Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
129 - 135
کتبت علیہ اقول فـــ و وجہہ علی ذلک ظاھر فانہ لایعد بھذا قارئا والا لجازت الصلوۃ بہ وبہ یظھر وجہ مابحث العلامۃ المحشی فی ''مدھامتان''فانہ تجوز بہ الصلاۃ عندالامام علی ما مشی علیہ ملک العلماء فی البدائع والامام الاسبیجابی فی شرح المختصر وشرح الجامع الصغیر من دون حکایۃ خلاف فیہ علی مذھب الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ وکل ذلک یؤید ماقدمنا فی تقریر کلام المحقق اھ ماعلقت علیہ
اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا:اقول اُس قول کی بنیاد پر اس کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ وہ اتنی مقدار پڑھنے سے قراء ت کرنے والا شمارنہ ہوگا ورنہ اس سے نماز جائز ہوتی۔اوراسی سے اس کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے جو علامہ شامی نے مدھامّتان میں بحث کی ہے کیوں کہ اس سے حضرت امام کے نزدیک نماز ہوجاتی ہے جیسا کہ اس پر بدائع میں ملک العلماء اور شرح مختصر وشرح جامع صغیر میں امام اسبیجابی گئے ہیں اور مذہب امام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اس میں کسی خلاف کی کوئی حکایت بھی نہیں۔ان سب سے اُس بیان کی تائید ہوتی ہے جو ہم نے کلام محقق علیہ الرحمہ کی تقریر میں پیش کیا اھ میرا حاشیہ ختم ہوا۔
فـــ:معروضۃ اخرٰی علی العلامۃ ش۔
وھذاکلہ کلام معہم علی ماقرروا  انا اقول فــ  وباللّٰہ التوفیق انما توجہ ھذا علی کلام النھروش لانھما حملا مذھب الکرخی علی مااٰل بہ الی قول الطحاوی فانا اثبتنا عرش التحقیق ان مایعدبہ قارئا لایجوز وفاقا ولو بعض ایۃ وقد شھدبہ کلام اولئک الاعلام الثلٰثۃ الموجھین قول ابی جعفرکماسمعت وھذافخر الاسلام المختارقولہ مصرحابعدم جواز بعض ایۃ طویلۃ یکون کایۃ فان کان ابو الحسن ایضالایمنع الا مایعدبہ قارئا لم یبق الخلاف فالصحیح مانص علیہ فی الحلیۃ وتبعہ البحر ان منع الکرخی مبقی علی صرافۃ ارسالہ ومحوضۃ اطلاقہ بعد ان تکون القرأۃ بقصد القران وقد سمعت نص امیرالمؤمنین المرتضی رضی اللّٰہ تعالی عنہ ولا حرفاواحدا۔
یہ سب ان حضرات کی تقریرات کے مطابق ان کے ساتھ کلام تھا۔اور میں کہتاہوں۔وباللہ التوفیق۔یہ اعتراض نہروشامی کے کلام پرصرف اس لئے متوجہ ہواکہ ان حضرات نے مذہب امام کرخی کو ایسے معنی پر محمول کیا جس سے وہ امام طحاوی کے قول کی طرف راجع ہوگیا۔ہم نے تو قصر تحقیق کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ جتنے سے بھی اسے قرأت کرنے والا شمار کیاجائے اس کا پڑھنابالاتفاق جائز نہیں اگرچہ وہ بعضِ آیت ہی ہو۔اوراس پرامام ابو جعفر طحاوی کے قول کی توجیہ فرمانے والے اُن تینوں بزرگوں(فخر الاسلام، رضی الدین، حضرت محقق)کا کلام بھی شاہد ہے جیسا کہ ہم نے پیش کیا۔ امام طحاوی کاقول اختیار کرنے والے یہ فخر الاسلام ہیں جو اس بات کی تصریح فرمارہے ہیں کہ کسی لمبی آیت کا اتنا حصہ جو ایک آیت کی طرح ہو ،پڑھنا جائز نہیں۔تو اگر امام ابو الحسن کرخی بھی صرف اسی کو ناجائزکہتے ہیں جس سے اس کو قرأت کرنے والاشمار کیا جائے تب توکوئی اختلاف ہی نہیں رہ جاتا۔ توصحیح وہ ہے جس کی تصریح صاحبِ حلیہ نے فرمائی اوربحر نے ان کا اتباع کیا کہ امام کرخی کی ممانعت اپنے خالص اطلاق وعدم تقیید پر باقی ہے اس شرط کے ساتھ کہ قرأت بہ نیتِ قرآن ہو اور امیر المومنین علی المرتضےٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نص سُن چکے کہ بحالتِ جنابت ''ایک حرف بھی'' نہ پڑھو۔
فــ:تطفل آخرعلی النھروثالث علی ش
