Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
126 - 135
رسالہ

ارتفاع الحجب عن وجوہ قراء ۃ الجنب(۱۳۲۸ھ)

(بحالتِ جنابت قرآن پڑھنے کی مختلف صورتوں کی نقاب کشائی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۲۲:        ۲۲ محرم الحرام    ۱۳۲۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنب کو کلام اللہ شریف کی پوری آیت پڑھنی ناجائز ہے یا آیت سے کم بھی، مثلاً کسی کام کیلئے
حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل یا کسی تکلیف پر انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون
کہہ سکتا ہے کہ یہ پوری آیتیں نہیں آیتوں کے ٹکڑے ہیں یا اس قدر کی بھی اجازت نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

حمد المن انزل کتابہ وقدس جنابہ فحرم قراء تہ حال الجنابۃ والصلاۃ والسّلٰم علٰی من اٰتاہ خطابہ وطھر رحابہ وعلی الاٰل والصحابۃ وامۃ الاجابۃ۔
حمد ہے اسے جس نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی بارگاہ مقدس رکھی، کہ اس کی قرأت بحالتِ جنابت حرام فرمائی۔ اور درودوسلام ہو ان پر جنہیں اپنا کلام عطا کیا، اورجن کا صحن پاکیزہ رکھا، اور ان کے آل واصحاب اور امتِ اجابت پر بھی ۔ (ت)
اولا یہ معلوم فـــ رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں
ھو اللّٰہ الذی لاالٰہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ۱؎
سے آخر سورۃ تک ،بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایک آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے، نہ تلاوت، تو
حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل اور انّا اللّٰہ وانّا الیہ راجعون
کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گُمنے پر
عسٰی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انّا الی ربنا راغبون۲؎
کہنا ۔
فـــ:مسئلہ جو آیت پوری سورت خالص دعا وثنا ہو جنب و حائض بے نیت قرآن صرف دعا و ثنا کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں جیسے الحمد و آیۃ الکرسی۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۵۹ /۲۲)  (۲؎ القرآن الکریم  ۶۸ /۳۲)
بحر میں ذکر مسائل ممانعت ہے:
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ اھ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار۳؎۔
یہ سب اس وقت ہے جب بقصدِ قرآن پڑھے۔لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا  یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں۔ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے:اگر سورہ فاتحہ بطور دُعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دُعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوتِ قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔(ت)
 (۳؎ البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    باب الحیض     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۹۹)
ہاں آیۃ الکرسی یا سورہ فاتحہ اور ان کے مثل ایسی قراء ت کہ سننے والا جسے قرآن سمجھے اُن عوام کے سامنے جن کو اس کا جنب ہونا معلوم ہو بآواز بہ نیت ثنا ودعا بھی پڑھنا مناسب نہیں کہ کہیں وہ بحال جنابت تلاوت جائز نہ سمجھ لیں یا اس کا عدمِ جواز جانتے ہوں تو اس پر گناہ کی تہمت نہ رکھیں۔
وھذا معنی ما قال الامام الفقیہ ابو جعفر الھندوانی لاافتی بھذا وان روی عن ابی حنیفۃ ۱؎ اھ قالہ فی الفاتحۃ قال الشیخ اسمٰعیل بن عبدالغنی النابلسی والدالسید العارف عبدالغنی النابلسی فی حاشیۃ علی الدرر لم یرد الھند وانی رد ھذہ الروایۃ بل قال ذلک لما یتبادر الی ذھن من یسمعہ من الجنب من غیر اطلاع علی نیۃ قائلہ من جوازہ منہ وکم من قول صحیح لایفتی بہ خوفا من محذورا خر ولم یقل لااعمل بہ کیف وھو مروی عن ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۲؎ اھ
یہی اس کا معنی ہے جو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا کہ میں اس پر فتوٰی نہیں دیتا اگرچہ یہ امام ابو حنیفہ سے مروی ہے اھ۔یہ بات انہوں نے سورہ فاتحہ سے متعلق فرمائی۔شیخ اسمٰعیل بن عبدالغنی نابلسی ،سیدی العارف عبدالغنی نابلسی کے والد گرامی اپنے حاشیہ دررمیں فرماتے ہیں: امام ہندوانی کا مقصد اس روایت کی تردید نہیں، بلکہ یہ انہوں نے اس خیال سے فرمایاہے کہ جو اس جنابت والے کی نیت جانے بغیر اس سے سنے گاتو اس کاذہن اس طرف جائے گا کہ بحالتِ جنابت تلاوت جائز ہے۔
 (۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ،باب الحیض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۹۹

۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ،باب الحیض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۹۹)
اقول: وقید بالجھر وکونہ عند من یعلم من العوام انہ جنب لان المحذور انما یتوقع فیہ وھذا محمل حسن جدا وما بحث البحر تبعا للحلیۃ فسیأتی جوابہ وما احلی قول الشیخ اسمٰعیل انہ مروی عن الامام وکیف یرد ماقالت خدام۔
اوربہت ایسی صحیح باتیں ہوتی ہیں جن پر کسی اورخرابی کی وجہ سے فتوٰی نہیں دیا جاتا۔انہوں نے یہ نہ فرمایاکہ میں اس پر عمل نہیں کرتااوریہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے اھ۔ 

اقول: میں نے بآواز بلندپڑھنے کی قید لگائی اوریہ کہ ان عوام کے سامنے جن کو اُس کاجنب ہونا معلوم ہواس لئے کہ خرابی کا اندیشہ اسی صورت میں ہے۔اوریہ کلامِ ابو جعفرکا بہت نفیس مطلب ہے۔ اور بحر نے بہ تبعیتِ حلیہ جو بحث کی ہے آگے اس کاجواب آرہا ہے ۔اورشیخ اسمٰعیل کا یہ جملہ کتنا شیریں ہے کہ یہ امام سے مروی ہے اورخدّام کا کلام اس کی تردید میں کیسے ہوسکتاہے؟
ثانیا آیت فــ  طویلہ کا پارہ کہ ایک آیت کے برابر ہو جس سے نماز میں فرض قراء ت مذہب سیدنا امام اعظم کی روایت مصححہ امام قدوری وامام زیلعی پر ادا ہوجائے جس کے پڑھنے والے کو عرفاً تالی قرآن کہیں جنب کو بہ نیت قرآن اُس سے ممانعت محل منازعت نہ ہونی چاہئے۔
فـــ:مسئلہ کسی آیت کا اتنا ٹکڑا کہ ایک چھوٹی آیت کے برابر ہو بہ نیت قرآن جنب و حائض کوبالاتفاع( بالاتفاق) ممنوع ہے۔
اقول: کیف وھو قرآن حقیقۃ وعرفا فیشملہ قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئامن القرآن رواہ الترمذی۱؎ وابن ماجۃ وحسنہ المنذری و صححہ النووی کما فی الحلیۃ۔
اقول: اس میں نزاع کیوں ہو؟ جب کہ یہ حقیقۃً وعرفاً قرآن ہے توسرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد قطعاً اسے شامل ہے: ''جنب اور حائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں'' اسے ترمذی وابن ماجہ نے روایت کیا،اور منذری نے اسے حسن اورامام نووی نے صحیح کہا، جیسا کہ حلیہ میں ہے۔
 (۱؎ سنن الترمذی    ابواب الطہارۃ،باب ماجاء فی الجنب والحائض،حدیث۱۳۱    دارلفکر بیروت    ۱ /۱۸۲)

سنن ابن ماجہ    ابواب الطہارۃ،باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن  الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ص۴۴)
قطعاًکون کہہ سکتا ہے کہ آیہ مدانیت کے اول سے یا ایھا الذین اٰمنوا یا آخر سے لفظ علیم چھوڑ کر ایک صفحہ بھر سے زائد کلام اللہ بہ نیت کلام اللہ پڑھنے کی جُنب کو اجازت ہے ردالمحتار میں ہے:
لوکانت طویلۃ کان بعضہا کاٰیۃ لانھا تعدل ثلث ایات ذکرہ فی الحلیۃ عن شرح الجامع لفخر الاسلام ۱؎ اھ
آیت اگر طویل ہو تواس کا بعض حصہ ایک آیت کے حکم میں ہوگا اس لئے کہ پوری آیت تین آیتوں کے برابر ہے، اسے حلیہ میں فخرالاسلام کی شرح جامع صغیر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ۔(ت)
 (۱؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۱۶

البحرالرائق    کتاب الطہارۃ،باب الحیض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۹۹)
Flag Counter