Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
120 - 135
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ چھینٹا خاص اہلِ وسوسہ ہی کیلئے نہیں بلکہ سب کیلئے سنت ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے وسوسہ کو کیا علاقہ
ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن ۴؎
 (بے شک میرے بندوں پر تیرا غلبہ اور تسلّط نہیں ہوسکتا۔(ت)ابو داؤد نسائی ابن ماجہ حٰکم بن سفین یا سفٰین بن حکم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی
قال کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا بال توضأ ونضح فرجہ ۴؎
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پیشاب فرماتے وضو فرماتے اور شرمگاہِ اقدس پر چھینٹا دیتے۔ ابن ماجہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی
قال توضأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فنضح فرجہ ۶؎
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو فرما کر ستر مبارک پر چھینٹا دیا۔ احمد وابن ماجہ و دار قطنی وحاکم وحارث بن ابی اسامہ حضرت محبوب ابن المحبوب سیدنا وابن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما وہ اپنے والد ماجد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتانی جبریل فی اول ما اوحی الی فعلمنی الوضوءوالصلاۃ فلما فرغ الوضوءاخذ غرفۃ من الماء فنضح بھا فرجہ ۱؎۔
یعنی اول اول جو مجھ پر وحی اتری ہے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے حاضر ہو کر مجھے وضو ونماز کی تعلیم دی، جبریل نے وضو خود کرکے دکھایا جب وضو کر چکے ایک چُلّو پانی لے کر اپنی اُس صورت مثالیہ کے موضع شرمگاہ پر چھڑک دیا۔
ولفظ ق: 

علمنی جبرئیل الوضوءوامرنی ان انضح تحت ثوبی لما یخرج من البول بعد الوضوء۲؎۔
جبریل علیہ السلام نے مجھے وضو کی تعلیم دی اور مجھے بلایا کہ زیر جامہ پانی چھڑکوں اس خدشہ کو ختم کرنے کیلئے کہ وضو کے بعد کوئی قطرہ نکلا ہو۔ (ت)
ترمذی عـــہ ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جاء نی جبریل فقال یا محمد اذا توضأت فانتضح ۱؎۔
جبریل نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی یا رسول اللہ جب حضور وضو فرمائیں چھینٹا دے لیا کریں۔
 عـــہ  وعزاہ الامام الجلیل فی جامعیہ الی ابن ماجۃ ایضا اقول لیس عندہ ف جاء نی جبریل فقال یا محمد انما عندہ ماقدمت ای عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأت فانتضح اھ منہ۔ (م)

امام جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر وجامع کبیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کی طرف منسوب کیا ہے، میں کہتا ہوں ابن ماجہ کے نزدیک ان الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ہے جس کا ذکر میں نے ابی ھریرہ سے کیا ہے اذا توضات فانتضح اھ منہ (ت)

ف تطفل علی الامام الجلیل الجلال الدین السیوطی ۔
جبریل کا اپنی صورتِ مثالیہ کے ستر پر چھڑکنا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور طریقہ وضو عرض کرنے کیلئے تھا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فعل تعلیم اُمت کیلئے۔
مرقاۃ میں ہے:نضح فرجہ ای ورش ازارہ بقلیل من الماء اوسرا ولہ بہ لدفع الوسوسۃ تعلیما للامۃ ۲؎
ستر مبارگ پر چھینٹا دیا یعنی تہبند یا پاجامے  پر بھی امت کو دفع وسوسہ کی تعلیم دینے لئے تھوڑا پانی چھڑک دیا ۔
 (۱؎ سنن دارقطنی     ماجاء فی النضح علی الفرج    نشر السنۃ ملتان    ۱ /۱۱

۲؎ سنن ابن ماجۃ    ماجاء فی النضح علی الفرج   مجتبائی دہلی        ص۳۶

۳؎ ترمذی         ماجاء فی النضح بعد الوضوء   امین کمپنی دہی        ۱ /۹)
معہذا اس میں اقویا کیلئے جن کو برودت مثانہ کا عارضہ نہ ہو ایک نفع اور بھی ہے کہ شرمگاہ پر سرد پانی پڑنے سے اس میں تکاثف واستمساک پیدا ہو کر قطرہ موقوف ہوجاتا ہے کما ارشد الیہ حدیث زید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عند ق عـــہ
عــــہ سیدنا امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:

اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما قال اذا وجدت شیا من البلۃ فانضحہ مایلیہ من ثوبک بالماء ثم قل ھو من الماء قال حماد قال لی سعید بن جبیر انضحہ بالماء ثم اذا وجدتہ فقل ھو من الماء قال محمد وبھذا ناخذ اذا کان کثر ذلک من الانسان وھو قول ابی حنیفۃ۔ ۳ 

