Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
122 - 135
یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو اُن شیطان آدمیوں کی باتیں سُننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اُس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی اُس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی کتاب دینی کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شک پیدا ہو کہ اُن کی سُننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تک جو اُس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اُس میں فرق آیا کہ اُس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے، یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھُپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے، دیکھ اگر تُونے اُن کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان کا علم دیکھوں کہاں تک ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے اُن کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب اللہ واحد قہار کی گواہی ہے کہ اُن کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو اُن کو سُننے کے کیا معنے سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا کہ کذبت شیطان تو جھوٹا ہے، اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے تو پورا راہ پرہوتا ہے بے راہوں کی سُننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا
ذرھم وما یفترون ۲؎o
چھوڑ دے اُنہیں اور اُن کے بہتانوں کو۔
 (۲؎ القرآن    ۶ /۱۱۲ )
تیرے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرما چکے
ایاکم وایاھم۱؎
اُن سے دُور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
 (۱؎ صحیح مسلم      باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰)
بھائیو! ایک سہل بات ہے اسے غور فرمالو۔ تم اپنے رب عــہ۱جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سچّا ایمان رکھتے ہو یا معاذ اللہ کچھ شک ہے! جسے شک ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے۔ اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عــہ۲ وقرآن ونبی وایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا عــہ۳ونبی وقرآن ودین کی توہین وتکذیب کریں۔
اب ذرا غور کرلیجئے ایک شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ ولد الحرام اور تیری ماں زانیہ تھی، للہ انصاف، کیا کوئی غیرت والا حمیت والا انسانیت والا جبکہ اُسے اس بیان سے روک دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اُسے سُننے جائے گا حاشا للہ کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ دیکھو کہ اللہ ورسول عــہ۴ وقرآن عظیم کی توہین تکذیب مذمّت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اُسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے اُن جگر شگاف ناپاک ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں ڈھکوسلوں کو سُننے جاتے ہو بلکہ حقیقۃًفـــ انصافاً وہ جو کچھ بکتے اور اللہ ورسول عــہ۵ وقرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کے باعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب عــہ۶وقرآن ورسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فوراً وہی مبارک ارشاد کا کلمہ کہہ کر تو جھوٹا ہے چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھّروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سُن سُن کر کہلواتے ہو نہ تُم سنو نہ وہ کہیں، پھر انصاف کیجئے کہ اُس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔
عــہ۱ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۲ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     

عــہ۳ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۴ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     

عــہ۵ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۶ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     

فــــ : اللہ ورسول و قرآن عظیم کی جتنی توہین آریہ و پادری اپنے لیکچروں میں کرتے ہیں ان سب کا وبال شرعا ان پر ہے جو سننے جاتے ایسے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں .
علماء فرماتے ہیں ہٹّے کٹّے جوان تندرست جو بھیک مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ کرلیتے ہیں اُنہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شَہ دینی ہے لوگ نہ دیں تو جھَک ماریں اور محنت مزدوری کریں۔ بھائیو! جب اس میں گناہ کی امداد ہے تو اس میں تو کفر کی مدد ہے والعیاذ باللہ تعالٰی قرآن عظیم فـــ کی نص قطعی نے ایسی جگہ سے فوراً ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سُنو تو کیا ارشاد کیا۔رب عزوجل فرماتا ہے:
وقد نزل علیکم فی الکتٰب ان اذا سمعتم اٰیت اللّٰہ یکفربہا ویستھزأبھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللّٰہ جامع المنٰفقین والکٰفرین فی جہنم جمیعا ۱؎o
یعنی بے شک اللہ تم پر قرآن میں حکم اتار چُکا کہ جب تم سُنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور اُن کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ آیات اللہ پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشک اللہ تعالٰی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
فــــ : دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمان فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے
 (۱ القرآن الکریم         ۴ /۱۴۰)
آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو اللہ واحد قہاریہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔

مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا اللہ عزوجل کی اس سخت وعید کو سچّا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو اُن جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں اُن جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا عــہ ورسول وقرآن پر اعتراضوں کیلئے جاتے ہیں۔بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ :
انکم اذا مثلھم ۲؎
تم بھی ان ہی جیسے ہو۔ ت)
عــہ جل و علا و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
 (۲؎ القرآن     الکریم     ۴ /۱۴۰ )
اُن لکچروں پر جمگھٹ والے اُن جلسوں میں شرکت والے سب اُنہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بک کر کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا عــہ ۱ورسول وقرآن کی اتنی عزّت نہیں کہ جہاں اُن کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ اللہ انہیں اور انہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو
ذق انک انت العزیز الکریم ۱؎o
( کھولتے پانی کا عذاب چکھ ، ہاں ہاں توہی بڑا عزت والا کرم والا ہے ۔ ت)
عــــہ ۱ : جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۱ القرآن        ۴۴ /۴۹)
الٰہی اسلامی کلمہ پڑھنے والوں کی آنکھیں کھول
ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم،
مسلمان اگر قرآن عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اعداء اللہ کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ملک میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا جہنم کے کُندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے، اللہ۲؎ ورسول وقرآن عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے،
عــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے اے رب میرے توفیق دے
وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔
خیر ، بات دور پہنچی اور بحمداللہ تعالٰی بہت نافع وضرور تھی، کہنا یہ تھا کہ وسوسہ شیطان کا تیسرا علاج یہ ہے کہ خبیث تو جھُوٹا ہے امام ابو حازم کہ اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں، اُن کے پاس ایک شخص آکر شاکی ہوا کہ شیطان مجھے وسوسے میں ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ سخت مجھ پر یہ گزرتا ہے کہ آکر کہتا ہے تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی امام نے فوراً فرمایا کیا تونے میرے پاس آکر میرے سامنے اپنی عورت کو طلاق نہ دی وہ گھبرا کر بولا خدا کی قسم میں نے کبھی آپ کے پاس اُسے طلاق نہ دی فرمایا جس طرح میرے آگے قسم کھائی شیطان سے کیوں نہیں قسم کھا کر کہتا کہ وہ تیرا پیچھا چھوڑے
اخرجہ ابو بکر ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ ۲؎ ۔
( ابوبکر بن ابو داؤد نے اسے کتاب الوسوسہ میں بیان کیا۔ ت )
 (۲؎ آکام المرجان بحوالہ ابن ابی داؤد الباب السابع والثمانون مکتبہ خیریہ کثیر کراچی ص ۱۶۵ )
Flag Counter