ وہ قرأت کی جگہ کافی نہ ہو سکے گی اھ۔اورمعلوم ہے کہ قنیہ کتب معتمدہ کے مقابلہ میں نہیں آسکتی اور زاہدی نقل میں بھی ثقہ نہیں جیساکہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔
(۲؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۰۰
۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۰۰)
تنبیہ۱ :عیون امام فقیہ ابو اللیث کی عبارت کہ صدر کلام میں گزری جس میں فرمایا تھاکہ فاتحہ وغیرہاآیات دعا بہ نیت دعا پڑھنے میں حرج نہیں نہرالفائق میں اُس سے یہ استنباط فرمایا کہ یہ حکم صرف اُنہی آیات سے خاص ہے جن میں معنی دُعا وثنا ہوں ورنہ مثلاً سورہ لہب وغیرہااگربنیت غیر قرآن پڑھے تو ظاہر اً روا نہ ہونا چاہئے۔
حیث قال ظاھر التقیید بالایات التی فیھا معنی الدعاء یفھم ان مالیس کذلک کسورۃ ابی لھب لایؤثر فیھا قصد غیرالقرانیۃ لم ار التصریح بہ فی کلامھم ۲؎۔
ان کے الفاظ یہ ہیں:آیات میں معنی دُعا ہونے کی قید سے بظاہر یہی مفہوم ہوتاہے کہ جوآیات ایسی نہ ہوں۔جیسے سورہ ابی لہب۔اس میں غیر قرآن کی نیت اثر انداز نہ ہوگی مگر اس کی تصریح کلامِ علماء میں میری نظر سے نہ گزری۔(ت)
(۲؎النہرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃباب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۳)
علّامہ شامی نے منحۃ الخالق وردالمحتار میں اس کی تائید فرمائی کہ:
قد صرحوا ان مفاھیم الکتب حجۃ ۳؎ اھ ولفظ المنحۃ المفہوم معتبر مالم یصرح بخلافہ ۴؎ اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ کتابوں میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اھ۔ منحۃ الخالق کے الفاظ یہ ہیں: مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جب تک اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۱۶
۴؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۹۹)
اقول اولا :خلاصہ فــ وبزازیہ وبحر میں ہے:
وھذا لفظ الوجیز ا ما اذا قصد الثناء اوافتتاح امر فلا فی الصحیح ۱؎۔
اور یہ وجیز کے الفاظ ہیں: لیکن جب ثناء یاکوئی کام شروع کرنے کی نیت سے پڑھے تو صحیح قول پر ممانعت نہیں۔(ت)
فـــ:تطفل علی النھر و ش۔
(۱؎الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۱)
درمختار میں ہے:
فلو قصد الدعاء اوالثناء اوافتتاح امرحل ۲؎۔
اگر دُعا یاثناء یا کسی کام کے شروع کرنے کی نیت ہوتو جائز ہے۔(ت)
(۲؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۳)
یہاں تو کہہ سکتے ہیں کہ بعد تنقیح افتتاح کا حاصل دعا وثنا سے جُدا نہ ہوگا مگر خلاصہ وحلیہ وبحر میں ہے:
وحرمۃ قراء ۃ القراٰن (ای من احکام الحیض) الا اذا کانت ایۃ قصیرۃ تجری علی اللسان عندا لکلام کقولہ ثم نظر اولم یولد ۳؎ اھ
(احکامِ حیض میں سے)قرأت قرآن کی حرمت بھی ہے مگر جب ایسی چھوٹی آیت ہوجو بول چال میں زبان پر آتی رہتی ہے جیسے ارشاد باری تعالٰی: ثم نظر۔یا۔ولم یولد۔(ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الحیض الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۳۰)
یعنی جبکہ قرأت قرآن کی نیت نہ ہو اور اپنے کلام میں پوری آیت سے موافقت واقع ہوجائے مثلاً زید کی حکایت حال میں کہا:
ثم نظر زید
(پھر زید نے نظر کی۔ ت) یا کسی ہندہ کے حمل کو پوچھا کہ پیدا ہوا؟کہا
ماوضع ولم یولد بعد
(نہیں پیدا کیا اور لم یولد بعد میں کہا۔ ت) تو اس میں حرج نہیں اگرچہ ثم نظر بالاتفاق اور ولم یولد علی الخلاف پوری آیتیں ہیں اس لئے کہ بہ نیت قرآن نہ کہی گئیں یہاں سے صراحۃً ظاہر کہ جواز کیلئے عدم نیت قرآن کافی ہے خاص نیت دُعا یا ثنا ضرور نہیں کہ ان صورتوں میں دعا وثنا کہاں! یوں ہی اگر نقل حدیث میں کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کے جواز میں بھی شبہ نہیں اگرچہ محمد رسول اللہ ضرور قرآن عظیم ہے اور یہاں نام اقدس مقصود نہ کہ دعا وثناء لاجرم بحر سے گزرا
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن ۱؎
(یہ سب اس وقت ہے جب بہ نیتِ قرآن پڑھا ہو۔(ت)
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۹۹)
اسی طرح خلاصہ میں ہے، تنویر میں ہے:
یحرم قراء ۃ قراٰن بقصدہ ۲؎
(قرآن کا کوئی حصہ بہ نیتِ قرآن پڑھنا(اس کے لئے) حرام ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۳)