اقول وھذا ھو الحق الناصع فمجرد نیۃ التعلیم غیر مغیر فما تعلیم شیئ الاالقاؤہ علی غیرہ لیحصل لہ العلم بہ فاذا قرأ ونوی تعلیم القراٰن فقد اراد قراء ۃ القران لیلقیہ ویلقنہ فنیۃ التعلیم لایغیرہ بل یقررہ فما وقع فـــ۱فی الدرالمختار من عدہ نیۃ التعلیم فی نیات غیر القراٰن لیس فی محلہ فلیتنبہ۔
اقول یہی بے داغ، خالص حق ہے۔ توصرف نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتاکیوں کہ کسی شے کی تعلیم یہی ہے کہ اس شے کو دوسرے کے سامنے اس لئے پیش کرے کہ اسے اس کا علم حاصل ہوجائے۔تو جب اس نے پڑھا اور تعلیم قرآن کی نیت کی تو یہ متحقق ہوگیا کہ دوسرے کو بتانے سکھانے کے لئے اس نے قرآن پڑھنے کا قصد کیا۔تو نیتِ تعلیم سے نیتِ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اور تائید و تاکید ہوتی ہے۔ تو درمختار میں نیتِ تعلیم کو غیر قرآن کی نیتوں میں شمار کرانا بے جاہے، اس پر متنبّہ رہنا چاہئے۔
فــ۱:تطفل عل الدرالمختار۔
فانقلت نیۃ التعلیم ان لم تکن مغیرۃ فما بال فتح المصلی علی غیر امامہ یفسد صلاتہ وما ھو الا التعلیم وقراء ۃ القراٰن لاتفسد الصلاۃ قلت لیس الفساد لان القراٰن تغیر بنیۃ الفتح بل لان الفتح فـــ۲علی غیر الامام لیس من اعمال الصلاۃ وھو عمل کثیر فیفسد الا تری فــ۳ان المصلی ان قیل لہ اقرا ایۃ کذا فقرأ امتثالا لامرہ فسدت صلاتہ مع انہ لم یقرأ الا القراٰن۔
اگر سوال ہو کہ جب نیتِ تعلیم سے کوئی تغیّر نہیں ہوتا توکیا وجہ ہے کہ نمازی اگر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دے دے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے حالانکہ وہ بھی تعلیم ہی ہے اور قرأتِ قرآن مفسدِ نماز نہیں،میں کہوں گا فسادِ نماز کا سبب یہ نہیں ہے کہ لقمہ دینے کی نیت سے قرآن میں تغیر ہوگیابلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر امام کو لقمہ دینا اعمالِ نماز میں نہیں اوریہ عمل کثیرہے اس لےے نماز کو فاسد کردے گا۔دیکھو اگر مصلّی سے کہا جائے فلاں آیت پڑھو،اس نے اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے پڑھاتو اس کی نماز فاسد ہوگئی باوجودیکہ اس نے قرآن ہی پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔
فــ۲:مسئلہ نمازی اگراپنے امام کے سواکسی کوقرآن مجید میں لقمہ دے گانمازجاتی رہے گی
فــ۳:مسئلہ نمازی نمازمیں ہے اس وقت کسی نے کہافلاں آیت یاسورت پڑھ۔اس نے اس کاکہاماننے کی نیت سے پڑھی نمازجاتی رہے گی۔
وباللّٰہ التوفیق بقی الکلام علی توجیہ الامام ابن الھمام وما ذکرنا لہ من تقریر المرام فلنعم الجواب عنہ ما نقلہ فی الحلیۃ بعد الجواب الاول المذکور اذقال مع انہ قداجیب ایضا بالاخذ بالاحتیاط فیھما وھو عدم الجواز فی الصلاۃ والمنع للجنب ۱؎ اھ۔
اب اس پر کلام رہ گیا جو امام ابن الہمام نے توجیہ کی اورہم نے جو ان کے مقصد کی تقریر کی تواس کا بہت عمدہ جواب وہ ہے جو حلیہ میں مذکورہ جواب اول کے بعدنقل کیا وہ لکھتے ہیں: باجودیکہ یہ جواب بھی دیاگیا ہے کہ دونوں میں احتیاط پر عمل ہے وہ یہ کہ نماز میں عدم جواز ہے اورجنب کے لئے پڑھنے کی ممانعت ہے اھ۔
