Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
116 - 135
یہ منشأ قول دوم ہے

بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا بے حاجت زیادت اگر باعتقاد سنیت ہو مطلقاً ناجائز وگناہ ہے اگرچہ دریا میں اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقاً مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد سنیت نہ ہو اور اگر نہ فساد عقیدت نہ اضاعت تو خلاف ادب ہے مگر عادت کرلے تو مکروہ تنزیہی یہ ہے بحمداللہ تعالٰی فقہ جامع وفکر نافع ودرک بالغ ونور بازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحُسن تحقیق وعطر تدقیق
وباللّٰہ التوفیق والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
اقول اس تنقیح جلیل سے چند فائدے روشن ہوئے:

اولا اصل حکم وہی ہے جو امام محرر المذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتاب اصل میں ارشاد فرمایا کہ بقیہ احکام کے مناط عقیدت واضاعت وعادت ہیں اور وہ نفس فعل سے زائد، فی نفسہ اُس کا حکم اُسی قدر کہ قول سوم میں مذکور ہوا۔

ثانیا دوم وسوم میں اُس زیادت کو اسراف سے تعبیر فرمانا محض بنظر صورت ہے ورنہ جب نہ معصیت نہ اضاعت تو حقیقت اسراف زنہار نہیں۔

ثالثا دربارہ زیادت منع واجازت میں عادت وندرت کو دخل نہیں کہ فساد عقیدت یا پانی کی اضاعت ہو تو ایک بار بھی جائز نہیں اور اُن دونوں سے بری ہو تو بارہا بھی گناہ معصیت نہیں کراہت تنزیہی جدا بات ہے، ہاں دربارہ نقص یہ تفصیل ہے کہ بے ضرورت تین بار سے کم دھونے کی عادت مکروہ تحریمی اور احیاناً ہو تو بے فساد عقیدت صرف مکروہ تنزیہی ورنہ تحریمی کہ تثلیث سنّتِ مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کے ترک کا یہی حکم بخلاف زیادت کہ ترک تثلیث نہیں بلکہ تثلیث پُوری کرکے زیادت ہے۔
وبہ ظھرفــ ضعف ما مر عن العلامۃ ش فی التنبیہ الخامس من التوفیق بین نفی البدائع الکراھۃ ای التحریمیۃ عن الزیادۃ علی الثلاث والنقص عنھا عند عدم الاعتقاد مع اشعار الفتح وغیرہ بثبوتھا اذا زاد اونقص لغیر حاجۃ بان محمل الاول اذا فعلہ مرۃ والثانی علی الاعتیاد فھذا مسلم فی النقص ممنوع فی الزیادۃ۔
اسی سے اس تطبیق کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو علامہ شامی سے ہم نے تنبیہ پنجم میں نقل کی۔ تفصیل یہ کہ صاحبِ بدائع نے تین بارسے کم وبیش دھونے سے متعلق بتایا کہ اگر (کمی بیشی کے مسنون ہونے) کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں یعنی مکروہ تحریمی نہیں۔ اورصاحبِ فتح القدیر وغیرہ نے پتا دیا کہ اگرزیادتی یا بے حاجت کمی کرے تو کراہت ثابت ہے اگرچہ وہ تین باردھونے کو ہی مسنون مانتا ہو۔ علامہ شامی کی تطبیق یہ ہے کہ نفی بدائع کا مطلب یہ ہے کہ اگرکبھی ایک بار کمی بیشی کا مرتکب ہوا توکراہت نہیں اور فتح وغیرہ کے اثبات کراہت کا معنٰی یہ ہے کہ اگر کمی یا زیادتی کی عادت کرے توکراہت ہے۔ اس تطبیق پر کلام یہ ہے کہ کمی کی صورت میں تو یہ تسلیم ہے مگر زیادتی کی صورت میں تسلیم نہیں (جیسا کہ اوپر واضح ہوا۔م)
فــ:حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت :لایعنی باتوں کاموں کے ترک کی ہدایت ،اورلایعنی کے معنی کابیان ۔
اما الاستناد الی مفہوم تفریع الفتح وغیرہ المارثمہ وقد تمسک بہ ایضا العلامۃ ط علی ان کراھۃ الاسراف کراھۃ تحریم حیث قال اقول یاثم بالاسراف ولو اعتقد سنیۃ الثلاث فقط فلذا قالوا فی المفھوم (ای بیان مفہوم قولھم ان الحدیث محمول علی الاعتقاد) حتی لورأی سنیۃ العدد وزاد لقصد الوضوء علے الوضوء اولطمانینۃ القلب اونقص لحاجۃ فلا باس بہ (ای فافادوا ان لو زاد بلا غرض کان فیہ باس) ولو کان کما ذکر (ان لاباس الا فی الاعتقاد) لاتکرہ الزیادۃ مطلقا ۱؎ اھ مزیدا منا بین الاھلۃ ۔
