Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
117 - 135
فائدہ مہمّہ: فــ۱:وضو میں پانی زیادہ نہ خرچ ہونے کیلئے چند امور کا لحاظ رکھیں:

(۱) وضو دیکھ فــ۲ دیکھ کر ہوشیاری واحتیاط کے ساتھ کریں، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ وضو بہت جلد کرناچاہئے اور اسی معنے پر کہتے ہیں کہ وضو نوجوان کا سا اور نماز بُوڑھوں کی سی،یہ غلط ہے بلکہ وضو میں بھی درنگ وترک عجلت مطلوب ہے۔ فتح وبحر وشامی شمار آداب وضوء میں ہے والتانی۱؎ (ٹھہر ٹھہرکر دھونا۔ ت)عالمگیریہ میں معراج الدرایہ سے ہے
لایستعجل فی الوضوء  ۲؎
(وضو میں جلدی نہ کرے۔ ت)
فــ۱:فائدہ :وہ باتیں جن کے لحاظ سے وضومیں پانی کم خرچ ہو۔

فــ۲:مسئلہ وضومیں جلدی نہ چاہئے بلکہ درنگ واحتیاط کے ساتھ کریں ،عوام میں جویہ مشہورہے کہ وضوجوانوں کاسا،نمازبوڑھوں کی سی،یہ وضوکے بارے میں غلط ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲

البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۸)

(۲؎ الفتاوٰی الہندیہ    کتاب الطہارات     الفصل الثالث فی المستحبات نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۹)
اقول ظاہر ہے کہ جس شے کیلئے شرع نے ایک حدباندھی ہے کہ اُس سے نہ کمی چاہئے نہ بیشی، تو اس فعل کو باحتیاط بجالانے ہی میں حد کا موازنہ ہوسکے گا نہ کہ لپ جھپ اناپ شناپ میں۔

(۲) بعض لوگ چُلّو لینے میں پانی ایسا ڈالتے ہیں کہ اُبل جاتاہے حالانکہ جو گرا بیکار گیااس سے احتیاط چاہئے۔

(۳) ہر چُلّو بھرا ہونا ضرور نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اس کا اندازہ رکھیں مثلاً ناک میں نرم بانسے تک پانی چڑھانے کو پُورا چُلو کیاضرور نصف بھی کافی ہے بلکہ بھرا چُلو کُلی کیلئے بھی درکار نہیں۔

(۴) لوٹے کی ٹونٹی متوسط معتدل چاہئے نہ ایسی تنگ کہ پانی بدیر دے نہ فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرائے اس کا فرق یوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وضو کیجئے تو بہت خرچ ہوگا یونہی فراخ ٹونٹی سے بہانا زیادہ خرچ کا باعث ہے اگر لوٹاایسا ہوتو احتیاط کرے پوری دھارنہ گرائے بلکہ باریک۔

(۵) بہت بھاری برتن سے وضو نہ کرے خصوصاً کمزورکہ پورا قابو نہ ہونے کے باعث پانی بے احتیاط گرے گا۔