قال فی الحلیۃ المذکور فی النھایۃ وغیرھا اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین علی قول الکرخی وعلی قول الطحاوی تعلم نصف ایۃ انتھی، قال قلت وفی التفریع المذکور علی قول الکرخی نظر فانہ قائل باستوا الایۃ وما دونھا فی المنع اذا کان بقصد القران کما تقدم فھی حینئذعندہ ممنوعۃ من ذکر الکلمۃ بقصدالقران لصدق مادون الایۃ علیھاوھذا اذا لم تکن الکلمۃایۃفان کانت کمد ھامتان فالمنع اظھر فان قلت لعل مراد ھذا القائل التعلیم المذکور بنیۃ غیر قراء ۃ القران قلت ظاھران الکرخی حینئذ لیس بمشترط ان یکون ذلک کلمۃ بل یجیزہ ولواکثر من نصف ایۃ بعد ان لایکون ایۃ نعم لعل التقیید بالکلمۃ لکونہ الغالب فی التعلیم اولان الضرورۃ تندفع فلا حاجۃ الی فتح باب المزید علیہ ۱؎ اھ ۔
حلیہ میں کہا: نہایہ وغیرہا میں مذکور ہے کہ جب معلّمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایک ایک کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے،یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔اورامام طحاوی کے قول پر یہ ہے کہ نصف آیت سکھائے ،انتہی۔صاحبِ حلیہ لکھتے ہیں:میں کہتاہوں امام کرخی کے قول پر تفریع مذکور محلِ نظر ہے اس لئے کہ وہ اس کے قائل ہیں کہ آیت اورمادون الآیہ دونوں ہی کو بقصدِ قرآن پڑھنامنع ہے جیساکہ گزرا ، توان کے نزدیک حائضہ کو بہ قصدِ قرآن ایک کلمہ بھی زبان پرلانے سے ممانعت ہوگی اس لئے کہ مادون الآیہ اس پر بھی صادق ہے۔ یہ گفتگو اس صورت میں ہے جب کہ ایک کلمہ کامل آیت نہ ہو،اگرایسا ہوجیسے مدھامّتان oتو ممانعت اور زیادہ ظاہر ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ شاید اس قائل کی مراد یہ ہوکہ تعلیم مذکور قرأت قرآن کے علاوہ کسی اورنیت سے ہو۔تومیں کہوں گا ظاہرہے کہ ایسی صورت میں امام کرخی ایک کلمہ ہونے کی شرط نہیں رکھتے بلکہ اسے جائز کہتے ہیں اگرچہ نصف آیت سے زیادہ ہو،اس کے بعدکی پوری آیت نہ ہو۔ہاںایک ایک کلمہ کی قید شاید اس لئے ہو کہ سکھانے میں عموماًیہی ہوتاہے یا اس لئے کہ اتنے سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو اس سے زیادہ کا دروازہ کھولنے کی حاجت نہیں اھ۔
 (۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول: ولہ فــــ  ملمح ثالث مثل الاول اوحسن وھو ان المرکب من کلمتین ربما لاتجد فیہ نیۃ غیرالقران کقولہ تعالی
 انا اللّٰہ ۲؎  وقولہ تعالی فاعبدنی۳؎ وقولہ تعالی عصٰی ادم ۴؎
 فان من قالہ فی غیر التلاوۃ فقد غوٰی بخلاف المفردات القرانیۃ فلیس شیئ منھا بحیث یتعین للقرانیۃ ولا یصلح الدخول فی مجاری المحاورات الانسانیۃ فذکرماھو اعم واکفی ولا یحتاج الی ادراک المعنی ولا غائلۃ فیہ اصلا حتی للجہال لاسیما النساء المخدرات فی الجھال ۔
 اقول: اس کی ایک تیسری صورت بھی ہے جو اول کے مثل یا اس سے بھی خوب ترہے۔ وہ یہ کہ دو کلموں کے مرکب میں بارہاایسا ہوگا کہ غیر قرآن کی نیت ہی نہ ہو پائے گی جیسے ارشادِ باری تعالٰی: اَناَ اللہ(میں خدا ہوں) اور یہ ارشاد:فاعبد نی(تومیری عبادت کر) اوریہ فرمان: عصی اٰدم،کہ غیر تلاوت میں جو اس طرح کہے گمراہ ہوجائے،اور قرآنی مفردات میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کا قرآن ہونا ہی متعین ہواور انسانی بول چال کے مقامات میں آنے کے قابل نہ ہوتووہ ذکرکیا جو زیادہ عام اور زیادہ کافی ہواور جس میں ادراک معنی کی حاجت نہ ہو اوراس میں کوئی خرابی نہیں یہاں تک کہ جُہّال خصوصاً پردہ نشین عورتوں کے لئے بھی۔
 (عــہ ) ذکرتہ مما شاۃ وسیاتی ان الوجہ عندی الثانی اھ منہ 

میری یہ روش ہم قدمی کے طورپرہے ورنہ آگے ذکرہوگاکہ میرے نزدیک باوجہ ثا نی ہے۱۲منہ(ت)
