ھذا فی المعنی والنظم یتبعہ وان ارید التحدی فلیس الا بنحوا قصر سورۃ لابکل ایۃ ایۃ فابلغ ماوردبہ التحدی قولہ تعالی
فاتوا بسورۃ من مثلہ۴؎۔
اقول اولا :مادون الایۃ میں نظم ومعنی کے قصور وکمی تک میرے فہم قاصر کی رسائی نہ ہوسکی۔ اس لئے کہ جزوآیت کبھی پورا جملہ اور افادہ معنٰی میں مستقل ہوتا ہے جیسے باری تعالٰی کاارشاد :واصبر(اورصبرکر)اورکبھی پوری آیت ایسی نہیں ہوتی جیسے ارشاد باری تعالٰی ہے:''جب خدا کی مدد فتح آئے''۔یہ گفتگومعنی سے متعلق ہوئی اور نظم اسی کے تابع ہے۔ اوراگر یہ مراد ہے کہ مادون الاٰیۃ سے مقابلے کا چیلنج نہیں تو چیلنج توصرف سب سے مختصر سورہ کے مثل سے ہے ہر ہر آیت سے نہیں کیوں کہ سب سے زیادہ مبالغہ کے ساتھ جو تحدّی(چیلنج) وارد ہے وہ یہ ارشادِ ربانی ہے:''تواس کے مثل کوئی سورہ لے آؤ''۔
فـــ:تطفل ثالث علی خدام الامام فخرالاسلام وعلی الامام رضی الدین السرخسی۔
(۲؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۵ ۳) (؎ القرآن الکریم ۱۱۰ /۱) (
۴؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳)
وثانیا:رب فـــ۱ایۃ تامۃ تجری الفاظھا علی الالسنۃ فی محاورات الناس کقولہ تعالی
ثم نظر o۱؎ وقول تعالی لم یلد o۲؎ وقولہ تعالی ولم یولد o۳ ؎ علی انھما ایتان وقولہ تعالی مدھامتان o ۴؎۔
ثانیاً : بہت سی پوری آیتیں بھی ایسی ہیں جن کے الفاظ لوگوں کی بول چال میں زبانوں پر آتے رہتے ہیں جیسے ارشادِ باری تعالٰی :''ثم نظر'' پھر دیکھا۔اور ارشادِ حق تعالٰی:''لم یلد '' وہ والد نہیں۔ اوراس کا ارشاد: ''ولم یُولد'' اور وہ مولود نہیں۔ باوجود یکہ یہ دو آیتیں ہیں۔ اور اس کا ارشاد: ''مدھامّتان''۔
فـــ۱:تطفل رابع علیہ و ثان علی السرخسی۔
(۱؎ القرآن الکریم ۷۴ /۲۱) (۲؎ القرآن الکریم ۱۱۲ /۳)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۱۲ /۳) ( ۴؎ القرآن الکریم ۵۵ /۶۴)
وثالثا: جریانہ فـــ۲ فی تحاور الناس انما یورث الشتباہ علی السامع انہ جری علی لسانہ وافق لفظہ نظم القراٰن اوقصد قراء ۃ القراٰن فتتمکن الشبھۃ عند السامع اما ھو فالانسان علی نفسہ بصیرۃ فاذا قصد التلاوۃ فلا معنی للاشتباہ عندہ وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۵؎ والاشتباہ عندالسامع لاینفی مایعلمہ من نفسہ۔
ثالثا: لوگوں کی گفتگو میں اس کے جاری ہونے سے صرف سامع پر اشتباہ ہوتا ہے کہ بولنے والے کی زبان پر وہ عبارت یوں آگئی جس کے الفاظ نظم قرآن کے موافق ہوگئے یا اس نے قرآن پڑھنے کی نیت کی ہے،توسننے والے کے نزدیک شبہہ جاگزیں ہوجاتاہے۔رہا اس عبارت کوادا کرنے والا توانسان اپنے متعلق پوری طرح آشناہوتاہے اگر واقعی اس کی نیت تلاوت کی ہے تو اس کے نزدیک اشتباہ کا کوئی معنی نہیں۔''اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی''۔اورسامع کا اشتباہ اُس علم کی نفی نہیں کرسکتا جو قاری کو خود اپنی ذات سے متعلق حاصل ہے۔
فـــ۲:تطفل خامس علیہ و ثالث علی السرخسی۔
(۵؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