یعنی سیدنا امام اعظم حما د بن سلیمان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کا اثر ہے۔ امام حماد نے فرمایا کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی کو شبہ زیادہ ہوا کرے تو یہی طریقہ برتے اور یہی قول امام اعظم کا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
اقول مگر یہاں فـــ ۱ اولا یہ ملحوظ رہے کہ مقصودِ نفی وسوسہ ہے نہ ابطال حقیقت تو جسے قطرہ اترنے کا یقین ہوجائے وہ پانی پر حوالہ نہیں کرسکتا یونہی جسے معاذ اللہ سلس البول کا عارضہ ہو اسے یہ چھینٹا مفید نہیں بلکہ بسا اوقات مضر ہے کہ پانی کی تری سے نجاست بڑھ جائے گی۔

ف : مسئلہ: اس چھینٹے میں چند عمل ملحوظ ہیں ۔ 

ثانیا: سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن سے چمٹ کر بے حجابی لاتا ہے اس کا خیال فرض ہے۔

ثالثا : یہ حیلہ اُسی وقت تک نافع ہے کہ چھڑکا ہوا پانی خشک نہ ہوگیا ہو ورنہ اُس پر حوالہ نہ کرسکیں گے۔
وجیز امام کردری میں ہے:
رأی البلۃ بعد الوضوءسائلا من ذکرہ یعید الوضوء وان کان یعرض کثیرا ولا یعلم انہ بول اوماء لایلتفت الیہ وینضح فرجہ او ازارہ بالماء قطعا للوسوسۃ واذا بعد عھدہ عن الوضوءاوعلم انہ بول لاتنفعہ الحیلۃ ۱؎۔
وضو کے بعد ذکر سے تری بہتی دیکھی تو وضو کا اعادہ کرے اور اگر ایسا بہت پیش آتا ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا پانی، تو اس کی طرف التفات نہ کرے اور اپنی شرمگاہ یا تہمد پر قطع وسوسہ کے لئے پانی چھڑک دیاکرے۔ اور جب وضو کئے دیر گزرچکی ہواوراسے معلوم ہوکہ پیشاب ہے تویہ حیلہ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارہ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳)
اسی طرح خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
ولفظھما وینبغی ان ینضح فرجہ و ازارہ عــہ الخ ۱؎
ان کے الفاظ یہ ہیں: اپنی شرمگاہ اور تہبند پر پانی چھڑک لینا چاہئے۔(ت)
عــہ ای بالواؤ دون او اھ منہ ( یعنی دونوں پر ، یہ واوکے ساتھ ہے اَو (یا) کے ساتھ نہیں ۱۲منہ ۔ ت)
 (۱؎ خلاصہ الفتاوی     کتاب الطہارۃ الفصل الثالث نوع آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۱۸)
فائدہ: ہم نے فــــ ۲ زیر امر سوم آٹھ پانی گنائے تھے جو آب وضو کے شمار سے جدا ہیں یہ ان کانواں ہوا۔ اُن دیار میں رواج ایسے لوٹوں کا ہے جن میں جانب پشت بغرض گرفت دستے لگے ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے لوٹے دیکھے مگر کم۔
ف ۲ : علاوہ ان آٹھ پانیوں کے دو پانی اور جو حساب آب وضو سے جدا ہے۔
علما فرماتے فــــ ۳ ہیں ادب یہ ہے کہ پانی ڈالتے میں لوٹے کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے بلکہ دستہ پر۔اور جب بھیگے ہاتھ سے دستہ چھُوا جائے گا تو مستحب فــــ ۱ ہوا کہ وضو سے پہلے اُسے تین بار دھولے یہ دسواں پانی ہوا تلک عشرۃ کاملۃ۔
ف ۳: مسئلہ دستہ دار لوٹا ہو تو مستحب یہ ہے کہ پانی ڈالتے وقت اس کا دستہ تھامے اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے 

ف ۱: مسئلہ مستحب ہے کہ وضو سے پہلے لوٹے کا دستہ تین بار دھولے ۔
فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتار آدابِ وضو میں ہے:
کون فـــ ۲ اٰنیتہ من خزف وان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاراسہ ۱؎۔
مستحب یہ ہے کہ وضو کا برتن مٹی کا ہو،اورلوٹے کا دستہ تین بار دھولے، اور دھوتے وقت ہاتھ دستے پر رکھے لوٹے کے منہ پرنہیں۔(ت)
ف۲: مسئلہ مستحب ہے کہ وضو مٹی کے برتن سے کرے ۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ مطلب فی تیمم المندوبات داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۴

فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲

البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸)
Flag Counter