Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
121 - 135
 (۳) اگر شیطان فــــ ۳ حیلہ سے بھی نہ مانے اور وسوسہ ڈالے ہی جائے کہ تیرے وضو میں غلطی رہی یا تری نماز ٹھیک نہ ہوئی تو سیدھا جواب یہ ہے کہ خبیث تُو جھوٹا ہے۔
ف ۳ : ردّ وسوسہ کا تیسرا علاج
ابن حبان وحاکم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا جاء احدکم الشیطان فقال انک احدثت فلیقل انک کذبت ولابن حبان فلیقل فی نفسہ ۲؎۔
جب تم میں کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتارہا توفوراً اسے جواب دے کہ توجھوٹا ہے(اوراگر مثلاً نماز میں ہے تو) دل میں یہی کہہ لے، مطلب وہی ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دار الفکر بیروت ۱ / ۱۳۴

۳؎ موارد الظمان     کتاب الطہارۃ حدیث ۱۸۷ المطبعۃ السلفیہ     ص۷۳)
اقول حالتیں تین ہوتی ہیں:

ایک تو یہ کہ عدو کا وسوسہ مان لیا اُس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مراد ہے، اور جب یہ ماننے لگا تو وہ کیا ایک ہی بار وسوسہ ڈال کر تھک رہے گا حاشا وہ ملعون آٹھ پہر اس کی تاک میں ہے جتنا جتنا یہ مانتا جائے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا رہے گا یہاں تک کہ نتیجہ وہی ہوگا دو دوپہر کامل دریا میں غوطے لگائے اور سر نہ دھلا۔

دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اُس کے ساتھ نزاع وبحث میں مصروف ہوجائے یہ بھی اُس کے مقصد ناپاک کا حصول ہے کہ اُس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے جھگڑے میں پڑ جائے اور پھر اس حیص بیص میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف عود کرجائے ۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔
لہٰذا نجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبی کریم حکیم علیم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلاۃ والتسلیم نے تعلیم فرمائی کہ فوراً اتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تو جھوٹا ہے۔ 

اقول یعنی یہ نہیں کہ صرف اس معنے کا تصور کرلیا کہ یہ کافی نہ ہوگا بلکہ دل میں جمالے کہ ملعون جھوٹا ہے پھر اُس کی طرف التفات اور اُس سے بحث وبردومات کی کیا حاجت شاید اسی لئے فی نفسہ زیادہ فرمایا۔
تنبیہ فــــ ضروری سخت ضروری اشد ضروری :
اقول ہمارے حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی کثیرہ پر مشتمل ہوں۔
شیطان دو قسم ہیں شیاطین الجن کہ ابلیس لعین اور اس کی اولاد ملاعین ہیں
اعاذ نااللّٰہ والمسلمین من شرھم وشر الشٰیطین اجمعین
 (اے اللہ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ت)
فــــــ :یہ ضروری ضروری سخت ضروری :آریوں ، پادریوں ، وغیرہم کے لکچر ندائیں سننے کو جانے سے قرآن عظیم سخت مما نعت فرماتا ہے
دوسرے شیاطین الانس کہ کفار و مبتدعین کے داعی ومنادی ہے ۔
لعنہ اللہ وخذلھم ابدا ونصرنا علیہم نصرا ابدا آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ تعالی علیہ وعلیھم اجمعین امین
 (خدا ان پر لعنت فرمائے اوران کوہمیشہ بے سہارا رکھے اوران پر ہمیں دائمی نصرت عطا فرمائے الہٰی بطفیل سید المرسلین قبول فرما۔حضور پر اورتمام رسولوں پر خدائے برتر کا درود سلام ہو۔ آمین۔(ت)
ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے:
وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا ۱؎۔
یوں ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو کہ آپس میں ایک دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔
 (۱؎ القرآن    ۶ /۱۱۲)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے۔ عرض کی: کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
رواہ احمد ۲؎ وابن حاتم والطبرانی عن ابی امامۃ واحمد وابن مردویہ والبیھقی فی الشعب عن ابی ذر رضی اللّٰہ تعالی عنہما۔
 (اس کی روایت احمد نے ابن حاتم اور طبرانی نے ابی امامہ سے اور احمد نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کی۔ ت)
ائمہ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔
رواہ ابن جریر عن عبدالرحمٰن بن زید۔
 (اس کی روایت ابنِ جریر نے عبدالرحمن بن زید سے کی۔ ت)
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۱۷۸ و ۲۶۵

