| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ) |
اِن حدیثوں ف کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکا دینے کیلئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گمان ہوتا ہے کبھی پیچھے پھُونکتا یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے اس پر حکم ہوا کہ نماز سے نہ پھرو جب تک تری یا آواز یا بُو نہ پاؤ جب تک وقوعِ حدث پر یقین نہ ہولے۔
ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:
اذا شک فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوءحتی یستیقن استیقانا یقدران یحلف علیہ ۱؎ ا۔ علقہ الترمذی فی باب الوضوء من الریح ـ
یعنی یقین ایسا درکار ہے جس پر قسم کھا سکے کو ضرور حدث ہوا اور جب قسم کھاتے ہچکچائے تو معلوم ہواکہ معلوم نہیں مشکوک ہے اورشک کا اعتبار نہیں کہ طہارت پر یقین تھا اور یقین شک سے نہیں جاتا۔(ترمذی نے باب الوضو من الریح میں اسے ابن مبارک سے تعلیقاً روایت کیاہے۔ت)
فـــــ : مسئلہ شیطان کے تھوک اور پھونک سے نماز میں قطرے اور ریح کاشبہ جاتا ہے حکم ہے کہ جب تک ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھاسکے اس پر لحاظ نہ کرے ، شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میں جواب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے۔
(۱؎ سنن الترمذی باب الطہارت حدیث ۷۶ دارالفکر بیروت ۱ /۳۵)
اسی لئے ف ۲ سنت ہوا کہ وضو کے بعد ایک چھینٹا رومالی یا تہ بند ہو تو اس کے ا ندرونی حصّے پر جو بدن کے قریب ہے دے لیا کریں ثم لیقل ھو من الماء پھر اگر قطرہ کا شبہ ہوتو خیال کرلیں کہ پانی جو چھِڑکا تھا اُس کا اثر ہے۔
فــــ ۲: مسئلہ سنت ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر چھنیٹادے لے ۔
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب الطہارہ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶ )
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا توضأت فانتضح۔ رواہ ابن ماجہ ۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
جب تو وضو کرے تو چھینٹا دے لے (اسے ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی سے روایت کیا ۔ ) (ت) بلکہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
عشرعــــہ۱من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ والسواک واستنشاق الماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاض الماء ۔
دس باتیں قدیم سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہیں: لبیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا،بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔
عــہ ۱: قال المناوی من للتبعیض ولذا لم یذکر الختان ھنا اھ ۱ ؎ اقول کونھا فـــ للتبعیض لاشک فیہ فان الختان والمضمضۃ کلا من الفطرۃ کما یاتی فالزیادۃ علی العشر معلومۃ ولکن ماعلل بہ من عدم ذکر الختان ھنا لامحل لہ وکانہ نسی ان الراوی نسی العاشرۃ فما یدریک لعلہا الختان استظھرہ جمع کما سیاتی اھ منہ (م) علامہ مناوی نے کہا من الفطرۃ میں من تبعیض کاہے۔ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہ کیا اھ اقول من برائے تبعیض ہونے میں کوئی شک نہیں اس لئے کہ ختنہ اورکلی ہرایک کا شمار فطرت کے تحت ہے جیساکہ آرہا ہے تودس سے زیادہ ہونا معلوم ہے۔ لیکن من برائے تبعیض ہونے کی جو علت بیان کی ہے کہ''اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہیں'' اس کا کوئی موقع نہیں، شاید وہ یہ بھول گئے کہ راوی دسویں چیز بھول گئے ہیں۔ہوسکتاہے وہ ختنہ ہی ہوجیساکہ ایک جماعت نے اسے ظاہر کہاہے جیساکہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے ۱۲منہ۔(ت) ف : دس باتیں قدیم سے سنت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ہیں ۔
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث عشر من الفطرۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۱۳۲)
قـال الراوی ونسیت العاشرۃ الا ان تکون المضمضۃ رواہ احمد ۱؎ ومسلم والاربعۃ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا ۔
راوی نے کہادسویں میں بھول گیا شایدعــہ کُلّی ہو۔ امام احمد، مسلم اور اصحابِ سُنن اربعہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کیا۔(ت)
عــــہ : امام قاضی عیاض پھر امام نووی نے استظہار فرمایا کہ غالبادسویں ختنہ ہوکہ دوسری حدیث میں ختنہ بھی خصال فطرت سے شمار فرمایا ہے ۲؎ انتہی ، یعنی حدیث احمد و شیخین ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے خمس من الفطرت الختان والاستحداد وقص الشارب و تقلیم الاظافر و نتف الابط ۳؎ پانچ چیزیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنتِ قدیمہ سے ہیں: ختنہ اور اُسترا لینا اور لبیں اور ناخن تراشوانا اور بغل کے بال دورکرنا۔ اقول ایک حدیث میں کلی کو بھی خصال فطرت سے گناہے ۔ امام احمد و ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوداؤد وابن ماجہ وعمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنھم سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستشاق ( الی قولہ ) والانتضاح بالماء و الاختنان واللہ تعالی اعلم ۱۲ منہ ۔ فطرت سے ہے کُلّی اورناک میں پانی ڈالنا(الی قولہ) شرم گاہ پر چھینٹا اور ختنہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۹ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۵ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۱۳۷ سنن الترمذی کتاب الادب حدیث ۲۷۶۶ دارالفکر بیروت ۴ /۳۴۸ سنن النسائی کتاب الزینۃ باب من سنن الفطرۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۷۳و ۲۷۴ ۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۲۹ ۳؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۵ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ ۱ / ۱۲۸ و ۱۲۹ مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۹، ۲۳۹، ۲۸۳ ۴؎ مسند احمد بن حنبل عن عمار بن یاسر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۶۴ سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۶)
شرمگاہ پر پانی ڈالنے کی علماء نے دو تفسیریں کیں: ایک استنجأ رواہ مسلم عن وکیع ۱؎۔ دوسرے وہی چھینٹا اور اس کے مؤید ہے کہ ایک روایت عـــہ۱؎ میں بجائے
انتفاض الماء لفظ والانتضاح
آیا ہے جمہور علماء نے فرمایا انتضاح وہی چھینٹا ہے
ذکرہ الامام النووی ۲؎۔