(۶) اعضاء فــ دھونے سے پہلے اُن پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتاہے اور تھوڑا،بہت کا کام دیتا ہے خصوصاً موسم سرمامیں اس کی زیادہ حاجت ہے کہ اعضأ میں خشکی ہوتی ہے بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔
فــ:مسئلہ مستحب ہے کہ اعضاء دھونے سے پہلے بھیگاہاتھ پھیرلے خصوصاجاڑے میں ۔
بحرالرائق میں ہے:
عن خلف بن ایوب انہ قال ینبغی للمتوضیئ فی الشتاء ان یبل اعضاء ہ بالماء شبہ الدھن ثم یسیل الماء علیھا لان الماء یتجافی عن الاعضاء فی الشتاء کذا فی البدائع ۱؎۔
خلف بن ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:وضوکرنے والے کو چاہئے کہ جاڑے میں اپنے اعضاکو پانی سے تیل کی طرح ترکرے پھران پرپانی بہائے اس لئے کہ پانی جاڑے میں اعضا سے الگ رہ جاتاہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۱)
فتح القدیر میں ہے:
الاداب امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ والتأنی والدلک خصوصاً فی الشتاء ۲؎ اھ ۔
وضو کے آداب میں یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضا پرہاتھ پھیرلے،اورٹھہر ٹھہرکردھوئے، اور مَل لیا کرے خصوصاً جاڑے میں اھ۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۲)
واعترضہ فی البحر بانہ ذکر الدلک من المندوبات وفی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا ۳؎ اھ
اس پر بحر کااعتراض ہے کہ انہوں نے ملنے کو مندوبات میں شمارکردیاجب کہ خلاصہ میں یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیک سنت ہے،
 (۳؎ البحرالرائق         کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)
وقدمناہ فی التنبیہ الثالث وقال العلامۃ ش فی المنحۃ قولہ ذکر الدلک الخ یمکن ان یجاب عنہ بان مرادہ امرار الید المبلولۃ علی الاعضاء المغسولۃ لما قدمہ الشارح عندالکلام علی غسل الوجہ عن خلف بن ایوب (ای مانقلناہ اٰنفا قال) لکن کان ینبغی تقییدہ بالشتاء تامل ۴؎ اھ۔
اوریہ اعتراض ہم تنبیہ سوم میں ذکرکرچکے ہیں۔علامہ شامی منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں بحر کے اعتراض مذکور کے تحت لکھتے ہیں: اس کا یہ جواب دیاجاسکتاہے کہ صاحبِ فتح کی مراد یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء پر بھیگا ہواہاتھ پھیرلیاجائے اس کی وجہ وہ ہے جو شارح نے غسل وجہ پرکلام کے تحت حضرت خلف بن ایوب سے نقل کی(وہی جواوپر ہم نے ابھی نقل کیا)لیکن انہیں اس کے ساتھ ''جاڑے'' کی قید لگادینا چاہئے تھا۔ تامل کرو۔ اھ۔
 (۴؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)
اقول اولا : ان فــ۱اراد انہ لایندب الیہ الا فی الشتاء فممنوع لان الماء وان کان یتجافی عن الاعضاء فی غیر الشتاء فلا شک ان البل قبل الغسل ینفع فی کل زمان فانہ یسہل مرور الماء ویقلل المصروف منہ کما ھو مجرب مشاھد فالنقل عن الامام خلف فی الشتاء لاینفیہ فی غیرہ انما یقتضی ان الحاجۃ الیہ فی الشتاء اشد وھذا قد صرح بہ المحقق حیث قال خصوصا فی الشتاء ۱؎۔
اقول اولا : اگر علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ وہ صرف جاڑے ہی میں مندوب ہے تویہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ غیر سرمامیں پانی اگرچہ اعضا سے الگ نہیں ہوتا مگر اس میں شک نہیں کہ دھونے سے پہلے ترکرلینا ہر موسم میں مفید ہے کیوں کہ اس سے پانی بآسانی گزرتاہے اور کم صرف ہوتاہے۔جیسا کہ یہ تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے ۔توامام خلف سے نقل اگرچہ خاص جاڑے کے لفظ کے ساتھ ہے مگراس سے غیرسرماکی نفی نہیں ہوتی اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جاڑے میں ضرورت زیادہ ہے اور اس کی تو حضرت محقق نے تصریح کردی ہے اس طرح کہ انہوں نے لکھا:''خصوصاً جاڑے میں''۔
فــ۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔
 (۱؎فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲)