وکانہ لاجل ھذا عدل المحقق علی الاطلاق فی الفتح عن ھذا التقریر واقتصر علی ماحط علیہ کلامھما اخرا وھو عدم جواز الصلاۃ بہ حیث قال وجہہ ان مادون الایۃ لایعد بہ قارئا قال تعالی فاقرؤا ما تیسر من القراٰن کما قال صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لایقرأ الجنب القراٰن فکما لایعد قارئا بما دون الایۃ حتی لاتصح بھا الصّلوۃ کذا لایعدبھا قارئا فلا یحرم علی الجنب والحائض ۱؎ اھ
شاید اسی لئے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تقریر سے ہٹ کر صرف اُس پر اکتفا کی جوصاحبِ محیط وامام فخر الاسلام کے آخرکلام میں واقع ہے وہ یہ کہ اس قدرسے نماز نہیں ہوتی۔حضرت محقق لکھتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ مادون الاٰیۃ پڑھنے والے کو قراء ت کرنے والاشمار نہیں کیاجاتا۔باری تعالٰی کا ارشاد ہے:''توقرآن جو میسر آئے پڑھو''۔ جیسے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے:''جنابت والا قرآن کی قراء ت نہ کرے''۔ توجیسے وہاں مادون الاٰیۃ پڑھنے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاکہ اتنے سے نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی اتنے حصے سے اس کوقراء ت کرنے والاشمار نہ کیاجائے گا تو اتنا پڑھنا جنب وحائض پر حرام نہ ہوگا اھ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ،باب الحیض والاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۱۴۸)
وردہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ تبعا للامام النسفی فی الکافی باطلاق الحدیث من دون فصل بین قلیل وکثیر قالا وھو تعلیل فی مقابلۃ النص فیرد لان شیا نکرۃ فی موضع النفی فتعم وما دون الایۃ قراٰن فیمتنع کالایۃ ۱؎ اھ وتبعھما البحر ثم ش۔
اسے محقق حلبی نے حلیہ میں کافیِ امام نسفی کی تبعیت میں رَد کردیا کہ حدیث مطلق ہے اس میں قلیل وکثیر کا کوئی فرق نہیں۔یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں:یہ نص کے معاملہ میں تعلیل ہے اس لئے قابل قبول نہیں کیوں کہ حدیث
(لایقرأ الجنب والحائض شیئامن القراٰن)
میں شیئامقام نفی میں نکرہ ہے اس لئے وہ عام ہوگا اور مادون الاٰیۃ بھی قرآن ہے تو اس کا پڑھنا بھی نا جائز ہوگاجیسے پوری آیت کا پڑھنا اھ۔ اس تردید میں ان دونوں حضرات کی پیروی بحر پھر شامی نے بھی کی ہے۔
(۱؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ،باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۹۹)
ورأیتنی علقت علیہ مانصہ۔اقولالمحقق فـــ لایقیس المسألۃ علی المسألۃ بل یرید ان الاحادیث انما حرمت علی الجنب قراء ۃ القران وقد علمنا ان قراء ۃ مادون الایۃ لاتعد قراء ۃ القران شرعا والا لجازت بہ الصلاۃ لان قولہ تعالی فاقرؤا ما تیسر من القراٰن قد فرض القراء ۃ من دون فصل بین قلیل وکثیر مع تاکید الاطلاق بما تیسر وحینئذ لاحجۃ لکم فی اطلاق الاحادیث فافھم اھ۲؎ ۔
میں نے دیکھااس پرمیں نے یہ حاشیہ لکھا: اقول حضرت محقق مسئلہ کا مسئلہ پرقیاس نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ احادیث نے جنب پر قراء تِ قرآن حرام کی ہے اورہمیں معلوم ہے کہ مادون الاٰیۃ(آیت سے کم حصہ)کو پڑھنا،شرعاً قراء تِ قرآن شمار نہیں ہوتا ورنہ اس سے نماز ہوجاتی۔اس لئے کہ ارشادِ باری تعالٰی
فاقرؤا ماتیسر من القراٰن