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول تقریرہ ان الامام وصاحبیہ رضی اللّٰہ تعالی عنھم اختلفوا فی فرض القراء ۃ فقالا ثلٰث قصاراوایۃ طویلۃ ای مایعدل ثلٰثا لانہ لایسمی فی العرف قارئا بدونہ وقال بل ایۃ ای اذا لم تکن مما یجری فی تحاور الناس ویشبہ تکلمھم فیما بینھم کثم نظر فانھا اذا کانت کذلک عدقارئا عرفا بخلاف مادون الایۃ بالمعنی الذی اعطینا من قبل فھو وان کان بہ قارئا حقیقۃ لایعد قارئا عرفا فتطرقت الشبھۃ فی براء ۃ الذمۃ من قبل العرف ھکذا قررہ ھذا المحقق نفسہ وقال قولہ تعالی ماتیسر مقتضاہ الجواز بدون الایۃ وھو قول ابن عباس فانہ قال اقرأ ماتیسر معک من القران ولیس شیئ من القران بقلیل الا ان مادون الایۃ خارج من النص اذا المطلق ینصرف الی الکامل فی الماھیۃ ولا یجزم بکونہ قارئا عرفا بہ فلم یخرج عن عہدۃ مالزمہ بیقین اذلم یجزم بکونہ من افرادہ فلم تبرء بہ الذمۃ خصوصا والموضع موضع الاحتیاط بخلاف الایۃ اذیطلق علیہ قارئا بھا فالخلاف (ای بین الامام وصاحبیہ) مبنی علی الخلاف فی قیام العرف فی عدہ قارئا بالقصیرۃ قالا لاوھو یمنع وفی الاسراف ماقالاہ احتیاط فان قولہ لم یلد ثم نظر لایتعارف قرانا وھو قران حقیقۃ فمن حیث الحقیقۃ حرم علی الحائض والجنب ومن حیث العرف لم تجز الصلاۃ بہ احتیاطا فیھما ۱؎ اھ مختصرا
اقول اس کی تقریر یہ ہے کہ حضرت امام اور صاحبین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان فرض قرأت کی مقدار میں اختلاف ہے صاحبین نے فرمایا تین چھوٹی آیتوں یا تین آیتوں کے برابر، ایک لمبی آیت کی قرأت فرض ہے اس لئے کہ عرف میں اس کے بغیر اسے قرأت کرنے والانہیں کہاجاتا اورامام نے فرمایا بلکہ ایک آیت پڑھنا فرض ہے جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو جو لوگوں کی بول چال میں جاری ہے اورجو اُن کی باہمی گفتگوکے مشابہ ہے جیسے''ثم نظر''۔ کیوں کہ جب اس شرط کے ساتھ کوئی آیت پڑھے گاتو عرفاً اسے قرأت کرنے والا شمار کیا جائے گا بخلاف اس کے جو ایک آیت سے کم ہو اسی معنی میں جوہم نے پہلے بیان کیا۔ تو وہ اس کی وجہ سے اگرچہ حقیقۃً قرأت کرنے والا ہے مگر عرفاً اسے قرأت کرنے والا شمار نہیں کیا جاتا۔توعرف کی جہت سے اس کے بری الذمّہ ہونے میں شُبہہ راہ پاگیا۔اسی طرح اس کی خود محقق حلبی نے تقریر کی ہے اورفرمایا ہے کہ باری تعالٰی کے ارشاد ماتیسّر کا تقاضا یہ ہے کہ مادون الآیہ سے بھی نماز ہوجائے اوریہی حضرت ابن عباس کا قول ہے انہوں نے فرمایا تمہیں قرآن سے جو بھی میسر آئے پڑھو اور قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں۔مگر یہ ہے کہ مادون الآیہ نص سے خارج ہے اس لئے کہ مطلق اسی کی طرف پھرتا ہے جو ماہیت میں کامل ہو اور مادون الآیہ سے اس کوعرفاً قرأت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتا تواس پر جو لازم ہوا اس سے وہ یقینی طور پر عہدہ بر آنہ ہوا، اس لئے کہ اس پر جزم نہ ہوا کہ یہ مقدار، قدر لازم کے افراد سے ہے تواتنے سے وہ بری الذمہ نہ ہوا، خصوصاً جب کہ یہ مقام احتیاط ہے بخلاف کامل آیت کے، کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے اس پر قرأت کرنے والے کا اطلاق ہوتاہے۔(توحضرت امام اور صاحبین کے درمیان) اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ چھوٹی آیت پڑھنے سے عرفاً اسے قرأت کرنے والاشمار کیا جاتا ہے یا نہیں ؟ صاحبین نے فرمایا: نہیں، اورامام نے فرمایا:ہاں۔ اوراسرار میں ہے کہ قولِ صاحبین میں احتیاط ہے اس لئے کہ ارشادِ باری لم یلد۔اور۔ثم نظر۔بطور قرآن متعارف نہیں اور درحقیقت یہ قرآن ہے ۔ تو حقیقت کا اعتبارکرکے حائض و جنب پراس کی قرأت حرام رکھی گئی اورعرف کا لحاظ کرکے ہم نے اس سے نماز جائز نہ کہی، تاکہ دونوں مسئلوں میں ہمارا عمل احتیاط پررہے اھ مختصراً۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الصلٰوۃفصل فی القرأۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۹۰)