الدرالمنثور بحوالہ احمد و ابن ابی حاتم وغیرھا تحت الایہ ۶ / ۱۱۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۷ و ۳۰۸ )
اقول آیہ کریمہ میں شیاطین الانس کی تقدیم بھی اس طرف مشیر، اس حدیث کریم نے کہ ''جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تُو جھوٹا ہے''۔ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا شیطان آدمی ہو خواہ جن اُس کا قابو اُسی وقت چلتا ہے جب اُس کے سُنئے اور تنکا توڑ کر ہاتھ پر دھر دیجئے کہ تُو جھوٹا ہے تو خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔ آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رَد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سُننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں۔ کسی پادری نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی، یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں۔
بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عزّوجل تمہارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُن کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے اُن کے پاس جاؤ اور اپنے رب جل وعلا ، اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں کلمات ملعونہ سُنو۔
اقول:  یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ دیکھو قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتا تا اور اُن ناپاک لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے، آیہ کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے:
ولو شاء ربّک مافعلوہ فذرھم وما یفترون ۱؎o
اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور اُن کے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے۔
 (۱؎ القرآن    ۶ /۱۱۲)
دیکھو اُنہیں اور اُن کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا اُن کے پاس سُننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سُنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے:
ولتصغٰی الیہ افئِدۃ الذین لایؤمنون بالاٰخرۃ ولیرضوہ ولیقترفوا ماھم مقترفون ۲؎o
اور اس لئے کہ اُن کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اُسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں۔
 (۲؎ القرآن    ۶ /۱۱۳)
دیکھو اُن کی باتوں کی طرف کان لگانا اُن کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی اُن جیسے ہوجائیں والعیاذ باللہ تعالٰی۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر اُن کا کیا اثر ہوگا

حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سمع بالدجال فلینأمنہ فواللّٰہ ان الرجل لیأتیہ وھو یحسب انہ مؤمن فیتبعہ مما یبعث بہ من الشبھات ۱؎۔ رواہ ابوداؤد عن عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ و عن الصحابۃ جمیعا۔
جو دجال کی خبر سُنے اُس پر واجب ہے کہ اُس سے دُور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیانقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیروہو جائے گا(اسے ابوداؤد نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ اورتمام صحابہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الملاہم باب خروج الدجال آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۲۳۷)
کیا دجال ایک اُسی دجال اخبث کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے حاشا تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دُور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اُس میں یہی اندیشہ بتایا ہے

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکون فی اٰخر الزمان دجّالون کذّابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اٰباؤکم فایاکم وایاھم لایضلّونکم ولا یفتنونکم ۲؎۔
آخر زمانے میں دجّال کذّاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے، توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھوکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفا ء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰)
اور سُنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے:
افغیر اللّٰہ ابتغی حکما وھو الذی انزل الیکم الکتٰب مفصلا والذین اتینٰھم الکتٰب یعلمون انہ منزل من ربک بالحق فلا تکونن من الممترین o وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لامبدل لکلمٰتہ وھو السمیع العلیم o وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللّٰہ ان یتبعون الاالظن وان ھم الایخرصون o ان ربک ھو اعلم من یضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین o ۱؎
تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اُس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اُتاری اور اہلِ کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اُتری تو خبردار تو شک نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اُس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔
 (۱؎ القرآن        ۶ /۱۱۴ تا۱۱۷)
Flag Counter