(تو قراء ت کرو جو بھی قرآن سے میسر آئے)نے قراء ت فرض کی،جس میں قلیل وکثیر کاکوئی فرق نہیں، ساتھ ہی ماتیسّر(جو بھی میسر آئے) کے اطلاق کی تاکید بھی ہے،جب ایسا ہے تو اطلاقِ احادیث میں بھی تمہارے لئے حجّت نہیں ،تو اسے سمجھو۔
فــ:تطفل علی الحلیۃ والبحر و ش۔
(۲؎ جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور ہند ۱ /۱۱۷)
ثم لما قال الدر لوقصد التعلیم ولقن کلمۃ کلمۃ حل فی الاصح ۱؎ وکتب علیہ ش ھذا علی قول الکرخی وعلی قول الطحاوی تعلّم نصف ایۃ نہایۃ وغیرھا ونظر فیہ فی البحر بان الکرخی قال باستواء الایۃ وما دونھا فی المنع واجاب فی النھر بان مرادہ بما دونھما مابہ یسمی قارئا وبالتعلیم کلمۃ کلمۃ لایعد قارئا ۲؎ اھ۔
پھر درمختار کی عبارت ہے: اگر سکھانے کا قصد ہو اور ایک ایک کلمہ بول کر سکھائے توبرقولِ اصح جائز ہے۔ اس پر علامہ شامی نے لکھا:یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔اور امام طحاوی کے قول پر نصف آیت سکھائے۔ نہایہ وغیرہا۔اس پر بحرنے یہ کلام کیا کہ امام کرخی کے نزدیک آیت اور مادون الآیۃ یہ دونوں ہی عدمِ جواز میں برابر ہیں۔نہر میں اس کا یہ جواب دیا کہ مادون الآیۃ سے ان کی مراد اس قدر ہے جتنے سے اس کو قراء ت کرنے والا کہاجاسکے اور ایک ایک کلمہ سکھانے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمارنہ کیا جائے گا اھ اھ۔
(۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۳
۲؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۱۶)
کتبت علیہ اقول ھذا فـــ یؤید کلام المحقق فانکم ایضا لم تنظروا ھھنا الی ان الاحادیث لم تفصل بین القلیل والکثیر وانما مفزعکم فیہ الی ان من قرأ کلمۃ لایعد قارئا مع ان تلک الکلمۃ ایضا بعض القران قطعا فکذلک ھم یقولون ان من قرأ مادون الایۃ لایعد قارئا ایضا والا لکان ممتثلا لقولہ تعالی فاقرؤا ماتیسر منہ ولزم جواز الصلاۃ بما دون الایۃ ۱؎ بالمعنی المذکور وھو خلاف مااجمعنا علیہ اھ۔
اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا: اقول اس سے کلام محقق کی تائید ہوتی ہے۔ اسی لئے کہ یہاں آپ حضرات کی نظر بھی اس طر ف نہیں کہ احادیث میں قلیل وکثیر کے درمیان کوئی تفریق نہیں بلکہ یہاں آپ نے صرف اس کا سہارا لیا ہے کہ جس نے ایک کلمہ پڑھااسے قاری شمار نہیں کیاجاتاباوجودیکہ وہ کلمہ بھی قطعاً بعضِ قرآن ہے۔اسی طرح وہ حضرات بھی کہتے ہیں کہ جس نے مادون الآیہ پڑھا اسے بھی قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاورنہ وہ ارشادِ باری تعالٰی فاقرؤا ماتیسر منہ کی بجاآوری کرنے والا قرار پاتا اور مادون الآیہ بمعنی مذکورسے نماز کا جواز لازم ہوتا۔حالانکہ یہ ہمارے اور آپ کے اجماعی حکم کے برخلاف ہے اھ۔
فـــ:تطفل علی النھر و ش۔
(۱؎جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور ہند ۱ /۱۱۸)
ثم لما قال ش بقی ما لوکانت الکلمۃ ایۃ کصۤ وقۤ نقل نوح افندی عن بعضھم انہ ینبغی الجواز اقول وینبغی عدمہ فی مدھا متان تأمل۲؎ اھ۔
پھر علامہ شامی لکھتے ہیں:یہ صورت رہ گئی کہ اگر وہ کلمہ پوری ایک آیت ہوجیسے صۤ اور قۤ توکیا حکم ہے؟علامہ نوح آفندی نے بعض حضرات سے نقل کیاہے کہ جواز ہونا چاہئے۔میں کہتاہوں اور مدھامّتان میں عدمِ جواز چاہئے۔تأمل کرو اھ۔
( ۲؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۱۶)