فعدم تناول الاطلاق مادون الایۃ فی قولہ تعالی
فاقرؤاماتیسر من القراٰن ۲؎
لایستلزم عدم تناولہ لہ فی قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئا من القران۳؎ بل قضیۃ الدلیل ھو التناول ھھنا والخروج ثمہ۔
تو باری تعالٰی کے ارشاد :
فاقر ء واما تیسرمن القراٰن
میں مادون الآیہ کو اطلاق کاشامل نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد
لایقرأ الجنب و لا الحائض شیئا من القراٰن
(جنب اورحائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں) میں بھی اطلاق اسے شامل نہ ہو بلکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں شامل ہو اور وہاں شامل نہ ہو۔
(۲؎ القرآن الکریم ۷۳ /۲۰
۳؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الجنب والحائض الخ حدیث ۱۳۱ دارالفکربیروت ۱ /۱۸۲
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن علی غیرالطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴)
ثم اقول لایخفی فــ علیک ان لوبنی الامر ھھنا علی مایعد بہ قارئا عرفا لزم ان یحل عند الصاحبین للجنب واختیہ قراء ۃ مادون ثلٰث ایات بنیۃ القراٰن ولا قائل بہ فتحقق ان قول الکرخی ھو الارجح روایۃ ودرایۃ والحمدللّٰہ ولی الھدایۃ۔
ثم اقول مخفی نہیں کہ اگر''یہاں''(مسئلہ جنب میں) بنائے کاراس پر ہوتی جس کی وجہ سے اس کو عرفاً قرأت کرنے والا شمار کیاجائے تولازم تھاکہ صاحبین کے نزدیک جنب اورحیض ونفاس والی کے لئے تین آیت سے کم بہ نیتِ قرآن پڑھنا جائز ہو۔حالانکہ کوئی اس کا قائل نہیں۔تو ثابت ہواکہ امام کرخی ہی کا قول روایت ودرایت دونوں لحاظ سے ارجح ہے ، اورساری حمدخدا کے لئے ہے جو ہدایت کا مالک ہے۔
فــ:تطفل علی الفتح ۔
ولکن العجب من المحقق الحلبی کتبت ھذا ثم رأیت فی غنیتہ مال الی ماقلت ان لاقائل بہ حیث قال وینبغی ان تقید الایۃ بالقصیرۃ التی لیس مادونھا مقدار ثلٰث ایات قصار فانہ اذا قرأ مقدار سورۃ الکوثر یعد قارئاوان کان دون ایۃ حتی جازت بہ الصلاۃ واماما علی وجہ الدعاء والثناء فلانہ لیس بقران لانہ الاعمال بالنیات والالفاظ محتملۃ فتعتبر النیۃ ولذا لوقرأ ذلک فی الصّلاۃ بنیۃ الدعاء والثناء لاتصح بہ الصلاۃ ۱؎ اھ۔
لیکن محقق حلبی (صاحبِ غنیہ) پر تعجب ہے کہ وہ اس طرف مائل ہیں جس کے بارے میں میں نے کہاکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔ مذکورہ بالا سطور لکھنے کے بعد میں نے غنیہ میں دیکھا کہ وہ لکھتے ہیں:آیت کے ساتھ یہ قیدہونی چاہئے کہ ایسی چھوٹی آیت جس سے ذرا کم ہو تووہ آیت تین چھوٹی آیتوں کے بقدر نہ ہواس لئے کہ جب وہ سورہ کوثر کے بقدر پڑھے اگرچہ وہ ایک آیت سے کم ہی ہوتو اس کی وجہ سے وہ قرأت کرنے والا شمار ہوگایہاں تک کہ اس سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ لیکن جو دُعا اورثنا کے طور پرہو تووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پرہے اورالفاظ میں احتمال ہوتاہے تو نیت کا اعتبار ہوا۔ اسی لئے اگراسے نماز میں بہ نیتِ دُعا وثنا پڑھا تو نماز درست نہ ہوگی اھ۔
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث قرأۃ القرآن للجنب سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷)