(۴) وسوسہ فـــــ کا اتباع اپنے حول وقوت پر نظر سے ہوتا ہے ابلیس خیال ڈالتا ہے کہ تونے یہ عمل کامل نہ کیا اس میں فلاں نقص رہ گیا یہ اُس تکمیل کے خیال میں پڑتا ہے حالانکہ جتنا رخصت شرعیہ کے مطابق ہوگیا وہ بھی کامل وکافی ہے اکملیت کے درجات اکملوں کے لائق ہیں دشمن سے کہہ کہ اپنی دلسوزی اٹھا رکھے مجھ سے تو اتنا ہی ہوسکتا ہے ناقص ہے تو میں خود ناقص ہوں اپنے لائق میں بجالایا میرا مولی کریم ہے میرے عجزو ضعف پر رحم فرما کر اتنا ہی قبول فرمالے گا اُس کی عظمت کے لائق کون بجا لاسکتا ہے ؎
بندہ ہمان بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہِ خدا آورد
ورنہ سزا وار خدا وندیش کس نتواند کہ بجا آورد
(بندہ وہی بہتر ہے کہ اپنے قصور کا عذر اللہ تعالٰی کی درگاہ میں کرے ورنہ خدا کی شان کے لائق کوئی شخص پورا نہیں کرسکتا۔ ت)
ف : دفع وسواس کے دو آخری علاج ۔
علامہ محمد زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی شرح مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں:
نصائح میں فرمایا: وسوسہ طہارت کی ایک آفت ہے اور اس کی بنیادسنت سے بے خبری یا عقل کی خرابی ہے۔ اس کی پیروی کرنے والا تکبر، خود رائی، اللہ کی عبادت کے ساتھ سوء ظن، اپنے عمل پر اعتماد،اپنی ذات اوراپنی فریفتگی کا شکار ہے اور وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ اس سے بے پروا ہوجائے۔(ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب ا للدنیۃ المقصد التاسع النوع الاول دار المعرفہ بیروت ۷ /۲۵۲)
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی رحمہ اللہ تعالٰی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
درد دفع آں خاطر تکلف ننما یندو درپے آن نروند وہم برخصت عمل کنند واگر شیطان بسیار مزاحمت دہد و گوید کہ ایں عمل کہ توکردی ناقص ونادرست ست وپذیرائے درگاہِ حق نے برغم اوبگوید کہ تو برواز دست من زیادہ بریں نمی آید ومولائے من کریم ست تعالٰی ازمن ہمیں قدر پذیر دوفضل ورحمت وی واسع ست ۱؎۔
اس خیال کو دفع کرنے میں تکلیف نہ کرے اوراس کے پیچھے نہ پڑے اوررخصت پرعمل کرے۔اگر شیطان بہت مزاحمت کرے اور کہے کہ یہ عمل جو تونے کیا وہ ناقص ونادرست ہے اور بارگاہِ حق میں مقبول نہیں، اس کے برخلاف کہے: توجا، مجھ سے اس سے زیادہ نہیں ہوسکتااورمیرا مولا کریم ہے،مجھ سے اسی قدر قبول فرمالے گا، اس کا فضل اوراس کی رحمت بہت وسیع ہے۔(ت)
(۱؎ شرح سفر السعادۃ باب در طہارت حضرت پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۳۰)
(۵) اٰخر الدواء الکی واٰخر الحیل السیف
(آخری دوا داغنا ہے اور آخری حیلہ تلوار۔ ت) یوں بھی گزرے تو کہے فرض کردم کہ میرا وضو نہ ہوا میری نماز نہ سہی مگر مجھے تیرے زعم کے مطابق بے وضو یا ظہر کی تین رکعت پڑھنی گوارا ہے، اور اے ملعون تیری اطاعت قبول نہیں۔ جب یوں دل میں ٹھان لی وسوسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور بعونہٖ تعالی دشمن ذلیل وخوار پسپا ہوگا۔ یہی معنے ہیں اُس ارشاد امام اجل مجاہد تلمیذ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے کہ فرماتے:
لان اصلی وقد خرج منی شیئ احب الی من ان اطیع الشیطان ۲؎۔ ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ۔
مجھے بے وضو پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں۔( اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان کیا گیا ہے)
(۲؎ الحدیقۃ الندیہ الباب الثالث الفصل الاول النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸)
امام اجل قاسم محمد بن بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ نماز میں مجھے بہت سہو ہوتا ہے سخت پریشان ہوتا ہوں، فرمایا:
امض فی صلاتک فانہ لن یذھب ذلک عنک حتی تنصرف وانت تقول مااتممت صلاتی ۳؎۔ رواہ امام دار الھجرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی مؤطاہ۔
اپنی نماز پڑھے جاکہ یہ شبہے دفع نہ ہوں گے جب تک تو یہ نہ کہے کہ ہاں میں نے نماز پوری نہ کی یعنی یونہی سہی مگرمیں تیری نہیں سنتا۔(اسے امام دارالہجرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مؤطا میں روایت کیا۔ت)
(۳؎ موطأ الامام مالک کتاب السہو العمل فی السہو میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۸۴)
مرقاۃ میں ہے:
المعنی لاتذھب عنک تلک الخطرات الشیطانیۃ حتی تفرغ من الصّلٰوۃ وانت تقول للشیطان صدقت مااتممت صلاتی لکن ما اقبل قولک ولا اتمہا ارغا مالک ونقضا لما اردتہ منی وھذا اصل عظیم لدفع الوساوس وقمع ھواجس الشیطٰن فی سائر الطاعات والحاصل ان الخلاص من الشیطان انما ھو بعون الرحمن والاعتصام بظواھر الشریعۃ وعدم الالتفات الی الخطرات والوساوس الذمیمۃ ولاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم ۱؎۔
معنی یہ ہے کہ وہ شیطانی خیالات تم سے دور نہ ہوں گے جب تک ایسا نہ ہو کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ اور شیطان سے کہو تو ٹھیک کہتا ہے میں نے اپنی نماز پوری نہ کی لیکن میں تیری بات نہیں مانتا اور تیری تحقیر کے لئے اور تیرے ارادہ کو شکست دینے کے لئے میں اسے پوری نہ کروں گا۔ یہ وسوسوں کے دفعیہ اور شیطانی خیالات کی بیخ کنی کے لئے تمام طاعات میں بہت عظیم بنیاد ہے۔ حاصل یہ کہ شیطان سے چھٹکارا اسی طرح ملے گا کہ خدا کی مدد ہو اور ظاہر شریعت کہ مضبوطی سے تھامے رہے، بُر ے خیالات اوروسوسوں کی طرف التفات نہ کرے۔ اور طاقت وقوت نہیں مگر برتری وعظمت والے خدا ہی سے۔(ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الوسوسۃ حدیث ۷۸ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۵۶ )
الحمدللہ یہ فتوٰی لاحول شریف پر تمام ہوا اس سوال کے متعلق کسی کتاب میں چند سطروں سے زائد نہ تھا خیال تھا کہ دو تین ورق لکھ دئے جائیں گے ولہٰذا ابتدا میں خطبہ بھی نہ لکھا مگر جب فیض بارگاہ عالم پناہ سید العالمین محمّد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جوش پر آیا فتوی ایک مبسوط رسالہ ہوگیا عظیم وجلیل فوائد جزیل پر مشتمل جو اس کے غیر میں نہ ملیں گے
والحمدللّٰہ رب العالمین
بلکہ متعدد جگہ قلم روک لیا کہ طول زائد ہوتا اور اسی کے مضامین سے ایک مستقل رسالہ بسط الیدین جس کا ذکر اوپر گزرا جُدا کر لیا لہٰذا مناسب کہ اس کا تاریخی نام
بارق النور فی مقادیر ماء الطھور
نور کی تابش آب طہارت کی مقدار میں ۔ ت) ہو، اور خطبہ کہ سابقاً نہ ہوا لاحقا مسطور ہو ۱۳۲۷ھ ہو کہ
النھایۃ ھی الرجوع الی البدایۃ
(انتہا ابتدا کی طرف لوٹتی ہے۔ ت) اول بآخر نسبتے دارد (اول آخر سے نسبت رکھتا ہے۔ت)