Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
118 - 135
 (۱۰) قول جامع یہ ہے کہ سلیقہ سے کام لیں سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیا خوب فرمایا ہے:
قد یرفق بالقلیل فیکفی ویخرق بالکثیر فلا یکفی ذکرہ الامام النووی فی شرح مسلم ۱؎ واوردہ الامام العینی فی شرح البخاری بلفظ قد یرفق الفقیہ بالقلیل فیکفی ویخرق الاخرق ولا یکفی ۲؎ ۔
یعنی سلیقہ سے اٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتاہے اوربدسلیقگی برتوتوبہت بھی کفایت نہیں کرتا(اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکرکیااورامام عینی نے شرح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا:
 (۱؎ شرح صحیح مسلم للامام النووی    کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء    دارالفکربیروت    ۲ /۱۳۷۳

۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الوضوء باب الوضو بالمد    تحت الحدیث ۶۴۔۲۰۱     دارالکتب العلمیہ بیروت۳ /۱۴۱)
    فائدہ :اوپر حدیث فــ۲ گزری کہ وَلَہان نام شیطان وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اُس کے وسوسہ سے بچو۔دفع وسوسہ کے لئے بہترین تدبیران باتوں کا التزام ہے:
 (فــ۲ :فائدہ جلیلہ :دفع وسواس کی دعائیں اورعلاج )۔
 (۱) رجوع الی اللہ واعوذ(۱) ولا حول(۲) وسورہ(۳) ناس
کی قرأت اور(۴)
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط
کہنا (۵) اور
ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ ط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمo۳؎
ان سے فوراً وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔اور (۶)
سُبْحٰنِ الْمَلِک الْخَلَّاقِ ط اِنْ یشاْ یذھِبْکُمْ وَیاتِ بِخَلْقٍ جَدِید ط وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیزo۱؎
کی کثرت اُسے جڑ سے قطع کردیتی ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم     ۵۷ /۳)  	(۱؎ القرآن الکریم     ۱۴ /۱۹)
حدیث(۷) میں ہے ایک صاحب نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر وسوسہ کی شکایت کی کہ نماز میں پتا نہیں چلتا دو پڑھیں یا تین۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا وجدت ذلک فارفع اصبعک السبابۃ الیمنی فاطعنہ فی فخذک الیسری وقل بسم اللّٰہ فانھا سکین الشیطان رواہ البزار۲؎ والطبرانی عن والد ابی الملیح ورواہ ایضا الحکیم الترمذی۔
جب تُو ایسا پائے تواپنی دا ہنی انگشتِ شہادت اٹھا کر اپنی بائیں ران میں مار اوربسم اللہ کہہ کہ وہ شیطان کے حق میں چھُری ہے (اس کو بزار اور طبرانی نے ابو ملیح کے والدسے روایت کیاہے اورحکیم ترمذی نے بھی اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۲؎ کنزالعمال بحوالہ طب والحکیم عن ابی الملیح     حدیث ۱۲۷۳    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱ /۲۵۲

    المعجم الکبیر        حدیث ۵۱۲    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱ /۱۹۲

مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزاز        کتاب الصلوۃ باب السہو فی الصلوٰۃ    دارالکتاب بیروت ۲ /۱۵۱)
 (۲) وسوسہ کی نہ سُننا اُس پر عمل نہ کرنا اس کے خلاف کرنا، اس بلائے عظیم کی عادت ہے کہ جس قدر اس پر عمل ہو اُسی قدر بڑھے اور جب قصداً اُس کا خلاف کیا جائے تو باذنہٖ تعالٰی تھوڑی مدّت میں بالکل دفع ہوجائے۔عمرو بن مُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
ماوسوسۃ باولع ممن یراھا تعمل فیہ ۔رواہ ابن ابی شیبۃ۳؎۔
شیطان جسے دیکھتاہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگرہوتاہے سب سے زیادہ اسی کے پیچھے پڑتاہے۔(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ المصنف لابن ابی شیبۃ     کتاب الطہارات حدیث ۲۰۵۴    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۷۹)
امام ابن حجر مکّی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں مجھ سے بعض ثقہ لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسہ والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی دریائے نیل پرگئے طلوعِ صبح کے بعد پہنچے ایک نے دوسرے سے کہا تُو اتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سر کو پہنچا یا نہیں، وہ اُترا اور غوطے لگانا شروع کئے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے وہاں پانی نہ پہنچا ایک صبح سے دوپہر ہوگیا آخر تھک کر باہر آیا اور دل میں شک رہا کہ غسل اُترا نہیں۔ پھر اس نے دوسرے سے کہا اب تُو اُتر میں گنوں گا، اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا یہاں تک کہ دوپہر سے شام ہوگئی مجبور وہ بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شُبہ کا شبہ ہی رہا، دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا نہ ہوا
والعیاذ باللہ تعالٰی ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ،۱؎
 (اسے حدیقہ ندیہ میں بیان کیاگیا۔ت)یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیۃ        الباب الثانی النوع الثانی     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۶۹۱)
اور صالحین میں سے ایک صاحب فرماتے ہیں مجھے دربارہ طہارت وسوسہ تھا راستہ کی کیچڑ اگر کپڑے میں لگ جاتی اُسے دھوتا (حالانکہ شرعاً جب تک خاص اُس جگہ نجاست کا ہونا ثابت ومتحقق نہ ہو حکم طہارت ہے) ایک دن نمازِ صبح کیلئے جاتا تھا راہ کی کیچڑ لگ گئی میں نے دھونا چاہا اور خیال آیا کہ دھوتا ہوں تو جماعت جاتی ہے ناگاہ اللہ عزوجل نے مجھے ہدایت فرمائی میرے دل میں ڈالا کہ اس کیچڑ میں لوٹ اور سب کپڑے سان لے اور یونہی نماز میں شریک ہوجا، میں نے ایسا ہی کیا پھر وسوسہ نہ ہوا ۔
ذکرہ فی الطریقۃ المحمدیۃ ۲؎
 (اسے طریقہ محمدیہ میں نقل کیاگیا۔ت)یہ اس کی مخالفت کی برکت تھی۔
 (۲؎ الطریقہ المحمدیۃ    النوع الثالث فی علاج الوسوسۃالخ    مکتبہ حنفیہ کوئٹہ     ۲ /۲۳۰)
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا احدکم اذا کان فی المسجد جاء الشیطان فابسّ بہ کما یبسّ الرجل بدابتہ فان اسکن لہ وثقہ اوالجمہ۔
جب تم میں کوئی مسجدمیں ہوتا ہے شیطان آکر اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام کرنے کے لئے اس پرہاتھ پھیرتا ہے پس اگروہ شخص ٹھہر ارہا یعنی اس کے وسوسہ سے فوراً الگ نہ ہوگیا تو اسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتاہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا:
وانتم ترون ذلک اما الموثوق فتراہ مائلا کذا لایذکراللّٰہ واما الملجم ففاتح فاہ لایذکر اللّٰہ عزّوجل رواہ الامام احمد۱؎ ۔
یعنی حدیث کی تصدیق تم آنکھوں دیکھ رہے ہو وہ جو بندھا ہوا ہے اُسے تودیکھے گا یوُں جھکاہوا کہ ذکرِ الہٰی نہیں کرتا اور وہ جولگام دیاہوا ہے وہ منہ کھولے ہے اللہ تعالٰی کا ذکر نہیں کرتا(اسے امام احمد نے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حبنل     عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۳۳۰)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واذا وجد احدکم فی بطنہ شیا فاشکل علیہ اخرج منہ شیئ ام لافلا یخرج من المسجد حتی یسمع صوتا اویجد ریحا رواہ مسلم والترمذی۲؎ عن ابی ھریرۃ۔
جب تم میں کوئی اپنے شکم میں کچھ محسوس کرے جس سے اس پر اشتباہ ہوجائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا یا نہیں تووہ مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔اسے مسلم وترمذی نے حضرت ابوھریرہ سے روایت کیا۔
 (۲؎ صحیح مسلم    کتاب الحیض باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۸

سنن الترمذی    ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء من الریح    حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت    ۱ /۱۵۸)
والا حمد والترمذی وابن ماجۃ والخطیب عنہ مختصرا بلفظ لاوضوء الامن صوت اوریح۳؎
اوران سے امام احمد ،ترمذی، ابن ماجہ اورخطیب نے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیاہے:وضو نہیں مگر آواز یا بُو سے۔
 (۳ ؎ سنن الترمذی    ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوءمن الریح    حدیث ۷۵        دارالفکربیر وت    ۱ /۱۳۴