اب ایک بحث اور رہ گئی کہ فتح القدیر وغیرہ میں جیساکہ وہاں گزرا وعیدحدیث کو عدم اعتقاد پرمحمول کرکے یہ تفریع کی ہے کہ اگرکسی حاجت کے تحت کمی بیشی کی تو اس میں حرج نہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر بلا حاجت کمی بیشی ہے تومکروہ ہے۔اس تفریع کے مفہوم سے علامہ شامی نے اسراف کی کراہت پر استناد کیاہے اوراس سے علامہ طحطاوی نے بھی اسراف کی کراہت تحریم پراستناد کیاہے وہ کہتے ہیں: میں کہتاہوں اگرصرف تثلیث کے مسنون ہونے کااعتقاد رکھتا ہو تو بھی اسراف سے گنہگار ہوجائے گا۔اسی لئے مفہوم میں (''حدیث اعتقاد پرمحمول ہے''اس کلام کے مفہوم کے بیان میں) علما نے کہاہے کہ ''اگر تین کے عدد کومسنون مانتاہواوروضوعلی الوضو کے ارادے سے یااطمینان قلب کے لئے زیادتی کر دے یا کسی حاجت کی وجہ سے کمی کردے توکوئی حرج نہیں''۔ یعنی اس سے مستفاد یہ ہواکہ اگر بلا غرض زیادہ کردے تو اس میں حرج ہے) اور اگرایسا ہوتا جیسا ذکر کیاگیا(کہ حرج صرف اعتقاد خلاف میں ہے) تو''مطلقاً'' زیادتی مکروہ نہ ہوتی اھ طحطاوی کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار    کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ بیروت         ۱ /۷۲)
وھذا ھو منزع کلام ش بیدانہ حملہ علی التعود واطلق ط۔ اقول ولاطلاقہ مستندات کما علمت امافــ تفصیل ش ان الاسراف یکرہ تنزیھا ان وقع احیانا وتحریما ان تعود فلا اعلم من صرح بہ وکانہ اخذہ من جعل النھر ترکہ سنۃ مؤکدۃ مع خلافہ لہ فی حمل الکراھۃ علی التحریم۔
کلام شامی کا منشابھی یہی ہے فرق یہ ہے کہ انہوں نے اسے عادت پرمحمول کیاہے اور طحطاوی نے مطلق رکھا ہے اقول اوران کے اطلاق کی تائیدمیں کچھ قابلِ استناد عبارتیں ہیں جیساکہ معلوم ہوا۔ رہی علامہ شامی کی یہ تفصیل کہ اسراف اگر احیاناً واقع ہوتومکروہ تنزیہی ہے اورعادۃً ہوتومکروہ تحریمی ہے،میرے علم میں کسی نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔علامہ شامی نے شاید اس کو اس سے اخذ کیاہے کہ صاحبِ نہر نے ترک  اسراف کو سنتِ مؤکدہ قراردیاہے باوجودیکہ صاحبِ نہر نے اسراف کی کراہت کا تحریمی ہونا ظاہر کیاتو علامہ شامی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
فــ:معروضۃ اخری علیہ ۔
فاقول ھم فــ۱انفسھم فی ابانۃ المفھوم وشرح نوطھم الحکم بالاعتقاد فذکروا تصویرا لا یکون فیہ الزیادۃ والنقص لاجل الاعتقاد بل لغرض اخرلان العاقل لابد لفعلہ من غرض فاذا لم یکن المشی علی مااعتقد فلیکن ماذکروا فلا یدل علی ادارۃ الامر علی ھذا التصویر والا لخالف الشرح المشروح فان المشروح ناطہ بالاعتقاد وصرح ان لو زاد او نقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید کما تقدم عن البدائع وھذا ینوطہ بشیئ اخر غیرہ وبالجملۃ لانسلم ان لشرح المفھوم مفھوما اخرو ان فــ۲سلم فمفہومہ معارض لمنطوق البدائع وغیرھا والمنطوق مقدم فافھم۔
اب تفریع مذکورکے مفہوم سے استناد پر میں کہتاہوں وہ حضرات توخود مفہوم کی توضیح کررہے ہیں اور اس بات کی تشریح فرمارہے ہیں کہ حکم حدیث کو انہوں نے اعتقاد سے وابستہ رکھا ہے اسی کے لئے انہوں نے ایسی صورت پیش کی ہے جس میں زیادتی یاکمی اعتقاد کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور غرض کے تحت ہو۔اس لئے کہ کارعاقل کے لئے کوئی غرض ہونا ضروری ہے۔ تواگر اس کے اعتقادپر نہ چلیں تووہی ہونا چاہئے جو ان حضرات نے ذکر کیا(اب اگر اعتقاد کو بنیاد نہ مان کر مطلقاً اسراف کومکروہِ تحریمی کہتے ہیں۱۲م)تو یہ اس کو نہیں بتاتا کہ مدارِ کا راُس صورت پرہے جو ان حضرات نے پیش کی ورنہ شرح اورمشروح مخالفت لازم آئے گی اس لئے کہ مشروح نے توحکم کامدار اعتقاد پر رکھا ہے اور یہ صراحت کردی ہے کہ اگرتین باردھونے کوسنت مانتے ہوئے زیادتی یا کمی کی تووعید اسے لاحق نہ ہوگی جیساکہ بدائع سے نقل ہوا۔اورشرح حکم کو اس کے علاوہ کسی اورچیز سے وابستہ کرتی ہے۔الحاصل ہم یہ نہیں مانتے کہ شرحِ مفہوم کا کوئی دوسرا مفہوم ہوسکتاہے۔اگراسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا مفہوم بدائع وغیرھا کے منطوق کے معارض ہے اورمنطوق مقدم ہوتاہے۔تو اسے سمجھو۔
فــ۱:معروضۃ ثالثۃ علیہ وعلی العلامۃط۔