وثانیا :  امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ قد افرزہ المحقق عن الدلک کما سمعت فکیف یحمل علیہ لکن التحقیق مااقول ان الامرار المذکور لہ ثلثۃ محتملات الاول الامرار بعد الغسل اعنی بعدفــ۲ماانحدر الماء لنشف الباقی کیلا یترشش علی الثیاب ۔
    ثانیاً : دھوئے جانے والے اعـضا پرہاتھ پھیرنے کو حضرت محقق نے دلک(اعضاکوملنے)سے الگ ذکرکیا ہے جیساکہ ان کی عبارت پیش ہوئی تواسے اس پرکیسے محمول کیاجائے گا؟۔لیکن تحقیق وہ ہے جو میں کہتاہوں کہ مذکورہ ہاتھ پھیرنے میں تین معنی کا احتمال ہے:۔ اول: دھولینے کے بعد ہاتھ پھیرنایعنی پانی گرجانے کے بعد باقی کو خشک کرنے کے لئے ہاتھ پھیرنا تاکہ کپڑوں پر نہ ٹپکے۔
فــ۲:مسئلہ ہرعضودھوکراس پرہاتھ پھیردیناچاہئے کہ پانی کی بوندیں ٹپکناموقوف ہوجائے تاکہ بدن یاکپڑے پرنہ ٹپکیں۔
    والثانی : مع الغسل ای حین کون الماء بعدُ مارا علی الاعضاء وھو عین الدلک المطلوب قال فی البحر خلف ماقدم عن خلفٍ الدلکُ لیس من مفہومہ (ای الغسل بالفتح) وانما ھو مندوب وذکر فی الخلاصۃ انہ سنۃ وحدہ امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ ۱؎ اھ۔
    دوم: دھونے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پھیرنا۔یعنی جس وقت پانی اعضا پر گررہا ہے اسی وقت ہاتھ پھیرتے جانا۔یہ بعینہ وہی دلک(اعضا کو ملنا) ہے جو مطلوب ہے۔بحر میں حضرت خلف سے نقل شدہ کلام کے بعد لکھا: دلک، غسل بالفتح۔دھونے۔کے مفہوم میں داخل نہیں۔وہ صرف مندوب ہے۔اور خلاصہ میں ذکرکیاکہ سنت ہے۔اور اس کی تعریف یہ ہے :دھوئے جانے والے اعضاء پر ہاتھ پھیرنا اھ۔
 (۱؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۱)
    والثالث : قبل الغسل ویحتاج الی التقیید بالمبلولۃ والتجوز فی المغسولۃ بمعنی ماسیغسل اوما امر بہ ان یغسل فح قد یمکن ان یراد بالدلک الثالث کما زعم العلامۃ ش وبالا مرار الاول فلا ھو ینافی الافراز ولا یلزم عدم الثانی من المندوبات خلافا لما ھو المذھب المذکور فی الخلاصۃ ومن القرینۃ علیہ ان المحقق بحث فی کون الدلک خارجا عن حقیقۃ الغسل ومال الی ان المقصود بشرعیۃ الغسل لایحصل الابہ وقد اجاب عنہ فی الغنیۃ بما کفی وشفی فیبعد ان یدخلہ ھھنا فی مجرد ادب نازل عن الاستنان ایضا خلفۃ عن الافتراض وقد یؤیدہ ایضا لفظۃ خصوصا فی الشتاء لان الثانی صرحوا باستنانہ مطلقا وانما قیدوا بالشتاء الثالث فھذا غایۃ توجیہ ما فی المنحۃ وبہ یندفع ایراد البحر وان کان المتبادر من الدلک ھو الثانی ولذا مشی علیہ فی البحر واقتفینا اثرہ فیما مربل مشی علیہ ش نفسہ فی ردالمحتار واعترض علی الفتح بما اعترض فی البحر قائلا لکن قدمنا ان الدلک سنۃ قال ولعل المراد بما قبلہ (ای امرار الید) امرارھا علیہ مبلولۃ قبل الغسل تأمل ۱؎ اھ۔
    سوم: دھونے سے پہلے ہاتھ پھیرنا(فتح کی عبارت ہے : امر ار الید علی الاعضاء المغسولۃ اعضائے مغسولہ پر ہاتھ پھیرنا۱۲م)عبارت فتح کے اندر یہ معنی لینے کے لئے دوباتوں کی ضرورت ہے۔ایک یہ کہ ہاتھ کے ساتھ''تر'' کی قیدلگائی جائے۔دوسری یہ کہ ''مغسولہ'' میں مجاز مانا جائے اورکہاجائے کہ مغسولہ کا معنی یہ کہ وہ جودھوئے جائیں گے یا وہ جن کے دھونے کاحکم ہے۔ایسی صورت میں دلک(اعضا کو ملنا) سے تیسرا معنی مراد لیاجاسکتاہے جیسا کہ علامہ شامی کا خیال ہے اور''ہاتھ پھیرنے''سے پہلا معنٰی مراد ہوسکتا ہے۔یہ معنی اسے الگ ذکر کرنے کے خلاف نہ پڑے گا۔اوریہ بھی لازم نہ آئے گا کہ انہوں نے دوسرے معنی کوخلاصہ میں ذکرشدہ مذہب کے برخلاف،مندوبات میں شمار کردیا۔اوراس پر ایک قرینہ بھی ہے وہ یہ کہ حضرت محقق نے دلک (بمعنی دوم) کے حقیقتِ غسل سے خارج ہونے پر بحث کی ہے اوران کا میلان اس طرف ہے کہ دھونے کی مشروعیت کا جو مقصود ہے وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔اس بحث کاصاحبِ غنیہ نے کافی وشافی جواب دے دیاہے(مگرجب وہاں دلک کو عینِ غسل اور نفسِ فرض قراردینے کی طرف مائل ہیں۱۲م) توبعید ہے کہ یہاں فرضیت کے بدلے ، مسنونیت سے بھی فروترصرف ایک ادب کے تحت اسے داخل کردیں۔