سنن ابن ماجۃ     ابواب الطہارۃ باب لاوضو الامن حدث         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۹

مسند احمدبن حنبل     عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۱۰و۴۳۵)
ولا حمد والشیخین وابی داؤد والنسائی وابناء ماجۃ وخزیمۃ وحبان عن عباد بن تمیم عن عمہ عــہ عبداللّٰہ بن زید بن عاصم قال شکی الی النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الرجل یخیل الیہ انہ یجد الشیئ فی الصلٰوۃ قال لاتنصرف حتی تسمع صوتا اوتجد ریحا ۱؎ ۔
اورامام احمد،بخاری،مسلم،ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ اورابن حبان کی روایت عباد بن تمیم سے ہے، وہ اپنے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں ایک شخص نے نبی کے پاس یہ شکایت عرض کی کہ اسے خیال ہوتاہے کہ نماز میں وہ کچھ محسوس کررہا ہے ۔سرکار نے فرمایا: نمازسے نہ پھرویہاں تک کہ آواز سنویا بُو پاؤ۔
 (عــہ)وقع ھھنا فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ بحیدراباد عن عمر مکان عن عمہ وھو تصحیف شدید فاجتنبہ اھ منہ۔ 

یہاں کنزالعمال کے نسخہ مطبوعہ حیدرآباد میں عن عمہ کی جگہ عن عمر چھپ گیا ہے اور یہ شدید قسم کی تصحیف ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے اھ منہ۔(ت)
 (۱؎صحیح البخاری     کتاب الوضو با ب لایتوضأمن الشک    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۵

صحیح مسلم        کتاب الحیض الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۸

سنن النسائی     کتاب الطہارۃ     باب الوضومن الریح     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۳۷

سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ     باب اذاشک فی الحدث     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۳

سنن ابن ماجۃ     ابواب الطہارۃ     باب لاوضوالامن حدث     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۹)
ولا حمد وابی یعلی عن ابی سعید عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ان الشیطان لیاتی احدکم وھو فی صلاتہ فیاخذ بشعرۃ من دیرہ فیمدھا فیری انہ قداحدث فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۲؎ ۔
اور امام احمد وابو یعلٰی حضرت ابو سعید سے وہ نبی  سے راوی ہیں کہ تم میںکوئی نماز میںہوتاہے اورشیطان اس کے پاس آکر اس کے پیچھے سے کوئی بال کھینچتاہے جس سے وہ یہ خیال کرنے لگتاہے کہ اس کا وضو جاتارہا، ایساہوتو وہ نمازسے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔
 (۲؎ الجامع الصغیر بحوالہ حم ع    حدیث ۲۰۲۷    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۲۴)
ورواہ عنہ سعید بن منصور مختصرا نحو المرفوع من حدیث عباد وللبراز عن ابن عباس عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یاتی احدکم الشیطان فی الصلاۃ فینفح فی مقعدتہ فیخیل انہ احدث ولم یحدث فاذا وجد ذلک فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۱؎
اوراسے ان سے سعید بن منصور نے مختصراً حضرت عباد کی حدیث کے مرفوع الفاظ کے ہم معنی ذکر کیاہے۔ اوربزار حضرت ابن عباس سے وہ نبی ؐ سے راوی ہیں کہ تم میںکسی کے پاس نماز میں شیطان آکر اس کے پیچھے پھونک دیتا ہے جس سے اس کو خیال ہوتاہے کہ مجھے حدث ہوگیا حالانکہ اسے حدث نہ ہوا توکوئی ایسامحسوس کرے تونماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بوُپائے۔
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار    باب مالاینقض الوضوء   موسسۃ الرسالۃ    بیروت    ۱ /۱۴۷)
ورواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر مختصرا بلفظ من خیل لہ فی صلاتہ انہ قد احدث فلا ینصرفن حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۲؎
اور اسے طبرانی نے ان سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیاہے جسے نماز کے اندر ایسا خیال ہوکہ اسے حدث ہواتوہرگز وہ نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔
 (۲ ؎المعجم الکبیر حدیث ۱۱۹۴۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۳۴۱ )
ولعبد الرزاق وابن ابی الدنیا عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال ان الشیطان یطیف باحدکم فی الصلاۃ لیقطع علیہ صلاتہ فاذا اعیاہ ان ینصرف نفخ فی دبرہ یریہ انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا اویسمع صوتا ۳؎
اورعبدالرزاق وابن ابی الدنیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے فرمایا: شیطان تم میں کسی کے گرد اس کی نماز توڑنے کے لئے گھیرا ڈال دیتا ہے،جب اس سے عاجز ہوجاتاہے کہ وہ اپنی نمازسے پھرے تواس کے پیچھے پھُونک دیتا ہے تاکہ اسے یہ خیال ہوکہ اسے حدث ہوگیا۔ایسا ہوتو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ بو پائے یا آواز سنے۔
 (۳؎ المصنف لعبدالرزاق    حدیث ۵۳۶ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ /۱۴۱)
وفی روایۃ اخری عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حتی انہ یاتی احدکم وھو فی الصلاۃ فینفخ فی دبرہ ویبل احلیلہ ثم یقول قد احدثت فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا ویسمع صوتا ویجد بللا ۴؎
اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہی ایک اورروایت میں یہ ہے کہ وہ نماز میں کسی کے پاس آکر اس کے پیچھے پھونک دیتاہے اوراس کے احلیل(ذکر کی نالی)کو ترکردیتاہے پھرکہتا ہے تو بے وضو ہوگیا۔ توہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ بو پائے اورآواز سنے اورتری پائے۔
 (۴؎ آکام المرجان بحوالہ عبداللہ بن مسعود باب ۱۲۰ مکتبہ خیر کثیر کراچی ص ۹۲)
ولعبد الرزاق وابن ابی شیبۃ فی مصنفیھما وابن ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ عن ابرھیم النخعی قال کان یقال ان الشیطان یجری فی الاحلیل وفی الدبرعـــہ فیری الرجل انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یسمع صوتا اویجد ریحا اویری بللا ۲؎
اور عبدالرزاق وابن ابی شیبہ اپنی اپنی مصنّف میں،اورابن ابی داؤد کتاب الوسوسۃ میں حضرت ابراہیم نخعی سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا: کہا جاتاتھاکہ شیطان احلیل میں اور دُبر میں دوڑجاتا ہے ۔آدمی کو یہ خیال دلاتاہے کہ اسے حدث ہوگیا تو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے یا تری دیکھے۔
عـہ فی نسختی لقط المرجان بین الواو وفی لفظۃ لم یقمہا الکاتب وھو ینفخ فی الدبر اونحوہ اھ منہ (م)

