اقول: ذھب قدس سرہ الی مصطلح الفقہاء ان الطویلۃ ھی التی یتأدی بھا واجب ضم السورۃ وھی التی تعدل ثلث ایات ولکن فـــ۱ ارادۃ ھذا المعنی غیرلازم ھھنا اذا لمناط کون المقروء قدرما یتأدی بہ فرض القراء ۃ عند الامام وھو الذی یعدل ایۃ فلو کانت اٰیۃ تعدل اٰیتین عدل نصفھا ایۃ فینبغی ان یدخل تحت النھی قطعا وقس علیہ۔
اقول:حضرت موصوف قدس سرہ اصطلاحِ فقہاء کی طرف چلے گئے کہ لمبی آیت وہ ہے جس سے واجبِ نماز، ضمِّ سورہ کی ادائیگی ہوجائے اوریہ وہ ہے جو تین آیتوں کے برابر ہو۔ لیکن یہاں پر یہ معنی مراد لینا ضروری نہیں اس لئے کہ مدارِ حرمت اس پر ہے کہ جتنے حصے کی تلاوت ہو وہ اس قدر ہوجس سے حضرت امام کے نزدیک فرضِ قراء ت ادا ہوجاتا ہے اور یہ وہ ہے جو ایک آیت کے برابر ہو ۔توپوری آیت اگر دوآیتوں کے برابر ہے تو اس کا نصف ایک آیت کے برابر ہوگا تو اسے نہی کے تحت قطعاً داخل ہونا چاہئے۔ اورمزید اسی پر قیاس کرلو۔
فـــ۱:تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل فخر الاسلام ثم الحلیۃ و ش
وکیف یستقیم فـــ۲ ان لایجوز تلاوۃ ثُلث ایۃ تعدل ثلٰث ایات لکونہ یعدل ایۃ ویجوز تلاوۃ ایۃ تعدل ایتین بترک حرف منھا مع انہ یقرب قدر اٰیتین فتبصر۔
اور یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ تین آیت کے مساوی ایک آیت کے تہائی حصّہ کی تلاوت جائز نہیں اس لئے کہ وہ ایک آیت کے برابر ہے۔ اور دو آیتوں کے مساوی ایک آیت کی تلاوت اس کا کوئی حرف چھوڑ کر جائز ہے؟ حالانکہ وہ تقریباً دوآیت کے برابر ہے۔ توبصیرت سے کام لو۔(ت)
فـــ۲:تطفل اٰخرعلیہم۔
ہاں جوفـــ پارہ آیت ایسا قلیل ہو کہ عرفاً اُس کے پڑھنے کو قرأت قرآن نہ سمجھیں اُس سے فرض قراء ت یک آیت ادا نہ ہو اتنے کو بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے امام کرخی منع فرماتے ہیں امام ملک العلماء نے بدائع اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید اور امام عبدالرشید ولو لوالجی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصحیح فرمائی ہدایہ وکافی وغیرہما میں اسی کو قوت دی درمختار میں اسی کو مختار کہا حلیہ وبحر میں اسی کو ترجیح دی تحفہ وبدائع میں اسی کو قول عامہ مشایخ بتایا اور امام طحاوی اجازت دیتے ہیں خلاصہ کی فصل حادی عشر فی القراء ۃ میں اسی کی تصحیح کی امام فخر الاسلام نے شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین۔ سرخسی نے محیط پھر محقق علی الاطلاق نے فتح میں اسی کی توجیہ کی اور زاہدی نے اس کو اکثر کی طرف نسبت کیا۔
فــ:مسئلہ صحیح یہ ہے کہ بہ نیت قرآن ایک حرف کی بھی جنب و حائض کو اجازت نہیں۔
غرض یہ دو قول مرجح ہیں:
اقول: اور اول یعنی ممانعت ہی بوجوہ اقوی ہے۔
اوّلا :اکثر تصحیحات اُسی طرف ہیں۔
ثانیا: اُس کے مصححین کی جلالت قدر جن میں امام فقیہ النفس جیسے اکابر ہیں جن کی نسبت تصریح ہے کہ اُن کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔
ثالثا: اُسی میں احتیاط زیادہ اور وہی قرآن عظیم کی تعظیم تام سے اقرب۔