اور ان کے لفظ''خصوصاًجاڑے میں'' سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔اس لئے کہ معنی دوم کے تو مطلقاً مسنون ہونے کی علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ اورجاڑے کی قید صرف معنی سوم میں لگائی ہے۔ یہ منحۃ الخالق کے جواب کی انتہائی توجیہ ہے اور اسی سے بحر کا اعتراض بھی دفع ہوجاتاہے۔ اگرچہ لفظ دلک سے متبادر وہی معنی دوم ہے اسی لئے صاحبِ بحر اسی پرگئے ہیں اور سابق میں ہم نے بھی ان ہی کے نشانِ قدم کی پیروی کی ہے۔بلکہ خود علامہ شامی ردالمحتار میں اسی پر گام زن ہیں اور فتح پر وہی اعتراض کیاہے جو بحر نے کیا،وہ لکھتے ہیں: لیکن ہم پہلے ذکر کر چکے کہ دلک سنت ہے۔اورکہتے ہیں: شاید ماقبل (یعنی ہاتھ پھیرنے) سے مراد دھونے سے پہلے اعضا پر ترہاتھ پھیرنا ہے، تأمل کرو،اھ۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت         ۱ /۸۵)
اقول قدفــ۱علمت ان ھذا اضعف احتمالا تہ واذا کان ھذا مرادہ فحمل الدلک علیہ یکون تکرار بلا شک فان قلت ذکر المحقق بعدہ من الاداب حفظ ثیابہ من المتقاطر ۲؎ فبحمل الامرار علی الاول یتکرر مع ھذا قلت امرار الید وان کان معلولا بالحفظ تعلیل الفعل بغایتہ فلیس علۃ کافیۃ لحصولہ بحیث لایحتاج بعدہ فی الحفظ الی احتراسٍ سواہ فلا یکون ذکرہ مغنیا عن ذکر الحفظ۔
    اقول واضح ہوچکا کہ اس لفظ میں یہ سب سے ضعیف احتمال ہے،اگر اس لفظ سے یہ ان کی مراد ہوتواس پر''دلک''کو محمول کرنے میں بلاشبہہ تکرار لازم آئے گی۔ اگر سوال ہوکہ حضرت محقق نے اس کے بعد آداب میں''ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کوبچانا''بھی شمارکیاہے۔توہاتھ پھیرنے سے اگرمعنی اول مراد لیاجائے تب بھی تویہاں آکر تکرار ہوجائے گی؟ تومیں جواباًکہوں گا اگرچہ ہاتھ پھیرنے کی علت ''کپڑوں کی حفاظت بتائی گئی ہے جیسے کسی فعل کی علت اس کی غایت کو بتایاجاتاہے مگر یہ ہاتھ پھیرنا بچاؤ حاصل ہونے کے لئے ایسی کافی علت نہیں ہے کہ اس کے بعد بچاؤ میں مزید کسی احتیاط اور ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہی نہ ہوتوہاتھ پھیرنے کاذکر ہوجانے کے بعد بھی اس کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کے بچانے کو مستقلاً ذکر کیاجائے۔
فــ۱:معروضۃ علی ش۔
 (۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲)
ثم اقول عجبافــ۲للبحر جزم ھھنا یندب الدلک ونسب الاستنان للخلاصۃ کغیر المرتضی لہ واعترض ثمہ علی المحقق بان فی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا۱؎۔
    ثم اقول صاحبِ بحر پر تعجب ہے کہ یہاں دلک کے مندوب ہونے پر جزم کیااور مسنون ہونے کوخلاصہ کی طرف یوں منسوب کیا جیسے یہ ان کا پسندیدہ نہیں، اور وہاں حضرت محقق پر یہی اعتراض کیاہے کہ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ ہمارے نزدیک سنت ہے۔
فــ۲:تطفل علی البحر۔
 (۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱ /۲۹)
 (۷) کلائیوں پر بال ہوں تو ترشوادیں کہ اُن کا ہونا پانی زیادہ چاہتا ہے اور مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اور تراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن وافضل نورہ ہے کہ ان اعضأ میں یہی سنت سے ثابت ابن ماجہ فــ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
ان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان اذا طلی بدأ بعورتہ فطلاھا بالنورۃ وسائر جسدہ اھلہ ۲؎۔
رسول اللہ جب نورہ کا استعمال فرماتے تو ستر مقدس پراپنے دست مبارک سے لگاتے اور باقی بدن مبارک پر ازواج مطہرات لگادیتیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہن وبارک وسلم۔
فــ:مسئلہ ہاتھ ،پاؤں،سینہ ،پشت ،پربال ہوں تونورہ سے دورکرنابہترہے ۔اورموئے زیرناف پربھی استعمال نورہ آیاہے ۔
 (۲؎ سنن ابن ماجۃ     ابواب الادب باب الاطلاء بالنورۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۷۴)
اور ایسا نہ کریں تو دھونے سے پہلے پانی سے خوب بھگولیں کہ سب بال بِچھ جائیں ورنہ کھڑے بال کی جڑ میں پانی گزر گیااور نوک سے نہ بہا تو وضو نہ ہوگا۔