لقط المرجان کا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں واؤ او رفی کے درمیان ایک لفظ ہے جس کو کاتب نے نہیں لکھا اور وہ ینفخ فی الدبر یا اس کے ہم معنی کچھ ہو گا اھ منہ ۔ (ت)
 (۱؎ المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یشتبہ علیہ فی الصلوۃ احدث الخ حدیث ۵۳۸ المکتب الاسلامی حدیث ۱/ ۱۴۲)
قلت ذکر ھذین الاثرین الامام الجلیل الجلال السیوطی فی لقط المرجان مقتصرا علیھما ھو وصاحبہ البدر فی اصلہ اٰکام المرجان مع ثبوتہ فی المرفوع کما علمت وقال عامر الشعبی من اجلاء علماء التابعین ان الشیطان بزقۃ یعنی بلۃ طرف الاحلیل۲؎ ذکرہ العارف فی الحدیقۃ الندیۃ۔
قلت یہ دونوں اثر ( اثر ابن مسعود واثرامام نخعی)امام جلال الدین سیوطی نے ''لقط المرجان'' میں ذکر کئے اورانہوں نے انہی دونوں پر اکتفا کی اسی طرح اس کی اصل آکام المرجان میں قاضی بدرالدین شبلی نے بھی ان ہی دونوں پر اکتفا کی ہے حالانکہ یہ مضمون مرفوع میں موجود ہے جیساکہ معلوم ہوا۔ اور اجلّہ علمائے تابعین میں سے امام عامر شعبی فرماتے ہیں: شیطان کبھی تھوک دیتا ہے ۔مراد یہ ہے کہ سرِ احلیل ترکردیتاہے۔ اسے عارف باللہ عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں ذکر کیا۔(ت)
 (۲؎ حدیقۃ الندیۃ الباب الثالث النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲ /۶۸۸)
Flag Counter