Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
124 - 135
فالحمدللّٰہ الذی انزل من السماء ماء طھورا لیذھب عنا الرجس ویطھرنا بہ تطھیرا ووضع المیزان وقدر کل شیئ تقدیرا کی نختار العدل ویجتنب طرفیہ اسرافا وتقتیرا واطھر الصلاۃ واطیب السلام علی من ارسل بشیرا ونذیرا وداعیا الی اللّٰہ باذنہ سراجا منیرا فطھرنا بمیاہ فیضہ الھامر لاماطر کثیرا غزیرا واذھب عنا ارجاس الکفر وانجاس الضلال بسحاب فضلہ المنھل ابدا کل حین واٰن ھلّا کبیرا فصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا امین ۔
توساری تعریف خدا کے لئے جس نے آسمان سے پاک اور پاک کرنے والا پانی اتارا تاکہ اس سے ہماری پلیدی دور کرکے ہمیں خوب خوب پاک کردے۔ اورجس نے ترازو رکھی اور ہر چیز کی ایک مقدار متعین فرمائی تاکہ ہم عدل اختیار کریں اوراس کے دونوں کنارے، زیادتی اورکمی سے بچیں۔اورپاک تر درود، پاکیزہ ترسلام اُن پر جو مژدہ دینے والے ،ڈرسنانے والے بناکر بھیجے گئے، اور خدا کی طرف سے اس کے اذن سے دعوت دینے والے اور روشن چراغ بناکر مبعوث ہوئے۔ توانہوں نے ہمیں اپنے فیض کی فراواں،بھرپور،موسلادھار بارش سے پاک فرمایا اورہم اپنے فضل کے ہر لمحہ وہر آن خوب خوب برستے بادل کے ذریعہ ہم سے کفر کی پلیدی ،ضلالت کی ناپاکی دُور کردی۔ تو ان پر، ان کی آل پر اوران کے اصحاب پر خدا کی رحمت وبرکت اوراس کا زیادہ سے زیادہ سلام نازل ہو۔ الہٰی قبول فرما۔
ھذا ولاجل العجل اذکان تنمیقہ وطبع الفتاوی جارٍ والطبع مشغول بشیون اھّم عظیمۃ الاخطار مع ھجوم الھموم وجمود الذھن وخمود الافکار بقی خبایا المرام فی زوایا الکلام لاسیما اثنان
یہ رسالہ توپورا ہوا۔ اورچوں کہ عجلت درپیش تھی اس لئے کہ ایک طرف رسالہ لکھا جارہاتھا دوسری طرف ْطباعت ہوتی جارہی تھی اور طبیعت کچھ عظیم اہم معاملات میں مشغول تھی، ساتھ ہی پریشانیوں کا ہجوم ، ذہن کی بستگی، فکر کی فروماندگی بھی دامنگیر رہی اس طرح کلام کے گوشوں میں کچھ باتیں چھپی رہ گئیں۔ خصوصاً دو باتیں:
الاول فــــ حدیث الغرفۃ وقد علمت مافیہ من الاشکال فلو ارسلت الغرفۃ علی الجبہۃ کما ھو السنۃ فی فتاوی الامام قاضی خان وخزانۃ المفتین ان اراد غسل وجہہ یضع الماء علی جبینہ حتی ینحدر الماء الی اسفل الذقن ولا یضع علی خدہ ولا علی انفہ ولا یضرب علی جبینہ ضربا عنیفا ۱؎ اھ
اول چُلّو سے متعلق حدیث۔ اس میں جو اشکال ہے معلوم ہوچکا۔ سنت یہ ہے کہ چلّو پیشانی پر ڈالا جائے۔ فتاوٰی امام قاضیخاں اور خزانۃ المفتین میں ہے: جب چہرہ دھونا چاہے توپانی جبین پرڈالے تاکہ وہ اُترکر ٹھوڑی کے نیچے تک آئے اوررخسار پر یاناک پر نہ ڈالے اورنہ پیشانی پرزور سے دے مارے اھ
ف : مسئلہ منہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناک پر نہ زور سے پیشانی پر ۔ یہ سب افعال جہال کے ہیں بلکہ بآہستگی بالائے پیشانی سے ڈالے کہ ٹھوڑی سے نیچے تک بہتا آئے ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الطہارۃ،باب الوضوء والغسل    نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۶