رابعا: اکثر ائمہ اُسی طرف ہیں اور قاعدہ ہے کہ
العمل بما علیہ الاکثر ۱؎
( عمل اسی پرہوگا جس پر اکثر ہوں۔ ت) اور زاہدی کی نقل امام اجل علاء الدین صاحبِ تحفۃ الفقہاء وامام اجل ملک العلماء صاحبِ بدائع کی نقل کے معارض نہیں ہوسکتی۔
(۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ،فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۵۱)
خامسا :اطلاق احادیث بھی اُسی طرف ہے کہ فرمایا جنب وحائض قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔
سادسا:خاص جزئیہ کی تصریح میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کا ارشاد موجود کہ فرماتے ہیں:
اقرؤا القراٰن مالم یصب احدکم جنابۃ فان اصابہ فلا ولا حرفا واحدا۔رواہ الدار قطنی ۱؎ وقال ھو صحیح عن علی رضی اللّٰہ تعالی عنہ۔
قرآن پڑھو جب تک تمہیں نہانے کی حاجت نہ ہواور جب حاجتِ غسل ہوتو قرآن کا ایک حرف بھی نہ پڑھو۔(اسے دارقطنی نے روایت کیااور کہا یہی صحیح ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ت)
(۱؎سنن الدار قطنی کتاب الطہارۃ،باب فی النہی للجنب والحائض،حدیث۴۱۸ /۶ دار المعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۳ و ۲۹۴)
سابعا: وہی ظاہر الروایۃ کا مفاد ہے امام قاضی خان شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
لم یفصل فی الکتاب بین الایۃ وما دونھا وھو الصحیح ۲؎ اھ
امام محمد نے کتاب میں آیت اورآیت سے کم حصہ میں کوئی تفریق نہ رکھی اوریہی صحیح ہے اھ۔(ت)
(۲؎ شرح الجامع الصغیرللامام قاضی خان)
بخلاف قولِ دوم کہ روایت نوادر ہے۔
رواھا ابن سماعۃ عن الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ کما ذکرہ الزاھدی۔
اسے ابن سماعہ نے حضرت امام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے جیساکہ زاہدی نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
ثامنا :قوت دلیل بھی اسی طرف ہے تو اسی پر اعتماد واجب۔
ویظھر ذلک بالکلام علی مااستدلوا بہ للامام الطحاوی فاعلم انہ وجہہ رضی الدین فی محیطہ والامام فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر بان النظم والمعنی یقصر فیما دون الایۃ ویجری مثلہ فی محاورات الناس وکلامھم فتمکنت فیہ شبھۃ عدم القران ولھذا لاتجوز الصّلٰوۃ بہ ۱؎ اھ
یہ ان دلیلوں پرکلام سے ظاہر ہوگا جن سے اُن مرجحین نے امام طحاوی کی حمایت میں استدلال کیا ہے۔ اب واضح ہوکہ محیط میں رضی الدین نے اور شرح جامع صغیرمیں امام فخرالاسلام نے مذہب امام طحاوی کی توجیہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ مادون الآیۃ(جو حصہ ایک آیت سے کم ہے اس) میں نظم ومعنی دونوں میں قصوروکمی ہے۔اوراس طرح کی عبارت لوگوں کی بول چال اور گفتگو میں بھی آتی رہتی ہے تواس میں عدم قرآن کاشبہہ جاگزیں ہو جاتاہے اور اسی لئے اتنے حصہ سے نمازجائز نہیں ہوتی اھ۔(ت)
(۱؎ البحر الرائق بحوالہ المحیط کتاب الطہارۃ،باب الحیض ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۱۹)