فــ۲:معروضۃ رابعۃ علی ش واخری علی ط۔
رابعا جبکہ حدیث نے بے قید حال ومکان زیادت ونقص پر حکم اسأت وظلم وتعدی ارشاد فرمایا اور زیادت میں تعدی خاص مکان اضاعت میں ہے اور نقص میں خاص بحال عادت لہٰذا ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالٰی نے حدیث کو ایک منشاء ونیت یعنی اعتقاد سنیت پر حمل فرمایا جس سے بے قید حال ومکان مطلقاً حکم تعدی واسأت ہو۔
خامسا بدائع وغیرہ کی تصریح کہ اگر بے اعتقاد سنیت نقص وزیادت ہو تو وعید نہیں صحیح ونجیح ہے کہ عادت نقص یا اضاعت زیادت میں طوق وعید اس ضم ضمیمہ پر ہے تو فعل بجائے خود اپنے منشأ وغایت ومقصد نیت میں مواخذہ سے پاک ہے
کما علمت ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق
 (جیسا کہ واضح ہوا ، اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے ، اور خدا ہی مالکِ توفیق ہے۔ ت) الحمد للہ اس امر پنجم اعنی حکم اسراف آب کا بیان ایسی وجہ جلیل وجمیل پر واقع ہوا کہ خود ہی ایک مستقل نفیس رسالہ ہونے اور تاریخی نام
برکات السماء فی حکم اسراف الماء
رکھنے کے قابل
والحمدللّٰہ علی نعمہ الجلائل وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سید الا واخر والاوائل واٰلہ وصحبہ الکرام الافاضل۔
Flag Counter