(۲؎القرآن الکریم    ۲۸/ ۳۰)  (۳؎القرآن الکریم    ۲۰/ ۱۴)

(۴؎القرآن الکریم    ۲۰/ ۱۲۱)
وھذا(ای افادہ فی الحلیۃ۱۲) کما تری کلام حسن من الحسن بمکان غیر انی اقول لاوجہ فــ لقولہ بعد ان لایکون ایۃ فان ماکان بنیۃ غیر القرآن لایتقید بما دون اٰیۃ کما تقدم وکل من ایۃ وما دونھما قد یصلح لنیۃ غیرہ وقدلا کایۃ الکرسی والابعاض التی تلونا فما صلح صح ولو ایۃ وما لافلا ولو دونھا۔
صاحبِ حلیہ نے جو افادہ کیا بہت عمدہ وباوقعت کلام ہے مگر یہ کہ میں کہتا ہوں ''اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو'' یہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لئے کہ جو غیر قرآن کی نیت سے ہو اس میں یہ قید نہیں کہ ایک آیت سے کم ہو،اور آیت ومادون الاٰیۃ ہر ایک کبھی غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا، جیسے آیۃ الکرسی، اور وہ بعض ٹکڑے جو ہم نے تلاوت کئے۔ تو جو غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوجائے اس کا پڑھنا صحیح ہے اگرچہ ایک آیت ہو اور جوایسانہ ہو اسے پڑھنا درست نہیں اگرچہ ایک آیت سے کم ہو۔
فــ:تطفل علی الحلیۃ۔
وما بحث فی الفاتحۃ وعدم تغیرھا بنیۃ الثناء والدعاء ان الخصوصیۃ القرانیۃ لازمۃ لہا قطعا کیف لاوھو معجزیقع بہ التحدی فلا یجری فی کل ایۃ کما لایخفی فلا ادری ما الحامل لہ علی التقیید بھا مع انہ ھو الناقل فـــ۱عن الخلاصۃ معتمدا علیہ جواز مثل ثم نظر ولم یولد ثم بحثہ فی مثل الفاتحۃ وان کان لہ تماسک فما کان لبحث ان یقضی علی النص۔
 اور صاحبِ حلیہ نے سورہ فاتحہ سے متعلق جو بحث کی ہے اور کہا ہے کہ ثنا ودُعا کی نیت سے اس میں تغیر نہیں ہوتا اس لئے کہ خصوصیت قرآنیہ اسے قطعاً لازم ہے۔کیوں کہ نہ ہو جب کہ یہ وہ قدر مُعجز ہے جس سے تحدی واقع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بحث ہر آیت میں جاری نہیں ہوتی تو پتہ نہیں کہ آیت کی قید لگانے پر ان کے لئے باعث کیا ہے(یعنی ان کے اس قول میں: اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو) باجودیکہ خلاصہ سے انہوں نے اعتماد کے ساتھ خود ہی نقل کیا ہے کہ ثم نظر اورلم یولد کے مثل میں جواز ہے۔پھر سورہ فاتحہ کے مثل میں ان کی بحث کواگر کچھ سہارا بھی مل جائے تو بھی کوئی بحث ، نص کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔
فـــ۱:تطفل آخرعلیہا۔
 ثم ماذکرہ فــ۲ھھنا سؤالا وتر جیا ان مراد الکرخی فی التعلیم مااذا نوی غیر القران قدجزم بہ من قبل قائلا ینبغی ان یشترط فیہ (ای فی التعلیم) ایضا عدم نیۃ القران لما سنذکرہ عن قریب معنی واثرا ۱؎ اھ وقال عند قول الماتن لایکرہ التھجی بالقران والتعلیم للصبیان حرفا حرفا ھذا فیما یظھر اذا لم ینوبہ القران اما اذا نواہ بہ فانہ یکرہ ۲؎ اھ۔
پھر یہاں سوال اورشاید کے طورپر جوبات ذکر کی ہے کہ''تعلیم میں امام کرخی کی مراد غیر قرآن کا قصد ہونے کی صورت میں ہے'' اس کو اس سے پہلے بطورجزم بیان کیا ہے اورکہا ہے کہ تعلیم میں بھی نیتِ قرآن نہ ہوناچاہئے اس کی وجہ ہم معنٰی واثر کے لحاظ سے آگے بیان کریں گے اھ۔ ماتن کی عبارت تھی:''قرآن کی تہجی اور بچوں کوایک ایک حرف سکھانا مکروہ نہیں''اس پر حلیہ میں لکھا: بظاہر یہ حکم اسی صورت میںہے جب نیتِ قرآن نہ ہو اور اگر اس سے قرآن کی نیت ہو تومکروہ ہے اھ۔
فــ:مسئلہ تعلیم کی نیت سے قرآن مجیدقرآن ہی رہے گاصرف اتنی نیت جنب وحائض کوکافی نہیں ۔
 (۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی 

۲؂ حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی)
Flag Counter