(۸) دست وپاپر اگر لوٹے سے دھار ڈالیں تو ناخنوں سے کہنیوں یا گٹوں کے اُوپر تک علی الاتصال اُتاریں کہ ایک بار میں ہر جگہ پر ایک ہی بار گرے پانی جبکہ گر رہا ہے اور ہاتھ کی روانی میں دیر ہوگی تو ایک جگہ پر مکرر گرے گا۔ 

(۹) بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ ناخن سے کُہنی تک یا گٹے تک بہاتے لائے پھر دوبارہ سہ بارہ کیلئے جو ناخن کی طرف لے گئے تو ہاتھ نہ روکا بلکہ دھار جاری رکھی ایسا نہ کریں کہ تثلیث کے عوض پانچ بار ہوجائے گا بلکہ ہر بار کہنی یا گٹے تک لاکر دھار روک لیں اور رُکا ہوا ہاتھ ناخنوں تک لے جاکر وہاں سے پھر اجرا کریں کہ سنت یہی فــ۱ہے کہ ناخن سے کُہنیوں یا گٹوں تک پانی بہے نہ اس کا عکس،
کما نص علیہ فی الخلاصۃ وغیرھا
 (جیساکہ خلاصہ وغیرہ میں اس کی تنصیص کی ہے۔ ت)
فــ۱:مسئلہ سنت یہ ہے کہ پانی ہاتھ پاؤں کے ناخن کی طرف سے کہنیوں اورگٹوں کے اوپرتک ڈالیں اُدھرسے اِدھرکونہ لائیں ۔
Flag Counter