خزانۃ المفتین    کتاب الطہارۃ،فصل فی الوضوء    قلمی    ۱/ ۲)
فمعلوم قطعا ان الماء لایستوعب جمیع اجزاء الوجہ وان استقبل الماء فی مسیلہ فاخذہ بالید وامرھا علی اطراف الوجہ لم یکن غسلا کما قدمت من قبل نفسی لوضوحہ بشھادۃ العقل والتجربۃ ثم رأیتہ منصوصا علیہ فی فـــ الخلاصۃ والخزانۃ اذ یقولان الغسل مرۃ فریضۃ عندنا وان توضأ مرۃ سابغۃ جاز وتفسیر السبوغ ان یصل الماء الی العضو ویسیل ویتقاطر منہ قطرات اما اذا افاض الماء علی راس العضو فقبل ان یصل الی المرفق اوالکعب یمسک الماء ویمد بکفہ الی اخرالعضو لایکون سبوغا ۱؎ اھ ھذا لفظ الخلاصۃ ولفظ خزانۃ المفتین الغسل مرۃ سابغۃ فریضۃ ۲؎ ثم ذکر مثلہ وزیادۃ ۔
اب اگر اس طرح پیشانی پرچُلّو ڈالے توقطعاً معلوم ہے کہ پانی چہرے کے تمام حصوں کا احاطہ نہ کرسکے گا۔اور بہتے ہوئے پانی پر بیچ میں ہاتھ لگاکر چہرے کے اور حصوں تک ہاتھ پھیردیا تو یہ دھونا نہ ہوا جیسا کہ پہلے اسے میں نے اپنی طرف سے لکھا تھا کیوں کہ یہ عقل وتجربہ کی شہادت کے مطابق بالکل واضح بات تھی پھر میں نے دیکھا کہ خلاصہ اورخزانہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ان کی عبارتیں یہ ہیں: ایک بار دھونا ہمارے نزدیک فرض ہے اور اگرایک بارکامل وسابغ طور پر دھولیاتووضو ہوگیا۔اور سابع کا معنٰی یہ ہے کہ پانی عضو تک پہنچے اوراس سے اس طرح بہہ جائے کہ کچھ قطرے ٹپکتے جائیں، لیکن اگر عضو کے سرے پرپانی بہایا اورکہنی یاٹخنے تک پہنچنے سے پہلے پانی روک کرہتھیلی کے ذریعہ عضو کے آخر تک پھیلادیا تو سبوغ نہ ہوا، اھ یہ خلاصہ کے الفاظ ہیں۔اور کے الفاظ یہ ہیں:ایک بارسابغ (احاطہ کے) طور پر دھونا فرض ہے (آگے عبارت خلاصہ کے مثل ہے اورکچھ زیادہ ہے)۔
فـــ:مسئلہ ضروریہ خود پانی کا تمام عضو پر بہنا ضرور ہے اگر ہاتھ یا پاؤں کے پنجے پر پانی ڈالا کہنیوں گٹوں تک نہ پہنچاتھا کہ بیچ میں ہاتھ لگا کر آخر عضو تک پھیر دیا تو وضو نہ ہوگا کہ یہ بہانا نہ ہوا بلکہ چپڑنا ہوا۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارات،الفصل الثالث        مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۲۲

۲؎ خزانۃ المفتین    کتاب الطہارۃ،فصل فی الوضوء        قلمی        ۱ /۳)
والثانی روایۃ الحسن فی توزیغ الماء علی الاعضاء وما استظھرت فی توجیھہ قبیل الامر الرابع فیعکرہ بُعدان یحاسبوا سنۃ الاستنجاء ویترکوا ھذہ السنن التی کانھا للوضوء من الاجزاء لاسیما ولفظ الخلاصۃ فی اٰخر فصل الغسل والحاصل ان الرطل للاستنجاء والرطل للقدمین والرطل لسائر الاعضاء۳؎اھ ولفظ وجیز الکردری فی صدر فصل الوضوءرطل للاستنجاء واخر لغسل الرجل واخر لبقیۃ الاعضاء ۴؎ اھ فھذا ظاھر فی شمول الفم والانف فکذا الیدان الی الرسغین علی انک علمت بُعد التسویۃ بین مجموع نفس الوجہ والیدین وبین القدمین فلیتأمل لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا وصلی اللّٰہ تعالٰی علی اعظم الانبیاء قدر اوفخرا وعلی اٰلہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اولی واخری وبارک وسلم واللّٰہ سبحانہ  وتعالٰی اعلم وعلمہ جل شانہ اتم واحکم۔
دوم اعضاء پر پانی کی تقسیم سے متعلق حسن بن زیاد کی روایت اورامر چہارم سے کچھ پہلے اس کی توجیہ میں، میں نے جو استظہارکیا اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ ایسا بُعد ہے کہ سنت استنجا کوتوشمار کریں اور ان سنتوں کوجوگویاوضوکے جز کی حیثیت رکھتی ہیں،چھوڑجائیں۔ فصلِ غسل کے آخرمیں خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں: حاصل یہ کہ ایک رطل استنجا کے لئے ،ایک رطل دونوں قدم کے لئے ، ایک رطل باقی اعضا کے لئے اھ۔ اورفصل وضو کے شروع میں وجیز کَردَرِی کے الفاظ یہ ہیں: ایک رطل استنجا کے لئے، ایک پیر دھونے کے لئے ،ایک اور بقیہ اعضاء کے لئے اھ۔ تو یہ منہ اورناک کو شامل ہونے میں ظاہر ہے ایسے ہی گٹوں تک دونوں ہاتھ بھی ہیں۔علاوہ اس کے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کے مجموعے ،اور دونوں پیروں کے درمیان پانی کی مقدار برابر ہونا بعید ہے۔ توان باتوں پر تامل کی ضرورت ہے شاید خدا اس کے بعدکچھ اور ظاہر فرمائے۔اور خدا کا درودوسلام اوربرکت ہوا ن پر جو قدرو فخر میں تمام انبیا سے عظیم ہیں اور حضور کی آل واصحاب،ان کے اولیا وجماعت پربھی دنیا وآخرت میں۔اور خدائے پاک وبرترہی کو خوب علم ہے اور اس ذات بزرگ کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔(ت)
 (۳؎خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارات،الفصل الثانی        مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۴

۴؎الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ    کتاب الطہارۃ،الفصل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۱۱)
Flag Counter